00:00ڈسکر ہے کہ ایک بادشاہ کسی راستے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک کمار پر پڑی جو
00:06اپنے بہت سے گدھوں کو ہانک کر لے جا رہا تھا
00:09بادشاہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تمام گدھے ایک ہی قطار میں نہایت نظم و ضبط کے ساتھ
00:15چل رہے تھے
00:16بادشاہ نے کمار کو روک کر پوچھا اے شخص تم نے ان جانوروں کو اس قدر نظم و ضبط کا
00:21پابند کیسے بنا رکھا ہے
00:22کہ کوئی ایک بھی لائن سے باہر نہیں نکل رہا
00:25کمار نے عدب سے جواب دیا کہ آلی جا میرا اصول سادہ ہے جو گدھا لائن توڑنے کی کوشش کرتا
00:31ہے
00:32میں اسے فوراں سزا دیتا ہوں اور باقی گدھے اس کے انجام سے ڈر کر سیدھے راستے پر چلتے ہیں
00:37بادشاہ نے تجسس سے پوچھا کہ تم انہیں کیا سزا دیتے ہو
00:41کمار بولا کہ حضور گدھے کی فطرت ہے کہ سیدھا چلنے کے لیے پیٹھ پر ایک خاص وزن کی ضرورت
00:48ہوتی ہے
00:49اگر بوجھ کم ہو تو وہ شرارت کرتا ہے
00:51میں سزا کے طور پر اس کا بوجھ بڑھا دیتا ہوں تاکہ وہ مشکل سے چل سکے
00:55اگر کوئی دوسرا گدھا اس کی حمایت کرے تو میں اسے بھی وہی سزا دیتا ہوں
01:00یوں بوجھ کے ڈر اور قانون کی سختی سے یہ سب ایک ہی قطار میں رہتے ہیں
01:04بادشاہ اس کے سادہ مگر ٹھوس نظام سے بہت متاثر ہوا اور سوچا
01:09کہ اگر یہی اصول ملک پر نافذ کر دیا جائے تو شاید امن قائم ہو جائے
01:13چنانچہ بادشاہ نے اس کمہار کو اپنے ساتھ دار الحکومت لے جا کر شہر کا قاضی مقرر کر دیا
01:19کچھ ہی دن گزرے تھے کہ قاضی کے سامنے ایک چور کا مقدمہ پیش کیا گیا
01:24جرم ثابت ہونے پر کمہار نے حکم دیا کہ قانون کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں
01:30جلاد نے جب یہ سنا تو وہ قریب آیا اور قاضی کے کان میں سرگوشی کی
01:34کہ جناب ذرا ہاتھ ہولا رکھیں
01:36یہ وزیر آزم کا خاص آدمی ہے
01:38قاضی نے اس کی بات انسنی کر دی اور دوبارہ اپنا حکم دورایا
01:42اتنے میں وزیر خود چل کر قاضی کے پاس آیا اور بڑے فخر سے کہا
01:46کہ قاضی صاحب یہ ہمارا اپنا بندہ ہے
01:49ذرا خیال کیجئے گا
01:50یہ سنتے ہی کمہار نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ سنایا
01:54جس نے پورے دربار کو ہلا کر رکھ دیا
01:56اس نے گرج کر حکم دیا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں
02:00اور وزیر کی زبان کاٹ دی جائے
02:02کمہار کے اس ایک فیصلے کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی
02:06ہر باثر شخص کو سمجھ آ گئی
02:08کہ اب قانون سب کے لیے برابر ہے
02:10دیکھتے ہی دیکھتے ملک سے جرائم کا خاتمہ ہو گیا
02:14اور مکمل امن و امان قائم ہو گیا
02:16دوستو امن و امان کا قیام تقریروں سے نہیں
02:19بلکہ بلا تفریق انصاف سے ہوتا ہے
02:22جب معاشرے میں چور کو اس کے جرم اور سفارشی کو
02:25اس کی مداخلت کی سزا ملنا شروع ہو جائے
02:28تو طاقتور اور کمزور سب قانون کے سامنے جھک جاتے ہیں
02:32کیا ہمیں بھی کسی ایسے کمہار کی ضرورت تو نہیں
02:35کمنٹس میں بتائیے کا
Comments