00:00دوستو تاریخ کے پنوں میں ایک ایسے مسلمان بادشاہ کا ذکر ملتا ہے جو اپنی انصاف پسندی میں بہت مشہور
00:06تھا
00:06ایک دن وہ جنگل میں شکار کھیل رہا تھا کہ اس نے ایک شکار کی طرف اپنا تیر چلایا
00:11جب وہ تیر لگنے کے بعد شکار کے قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ وہاں کوئی
00:16جانور نہیں بلکہ ایک نوجوان تیر لگنے کی وجہ سے خون میں لطپت تڑپ رہا ہے
00:21ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نوجوان نے بادشاہ کی آنکھوں کے سامنے ہی دم توڑ دیا
00:26بادشاہ کو اس حادثے پر بہت سخت افسوس ہوا جب اس نے دریافت کروایا تو معلوم ہوا کہ یہ نوجوان
00:32قریب ہی ایک گاؤں میں رہنے والی ایک بوڑی بیوہ کا اکلوتا بیٹا ہے
00:37اور بڑھا پے کا واحد سہارا تھا وہ جنگل سے لکنیاں چن کر بیچتا تھا اور اسی سے اپنا اور
00:42اپنی ماں کا پیٹ بھرتا تھا
00:44وہ مسلمان بادشاہ فوراں اس بوڑی ماں کے پاس گیا اور سچ سچ بتا دیا کہ اس کے تیر سے
00:50غلطی سے اس کے بیٹے کی موت ہو گئی ہے
00:52یہ سن کر ماں غم سے نڈھال ہو کر بے ہوش ہو گئی
00:55بادشاہ نے اس وقت ایک بڑا فیصلہ کیا
00:57اس نے خود کو شہر کے قاضی کے حوالے کر دیا اور اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا
01:02کہ میرے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے
01:05قاضی نے مقدمہ شروع کیا اور اس بوڑی ماں کو عدالت میں طلب کیا
01:09قاضی نے اس عورت سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم جو سزا اس شخص کے لیے تجویز کرو گی
01:15عدالت وہی سزا سنائے گی
01:16وہ بوڑی عورت بادشاہ کے اس طرز عمل سے بہت متاثر ہوئی
01:20اور کہنے لگی کہ ایسا انصاف پسند بادشاہ پھر کہاں ملے گا
01:23جو اپنی ہی سلطنت میں اپنی ہی بادشاہی کے دوران اپنے خلاف مقدمہ چلائے
01:28اور وہ بھی ایسی غلطی پر جو اس نے جان بوچ کر نہیں کی
01:31میں اللہ کی رضا کے لیے اسے معاف کرتی ہوں اور آج سے یہی بادشاہ میرا بیٹا ہے
01:37جب عورت نے معاف کر دیا تو قاضی نے بادشاہ کو بری کر دیا
01:40لیکن ساتھ ہی ایک تاریخی جملہ کہا
01:43اے بادشاہ اگر تم نے عدالت میں ذرہ برابر بھی اپنی بادشاہت کا روب دکھانے کی کوشش کی ہوتی
01:50تو میں تمہیں اس بوڑیہ کے حوالے کرنے کے بجائے خود اپنے ہاتھوں سے سخت ترین سزا دیتا
01:55یہ سن کر اس مسلمان بادشاہ نے اپنی کمر سے خنجر نکالا اور قاضی کو دکھاتے ہوئے کہا
02:01کہ اے قاضی اگر تم نے میرے ساتھ ایک عام مجرم کی طرح رویہ نہ اپنایا ہوتا
02:07اور انصاف کرتے وقت میری بادشاہت کا ذرہ بھی لحاظ کیا ہوتا
02:11تو میں تمہیں اسی خنجر سے موت کے گھاٹ اتار دیتا
02:14یہ وہ عالی اخلاق اور عدل و انصاف کے میار تھے
02:18جنہوں نے مسلمانوں کو دنیا پر حکمرانی کا حوصلہ اور حق عطا کیا
02:23اور اس مسلمان بادشاہ کا نام تھا غیاس الدین بلبن
02:26دوستو حقیقی طاقت وہی ہے جو قانون کے سامنے جھکنا جانتی ہو
02:31اور سچی حکمرانی وہ ہے جہاں بادشاہ اور عام شہری کے لیے انصاف کے ترازو برابر ہوں
Comments