- 15 hours ago
Prophet Yousuf Episode 52 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:02بانو زلیخہ
00:06کہا ہے آپ
00:18حرکت کرو
00:53موسیقی
01:00موسیقی
01:11مجھے
01:13مجھے
01:13مجھے یوزارسیف کی خوشکو آ رہی
01:15جنابی یوزارسیف کسر سے باہر تشریف لائے ہیں
01:20درود بار عزیز امیس
01:21درود بار منجی اور ازاک امیس
01:24درود بار مالک اور مختار امیس
01:35خدا کا ترود ہو ہمارے شجاہ و دلیر نگیبانوں اور محافظوں پر
01:41یوسف
01:43یوسف
01:46یوسف
01:49منزہ ہے وہ خدا
01:50جس نے ایک غلام کو اس کی اطاعت کے باعث
01:55پورے مصر کا مالک و مختار بنا دیا
02:00اور صاحبان نے خدرت و سروت کو
02:02ان کے گناہوں کے باعث
02:05زلیل و خواہ کر دیا
02:16مزعیب خاتون مجھے کافی شناسہ ماغم ہوتی ہے
02:20کیا آپ نے انہیں کہیں دیکھا ہے
02:23پتہ نہیں
02:25آپ نے ان کی باتوں کی گہرائی کو سمجھا
02:28وہ غلام جو عزیزیں مصر ہو گیا اس سے مراد آپ ہیں
02:34وہ یقین ان کوئی اشرافزادی ہیں جب مفلوق الحال ہو چکی ہیں
02:37البتہ وہ اپنی باتوں سے ہرائیتی آپ تا معلوم ہوتی ہیں
02:41مالک
02:42درہ پوچھے وہ کیا کہنا چاہتی ہیں
02:50جناب یوزار صیف نے فرمایا ہے کہ اگر آپ کی کوئی خواہش ہے تو بتائیے اسے پورکیا جائے
02:54کہیے آپ کیا چاہتی ہیں
02:58میں
02:59میں صرف جناب
03:01یوزار صیف سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں
03:06بس اس کے علاوہ کوئی خواہش نہیں
03:09صرف جناب یوزار صرف سے کچھ باتیں کرنا چاہتی گی
03:14یوسف کی یہ خوشبو آ رہی ہے
03:16کیا یوسف یہاں ہے
03:18مجھے یوسف نہیں بھیجا ہے
03:20مجھے بتائیے آپ ان سے کیا کہنا چاہتی ہیں
03:26مجھے تم سے میرے یوسف کی بھو آ رہی ہے
03:30کون ہو تم
03:32اس سے کیا تعلق ہے تمہارا
03:34میں آسنار ہم سرے عزیزے مصر ہوں
03:37کیا کہنا چاہتی ہیں
03:41اس عورت نے کیا کہا
03:44میں نے صحیح سے سنا نہیں
03:46جی میں آسنار ہم سرے عزیزے مصر ہوں
03:50ہم سرے جناب یوزار صیف
03:58بانو
03:58کیا ہوا بانو
04:00بانو کیا ہو گیا
04:06کیا ہوا
04:08بانو کیا ہوا
04:09بانو کیا ہوا آپ کو
04:15ہم نے برسوں انہیں پتہ نہیں چلنے دیا
04:17لیکن
04:18لیکن بلا گھر معلوم ہوئی گیا
04:43بانو کیا ہوا بانو
04:46بانو سلیخا
04:48بانو سلیخا
04:49بانو سلیخا
04:51بانو بانو بانو
04:53میں نے انہیں کہاں دیکھا ہے یہ یاد نہیں آرہا
05:02میرا خیال ہے کہ یہ وہی ضعیفہ ہیں جو میرے خوابوں میں آکر مجھ سے ہمیشہ مدد طلب کیا کرتی
05:08تھی
05:08وہی جن کے آپ کو تلاش تھی
05:11کچھ کہہ نہیں سکتا
05:13شاید
05:16بہر ہر انہیں قصر لے جائیے اور جب تک کہ میں آنے جاؤں ان کا خیال رکھے گا
05:20جائیے
05:21جائیے
05:57جائیے
05:59جائیے
06:00جائیے
06:01جائیے
06:02جائیے
06:02جائیے
06:03جائیے
06:04جائیے
06:05جائیے
06:06جائیے
06:08جائیے
06:09جائیے
06:36موسیقی
06:44ہمیں کہاں لے جا رہے ہو رمبوب
