(تفسیر ابن جریر ج ۱۰ص ۵۸ ،تفسیر درمنثور ج اص ۴۰، مستدرک ج ۲ ص ۲۵۹)
جب اس کی اطلاع حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچی تو فرمایا: خدا کی قسم ابوالعالیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بالکل ٹھیک کہا اور خیر خواہی کی بات کی۔
ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں عبدالرحمن بن زید رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے ، حضرت عبدالرحمن سلمی رحمۃ اللہ علیہ اور بعض علما آیہ کریمہ فَقدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی (البقره :۲۵۶) اس نے بڑی محکم گرہ تھامی کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ عروہ وثقی (مضبوط گرہ) سے مراد حضور ﷺ ہیں بعض نے ’’اسلام‘‘ بعض نے ’’ توحید‘‘ کی شہادت بھی مراد لی ہے۔ حضرت سہل آیہ کریمہ وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوْهَا (نحل: ۱۸) ’’ اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انھیں شمار نہ کر سکو گے‘‘ کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ نعمة اللہ سے مراد حضور ﷺ ہیں اور اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾ ( الزمر:۳۳)
اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنھوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts #ShanEMustafa #AlShifa #IslamicStatus #QuranTafsir #QuranVerses #IslamicShorts #Islamic #Islam #AshShifa #الشفاء_شریف #Quran #ThinkGoodGreen
Comments