Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
wife of Abu Lahab. This video answers the question: Who was Umme Jamil and why is she referred to as “Jahannam ki Maa” (Mother of Hell)?

Referenced directly in Surah Al-Lahab (Surah Masad), Umme Jamil stands as a symbol of arrogance, hatred, and direct opposition to the Prophet Muhammad ﷺ. This detailed video explores her role in early Islamic history, her actions against the Prophet ﷺ, and how the Quran condemned her — making her one of the very few women ever mentioned negatively by name in the Quranic narrative.

Through historical context, tafsir, and scholarly analysis, we explain how her hatred, mockery, and conspiracies led to her eternal condemnation. You’ll also learn why Allah’s punishment for her is described with the specific phrase: “around her neck is a rope of palm-fiber” — a deep metaphor that unveils her character and end.

This video is a reminder of the consequences of opposing divine truth, and a reflection on the timeless nature of Quranic warnings.

Stay connected with Noor TV for more authentic Islamic knowledge, Quranic stories, and spiritual insight.

Category

📚
Learning
Transcript
00:02Um-me-e-jam-e-l
00:04Mal-e-dolat-ki-malikah
00:06Qureyish-k-sardar-ki-bihn
00:07Mager-dil-me-n-n-frat-ka-lawa
00:10Ye-tih-e-um-e-jam-e-l
00:11Abul-ahab-ki-bibi
00:12Jis-ne-n-abhi-karim-sallallahu alayhi wa-alihi wa-sallam-ki-raha-me-kant-e-bich-haya
00:17Zahir-ugla
00:18Islam-ke-ghalaf-sadish-e-ki
00:20اور آخر کار قرآن نے اسے
00:22حمالت الحتب بنا کر
00:24قیامت تک کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا
00:26بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:28السلام علیکم رحمت اللہ و برکاتہ
00:31دوستو کبھی بھی دولت حسب نسب
00:33اور دنیا کی عزت انسان کو بچا نہیں سکتی
00:36جب دل میں حسد نفرت و تکبر کا زہر بھر جائے
00:39آج ہم آپ کو ایسی ہی عورت کی کہانی سنائیں گے
00:42جس کے پاس سب کچھ تھا
00:43مگر دل اندھیروں سے بھرا ہوا تھا
00:46اس نے اللہ کے محبوب
00:47صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کی
00:50سچائی کی روشنی کو بجھانے کی کوشش کی
00:52اور اپنی ہر سازش کے ساتھ
00:54اپنے انجام کو خود قریب لاتی رہی
00:57رب کائنات نے اس کی زلط کو
00:59اس قدر نمائے کر دیا
01:00کہ قرآن میں اس کا تذکرہ کیا
01:02نہ نام سے بلکہ اس کے بدترین کردار سے
01:05یہ ہے ام جمیل
01:07ابو لاحب کی بیوی
01:09حمالت الحتب
01:10دوسروں کے لئے نفرت اور آگ کا این دھنچمہ کرنے والی
01:14آئیے جانتے ہیں ام جمیل کی کہانی کیا ہے
01:17اس کی نفرت کا انجام کیسا دردناک ہوا
01:20یہ کیسی داستان ہے جو ہمارے دلوں کو جھنجوڑ کر رکھتے گی
01:23اور سچ کے راستے پر چلنے کا حوصلہ دے گی
01:25تو ویڈیو کے آخر تک ہمارے ساتھ رہیے گا
01:27ناظرین ام جمیل جو ابو لاحب کی بیوی تھی
01:30اس کا اصل نام عروہ بنت حرب تھا
01:32اور کنیت ام جمیل مشہور ہوئی
01:34یہ قریش کے سردار ابو سفیان کی بہن تھی
01:36اور اپنی ظاہری کمزوری کی وجہ سے
01:38اورہ یعنی کانی کے لقب سے بھی جانی جاتی تھی
01:41جس طرح اس کا شہر ابو لاحب
01:43جو عبدالعزہ بن عبدالمطلب تھا
01:46نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا
01:49اسی طرح ام جمیل بھی اسلام
01:51اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
01:54شدید عدابت رکھتی تھی
01:55بلکہ بعض وقت اس کی دشمنی شہر سے بھی بڑھ کر تھی
01:58ام جمیل کا تعلق قریش کے معزز اور باثر خاندان سے تھا
02:02اس کی شادی ابو لاحب سے ہوئی
02:04جو رسول علیہ السلام کا سگا چچا تھا
02:07یہ رشتہ اسے خاندان نبوت کے قریب کر سکتا تھا
02:10مگر ام جمیل نے قربت کے بجائے دشمنی کا راستہ اختیار کیا
02:14اس کی طبیعت میں غرور
02:15زد اور حسد
02:16کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا
02:18اس کی زبان تیز
02:19لہجہ سخت
02:20اور دل اسلام کے لئے نفرت سے لبریز تھا
02:23ام جمیل نہ صرف خود دشمنی پر اترائی تھی
02:26بلکہ دوسروں کو بھی
02:27رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف
02:29اکسانے میں پیش پیش رہی
02:31اس عورت کی دشمنی کی شدت کا اندازہ
02:33اس بات سے لگایا جا سکتا ہے
02:34کہ خود رب تعالی نے قرآن مجید میں
02:36اس کا ذکر عبرت کے ساتھ فرمایا
02:38ام جمیل کی دشمنی محض زبانی نہ تھی
02:40وہ عمل میں بھی اسے ظاہر کرتی تھی
02:42وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے میں
02:45اکثر کانٹے لکڑیاں اور گندگی بچھا دیا کرتی
02:48تاکہ آپ کو تکلیف پہنچے
02:50اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے
02:51حمالت الحطب یعنی لکڑیاں
02:53اور ڈھونے والی کے لقب سے یاد فرمایا