06:46کس راکھ نہ تون پر مروا کا حکم ہے
06:51یہ تیار ہیں جنابی ہو رمبوب
06:53حرکت کرو
07:12موسیقی
07:22رمبوب
07:24کیا میں آپ سے کچھ بوچ سکتا ہوں
07:28کوشش کروں گا جب آپ دینے کی
07:30پوچھے کیا پوچھنا چاہتے ہیں
07:33آپ کے خیال میں جناب آمون موتب
07:35میرا مطلب ہے کہ جناب آخنا تون نے
07:39ہمیں کس لیے طلب کیا ہے
07:44محاکمے کے لیے
07:46جناب فرما روا شہر کے چند موززین کی موجودگی میں
07:49مواخذ کے ارادہ رکھتے ہیں
07:51لوگوں میں یہ چیمے گوئیاں ہو رہی ہیں
07:53کہ آمون کلام کیا کرتا تھا
07:54اور ایک زندہ خدا تھا
07:55نہ کہ ایک مجازمہ
07:57جناب آخنا تون یہ جاننا چاہتے ہیں
07:59کہ آخر آمون کس طرح کلام کیا کرتا تھا
08:01میں جناب آخنا تون کو تو اس کا جواب دے لوں با
08:06لیکن آپ تو ہمارے دوستوں میں سے تھے
08:10اور ہماری حمایت کی بدولت لشکرے
08:14مصر کی قیادت کے عوضے پر فائز ہوئے تھے
08:17آپ نے ہمیں تنہاں کیوں بھوڑ لیا
08:20ہم تو آپ سے نسرت و حمایت کی توقع رکھے ہوئے تھے
08:25میں اب بھی آمون کا پیروکار ہوں
08:26اور آپ کے لیے بھی خاص احترام کا قائد
08:28لیکن آمون سے پہلے
08:30میرے لئے آخنا تون کا حکم حکم خدا کا ترجہ رکھتا ہے
08:33کیونکہ وہ فرزند خدا ہے
08:36یعنی مصر کے تمام ہی فرما رواب مقام نیم خدای رکھتے ہیں
08:40وہ میرے اور تمام مردم مصر کے فرما رواب ہیں
08:45میرا دل تو چاہتا ہے کہ آپ کے لئے کچھ کروں گا
08:48لیکن میں کر نہیں سکتا
08:50کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارا محق پا کون کرے گا
08:54غالبا جناب ایزار
08:56ایزار صرف اب تک ہم سے دستبردار نہیں
08:59کیا وہ ہمیں ہمارے حال پر جھوڑ نہیں سکتا
09:31موسیقی
09:34میں خداوند یکتہ کی بے شمار نعمتوں پر
09:37اس کا شکر ادا کرتا ہوں
09:38اگر خداوند یکتہ کی لطف و عنایات نہ ہوتی
09:42تو ہم قہد سے نبردازمہ ہونے کے لئے
09:45قبل از وقت کوئی چارہ جوئی نہ کر پاتے
09:47اور تب ایسے میں نہیں معلوم ہمارا انجام کیا ہوتا
09:52نیل کو دیکھیں کس طرح خوشک ہو چکا ہے
09:56کھید کھلیانوں کو دیکھیں کس طرح مرجھا گئے ہیں
10:01ہمارا انجام بھی یقیناً ان سے مختلف نہ ہوتا
10:06فیل وقت دیگر ممالک کو آپ کی مدد درکار ہے
10:11اگر خداوند کی عنایات نہ ہوتی
10:14تو آج آپ لوگ بھی دوسرے ممالک کی طرح
10:17ضرورت مند اور درماندہ ہوتے
10:19بس ان نعمات و عنایات کی قدر کیجئے
10:22اور اس کا شکر ادا کیجئے
10:24اب جب کہ آپ ان بے جان پتھروں
10:27اور ذلت و گمراہی کی ان نشانیوں کی پرستش نہیں کرتے
10:32بس لازم ہے کہ ان کی جگہ
10:34خداوند یقتہ کی ستائش اور پرستش کریں
10:38ہم حکم دیتے ہیں کہ آج سے
10:41مابد آمون میں خدا یقتہ کی پرستش کی جائے
10:45خداوند ہم سب کے قلوب کو پہلے سے بھی زیادہ
10:48خدایت کے نور سے منور کرے
10:52موسیقی
10:54موسیقی
10:57موسیقی
11:01موسیقی
11:02موسیقی
11:09موسیقی
11:24موسیقی
11:32موسیقی
11:35موسیقی
11:37موسیقی
