Skip to playerSkip to main content
Tuba Ki Taqat Aur Allah Ka Fazal #motivational #story

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بہت پہلے زمانے کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص تھا جس کا نام سن کر لوگ خوف زدا ہو
00:05جاتے تھے
00:06اس نے معمولی باتوں پر 99 بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا
00:11لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوا
00:15اور اسے اپنے گناہوں پر شدید شرمندگی ہونے لگی
00:19وہ سوچنے لگا کہ کیا مجھ جیسے بڑے گناہگار کی بھی کبھی توبہ قبول ہو سکتی ہے
00:24اپنی اس بہچینی کو ختم کرنے کے لیے اس نے لوگوں سے پوچھا
00:28کہ اس وقت کا سب سے بڑا عالم کون ہے جو مجھے صحیح راستہ دکھا سکے
00:33لوگوں نے اسے ایک عبادت گزار راہب کا پتہ بتایا
00:38وہ شخص اس راہب کے پاس گیا اور اپنا حال سناتے ہوئے پوچھا
00:42کہ میں نے 99 قتل کیے ہیں کیا میرے لیے معافی کا کوئی راستہ ہے
00:46اس راہب نے جسے علم سے زیادہ اپنی عبادت پر غرور تھا
00:51جواب دیا کہ ہرگز نہیں اتنے بڑے گناہوں کے بعد تمہاری توبہ قبول نہیں ہو سکتی
00:56یہ سن کر وہ شخص مایوسی اور غصے میں آپے سے باہر ہو گیا
01:00اس نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا
01:02یوں اس کے ہاتھوں سو قتل پورے ہو گئے
01:05مگر توبہ کی تڑپ اب بھی اس کے دل میں باقی تھی
01:08اس نے دوبارہ لوگوں سے کسی بڑے عالم کا پوچھا
01:11اس بار اسے ایک صاحب علم اور سمجھتار عالم کا پتہ دیا گیا
01:16اس نے اس عالم کے سامنے جا کر سارا سچ کہہ دیا
01:19کہ میں سو لوگوں کا قاتل ہوں
01:22کیا اب بھی اللہ مجھے معاف کرے گا
01:24اس عالم نے بڑی محبت سے جواب دیا
01:27کہ کیوں نہیں تمہارے اور اللہ کی رحمت کے درمیان
01:31کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی
01:33اللہ کی رحمت تو گناہوں کے سمندر سے کہیں زیادہ وسیع ہے
01:37اس عالم نے اسے مشورہ دیا
01:39کہ وہ اپنی گناہوں بھری بستی چھوڑ دے
01:41اور ایک دوسری بستی میں چلا جائے
01:44جہاں نیک لوگ رہتے ہیں
01:45تاکہ ان کی صحبت میں رہ کر وہ بھی نیک بن جائے
01:49وہ شخص سچے دل سے توبہ کر کے
01:51اس نیک بستی کی طرف روانہ ہو گیا
01:54ابھی وہ آدھے راستے میں ہی پہنچا تھا
01:56کہ اس کی موت کا وقت آ گیا
01:58وہاں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں پہنچ گئے
02:01اور ان میں بحث شروع ہو گئی
02:03رحمت کے فرشتوں کا کہنا تھا
02:05کہ اس نے توبہ کر لی ہے
02:07اس لیے یہ ہمارا ہے
02:08جبکہ عذاب کے فرشتوں کا کہنا تھا
02:11کہ اس نے زندگی بھر کوئی نیکی نہیں کی
02:13اس لیے یہ ہمارا ہے
02:15اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ انسانی روپ میں منصف بن کر آیا
02:20اور اس نے کہا کہ دونوں بستیوں کے درمیان کا فاصلہ ناپ لو
02:23یہ جس بستی کے زیادہ قریب ہوا
02:26اسی کا مانا جائے گا
02:28جب زمین ناپی گئی
02:29تو اللہ کے موجزے سے وہ نیک لوگوں کی بستی کی طرف
02:32ایک بالشت زیادہ قریب تھا
02:35ایک روایت کے مطابق اللہ نے زمین کو حکم دیا
02:38کہ نیکی والی بستی قریب ہو جائے
02:40چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا
02:43اور اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی
02:46دوستو انسان کتنا ہی بڑا گناہگار کیوں نہ ہو
02:50اسے اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے
02:54سچی توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
Comments