Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kashful Mahjoob Part 38

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08حضرت حاتم بن عسم رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:13طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ
00:15زین العباد جمال اعتاد
00:19حضرت ابو عبد الرحمن حاتم بن العسم رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:23آپ بلخ کے برگزیدہ مشائخ اور خراسان کے اکابر میں سے ہیں
00:30آپ حضرت شفیق رحمت اللہ علیہ کے مرید تھے
00:32اور حضرت احمد خضرویہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے استاد تھے
00:37ابتدا سے انتہا تک ایک قدم صدق و طریقت کے خلاف نہیں رکھا
00:42حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
00:47ہمارے زمانے کے صدیق حضرت حاتم ہیں
00:51روعتِ الٰہی، آفاتِ نفس اور رونتِ طبع کے دکائق میں آپ کا کلام بہت عرفہ ہے
00:57علمِ تصوف میں آپ کی بکسرت تصانیف ہیں
01:01آپ کا ارشاد ہے کہ تین قسم کی شہوتیں ہیں
01:05یعنی نفسانی خواہشات میں سے ایک شہوت کھانے کی ہے
01:09دوسری شہوت گفتگو کی ہے
01:12اور تیسری شہوت نظر یعنی آنکھ کی ہے
01:17لہٰذا ان کی حفاظت اس طرح کرو
01:20کہ اپنے رزق کے لیے خدا پر بھروسہ کرو
01:23زبان سے سچ بولو اور آنکھ سے عبرت حاصل کرو
01:28جس نے خوراک میں توقل کیا اور لذتِ تام کے فتنہ سے محفوظ رہا
01:33اور جس نے زبان کو سچائی کا عادی بنا لیا
01:36وہ زبان کے فتنہ سے محفوظ رہا
01:39اور جس نے آنکھ سے درست کام لیا
01:41وہ نظر کے فتنہ سے دور رہا
01:44توقل کی اصل اور حقیقت صدق و اخلاص میں ہیں
01:47اس لیے کہ جب ہر معاملہ میں صدق و اخلاص سے کام لے گا
01:51اور خدا کی روزی رسانی پر اعتماد رکھے گا
01:54اور زبان کو عبادت میں
01:56اور نظر کو اس کی معرفت میں مشہول رکھے گا
01:59تو بندہ جو کھائے گا اور پیے گا
02:02وہ درستگی کے ساتھ ہوگا
02:03اور جو بات کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ ہوگی
02:06جب خدا کو سچا مانے گا
02:08تو اس کا ذکر زبان پر ہوگا
02:11اور جب سچ دیکھے گا
02:12تو اسی کو دیکھے گا
02:13یہ اس لیے کہ اس کے عطیہ و نعمت کو
02:16اس کی اجازت کے بغیر کھانا حلال نہیں
02:19اور اس کے ذکر کے سوا
02:21زبان پر کسی اور کا ذکر لانا سچائی نہیں
02:23اور اس کے جمال کے سوا
02:25موجودات میں کسی اور پر نظر ڈالنا جائز نہیں
02:28جب اس سے لے کر
02:31اس کی اجازت سے کھائے گا
02:32تو اس میں خواہش کا دخل نہ ہوگا
02:35جب اپنی خواہش سے کھائے گا
02:36اگرچہ وہ شئے حلال ہی کیوں نہ ہو
02:39تو یہ شہوت کہلائے گی
02:40اسی طرح جب اپنی خواہش سے بولے گا
02:43اگر اسی کا ذکر ہو
02:45تو یہ جھوٹ اور شہوت ہوئی
02:47اور جب اپنی خواہش سے دیکھے گا
02:49چاہے وہ صفاتِ الہی کے استدلال میں ہی ہو
02:51تو وبال اور شہوت ہوگی
02:54حضرت امام محمد بن عدریس شافعی