11:39موسیقی
11:41موسیقی
11:42موسیقی
11:43موسیقی
11:48اتنے ایسا آپ کہاں تھے
11:51میں تقریباً دس سال تک محاذ پر گیا ہوا تھا
11:55جنابِ حرمہوک کے ہمرا
11:58لیکن آج کے بعد سے آپ ہمارے ہمرا رہیں گے
12:19موسیقا
12:27موسیقا
12:36موسیقا
12:37موسیقا
12:41موسیقا
12:42ہم کہاں ہیں
12:45یہ کونسی جگہ ہے
12:47یہ جنابِ یوزارسیف کا گھر ہے
12:51آپ بہنش ہو گئی تھی اس لئے میں آپ کو یہاں لے آئی
12:56آپ آسنا تھے
12:59ہم سر یوسف
13:04میں سمجھتی تھی کہ صرف میں ہی جنابِ یوزارسیف سے بہنے
13:07انتہا محبت کرتی ہوں
13:10لیکن جو کچھ بھی میں نے آپ کی ندیمہ سے سنا ہے
13:13تو عشق کو محبت کرنا تو آپ سے سیکھنا چاہیے
13:18تیس سال عشق و آہ و اشتیاق
13:22تیس سال فرکت و ملامت و جدائی
13:27با خدا قسم
13:30ایسا عاشق قابلِ ستائش اور ایسا صبر و تعمل قابلِ تحریف ہیں
13:34میرا عشق ایسا پاکی سا نہیں تھا جیسے آپ کیوں
13:37کہہ رہی ہیں
13:41یہ صرف نہیں زیدہ بڑھ کر ہے
13:44مجھ جیسی کناکار اور بد کردار
13:48اس پاک دینے دھستی سے عشق کریں گا
13:54میں نے تو اپنے عشق و حوث اور نفسانی فاہشات سے
13:59آلو تا کر دیا تھا
14:03جس کی تعلیل سزا اب تک کٹ رہی
14:06آپ سمجھتی ہے کہ آپ سب کو جان چکی ہیں
14:18تیس سال باہر ملامت اٹھا
14:23تیس سال تانے اور تشنے سننا
14:27زلیل و غارون
14:31حقارت پرداش کرنا
14:36تیس سال مسلسل گریہ کرنا
14:39اور عشق باہر
14:40تیس سال گلی کچوں میں سرگردار پریشاہ مارے مارے پھرنا
14:48تیس سال ایک مقصد کے پیچھے مسلسل بھاگنا
14:52وہ سزا تھی جو میں نے پرداش کی
14:55میری تمام معلومت بس اتنی ہی محدود ہیں
14:58جو کچھ لمحے میں نے آپ کے ساتھ گزارے
15:00یا جو کچھ بھی آپ کی خادماؤں سے آپ کے بارے میں میں نے سنا
15:06اگر میں آپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہوں
15:09اور جو کچھ بھی آپ پر بیٹی اس سے بے خبر ہوں
15:12تو اس میں میری کوئی کوتہ ہی نہیں ہے
15:15دیکھنا ہوگا کہ یوسف آپ سے اتنے عرصے کیوں بے خبر رہے
15:21انہیں اپنی اس بے خبری کا جواب دینا ہوگا
15:24نہیں نہیں خدارہ آج یوسف سے ایسا کچھ نہیں کہیں گی
15:29آپ پریشان مت ہوئیے میں بھی آتی ہوں
15:33جنابی یوزار سیف کہاں ہے
15:35اس وقت وہ ایوانِ قصر میں جنابِ آخناتون کے پاس تشریف فرما ہے
15:39میرے ساتھ آؤ
15:41آسنات رکھ جائیے آسنات
15:47اللہ یوسف کو کیسے پتہ چلتا کہ مجھ پر کیا گزری
15:52وہ سب ہی لوگوں کا غمخار اور مددکار ہے
15:57مشکلات و مسائب کا ایک سلسلہ ہے جو اس کو گھیرے ہوئے ہیں
16:04یوسف پر زلیقہ کی جارہ تاری نہیں کہ وہ صرف زلیقہ کے باہر میں سوچتا رہے ہیں
16:10میرے سننے میں آیا ہے کہ جب تک آپ مابد میں رہے آمون لوگوں سے کلام کرتا رہا
16:16لیکن آپ کی ادم موجودگی میں آمون نے پھر کبھی کلام نہیں کیا
16:21کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ آمون جسے اپنے تحفظ کے لیے بھی کاہنوں کی مدد درکار ہو کسی
