ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ان صفات و تعریف کی خبر دی جو توریت میں مذکورہ ہیں (توریت میں مذکور ہے کہ) میرا بندہ احمد مختار ہو گا، جس کی پیدائش کی جگہ (مولد) مکہ مکرمہ اور ہجرت کا مقام مدینہ منورہ یا طیبہ ہو گا ، آپ ﷺ کی امت اللہ عزوجل کی ہر حال میں بہت حمد کرنے والی ہو گی۔ (سنن دارمی ج اص ۵ ،طبرانی کبیر ج اص ۱۰۹، مجمع الزوائد ج ۸ص ۲۷۱)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ ﴾ ( الاعراف: ۱۵۷)
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی۔
نیز فرمایا:
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ ﴾ (آل عمران: ۱۵۹)
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے۔
حضرت فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے لوگوں پر اپنے اس احسان کو یاد دلایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو مومنین پر رحیم (مہربان) رؤف ( کرم فرما)ہر ایک سے نرمی کرنے والا بنایا ہے، اگر ہم حضور ﷺ کو بد خلق اور سخت گو بناتے تو یقیناً یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس سے نکل جاتے لیکن اللہ عزوجل نے حضور ﷺ کو درگزر کرنے والا ،سخی ، نرم دل ،خوش رو، نیکو کار اور بڑا مہربان بنایا ، ایسا ہی ضحاک رحمۃ اللہ علیہ کا بھی قول ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ ﴾
اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمھیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمھارے نگہبان و گواہ۔ (البقره :۱۴۳)
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts #IslamicStatus #ProphetMuhammad #SeeratunNabi #AlShifa #ShanEMustafa #ShifaSharif #Islam #Islamic #ThinkGoodGreen
Comments