02:55یہ عرکت صرف جسمانی عجت نہیں تھی
02:58بلکہ اسلام کے راستے میں
02:59رکاوٹ ڈالنے کی ایک گھناؤنی سازش تھی
03:01ام جمیل کی زہریلی زبان
03:03ہر وقت نفرت اگلتی رہتی
03:04وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتی
03:08تانے دیتی اور لوگوں کے دلوں میں
03:09شک اور دشمنی کے بیج بو دیتی
03:11اس نے اپنی دشمنی کو صرف اپنے گھر تک
03:13محدود نہ رکھا بلکہ مکہ کے گھروں میں
03:16جا کر اسلام کے خلاف نفرت
03:17پھیلانے کا کام بھی کیا
03:18وہ عورتوں کی محفل جماعتی
03:21انہیں بھڑکاتی کہ اپنے شوہروں اور بیٹوں کو
03:23محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
03:25ایمان لانے سے روکیں
03:26ام جمیل کا پورا وجود
03:28اسلام دشمنی کی آگ میں جھلستا تھا
03:30اور وہ ہر اس آواز کو دبانا چاہتی تھی
03:32جو حق کا پر چم بلند کرتی تھی
03:34ناظرین قرآن پاک کے تیس میں پارے میں
03:36سورہ لحب نازل ہوئی جس میں ابو لحب
03:38اور اس کی بیوی ام جمیل کا ذکر
03:40نہایت سخت انداز میں کیا گیا ہے
03:42یہ وہ باہی شخص ہے جس کا نام لے کر
03:44قرآن میں براہ راست مضمت کی گئی
03:46حالانکہ مکہ اور بعد میں مدینہ میں بھی
03:48ایسے دشمنان اسلام بھی موجود تھے
03:50جو عداوت میں کسی طرح ابو لحب سے کم نہ تھے
03:53ابو لحب جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:56کا سگا چچا اور قریبی ہمسایا تھا
03:58اس کا گھر نبی علیہ السلام کے گھر سے محض
04:01ایک دیوار کے فاصلے پر تھا
04:03مگر قربت کے باوجود
04:05اس اور اس کے گھرانے نے
04:07رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:09کو ہر ممکن عذیت پہنچائی
04:11نماز کے دوران آپ علیہ السلام پر
04:14بکری کی اجڑی پھینکی
04:15ہنڈیا میں گندگی ڈالنا
04:17ان کے معاملات میں شامل تھا
04:18ابو لحب کی بیوی ام جمیل تو
04:20ہر رات خاردار جھاڑیاں
04:22حضور علیہ السلام کے دروازے پر بچھا دیتی
04:25تاکہ صبح جب آپ یا آپ کے بچے
04:27باہر نکلیں تو تکلیف اٹھائیں
04:28یہ دشمنی صرف گھرلو سطح تک محدود نہ تھی
04:31ابو لحب ہر اس جگہ پہنچتا جہاں
04:33نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:35لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتے
04:36اور وہاں آپ کے خلاف نفرت انگیزی کرتا
04:39لوگوں کو اکساتا
04:40اسی رویے پر اللہ تعالی نے سور لحب میں
04:42ان کی ہلاکت اور انجام کا اعلان فرمایا
04:51ترجمہ
04:51ابو لحب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں
04:53اور وہ برباد ہو جائے
04:55نہ اس کا مال کام آیا
04:56اور نہ اس کی کمائی
04:58وہ بھڑکتی آگ میں جھونکا جائے گا
05:00اور اس کی بیوی جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے
05:02اس کے گلے میں موج کی رسی ہوگی
05:05مفسرین کرام بیان کرتے ہیں
05:07کہ جب نبی علیہ السلام نے
05:09مکہ کے ایک پہاڑی پر چڑھ کر
05:11قریش کو للکارہ اور اللہ کے عذاب سے خبردار کیا
05:14تو ابو لحب نے گستاخی سے کہا
05:16تجھے ہلاکت ہو
05:17کیا اسی لئے ہمیں اکھٹا کیا تھا
05:19اس پر سور لحب نازل ہوئی
05:20روایات کے مطابق ابو لحب کہا کرتا تھا
05:23اگر میرے بھتیجے
05:24یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سچ ہیں
05:27تو میں اپنا مال اور اپنی اولاد فدیہ
05:29دے کر بچ نکلوں گا
05:30مگر قرآن نے دو ٹوک جواب دیا
05:33کہ اس کا مال اور دولت کچھ کام نہ آئے گا
05:35ام جمیل کے بارے میں بھی مفسرین نے فرمایا
05:37کہ یہ قریش کی عورتوں میں موزز تھی
05:39لیکن اپنے شوہر کے ساتھ
05:41کفر اور دشمنی میں برابر شریک رہی
05:42بعض روایات میں آتا ہے
05:44کہ وہ نبی علیہ السلام کی راہ میں
05:47کانٹے بچھانے کے لیے
05:49جنگل سے خاردار لکڑیاں کھٹا کرتی تھی
05:51اور اسی حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
05:54اسے حمالت الحتب
05:55یعنی لکڑیاں اٹھانے والی کہا گیا
05:57بعض اقوال کے مطابق
05:59اس کے گلے میں جس رسی کا ذکر ہے
06:00وہ جہنم کی آگ کی بنی ہوئی زنجیر ہوگی
06:03بعض مفسرین نے کہا کہ
06:04مصد سے مراد
06:06کھجور کے ریشے کی رسی ہے
06:07اور بعض نے اسے جہنم کے لوہے کا توق قرار دیا
06:10جو انتہائی بھاری اور عذیتناک ہوگی
06:12روایات میں آتا ہے کہ
06:14ام جمیل کے پاس اقیم تیہار تھا
06:15جس کے بارے میں وہ فخر سے کہتی تھی
06:17کہ اسے بیچ کر نبی علیہ السلام کی دشمنی میں خرچ کرے گی
06:21اللہ نے اسی مال کو
06:22اس کے لیے بابال بنا دیا
06:23اور قیامت کے دن اسے آگ کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا
06:27ناظرین اگر اس صورت کے پاس منظر کی بات کی جائے
06:29تو اس صورت کے مکی ہونے میں
06:31تو مفسرین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے
06:33لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعین کرنا مشکل ہے
06:35کہ مکی دور کے کس زمانے میں نازل ہوئی
06:38البتہ ابو لہاب کا جو کردار
06:39رسول علیہ السلام اور آپ کی دعوت حق کے خلاف تھا
