00:00دوستو پہلے زمانے کا تذکرہ ہے کہ دو تاجر مل کر کاروبار کیا کرتے تھے
00:04وہ اپنی محنت سے جو کچھ بھی نفع کماتے اسے ایک جگہ جمع کرتے رہتے
00:09اسی طرح کام کرتے کرتے ان کے پاس آٹھ ہزار دینار کی ایک بڑی رقم جمع ہو گئی
00:15ان دونوں شراکتداروں میں سے ایک شخص خود کو بہت چالاک اور تجربے کار سمجھتا تھا
00:20جبکہ دوسرا تاجر سادہ طبیعت کا مالک تھا اور ابھی تجارت کے گر سیکھ رہا تھا
00:25ایک دن اس تجربہ کار تاجر کے دل میں غرور آ گیا اور اس نے اپنے ساتھی سے کہا
00:30کہ دیکھو بھئی اب میرا تمہارے ساتھ مل کر کام کرنا ممکن نہیں رہا
00:34کیونکہ تم ابھی اس کام میں نئے ہو اور تمہیں تجربے کی کمی ہے
00:38اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ ہم اپنا اپنا حصہ بانٹ لیں اور الگ ہو جائیں
00:42چنانچہ ان دونوں نے چار چار ہزار دینار بانٹ لیے اور اپنی اپنی راہ لی
00:47کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس شہر کے ایک بادشاہ کا انتقال ہو گیا
00:51اور اس کے عالی شان محل کو بیچنے کا سرکاری اعلان ہوا
00:55یہ خبر جیسے ہی اس اقل مند تاجر تک پہنچی
00:58اس نے اپنی دولت دکھانے کے لیے فوراً ایک ہزار دینار کی بھاری رقم دے کر وہ محل خرید لیا
01:04محل کا قبضہ لینے کے بعد اس نے اپنے پرانے تجربے کار ساتھی کو خاص طور پر بلایا
01:10اور بڑے فخر سے محل دکھاتے ہوئے پوچھا کہ بتاؤ میرا یہ نیا قلعہ اور محل تمہیں کیسا لگا
01:15اس نیک دل ساتھی نے محل کی خوب تعریف کی اور وہاں سے رخصت ہو گیا
01:19گھر پہنچ کر اس نے اپنے حصے سے ایک ہزار دینار نکالے اور اللہ کے غریب اور مسکین بندوں میں
01:25تقسیم کر دیے
01:26اور گڑ گڑا کر دعا کی کہ اے میرے مالک میرے اس ساتھی نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے
01:32دنیا کا یہ فانی محل خریدا ہے
01:34میں نے تیری راہ میں یہ رقم دی ہے
01:36تو اپنے فضل سے مجھے جنت میں ایسا محل عطا فرما
01:40کچھ وقت مزید گزرا تو اس تجربہ کار تاجر نے ایک ہزار دینار مزید خرچ کیے اور ایک نہایت حسین
01:46و جمیل عورت سے نکاح کر لیا
01:48اس نے اپنی شادی کے موقع پر بھی اپنے اسی پرانے ساتھی کو دعوت دی اور اپنی بیوی کی خوبصورتی
01:54کا روب جھارتے ہوئے کہا
01:55کہ دیکھو میں نے ایک ہزار دینار دے کر یہ رشتہ جوڑا ہے
01:58بتاؤ کہ یہ کیسی ہے
02:00اس سادہ دل ساتھی نے وہاں بھی خوشی کا اظہار کیا اور گھر آ کر مزید ایک ہزار دینار اللہ
02:06کے نام پر صدقہ کر دیئے
02:08تنائی میں جا کر پھر دعا مانگی کہ اے میرے اللہ میرے دوست نے دنیا کی ایک عورت حاصل کی
02:14ہے
02:14میں تیرے راستے میں یہ مال دے کر تجھ سے جنت کی ہوروں کا سوال کرتا ہوں
02:18کچھ عرصے کے بعد اس دنیا دار تاجر نے دو ہزار دینار کی رقم سے دو بہت بڑے اور ہرے
02:24بھرے باغات خریدے
02:26اس نے حسب روایت اپنے ساتھی کو بلایا اور فخری انداز میں وہ باغات دکھائے
02:31اس نیک انسان نے ان باغوں کی بہت تعریف کی اور وہاں سے سیدھا گھر آ کر
02:35اپنے پاس موجود آخری دو ہزار دینار بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالے
02:39اور دعا کی کہ یا اللہ میرے ساتھی نے دنیا کے دو باغات خریدے ہیں
02:44جو ایک دن اجڑ جائیں کہ میں ان کے بدلے تجھ سے جنت سے صدا بہار باغات مانگتا ہوں
02:49وقت گزرتا گیا اور آخر کار دونوں کی موت کا وقت آ پہنچا جب وہ صدقہ کرنے والا شخص مرا
02:55تو اللہ نے اسے جنت کے ایسے شاندار محلات میں جگہ دی جہاں ہر طرف نہریں بہتی تھیں
03:01خوبصورت ہوریں تھیں اور ایسی بے شمار نعمتیں تھیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا
03:07وہاں رہتے ہوئے اسے اچانک اپنے اس دنیا دار دوست کا خیال آیا
03:11اسے فرشتے نے بتایا کہ تمہارا وہ دوست جہنم کے گڑھے میں ہے
03:15اس جنتی شخص نے جب جہنم کی طرف جھانکا تو دیکھا کہ اس کا وہ دوست جو دنیا میں اپنی
03:21دولت پر فخر کرتا تھا
03:22آج آگ کے عذاب میں مطلع ہے
03:25دوستو کبھی بھی اپنے عقل یا دولت کے بلبوتے پر کسی دوسرے کو اپنے سے چھوٹا یا حقیر نہیں سمجھنا
03:32چاہیے
03:32جب اللہ ہمیں مال و دولت سے نوازے تو اسے صرف دنیا کی عارضی لذتوں پر ختم نہیں کرنا چاہیے
03:39بلکہ اسے غریبوں کی مدد اور نیک کاموں میں لگا کر اپنی آخرت کو بھی سوارنا چاہیے
03:45بحوالہ تفسیر ابن کثیر
Comments