Skip to playerSkip to main content
Be Sahara Larki Aur Hamare Muashry Ka Almia
#story #Motivational #Motivation

Category

📚
Learning
Transcript
00:00कराची के एक महले में एक चोटा सा खानदान रहता था जिसमें दो बेटियां और उनके बुड़े वालिद थे.
00:06वालिदा का इंतकाल पहले ही हो चुका था.
00:08بڑی بیٹی کی شادی کے بعد والد کی خواہش تھی
00:11کہ وہ چھوٹی بیٹی فاطمہ کی ذمہ داری سے بھی جلد سبقدوش ہو جائیں
00:15انہوں نے فاطمہ کا نکاح اپنی بہن کے بیٹے سے کروا دیا
00:19جو بیرون ملک مقیم تھا
00:21فاطمہ کی عمر اس وقت صرف سترہ سال تھی
00:24اس لیے رخصتی کچھ سال بعد ہونا تیپ آئی
00:27تقدیر کا کھیل دیکھئے کہ نکاح کے کچھ دن بعد ہی
00:31فاطمہ کے والد ایک حادثے میں جانبہق ہو گئے
00:34وہ پہلے ہی ماں کی ممتہ سے محروم تھی
00:36اور اب سر سے باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا
00:39فاطمہ بہت ہی معصوم اور بھولی بھالی لڑکی تھی
00:42کچھ ماہ بعد اس کی بڑی بہن اور بہنوی نے
00:44لڑکے والوں سے رخصتی کی بات کی
00:47جس پر لڑکا پاکستان آیا اور رخصتی ہو گئی
00:50فاطمہ بہت خوش تھی کہ وہ اپنی پپی کے گھر جا رہی ہے
00:54جہاں اسے بچپن میں بہت پیار ملا تھا
00:56مگر اسے یہ معلوم نہ تھا
00:58کہ رشتے داروں کا خلوص اکثر والدین کی زندگی تک ہی محدود ہوتا ہے
01:02شادی کے ایک ہفتے بعد لڑکا واپس چلا گیا
01:05اور وہاں پہنچتے ہی طلاق کے کاغذات بھیج دیئے
01:08اس نے اپنی ماں کو بتایا
01:10کہ وہ وہاں پہلے ہی کسی اور سے شادی کر چکا ہے
01:13اور اپنی زندگی میں خوش ہے
01:15فپی نے بیٹے کی اس غلطی پر پردہ ڈالا
01:18اور فاطمہ کو خط کے بارے میں بتانے کے بجائے
01:21اس پر ظلم شروع کر دیا
01:23ان کا مقصد یہ تھا کہ فاطمہ خود تنگ آ کر طلاق مانگ لے
01:26تاکہ خاندان میں ان کی بدنامی نہ ہو
01:29جب ہر طرح کے ظلم سے بھی بات نہ بنی
01:31تو ایک دن اسے وہ خط دکھا کر گھر سے نکال دیا
01:34فاطمہ روتی ہوئی اپنی بڑی بہن کے گھر پہنچ گئی
01:37مگر وہاں بھی سکون نہ ملا
01:39بہن کے سسرال والوں نے تانے دینا شروع کر دیئے
01:42اور اسے بوجھ قرار دے دیا
01:44اسے ہر روز ذہنی عذیت دی جاتی
01:46کہ وہ یہاں سے چلی جائے
01:48یا کہیں اور شادی کر لے
01:49ہمارا معاشرہ کردار اور شرافت کے بجائے
01:52صرف یہ دیکھتا ہے
01:53کہ لڑکی تلاقی آفتہ ہے
01:55اس لیے اسے کوئی اپنانے کو تیار نہ تھا
01:58اس ذہنی دباؤ اور اپنوں کے روئیوں سے تنگ آ کر
02:01ایک رات وہ معصوم بچی گھر سے نکل گئی
02:04دو سال تک کسی کو اس کا پتا تک نہ چلا
02:07دو سال بعد جب اس کے بہنوئی کا
02:09کسی کام کے سلسلے میں ایدھی سنٹر جانا ہوا
02:12تو وہاں فاطمہ نظر آئی
02:14اس کا ذہنی توازن بگڑ چکا تھا
02:16اور وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی دکھائی دے رہی تھی
02:20کوئی نہیں جانتا تھا
02:21کہ ان دو سالوں میں اس نے کتنی ٹھوکریں کھائیں
02:24اور کن حالات سے گزر کر وہ وہاں پہنچی
02:27دوستو ایک شریف اور نیک لڑکی کی زندگی
02:30صرف اس لیے تباہ ہو گئی
02:31کہ اس کے سر پر والدین کا سایا نہ تھا
02:34اور اسے تلاق ہو چکی تھی
02:36یہ کہانی ہمارے معاشرے کے اس تاریخ پہلو کو بے نقاب کرتی ہے
02:40جہاں لوگ عورت کو اس کے کردار اور اخلاق کے بجائے
02:43صرف سماجی مرتبے اور جسم کی بنیاد پر پرکتے ہیں
02:47تلاق آفتہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنا انسانیت کی تزلیل ہے
Comments

Recommended