06:43اس کو دیکھتے ہوئے
06:44یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے
06:45کہ اس صورت کا نزول
06:46اس زمانے میں ہوا ہوگا
06:47جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
06:50عداوت میں حد سے گزر گیا تھا
06:52اور اس کا رویہ اسلام کی راہ میں
06:54بڑی رکاوٹ بن رہا تھا
06:55بائید نہیں کہ اس کا نزول
06:57اس زمانے میں ہوا ہو
06:58جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:00اور آپ کے خاندان والوں کا
07:01مقاطع کر کے قریش کے لوگوں نے
07:04ان کو شیب ابی تالے میں محسور کر دیا تھا
07:06اور تنہا ابو لہابی ایسا شخص تھا
07:08جس نے اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر
07:10دشمنوں کا ساتھ دیا تھا
07:12اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابو لہاب
07:14محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا
07:16اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی
07:18کھلم کھلم مضمت کرانا
07:20اس وقت تک مناسب نہ ہو سکتا تھا
07:22جب تک چچا کی حد سے گری ہوئی زیادتیاں
07:25اعلانیہ سب کے سامنے نہ آ گئی ہوں
07:26اس سے پہلے اگر ابتدا میں ہی
07:28یہ صورت نازل کر دی گئی ہوتی
07:30تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معایوب سمجھتے
07:32کہ بھتیجے اپنے چچا کی
07:34اس طرح مضمت کرے
07:35قرآن مجید میں ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنان اسلام میں سے
07:38کسی شخص کا نام لے کر اس کی مضمت کی گئی ہے
07:41حالانکہ مکہ میں بھی
07:42اور حجرت کے بعد مدینے میں بھی
07:44بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور
07:47محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
07:49عدابت میں ابو لہاب سے کسی طرح
07:51کم نہ تھے
07:51سوال یہ کہ اس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی
07:54جس کی بنا پر اس کا نام لے کر
07:56اس کی مضمت کی گئی
07:57اس بات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے
07:59کہ اس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے
08:01اور اس میں ابو لہاب کی کردار کو دیکھا جائے
08:03قدیم زمانے میں چونکہ پورے ملک عرب میں
08:06ہر طرف بدمنی
08:08غارتگری اور تواف الملوکی پھیلی ہوئی تھی
08:10اور صدیوں سے حالت یہ تھی
08:11کہ کسی شخص کے لئے اس کے اپنے خاندان
08:14اور خونی رشتداروں کی حمایت کے سوا
08:15جان و مال اور عزت و عبرو
08:17کے تحفظ کی کوئی زمانت نہ تھی
08:19اس لئے عربی معاشرے کی
08:21اخلاقی قدروں میں صلح رحمی
08:23یعنی رشتداروں کے ساتھ حسن سلوک کو
08:25بڑی اہمیت حاصل تھی
08:26اور قطع رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا
08:29عرب کی انہی روایت کا یہ اثر تھا
08:31کہ محمد علیہ السلام جب
08:33اسلام کی دعوت لے کر اٹھے
08:35تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں
08:38نے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:40کی شدید مخالفت کی
08:41مگر بنی حاشم اور بنی عبد المطلب
08:44حاشم کے بھائی مطلب کی
08:46اولاد نے نہ صرف یہ کہ
08:48آپ کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ
08:50کھلم کھلا آپ کی حمایت کرتے رہے
08:52حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی
08:54نبوت پر ایمان نہیں لائے تھے
08:55قریش کے دوسرے خاندان خود بھی محمد
08:58صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان خونی
09:00رشتداروں کی حمایت کو عرب کی
09:02اخلاقی روایت کے این مطابق سمجھتے تھے
09:04اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بنی حاشم
09:06اور بنی مطلب کو یہ تانہ نہیں دیا
09:08کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے
09:10شخص کی حمایت کر کے اپنے دین
09:12آبائی سے منعرف ہو گئے ہو
09:13وہ اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان
09:16کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں
09:18اس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے
09:20اور ان کا اپنے عزیز کی
09:22پشتیابی کرنا قریش اور اہل عرب
09:24سب کے نزدیک بلکل ایک فطری عمر تھا
09:26اس اخلاقی اصول کو جس زمانہ
09:28جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ
09:30باجیب الاحترام سمجھتے تھے
09:31صرف ایک شخص نے اسلام دشمنی میں توڑ ڈالا
09:34اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطلب
09:36یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:38کا چچا تھا
09:39محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد ماجد
09:42اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے تھے
09:44عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا
09:46خصوصا جبکہ بھتیجے کا باپ
09:48وفات پا چکا ہو
09:49تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی
09:52کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا
09:54لیکن اس شخص نے اسلام کی دشمنی
09:57اور کفر کی محبت میں
09:58ان تمام عربی روایات
10:01کو پامال کر دیا
10:02ابن عباس سے متعدد سندوں کے ساتھ
10:04یہ روایت محدثین نے نقل کیے
10:06کہ جب محمد علیہ السلام کو
10:08دعوت عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا
10:10اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی
10:12کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں کو
10:14سب سے پہلے خدا کی عذاب سے ڈرائیں
10:16تو آپ نے صبح صورت ایک کوہ صفحہ پر چڑھ کر
10:18بلند آواز سے پکارا
10:20یا صبح ہا
10:22ہائے صبح کی آفت
10:24عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا
10:26جو صبح کے جھٹ پٹے میں
10:28کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر
10:30محلہ کرنے کے لیے آتے دیکھ کر لیتا تھا
10:33محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ آواز سن کر
10:36لوگوں نے دریادت کیا
10:37کہ یہ کون پکار رہا ہے
10:38بتایا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز ہے
10:42اس پر قریش کے تمام خاندان کے لوگ
10:44آپ کی طرف دوڑ پڑے
10:45جو خدا سکتا تھا وہ خدایا
10:47اور جو نہ سکتا تھا
10:48اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا
10:50جب سب جمع ہو گئے
10:51تو آپ علیہ السلام نے
10:53قریش کے ایک خاندان کا نام لے کر پکارا
10:56اے بنی حاشم
10:57اے بنی عبد المطلب
10:58اے بنی فہر
10:59اے بنی فلان
11:00اگر میں تمہیں یہ بتاؤں
11:02کہ پہاڑ کے پیچھے کلش کر
11:03تم پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہے
11:05تو تم میری بات کو سچ مانو گے
11:07لوگوں نے کہا
11:08ہاں
11:08ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا
11:11آپ نے فرمایا
11:12تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں
11:14کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے
11:16اس پر قبل اس کے
11:17کہ کوئی اور بولتا
11:19محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
11:20اپنے چچا ابو لاحب نے کہا
11:23ستیہ ناس جائے تیرا
11:24کیا اس لئے
11:26ایک روایت میں یہ بھی ہے
11:27کہ اس نے پتھر اٹھایا
11:29تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھینچ مارے
11:32ابن زید کی روایت ہے
11:33کہ ابو لاحب نے
11:34محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
11:36ایک روز پوچھا
11:37اگر میں تمہارے دین کو مان لوں
11:38تو مجھے کیا ملے گا
11:40آپ علیہ السلام نے فرمایا
11:42جو اور سب ایمان لائے
11:43ان کو ملے گا
11:44اس نے کہا
11:45میرے لئے کوئی فضیلت نہیں ہے
11:46محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
11:49اور آپ کیا چاہتے ہیں
11:50اس پر وہ بولا
11:51ناز جائے اس دین کا
11:52جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں
11:55مکہ میں ابو لاحب
11:57محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قریب ترین ہمسائے تھا
12:00دونوں کے گھر کے بیچ ایک دیوار واقع تھی
12:03اس کے علاوہ
12:04حکم بن عاص مروان کا باپ
12:06اقبہ بن ابی معید
12:07عدی بن حمرہ
12:09اور ابن صدا الحازلی بھی
12:12آپ کے ہمسائے تھے
12:13یہ لوگ گھر میں بھی
12:14محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چین نہیں لینے دیتے تھے
12:18آپ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے
12:19تو یہ اوپر سے بکری کا اوج آپ پر پھینک دیتے
12:22کبھی سہن میں کھانا پک رہا ہوتا
12:24تو یہ ہنڈیا پر غلازت پھینک دیتے
12:26محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:28باہر نکل کر
12:29ان لوگوں سے فرماتے
12:30اے بنی عبد المناف
12:32یہ کیسی ہمسائے گی ہے
12:33ابو لاحب کی بیویوں میں جمیل
12:35ابو سفیان کی بہن نے تو
12:36یہ مستقل وطیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا
12:39کہ راتوں کو آپ کے گھر کے دروازے پر
12:41خاردار جھاڑیاں لاکر ڈال دیتی
12:43تاکہ صبح صویرے
12:44جب آپ یا آپ کے بچے باہر نکلیں
12:46تو کوئی کانٹہ پاؤں میں چھک جائے
12:48نبوت سے پہلے
12:49محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں
12:52ابو لاحب کے بیٹوں
12:53عطبہ اور عطبہ سے بھی آئی ہوئی تھی
12:55اظہار نبوت کے بعد
12:57محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
12:59اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی
13:01تو اس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا
13:03کہ میرے لئے تم سے ملنا حرام ہے
13:04اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
13:07بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو
13:09چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی
13:10اور عطبہ تو جہالت میں
13:12اس قدر آگے بڑھ گیا
13:13کہ ایک روز حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر
13:16اس نے کہا