16:27سے کلام کر سکتا ہے؟
16:29بھائر منطقی دلائل سے عوام کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں
16:36لیکن جنابِ یوزار سیف کو نہیں دے سکتے
16:42حقیقت تو یہ ہے کہ آمون کے نزدیکواری کھڑکی سے آواز کو تھوڑا بہت بدل کر میں ہی لوگوں سے
16:50کلام کرتا تھا
16:53مابت میں آواز کی بازگشت نے کچھ لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا کہ یہ آمون کلام
17:01کر رہا ہے
17:02تم ایک عقل مند انسان ہو آخ ماہو
17:06تو پھر تم نے اپنی اس عقل مندی اور فہم و فراست کو لوگوں کی فلاہ و بہبود کیلئے کیوں
17:10استعمال نہیں کیا؟
17:12ایک جھوٹ کی مسلسل تقرار
17:13اسا اوقات باعث بنتی ہے کہ خود صاحب کلام ان مطالب پر یقین کر لیتا ہے
17:20یہ مسلسل تقرار باعث بنی تھی کہ ہم بھی آمون کو ایک خدا تصور کرنے لگے
17:30لوگوں کی جہالت اور نادانی اور دنیا کی دل فریب لذتیں بہت وسوسہ انگیز ہوتی ہیں
17:40لوگ یہی چاہتے تھے ہم نے بھی مفادات پر استعمال کیا بس یہی
17:49لوگوں کی یہ نادانی بھی آپ ہی کہ اس جھوٹ کے باعث ہے جس کے تقرار پر آپ لوگ بھی
17:53اسے ہی سچ سمجھنے لگے
17:55عوام احمق نہیں ہے
17:57آپ لوگوں نے چونکہ حقیقت ان سے چھپائی لہٰذا انہوں نے آپ ہی کہ جھوٹ کو حقیقت سمجھ لیا
18:01آپ ذرا حق و باطل کو ایک ساتھ ان کے سامنے پیش کریں
18:05اور پھر دیکھیں کہ وہ کس کا انتخاب کرتے ہیں
18:12بانو آسنات ہم سارے عزیز عویسر شرف باریاں بھی چاہتی ہیں
18:20اجازت ہے
18:22بانو آسنات کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں
18:52امیدوار ہوں کہ نبی خدا میری جسارت پر مجھے بخش دیں گے
18:57کیونکہ میں ان کی شکایت جناب آخناتو ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں
19:24آسنات
19:25آج کاہینوں کا محاکمہ ہے میری شکایت پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھیں
19:32مجھے ذرا جلدی ہے لہذا میں انتظار نہیں کر سکتی
19:39ان کاہینوں کا محاکمہ بعد میں سہی
19:42بانو آسنات اپنا مدہ بیان کریں
19:45میں جاننا چاہتی ہوں
19:47عزیز مصر جناب یوزار سیف
19:51کہ جنہوں نے اپنی تمام عمر
19:53مردم مصر کو آسائش پہنچانے میں سرف کر دی
19:57بھلا ایک پریشان حال نابینا اور دل سوکتا ضعیفہ سے کیوں کر بے خبر رہے
20:07جس ضعیفہ کا آپ ذکر کر رہی ہیں
20:10بھلا ان کے بارے میں مجھے کیسے خبر ہوتی
20:13میرے خوابوں نے تو مجھے کافی عرصے سے مسترب کیا ہوا تھا
20:17آپ تو شاہد ہیں اس کی
20:20ایسے میں میں انہیں کہاں تلاش کرتا
20:22آپ انہیں جانتے تھے لیکن ان سے بے توجہ ہی بڑھتی
20:26وہی جس نے سالوں محبت سے آپ کو پروان چڑھایا
20:31اور جب آتشِ عشق ان کے وجود میں بھڑک اٹھی
20:34اور ان کے پڑے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
20:36تب آپ نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا
20:41کوئی اور نہیں زلیخہ ہے
20:49زلیخہ
21:05نہیں یہ ممکن نہیں
