مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں اکثر مفسرین رحمہم اللہ ’’ جاء بالصدق“ سے حضور ﷺ مراد لیتے ہیں اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جس نے تصدیق کی وہ بھی وہی ہیں۔
صَدَّق کوغیر مشد دیعنی تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا ہے اور دوسروں نے کہا کہ اس سے حق کی تصدیق کرنے والے مومنین مراد ہیں اور ایک روایت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ایک روایت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مراد ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال مروی ہیں۔
حضر ت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ آیہ کریمہ اَلَابِذِكْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقلُوْبَ ( ۱لرعد: ۲۸) سن لو اللہ کی یادہی میں دلوں کا چین ہے کی تفسیر میں کہتے ہیں’’ذکر اللہ سے مراد حضورﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں۔‘‘ ( تفسیر درمنثور ج۴ ص ۶۴۲تفسیر ابن جریر ج۱۳ص ۹۸)
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#الشفا_شریف
#اسلامی_معلومات
#AshShifa
#ShanEMustafa
#QuranTafseer
#IslamicKnowledge
#IslamicStatus
#Islam
#Islamic
#ThinkGoodGreen
Comments