13:16کہ میں انکار کرتا ہوں
13:18اور یہ کہہ کر اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف
13:21تھوکا جواب پر نہیں پڑا
13:22محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
13:25خدایا اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے
13:29اس کے بعد عطبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہو گیا
13:33دورانے سفر میں ایک ایسی جگہ تافلے نے پڑاؤ کیا
13:35جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں
13:38محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
13:41خدایا اس پر اپنے درندوں میں سے ایک درندے کو مسلط کر دے
13:44اس کے بعد عطبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہو گیا
13:48دورانے سفر ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا
13:51جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں
13:54ابو لاحب نے اپنے ساتھی اہل قرآن سے کہا
13:57کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو
13:59کیونکہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعہ کا خوف ہے
14:02اس قافلے والوں نے عطبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیئے
14:06اور پڑھ کر سو گئے
14:07رات کو ایک شیر آیا
14:09اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کر
14:11اس نے عطبہ کو پھاڑ کھایا
14:13روایت میں یہ اختلاف ہے
14:14کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو
14:16اظہار نبوت کے بعد کا واقعہ بان کرتے ہیں
14:19اور بعض کہتے ہیں کہ
14:20طببت یدہ بھی لاحب کے نزول کے بعد پیش آیا تھا
14:23اس عمر میں بھی اختلاف ہے
14:25کہ یہ ابو لاحب کا لڑکا عطبہ تھا
14:28یا عطبہ
14:28لیکن یہ بات ثابت ہے
14:30کہ فتح مکہ کے بعد
14:31عطبہ نے اسلام قبول کر کے
14:33محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی
14:36اس لئے صحیح بات یہی ہے
14:38کہ یہ لڑکا عطبہ تھا
14:39اس خبیص النفس کا یہ حال تھا
14:42کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے
14:44قاسم بن محمد کے بعد
14:46دوسرے صاحبزادے
14:47عبداللہ بن محمد کبھی انتقال ہو گیا
14:49تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے
14:52خوشی خوشی دوڑا ہوا
14:53قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا
14:55اور ان کو خبر دی
14:56کہ لو آج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:59بے نام و نشان ہو گئے
15:00محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:03جہاں جہاں بھی اسلام کے دعوت دینے کے لئے تشریف لے جاتے
15:05یہ آپ کے پیچھے پیچھے جاتا
15:07اور لوگوں کو آپ علیہ السلام کی بات سننے سے روکتا
15:10ربیہ بن عبادت دیلی
15:12رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
15:14کہ میں نو عمر تھا
15:15جب اپنے باپ کے ساتھ
15:17ظلمجاز کے بازار میں گیا
15:19وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
15:22کہ آپ کہہ رہے تھے لوگوں
15:23کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
15:25فلاہ پاؤگے
15:26اور آپ کے پیچھے پیچھے شخص کہتا جارہا تھا
15:28یہ جھوٹا ہے
15:29دین آبائی سے پھر گیا ہے
15:31میں نے پوچھا یہ شخص کون ہے
15:32لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا بولہب ہے
15:34دوسری روایت انہی ربیہ سے ہے
15:36کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
15:39کہ آپ ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں
15:42اور فرماتے ہیں
15:42اے بنی فلاں
15:43میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں
15:45تمہیں ہدایت کرتا ہوں
15:46کہ صرف اللہ کی عبادت کرو
15:47اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو
15:49تم میری تصدیق کرو
15:51اور میرا ساتھ دو
15:51تاکہ میں وہ کام پورا کروں
15:53جس کے لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے
15:55آپ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے
15:57اور وہ کہتا ہے کہ
15:58اے بنی فلاں
15:59یہ تم کو لا توزہ سے پھیر کر
16:02اس بدت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے
16:04جسے لے کر آیا ہے
16:05اس کے بعد ہرگز نہ مانو
16:07اور اس کی پیروی نہ کرو
16:08میں نے اپنے باپ سے پوچھا ہی کون ہے
16:10انہوں نے کہا کہ یہ ان کا چچا ابو لہب ہے
16:12تاریخ بن عبداللہ
16:13ارد محاربی کی روایت بھی
16:15اسی سے ملتی جلتی ہے
16:16وہ کہتے ہیں کہ
16:17میں نے ظلمجاج کے بزار میں دیکھا
16:19رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:21لوگوں سے کہتے جاتے کہ
16:22لوگوں لا الہ الا اللہ کہو فلاح پاؤ گے
16:25اور پیچھے ایک شخص ہے
16:26جو آپ کو پتھر مار رہا ہے
16:28یہاں تک کہ
16:28رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
16:30ایڑیاں خون سے تر ہو گئی ہیں
16:32اور وہ کہتا جاتا ہے کہ
16:33یہ جھوٹا ہے
16:34اس کی بات نہ مانو