21:07زلیخہ ایک خوبرو اور سروتمند اشرافزادی تھی
21:11یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ زلیخہ ہوں
21:13آپ کے عشق نے انہیں اس حال کو پہنچایا ہے
21:16انہوں نے تیس سال آپ کا انتظار کیا
21:20تیس سال آپ کی تلاشیں ماری ماری پھڑتی رہیں
21:25اپنی تمام ہستی جوانی اور خوبصورتی آپ پر نسار کر دی
21:31اور پھر بھی آپ ان سے بے خبر ہی رہے
21:33یہ سب سچ نہیں ہے آسنات
21:37یہ پوری حقیقت نہیں ہے
21:41جناب فرما روانے
21:42خود مجھے اس قید سے آزاد کروائے تھا
21:45جہاں پوتیفار اور زلیخہ نے مجھے ڈلوائے تھا
21:48بارہ سال پہلے
21:49ہاں ہم اس بات کے گواہ ہیں
21:50کہ کس طرح زنان مصر اور زلیخہ نے
21:52یوزار سیف پر تحمت لگائی تھی
21:53اور انہیں بارہ سال زندان میں ڈالے رکھا
21:57اس جرم میں جس کے وہ کبھی مرتقب ہی نہیں ہوئے تھے
22:00سب ہی نے اپنے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا
22:02اور یوزار سیف کی بے گناہی کی شہادت دی تھی
22:06لیکن میں نے رہائی پانے کے بعد ان کے ساتھ کیا کیا
22:09کچھ نہیں
22:11میں نے انہیں اور ان کے شوہر کو سزا نہیں دی
22:14انہیں تو اس بات پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا
22:16اور پھر ویسے بھی
22:18مجھے کیا معلوم تھا کہ
22:20مصر کی بانوے دوم
22:22ایک ایسی صاحبے جاہو مرتبہ
22:24اس حالت کو پہنچ جائیں گی
22:26انہوں نے اروٹ سے زوال دکھا ہے
22:29اور آپ انہیں دلجوئی کی ضرورت ہے
22:31آپ جانتی ہیں
22:32میں خود ان زعیفہ خاتون کی دلجوئی کرنے کے لیے بے چین تھا
22:38کئی برسوں سے ان موتاج زعیفہ کی حاجت
22:41نے مجھے پریشان کر رکھا تھا
22:44میں تو خود ان کی حاجات کو پورا کرنے کی خواہش رکھتا ہوں
22:54میں زلیخہ سے ملنے کے لیے آپ سے رخصت چاہوں گا
22:57بلکل نہیں
23:00اس تحید آمن مسئیبت زدہ دل سختہ کو ہم سب ہی دیکھنا چاہیں گے
23:04اگر آپ اجازت دے تو میں
23:08میں جا کر انہیں یہاں لیا ہوں
23:10ہاں بلکل انہیں لے کر آئیں
23:18میں جا کر بھی
23:46موسیقی
23:55خداوند فرماتا ہے
23:58زلیخہ بہت تکلیفیں اٹھا چکی
24:00اور اپنی خطاؤں کی تلافی بھی کر چکی
24:03اب وہ ایک بائیمان اور یکتب پرست عورت ہے
24:08اس کی دل جوئی کر
24:09اور اسے اپنی زوجیت میں لنے لو
24:13کہ اس کے حق پہ کی جانے والی تمہاری دعاوں کو حق تعالی مستجاب کرے گا
24:18تمہارا کام دعا کرنا اور طلب کرنا ہے
24:21قبول کرنا اور عطا کرنا خدا کے ہاتھ میں ہے
24:38کیا کوئی نیا پیغام ہے نبی خدا
24:43حجیب سا فرمان تھا
24:47حکم ہوا ہے کہ زلیخہ کی دل جوئی کر کے
24:51اسے اپنی زوجیت میں لے دوں
25:06موسیقی
25:08موسیقی
25:28اس دواج اس بری آجیزہ و درماندہ ضعیفہ سے
25:31وہ تو بہت سن رسیدہ ہے
25:38فرمان خداوند یکتہ ہے کہ اس زن رسیدہ دل سوختہ سے ازدواج کرو
25:44وگرنا مجھ آپ جیسی خوبصورت ہمسر کے ہوتے ہوئے
25:47کسی اور کی کیا ضرورت ہے
