Skip to playerSkip to main content
Ilm e Deen Ki Ahmyat Aur Larky Ka Danishmanda
Voiced By: Qadir Kalhoro
#motivationalvideo #motivational #story #storytime #storytelling #storyteller #qadirkalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک تیلی یعنی تیل نکالنے والے کو طلب
00:06کیا اور اس کے کام کے بارے میں کچھ سوالات کیے
00:09بادشاہ نے پوچھا کہ تم یہ بتاؤ کہ اگر ایک مند تل ہوں تو ان میں سے کتنا تیل نکلتا
00:15ہے
00:16تیلی نے فورا جواب دیا کہ حضور دس سیر
00:19بادشاہ نے اگلا سوال کیا اور ان دس سیروں میں سے کتنا خالص تیل نکل سکتا ہے
00:24تیلی بولا کہ اڑھائی سیر
00:25بادشاہ نے تجسس سے پوچھا کہ اگر ان اڑھائی سیر کو مزید نچوڑا جائے تو کتنا برامد ہوگا
00:31تیلی نے کہا کہ تقریباً اڑھائی پاؤ
00:34سلسلہ سوالات کے آخر میں بادشاہ نے ایک نہایت باریک سوال پوچھا
00:39یہ بتاؤ کہ صرف ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے
00:44تیلی نے کمال ہوشاری سے جواب دیا کہ حضور اتنا جس سے انسان کے ناخن کا ایک کونہ تر ہو
00:52سکے
00:52بادشاہ تیلی کی اپنے کام میں اس مہارت اور باریک بینی سے بہت متاثر ہوا
00:57لیکن پھر اس نے ایک اہم سوال کیا
01:00تم دنیاوی کاموں میں تو بہت ماہر ہو
01:02کیا دین کے علم سے بھی کچھ واقفیت تر رکھتے ہو
01:06تیلی نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا
01:08نہیں حضور
01:09یہ سن کر بادشاہ سخت ناراض ہوا
01:12اور کہنے لگا کہ افسوس
01:13تم دنیا کے معمولی کاروبار میں تو اس قدر ہوشار ہو
01:17مگر اپنے دین اور اصل مقصد زندگی سے بلکل ناواقف ہو
01:21ایسے غافل شخص کو قید خانے میں ڈال دیا جائے
01:24جب سپاہی تیلی کو قید خانے لے جانے لگے
01:27تو تیلی کا چھوٹا بیٹا دوڑتا ہوا
01:29بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا
01:31اور بڑے عدب سے التجا کی
01:33کہ آلی جہا
01:35اگر میرے باپ کا جرم مجھے بتا دیا جائے
01:37تو آپ کا بڑا کرم ہوگا
01:39بادشاہ نے جواب دیا
01:40کہ تمہارا باپ دنیا داری کے کاموں میں
01:42تو بہت چالاک ہے
01:43مگر علم دین سے بلکل کورا ہے
01:45اس کی اسی غفلت کی وجہ سے
01:47اسے سزا دی جا رہی ہے
01:49لڑکے نے بڑی دانائی سے عرض کی
01:51کہ حضور علم سے محروم رہنا
01:53تو دراصل اس کے باپ
01:55یعنی میرے دادا کا قصور تھا
01:56جنہوں نے اسے تعلیم نہ دلوائی
01:58میرے والد تب مجرم ہوتے
02:00اگر وہ مجھے بھی جاہل رکھتے
02:03لیکن انہوں نے تو مجھے
02:04علم دین کی تعلیم دلوائی ہے
02:06اور میں ابھی تعلیم علم ہوں
02:08باقی آپ مالک ہیں
02:09جو چاہیں فیصلہ فرمائیں
02:10بادشاہ لڑکے کے اس مدلل
02:13اور سمجھ دارانا جواب سے
02:15بہت خوش ہوا
02:15اس نے مسکرا کر کہا
02:17کہ تمہارے اس تھوڑے سے علم
02:19اور عقل نے
02:20نہ صرف تمہارے باپ کو قید سے
02:22چھڑا لیا
02:23بلکہ تمہیں بھی انعام کا حقدار
02:25بنا دیا
02:26چنانچہ بادشاہ نے تیلی کی رہائی
02:28کا حکم دیا
02:29اور اس کے بیٹے کو
02:30قیمتی انعامات دے کر رخصت کیا
02:33دوستو دنیاوی مہارت اپنی جگہ
02:35مگر دین کا علم حاصل کرنا
02:37ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے
02:39علم دین نہ صرف انسان کو شعور بخشتا ہے
02:43بلکہ مشکل وقت میں
02:44ڈھال بن کر
02:45عزت اور نجات کا ذریعہ بھی بنتا ہے
02:48والدین پر فرض ہے
02:50کہ وہ اپنی اولاد کو
02:51دینی تعلیم سے آراستہ کریں
02:54تاکہ وہ دنیا و آخرت
02:55دونوں میں کامیاب ہو سکیں
Comments

Recommended