16:35میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے
16:37لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہاب ہے
16:39نبوت کے ساتھویں سال جب
16:41قریش کے تمام خاندان نے
16:42بنی حاشم اور بنی متلب کا
16:44معاشرتی اور معاشی مقاطع کیا
16:46اور یہ دونوں خاندان
16:48رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت پر
16:50ثابت قدم رہتے ہوئے
16:52شیب ابی طالب میں محصور ہو گئے
16:54تو تنہا یہی ابو لہاب تھا
16:56جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے
16:58کفار قریش کا ساتھ دیا
17:05فاقوں کی نوبت آگئی
17:06مگر ابو لہاب کا حال یہ تھا
17:08کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ تھا
17:10اور شیب ابی طالب کے محصور ان میں سے
17:12کوئی خورا کا سامان خریدنے کے لیے
17:14اس کے پاس جاتا
17:15تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا
17:17کہ ان سے اتنی قیمت مانگو کی خرید نہ سکیں
17:19تمہیں جو بھی خسارہ ہوگا
17:21میں اسے پورا کروں گا
17:22چنانچہ وہ بے تحاشق قیمت طلب کرتے
17:24اور خریدار بیچار اپنے بھوک سے تڑکتے ہوئے
17:27بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا
17:29پھر ابو لہاب انہی تاجروں سے
17:31وہی چیزیں بازار کے بھاو خرید لیتا
17:33ناظرین یہ اس شخص کی حرکات تھیں
17:35جن کی بنا پر
17:37اس صورت میں نام لے کر
17:38اس کی مضمت کی گئی
17:40خاص طور پر
17:40اس کی ضرورت اس لیے تھی
17:42کہ مکہ سے باہر کے
17:43اہل عرب جو حج کے لیے آتے
17:45یا مختلف مقامات پر
17:47لگنے والے بازاروں میں جمع ہوتے
17:49ان کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:52کا اپنا چچا
17:52آپ کے پیچھے لگ کر
17:54آپ کی مخالفت کرتا
17:55تو وہ عرب کے معروف روایات کے لحاظ سے
17:57یہ بات خلافت توقع سمجھتے تھے
17:59کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں کے سامنے
18:01خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے
18:03اور اسے پتھر مارے
18:04اور اس پر الزام تراشیہ کرے
18:05اسی وجہ سے وہ ابو لہاب کی باتوں سے متاثر ہو کر
18:08رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:11کے بارے میں شک میں پڑ جاتے
18:12مگر جب یہ صورت نازل ہوئی
18:14اور ابو لہاب نے غصے میں بھر کر
18:16آل فال بکنا شروع کر دیا
18:18تو لوگوں کو معلوم ہو گیا
18:19کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
18:21مخالفت میں شخص کا قول قابل اعتبار نہیں ہے
18:24کیونکہ یہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں دیوانہ ہو رہا ہے
18:27اس کے علاوہ نام لے کر
18:28جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کی
18:31مضمت کی گئی
18:32تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی
18:34کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:37دین کے معاملے میں کسی کا لحاظ کر کے
18:39کوئی مضاہمت پر
18:40کوئی مداہنت برت سکتے ہیں
18:42جب علیل اعلان رسول کے اپنے چچا کی خبر ڈالی گئی
18:45تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی
18:47لاغ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے
18:49غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے
18:51اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے
18:54اس معاملے میں فلان ابن فلان کوئی چیز نہیں ہے
18:56ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی
18:59اسمہ بنت ابو بکر کا بیان ہے
19:01کہ جب یہ صورت ابو لہب نازل ہوئی
19:04اور ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل کی
19:06اس صورت میں مضمت اتری
19:07تو ابو لہب کی بیوی ام جمیل غصے میں
19:09آپے سے باہر ہو گئی
19:11اور ایک بہت بڑا پتھر لے کر وہ حرام کعبہ میں گئی
19:14اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:16نماز میں تلاوت قرآن پاک فرما رہے تھے
19:19اور قریب ہی حضرت ابو بکر صدیق
19:20رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے
19:22ام جمیل بڑھ بڑھاتی ہوئی آئی
19:24اور پیارے آقا کے پاس سے گزرتی ہوئی
19:26حضرت ابو بکر صدیق کے پاس آئی
19:28اور مارے غصے کے موں میں جھاگ بھرتے ہوئے
19:31کہنے لگی بتاؤ تمہارے رسول کہاں ہیں
19:33مجھے معلوم ہوئے کہ انہوں نے
19:34میری اور میرے شہر کی حجو کی ہے
19:36حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
19:39کہ میرے رسول شاید نہیں ہے
19:40کہ کسی کی حجو کریں
19:42پھر وہ غیز و غضب میں بھری ہوئی
19:43پورے حرم کعبہ میں چکر لگاتی پھری
19:45اور بکتی جاتی
19:47حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ نہ سکی
19:52تو بڑھ بڑھاتی ہوئی حرم سے باہر جانے لگی
19:55اور حضرت ابو بکر صدیق سے کہنے لگی
19:57کہ میں تمہارے رسول کا سر کو چلنے کے لیے
19:59یہ پتھر لے کر آئی تھی
20:00مگر افسوس وہ مجھے نہیں ملے
20:02حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