25:54اب وہ جیسی بھی ہوں میرے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا
26:03میں پیمبر خدا کی انتہائی سے پاس گزار ہوں
26:06اگر زلیخہ خوبصورت اور بیمثال بھی ہوتی
26:10تو بھی میں حکم پروردگار کی اطاعت کرتی
26:21بانو زلیخہ اور ان کی خاتمہ شرف باریاں بھی چاہتی ہیں
26:40موسیقی
26:41موسیقی
26:52موسیقی
26:53موسیقی
26:53موسیقی
27:03موسیقی
27:34موسیقی
28:05موسیقی
28:15یوسف نبی کی خوشبواریه
28:48موسیقی
28:49موسیقی
28:59موسیقی
29:03موسیقی
29:04موسیقی
29:06موسیقی
29:08موسیقی
29:13موسیقی
29:20موسیقی
29:22موسیقی
29:29موسیقی
29:31موسیقی
29:38موسیقی
29:39موسیقی
29:39موسیقی
29:48موسیقی
29:49موسیقی
29:49موسیقی
30:00موسیقی
30:01موسیقی
30:02موسیقی
30:05موسیقی
30:13موسیقی
30:15موسیقی
30:17موسیقی
30:26موسیقی
30:33موسیقی
30:37موسیقی
30:38موسیقی
30:46موسیقی
30:48موسیقی
30:52موسیقی
30:53موسیقی
30:53موسیقی
30:53موسیقی
30:54موسیقی
30:54موسیقی
30:57موسیقی
30:58موسیقی
31:00موسیقی
31:02موسیقی
31:03موسیقی
31:05موسیقی
31:15پوچھو گے نہیں میرا سارا معلومتا کیا ہوا
31:19جانتا ہوں وہ سب راہ یوسف میں لٹا دیا
31:26پوچھو گے نہیں وہ میرا سارا چاہو جلال کیا ہوا
31:32سنا ہے وہ تم نے میری راہ میں فنا کر دیا
31:37پوچھو گے نہیں میرا وہ حسن جمال کیا ہوا
31:40کیسے زائل ہو گیا
31:45درد عشق جہاں سوز اور جہاں گداز ہوا کرتا ہے
31:50اچھا مجھے یہ بتاؤ
31:54یوسف سے تمہارا وہ عشق کہاں پہنچا
32:00وہ عشق اب بھی اپنی جگہ ہے
32:06اپنے تمام وجود کے ساتھ اسے پرمان چڑھا کر
32:11اپنے سینے میں محفوظ کر لیا ہے
32:16مجھے بخش دینا جب تم سے اتنے عرصے بے خبر رہا
32:22ارادہ خداون جو سب کے ارادوں پر حاوی ہے
32:25اس نے مجھے بے خبر رکھا
32:28یہ تم ہو یوسف جو مجھ سے اتنی مربانی سے پیش آ رہے ہو
32:33نہیں
32:35یہ حق تعالیٰ ہے جو تم پر اس طرح کرم فرما ہے
32:40اس وقت تمہیں پروردگار یکتہ کی خاص توجہ حاصل ہے
32:44کہوں مجھ سے کیا چاہتی ہو
32:46میرے پاس کی آنے ہی چھو دلک کروں
32:51محبوب چاہتی تھی
32:52سو میرے سامنے موجود
32:56محبوب چاہتی ہوں
32:58سو اس کے مقصر میں ہوں
33:03آپ تو صرف ایک ہی عرزو ہے
33:07دیدار یوسف
33:11اور اس کے لئے دیدار بھی نہ چاہیے
33:15جو میرے پاس نہیں
33:19اگر معشوق کے بس میں تمہیں پینائی عطا کرنا نہیں ہے
33:23محبوب کے اختیار میں تو ہے
33:25تم محبوب سے دلب کرو
33:27میں بھی دعا کرتا ہوں
33:30اگر مشیعت ہوئی تو تمہاری آنکھیں منور ہو جائیں گے
33:49محبوب چاہتی تھی
34:19پروردگارہ
34:21اپنی اس ملتمس بندی کی آنکھوں کو بینائی عطا کرتے
34:25جس طرح تُو نے اس کے قلب کو نور ایمان سے منور کیا ہے
34:29اسی طرح اس کی آنکھوں کو بھی منور کرتے
34:40موسیقی
34:41موسیقی
34:49موسیقی
34:50موسیقی
35:02موسیقی
35:04موسیقی
35:16موسیقی
35:16موسیقی
35:16موسیقی
35:23موسیقی
35:25موسیقی
35:26موسیقی
35:30موسیقی
35:34موسیقی