Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kashful Mahjoob Part 45

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:09حضرت ابو عثمان سعید بن اسمائیل ہیری رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:14طریقت کے اماموں میں ایک بزرگ پیشوائے صلف یادگار سولحہ
00:20حضرت ابو عثمان سعید بن اسمائیل ہیری رحمت اللہ علیہ
00:24آپ متقدمین میں بزرگ تر اور اپنے زمانہ میں منفرد تھے
00:30اولیاء اللہ کے دلوں میں آپ کی بڑی قدر و منزلت تھی
00:34اور ابتدا میں حضرت یحیب بن معاذ راضی رحمت اللہ علیہ کی صحبت میں رہے
00:40پھر حضرت شاہ شجاہ کرمانی کی صحبت میں عرصہ تک رہے
00:44بعد ازاں حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کی زیارت کے لیے نیشہ پور آگئے
00:48اور ان کی صحبت میں رہے اور تمام عمر وہیں گزاری
00:53آپ خود اپنی سرگزشت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
00:56کہ بچپن ہی سے میرا دل حقیقت کی طلب میں لگا ہوا تھا
01:00اور اہلِ ظاہر سے میرا دل متنفر تھا
01:03میرا دل جانتا تھا کہ عام لوگ جس ظاہری حالت میں ہیں
01:08یقیناً اس کے سوا کوئی باطنی حالت ضرور ہوگی
01:11یہاں تک کہ میں بالخ ہو گیا
01:13ایک دن میں حضرت یحیب بن معاذ راضی رحمت اللہ علیہ کی مجلس میں پہنچا
01:18تو وہاں میں نے باطنی حقیقت اور مقصود کا چشمہ بہتا ہوا دیکھا
01:23میں نے ان کی صحبت اختیار کر لی
01:26حتیٰ کہ ایک جماعت حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمت اللہ علیہ کے پاس سے
01:30ان کی صحبت میں آئی
01:32لوگوں نے ان کی باتیں مجھے سنائیں
01:34تو میرا دل ان کی زیارت کے لیے بیتاب ہو گیا
01:37پھر میں نے رے سے کرمان جانے کا عظم کیا
01:41میں نے بڑی کوشش کی
01:42کہ کسی طرح حضرت شاہ شجاع رحمت اللہ علیہ کی صحبت مجسر آ جائے
01:46مگر مجھے انہوں نے اجازت نہ دی
01:49اور فرمایا
01:50چونکہ تم مقام رجا کے پروردہ ہو
01:53اور تم نے حضرت یحیب کی صحبت اٹھائی ہے
01:56جو کہ مقام رجا پر فائز ہیں
01:58اس لیے جسے مشرب رجا مل جائے
02:02وہ طریقت پر گامزن نہیں رہ سکتا
02:04کیونکہ رجا کی تقلید سے کاہلی اور سستی آتی ہے
02:07لیکن میں نے بہت منت سماجت کی
02:10اور بیس دن ڈیوڑی پر پڑا رہا
02:12تب کہیں جا کر
02:13قدم بوسی کی اجازت نصیب ہوئی
02:16ایک عرصہ تک
02:17حضرت شاہ شجاع رحمت اللہ علیہ کی صحبت میں رہا
02:20وہ مرد غیور تھے
02:22یہاں تک کہ انہوں نے
02:23حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کی زیارت کے لیے
02:26نیشہ پر جانے کا اہد کیا
02:27تو میں بھی ان کے ہمراہ ہو گیا
02:30جب ہم حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کے پاس پہنچے
02:33تو شاہ شجاع
02:34قبع زیبتن کیے ہوئے تھے
02:37حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ نے
02:39انہیں دیکھا تو تعظیم کے لیے
02:41کھڑے ہوئے اور استقبال کے لیے دوڑے
02:44اور فرمایا
02:45جسے میں گدڑی میں دیکھنا چاہتا تھا
02:47وہ قبع میں ملبوس ہیں
02:49وہ عرصہ دراز تک وہاں رہے
02:51اور میری تمام کوشش
02:53حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کی صحبت میں
02:55حصول اسرار میں سرف ہوئی
02:57لیکن شاہ کا دب دبا
02:59اور ان کی خدمت کا التزام
03:01ہمیشہ مجھے مانے رہا
03:03مگر حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ
03:06میری دلی خواہش کو بھی ملاحظہ فرما رہے تھے
03:08اور میں
03:09دل میں اللہ رب العزت سے دعائیں مانگا کرتا تھا
03:12کہ مجھے حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کی صحبت
03:15اس طرح مجسر آئے
03:16کہ حضرت شاہ شجاع
03:17ناراض نہ ہو