20:04حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
20:05اس واقعے کا ذکر کیا
20:06تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:08میرے پاس سے وہ کئی بار گزری
20:10مگر میرے اور اس کے درمیان
20:11ایک فرشتہ اس طرح حائل ہو گیا
20:13کہ آنکھ پھاڑ پھاڑ دیکھنے کے باوجود
20:16وہ مجھے دیکھ نہ سکی
20:17اس واقعے کے متعلق ایک آیت اور نازل ہوئی
20:19سورہ بنی اسرائیل آیت 45 میں ہے
20:21اور اے محبوب تم نے قرآن پڑھا
20:23ہم نے تم پر اور ان میں
20:25کہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے
20:27ایک چھپا ہوا پردہ کر دیا
20:28ناظرین بلا شبہ یہ ایک عجیب بات ہے
20:30اور اس کو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
20:33موجزے کے سبع کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا
20:35اس قسم کے موجزات حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
20:38بارہا سادر ہوئے ہیں
20:40اور بہت سے اولیاء اللہ سے بھی
20:41ایسی کرامتیں بارہا سادر ہوئی ہیں
20:44اور اولیاء کی کرامتیں بھی
20:45ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
20:48موجزات ہیں کیونکہ ہر بلی کی
20:50کرامت در حقیقت اس کے نبی کا
20:52موجزہ ہوا کرتا ہے
20:53ناظرین ابو لہب کی بیوی کا یہ واقعہ
20:55ایک اور جگہ کچھ اس طرح سے نقل کیا گیا ہے
20:58کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:00پر سورہ لہب نازل ہوئی
21:02تبو لہب کی بیوی ام جمیل بنت حرب
21:04بہت سیخ پا ہوئی اور غصے کے حالت میں
21:06حضور کی تلاش میں نکلی
21:07اس کے ہاتھ میں پتھر تھا اور وہ گاتی آ رہی تھی
21:10یعنی ہم مضمت کے منکر ہیں
21:13اور اس کے دین کے دشمن ہیں
21:14اور اس کے نافرمان ہیں
21:16وہ کمبخت اللہ کے نبی کی ہجو کر رہی تھی
21:18یعنی جس شخص کی مضمت کی جاتی ہے
21:20ناظر بللہ ہم نے اس کا انکار کر دیا ہے
21:23ہم اس کے دین کو نفرت اور حقارت کے نظر سے دیکھتے ہیں
21:26اور ہم اس کے حکم کو ٹھکراتے ہیں
21:28حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:30مسجد میں تشریف فرماتے
21:32اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
21:34بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے
21:37حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
21:38نے اس دشمن خدا کو آتے ہوئے دیکھا
21:40تو کہا یا رسول اللہ یہ بدبخت آ رہی ہے
21:43اور مجھے ڈر ہے کہ آپ پر ہاتھ اٹھائے گی
21:45اور آپ سے گستاخی کرے گی
21:46آپ نے فرمایا فکر نہ کرو
21:48وہ مجھے دیکھ نہیں سکے گی
21:49اور آپ علیہ السلام نے قرآن مجید کی تلاوہ شروع کر دی
21:52اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم مرشاد فرمایا
21:55اے نبی جب آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں
21:58تو ہم آپ کے درمیان اور منکرین آخرت کے درمیان
22:01بازے پردہ حائل کر دیتے ہیں
22:03ام جمیل بڑھتی ہوئی آئی
22:05اور ابو بکر سے پوچھا
22:06تمہارا ساتھی کہاں ہیں
22:08اس نے میرے ہجو کی ہے
22:09اس گھر کے مالک کی قسم میرے ساتھی نے تیرے ہجو بلکل نہیں کی
22:12یہ سن کر وہ پلٹی
22:14حضور علیہ السلام اسے دکھائی نہیں دیئے
22:17اور وہ کہتی ہوئی گھر لوٹ گئی
22:18قرآن اچھی طرح جانتے ہیں کہ
22:20میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں
22:22حضرت بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
22:24اس میں کوئی غلط بیانی نہیں کی
22:26کیونکہ ان کی ہجو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کی
22:29بلکہ رب کعبہ نے خود کی ہے
22:31ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑے تواف کر رہی تھی
22:34پیر چادر میں الہج گیا
22:35اور فسل پڑی
22:36تو کہنے لگی
22:37مزم غارت ہو
22:39ابن حکیم بنت عبد المطلب نے کہا
22:41میں تو پاک دامن عورت ہوں
22:43اپنی زبان نہیں بھی گاڑوں گی
22:44اور دوست پسند ہوں
22:46پس داغ نہ لگاؤں گی
22:47اور ہم سب ایک ہی دادہ کی اولاد میں سے ہیں
22:49اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں
22:51ہزار میں ہے
22:52کہ اس نے سیدنا عورت صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا
22:55کہ تیری ساتھی نے میری ہجو کی ہے
22:57تو سیدنا عورت صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا
23:01کہ نہ تو آپ شیرگوئی جانتے ہیں
23:03نہ کبھی آپ نے شیر کہے
23:05اس کے جانے کے بعد
23:06سیدنا عورت صدیق رضی اللہ عنہ
23:08نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا
23:11کہ یا رسول اللہ
23:12کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا
23:14آپ نے فرمایا
23:15فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہو گیا
23:17جب تک وہ واپس نہ چلی گئی
23:19بعض اہل علم نے کہا
23:21کہ ابو لہب کی بیوی کے گلے میں
23:22جہانم کے آگ کی رسی ہوگی
23:24جس سے اسے کھینچ کر جہانم کے اوپر لائے جائے گا
