00:00एक बादशा अपनी सखावत की वज़ा से बहुत मशूर था
00:03उसका लंगर खाना हर वक्त खुला रहता था
00:05जहां गरीब और जरुतमंद लोग सुबा और शाम खाना खाते थे
00:09एक दिन सल्तनत के नए वजीर खजाना ने बादशा को मशूरा दिया
00:13के आलिजा इस मुफ्त के लंगर की वज़ा से सरकारी खजाने पर बहुत बोच पढ़ रहा है
00:18बेतर है के आप इसे बंद करवा दें
00:20बादशा ने वजीर की बात मान ली और लंगर बंद करवा दिया
00:24उसी रात बादशा ने एक अजीब खाब दिखा
00:26के वो अपने शाही खजाने के बाहर खड़ा है
00:29और बहुत से मजदूर खजाने की बोरियां
00:32अपनी कमर पर लाद कर बाहर ले जा रहे हैं
00:35बादशा ने हैरानी से एक मजदूर से पूछा
00:38ये खजाना कहां ले जा रहे हो
00:39मजदूर ने जवाब दिया
00:41کہ اب اس خزانے کی یہاں ضرورت نہیں رہی
00:43اس لئے اسے کہیں اور منتقل کر رہے ہیں
00:46بادشاہ کو یہی خواب مسلسل تین راتوں تک آتا رہا
00:50اس خواب کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گیا
00:53اس نے ایک اللہ والے بزرگ کو بلایا
00:55اور سارا قصہ سنایا
00:56بزرگ نے بادشاہ کی بات سن کر نصیت کی
00:59کہ اے بادشاہ فوراً لنگر خانہ دوبارہ کھول دو
01:03اس سے پہلے کہ تمہاری بادشاہت ختم ہو جائے
01:06اور تم فقیر ہو جاؤ
01:08بادشاہ کو باد سمجھ میں آ گئی اور اس نے اگلے ہی لمحے حکم دیا
01:12کہ لنگر دوبارہ شروع کر دیا جائے
01:14جیسے ہی لوگوں نے کھانا پینا شروع کیا
01:16اسی رات بادشاہ نے دوبارہ خواب دیکھا
01:19کہ وہی مزدور خزانے کی بوریاں واپس لا رہے ہیں
01:22بادشاہ نے پوچھا کہ اب انہیں واپس کیوں لا رہے ہو
01:25مزدور نے جواب دیا کہ ان بوریوں کی اب یہاں پہ ضرورت پڑ گئی ہے
01:29اس لئے انہیں واپس رکھ رہے ہیں
01:31دوستو اقل مند انسان کے لیے یہ ایک بہت بڑا اشارہ ہے
01:34کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے سے
01:39کبھی مال کم نہیں ہوتا
01:40بلکہ اللہ تعالی غیب سے اس میں مزید برکت اور اضافہ کر دیتا ہے
01:46موسیقا
Comments