03:20غرص
03:20کہ جب حضرت شاہ شجاع نے
03:22واپسی کا ارادہ فرمایا
03:24تو میں نے بھی ان کی ہمسفری کے لیے
03:26سفری لباس پہن لیا
03:27حالانکہ میرا دل
03:29حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کا گرویدہ ہو چکا تھا
03:32اس وقت
03:34حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ نے شاہ سے فرمایا
03:37اس فرزند کو خوش دلی کے ساتھ یہاں چھوڑ دیجئے
03:41تو میرے لیے یہ بات باعث سے مسررت ہوگی
03:44حضرت شاہ شجاع نے میری طرف دیکھا
03:46اور پھر فرمایا
03:47شیخ کی خواہش کو قبول کر لو
03:50بلاخر شاہ شجاع چلے گئے
03:52اور میں وہیں رہ گیا
03:53میں حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کی صحبت میں
03:56بڑے اجائب و غرائب دیکھتا رہا
03:59مجھ پر ان کی بڑی شفقت اور مہربانی تھی
04:03اللہ تعالی نے
04:04حضرت ابو عثمان سعید بن اسماعیل رحمت اللہ علیہ کو
04:08تین بزرگوں کی صحبت میں تین منزلوں سے گزارا
04:11اور وہ تینوں منازل
04:12خود ان کے اشارات میں موجود ہیں
04:14یعنی مقام رجا
04:16حضرت یحیع بن محاذ رازی رحمت اللہ علیہ کی صحبت میں
04:20مقام غیرت حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمت اللہ علیہ کی صحبت میں
04:24اور مقام شفقت حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ کی صحبت سے حاصل ہوا
04:29طریقت میں یہ جائز ہے
04:32کہ مرید پانچ یا چھے
04:33یا اس سے زائد شیوخ کی صحبت میں رہ کر
04:36کوئی خاص منزل حاصل کرے
04:38اور شیخ اور اس کی صحبت سے
04:40کسی خاص مقام کا کشف کرائے
04:43لیکن سب سے بہتر خصلت یہ ہے
04:45کہ مرید اپنے مقام سے کسی شیخ کو ملوث نہ کرے
04:50اور اس مقام میں
04:51ان کی نہایت کو ظاہر نہ کرے
04:53بلکہ یوں کہے
04:55کہ ان کی صحبت میں میرا اتنا حصہ تھا
04:57ان کا مرتبہ تو اس سے بلند تر تھا
05:00البتہ میرے نصیب میں
05:02ان کی صحبت میں
05:03اس سے زیادہ حصہ نہیں تھا
05:06ایسی روش مقام عدب کے زیادہ نزدیک ہے
05:08اس لیے
05:09کہ سالکان حق کو
05:11کسی کے مقام و احوال سے سروکار نہیں ہوتا
05:15حضرت ابو عثمان رحمت اللہ علیہ نے
05:17نیشہ پر اور خراسان میں
05:19تصوف کا اظہار کیا
05:21اور حضرت جنید
05:22حضرت رویم
05:23یوسف بن حسین
05:25محمد بن فضل
05:26رحم اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین
05:28کے خدمت میں بھی حاضر رہے
05:30مشایخ کے دلوں سے
05:32کسی نے اتنا فائدہ نہ اٹھایا
05:35جتنا حضرت ابو عثمان نے اٹھایا تھا
05:38مشایخ اور اہل نیشہ پر نے
05:40آپ کو ممبر پر بٹھایا
05:42تاکہ آپ لوگوں کو
05:43تصوف کے رموز و نکات سمجھائیں
05:45آپ کی کتابیں
05:46بلند اور علمِ طریقت کے فنون میں
05:49آپ کی روایتیں نہائیت وقی ہیں
05:52آپ کا ارشاد ہے
05:53اللہ تعالیٰ جسے معرفت سے نوازے
05:56اسے واجب ہے
05:58کہ وہ معصیت کے ذریعے خود کو زلیل نہ کرے
06:00اس ارشاد کا تعلق
06:03بندے کے قصب و مجاہدہ
06:05اور امورِ حق کی دائمی ریایت سے ہے
06:08اگر تم اس راہ پر گامزن ہو
06:10جو کہ اس کے لائق ہے
06:12تو یاد رکھو
06:13کہ حق تعالیٰ جب کسی بندے کو معرفت سے نوازے
06:16تو وہ گناہ ہمیں مبتلا ہو کر
06:18خود کو زلیل نہ کرے
06:21کیونکہ معرفت
06:22حق تعالیٰ کی عطا
06:24اور اس کی انائت ہے
06:25اور معصیت
06:26بندے کا فعل ہے
06:28جسے حق تعالیٰ کی عطا کی عزت مل جاتی ہے
06:31اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے
06:33کہ حق تعالیٰ
06:34اپنے کسی فعل کے ذریعے
06:36اسے زلیل کرے
06:36جس طرح کہ حضرت آدم علیہ السلام کو
06:39جب اس نے اپنی معرفت سے معزز فرما دیا
06:42تو پھر اپنے فعل سے
06:44انہیں زلیل نہ فرمایا