23:27پھر ڈھیلی چھوڑ کر
23:28جہانم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا
23:30یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا
23:32دول کی رسی کو عرب مست کہتے ہیں
23:34عربی شیروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لائے گیا ہے
23:37ناظرین یاد رہے کہ
23:39یہ بابرکت صورت ہمارے نبی
23:40صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی
23:43ایک عالی دلیل ہے
23:44کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر
23:46اس صورت میں دی گئی تھی
23:48اسی طرح واقعہ بھی ہوا
23:49اس صور مبارکہ میں بلوازت اللہ تعالی نے
23:52یہ پیشگوئی فرمائی تھی
23:53کہ ابو لہب اور اس کی بیوی کبھی بھی اسلام قبول نہیں کریں گے
23:56اور ان کی موت زلت عمیز ہوگی
23:58چنانچہ ایسا ہی ہوا
23:59حالانکہ یہ صور مبارکہ ابو لہب کی موت سے
24:01تقریباً دس سال پہلے نازل ہوئی تھی
24:03اس کی موت کے بعد اس کی بیٹی درہ
24:06اور اس کے دونوں بیٹوں
24:07اتبا اور مطابعہ نے اسلام قبول کر لیا
24:10ناظرین جس عورت نے
24:11اپنی سارے زندگی حق اور سچائی کے خلاف جنگ میں گزاری
24:14جس نے نبوت کے نور کو بجھانے کے ہر ممکن کوشش کی
24:17آخر کار وہ خود اندھیروں میں ڈوب گئی
24:20ام جمیل نے نہ صرف
24:21رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کی
24:24بلکہ اسلام کی روشنی کو مکہ کی گلیوں میں قدم رکھنے سے
24:28روکنے کی پوری کوشش کی
24:29اس کی زبان زہر کا پیالہ تھی
24:31اور اس کا دل حسد و کینہ سے بھرا ہوا
24:34مگر جب اللہ کا فیصلہ آیا
24:35تو اس کے تمام فخر غرور اور سازشیں مٹی میں مل گئیں
24:38اس کا شوہر ابو لہب جو قریش کا موزے سردار کہلاتا تھا
24:42ایک حقیر چھوٹ دار بیماری عدسی میں مبتلا ہو کر مرا
24:51دیکھنے سے بھی گھبراتے تھے
24:52تین دن تک اس کی لاش مکہ کی گرمی میں سڑتی رہی
24:55اور کوئی قریب رشتدار یا بیٹا اسے دفنانے کے لیے آگے نہ بھڑا
24:59آخر کار
25:00چند غلاموں نے اسے لکڑیوں سے زمین میں دھکیل کر دفن کیا
25:04جیسے کورا زمین میں چھپائے جاتا تھا
25:06یہ تھا اس شخص کا انجام جو نبی کا رشتدار ہوتے ہوئے بھی
25:09سب سے زیادہ دشمنی پر اترا
25:11اور ام جمیل جس نے اپنی زبان اور کردار سے اسلام کو نیچہ دکھانے کی کوشش کی
25:15آج قرآن کے لانت یافتہ عورت بن چکی ہے
25:19سورة المصد کی ہر آیت ہر تلاوت اس کے کردار پر محر رسوائی ثبت کرتی ہے
25:24وہ صرف ماضی کے ایک عورت نہیں رہی بلکہ وہ اس عورت کی علامت بن گئی ہے
25:28جو اپنے زد حسد اور تکبر کے ہاتھوں ہدایت خوب بیٹھی تھی
25:32اس کا نام دنیا کے نظروں میں شاید مٹ جائے
25:36لیکن قرآن کی آیت میں وہ ہمیشہ محفوظ ہے
25:39زلت رسوائی اور عورت کی مثال کے طور پر
25:41قیامت تک جب جب یہ صورت تلاوت کی جائے گی
25:44تب تب اس کی زلت کی گونج گونجے گی
25:46یہ اعلان ہوتا رہے گا
25:48کہ جو لوگ حق کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں
25:50ان کے انجاب میں عزت نہیں
25:51صرف عبرت ہوتی ہے
25:53ناظرین ام جمیل کی داستان صرف ایک عورت کی کہانی نہیں
25:56بلکہ ہر اس انسان کے لیے ایک عبرت کا پیغام ہے
25:58جو حق کا انکار کرتا ہے
26:00سچائی سے دشمنی رکھتا ہے
26:01اور غرور و تکبر میں اندہ ہو جاتا ہے
26:03اللہ نے ام جمیل جیسے کردار کو
26:05ہمیشہ کے لیے قرآن میں محفوظ کر دیا
26:08تاکہ انسان ہر دور میں سمجھ سکے
26:10کہ حق کی مخالفت کا انجام
26:11صرف رسوائی زلت اور بربادی ہے
26:13یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے
26:15کہ زبان سے نکلا ہر لفظ کردار میں چھپی
26:17ہر نیت اور دل میں پالے گئے
26:20ہر جذبے کا انجام ضرور سامنے آتا ہے
26:22ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں
26:24کہ وہ ہمیں ایسی زبان
26:25ایسا کردار اور ایسے رویے سے محفوظ رکھے
26:28جو امت میں نفرت فساد
26:30اور گمراہی کا سبب بنے
26:31ہمیں توفیق دے کہ ہم سچائی کو پہچانے
26:33اسے قبول کریں اور اس پر ڈٹے رہیں
26:35چاہے حالات جیسے بھی ہوں
26:37ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
26:39ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
26:41ضرور پسند آئی ہوگی
26:42اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
26:44تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
26:46کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
26:48اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
26:50تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
26:52مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بھروقت ملتا رہے
26:55سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
26:57اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
27:00کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
27:02اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حب زمان میں رکھے
27:04آمین
Comments

Recommended