02:57رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
03:00طریقت و شریعت کے اماموں میں سے ایک بزرگ
03:04امام مطلبی
03:05حضرت ابو عبداللہ محمد بن عدریس شافعی
03:09رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
03:12آپ اپنے زمانہ کے
03:14اکابرین میں سے تھے
03:15اور تمام علوم کے مشہور اور معروف امام گزرے ہیں
03:20فتوہ
03:21وراء اور تقوی میں
03:22آپ کے فضائل انتہائی مشہور
03:25اور کلام عرفہ ہے
03:27جب تک مدینہ منورہ میں رہے
03:29امام مالک رحمت اللہ علیہ سے تلمز رہا
03:32اور جب اراد تشیف لائے
03:33تو حضرت امام محمد بن حسن
03:35رحمت اللہ علیہ کی صوبت میں رہے
03:38آپ کی طبیعت
03:39ہمیشہ گوشہ نشینی کی طرف مائل رہی
03:41اور طریقت کے حقائق کی جستجو میں
03:44مشغول رہے
03:44یہاں تک کہ
03:45لوگ آپ کے گرد جمع ہو کر
03:48آپ کی اقتدا کرنے لگے
03:49حضرت امام
03:51احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ بھی
03:53انہی میں سے ایک ہیں
03:56آپ ہر حال میں
03:57خسائل حمیدہ کے حامل رہے
03:59ابتدا میں صوفیاء کے زمرے میں رہے
04:01مگر دل میں کرختگی رہی
04:03لیکن جب حضرت شیبان رائی رحمت اللہ علیہ سے
04:06ملاقات ہوئی
04:07اور ان کی صحبت اختیار کی
04:09تو جہاں کہیں رہے
04:11طالب صادق رہے
04:12آپ کا ارشاد ہے
04:16جب تم ایسے عالم کو دیکھو
04:18جو رخصت اور تعویل کا متلاشی رہتا ہے
04:22تو تم اس سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکو گے
04:25مطلب یہ
04:27کہ علماء چونکہ مخلوقات کے پیش رو ہیں
04:30اس لیے انہیں عظیمت کی راہ پر گامزن رہنا چاہیے
04:34اور اگر غیر عالم میں عظیمت پائی گئی
04:37تو عمل میں غیر عالم
04:39عالم سے آگے بڑھ جائے گا
04:41حالانکہ کسی کو یہ جائز نہیں
04:43کہ کوئی غیر عالم
04:45عالم سے آگے بڑھ جائے
04:47اور عالم سے آگے قدم رکھے
04:48خواہ کسی معنی میں ہو
04:50راہ حق کا اصول
04:52احتیاط اور مجاہدے میں
04:54مبالغہ کے بغیر ممکن نہیں
04:57اور عالم میں رخصت کا مطلب یہ ہے
04:59کہ ایسا کام کرے
05:00جس میں آسانی ہو
05:02اور مجاہدے سے فرار کی راہ مل سکے
05:05لہذا
05:05رخصت کی جستجوت و عوام کا درجہ ہے
05:08تاکہ دائرہ شریعت سے باہر نہ نکل جائے
05:11اور جب خواہس یعنی علماء ہی
05:14عوام کے درجہ میں اتر آئیں
05:15اور رخصت پر عمل کرنے لگیں
05:17تو پھر ان سے کیا حاصل ہوگا
05:19اس کے ماسیوہ ایک بات اور بھی ہے
05:22کہ رخصت طلب کرنا
05:23در حقیقت فرمانِ الہی کو خفیب سمجھنا ہے
05:28علماء چونکہ اللہ رب العزت کی دوست ہیں
05:30اور کوئی دوست اپنے دوست کے حکم کے خلاف نہیں کرتا
05:34نہ اس کو سبق کرتا ہے
05:36اور نہ علماء حق ہی
05:38عوام کے درجہ میں آنا گوارہ کر سکتے ہیں
05:40بلکہ وہ ہر حال میں
05:42احتیاط اور عظیمت کو ہی اختیار کرنا پسند کرتے ہیں
05:46ایک بزرگ بیان کرتے ہیں
05:48کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا
05:52میں نے ارز کیا
05:53یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:56مجھے ایک روایت پہنچی ہے
05:58کہ زمین میں اللہ رب العزت کے اعتاد
06:00اولیاء اور ابرار موجود ہیں
06:02حضور سرور کائنات
06:04صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
06:07راوی نے
06:08میری یہ حدیث تم تک صحیح پہنچائی ہے
06:10اس بزرگ نے ارز کیا
06:12یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:15پھر مجھے
06:16ان میں سے کسی کی زیارت کروائی جائے
06:19حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
06:23محمد بن عدریس
06:24ان میں سے ایک ہیں
06:25حضرت امام احمد بن حنبل
06:28رحمت اللہ تعالی علیہ
06:30طریقت و شریعت کے اماموں میں سے
06:33ایک بزرگ
06:33شیخ سنت
06:35قاتع بدت
06:36حضرت ابو محمد احمد بن حنبل
06:39رحمت اللہ تعالی علیہ
06:41آپ ورا
06:42تقوی اور حافظ حدیث نبوی میں مخصوص ہیں
06:45تمام مشایخ طریقت
06:48اور علماء شریعت
06:49آپ کو مقتدہ مانتے ہیں
06:51آپ نے مشایخ قبار میں سے
06:53حضرت زنون مصری رحمت اللہ علیہ
06:55حضرت بشرحافی رحمت اللہ علیہ
06:57حضرت سری سکفی رحمت اللہ تعالی علیہ
07:00اور حضرت معروف کرخی
07:02رحمت اللہ علیہ
07:03کی صحبتیں پائیں ہیں
07:04آپ ظاہر القرامت
07:06اور صحیح الفراست تھے
07:08کچھ
07:09مشتبہ لوگ
07:10ان سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہیں
07:12لیکن وہ
07:13قذاب اور جھوٹے ہیں
07:15اور آپ تمام اتہامات
07:16اور الزامات سے پاک اور مبرہ ہیں
07:20اصول دین و مذہب میں
07:21آپ کے وہی موتکدات ہیں
07:24جو تمام علماء اہل سنت کے ہیں
07:28جب اغداد میں
07:29موتزلہ کا غلبہ اور تسلط ہوا
07:31تو انہوں نے ارادہ کیا
07:33کہ آپ کو اتنی عذیت اور تکریف پہنچائی جائے
07:36کہ آپ قرآن کو مخلوق کہنے پر مجبور ہو جائیں
07:40باوجود ہے کہ
07:41آپ ضعیف العمر
07:43اور کمزور و لاغر ہو چکے تھے
07:45پھر بھی آپ کے ہاتھوں کو کندھوں سے کھینچ کر باندیا گیا
07:48اور آپ کے جسم پر ایک ہزار کوڑے مارے گئے
07:52لیکن آپ نے ان کی محافقت میں اپنے ضمیر اور علم کے خلاف کہنا گوارہ نہ فرمایا
07:58اس دوران آپ کا ازار بند کھل گیا
08:01چونکہ آپ کے دونوں ہاتھ بندے ہوئے تھے
08:03اچانک ایک غیبی حادث دمودار ہوا
08:06اور اس نے آپ کے ازار بند کو باندیا
08:09جب ان لوگوں نے آپ کی حکانیت کی یہ دلیل دیکھی
08:13تو آپ کو چھوڑ دیا
08:15انہی کوڑوں کے زخموں کے نتیجے میں آپ کا انتقال ہوا
08:18آخر وقت میں آپ سے کچھ لوگوں نے دریافت کیا
08:21کہ ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے
08:24جنہوں نے آپ پر کوڑے برسائے
08:26آپ نے فرمایا
08:27میں کیا کہہ سکتا ہوں
08:29بجوز اس کے
08:30کہ انہوں نے خدا کی راہ میں
08:31اس گمان پر کوڑے مارے ہوں گے
08:33کہ معاذ اللہ میں باطل تھا
08:36اور وہ حق پر
08:38میں محض زخمی ہونے کی بنا پر
08:40قیامت کے دن
08:41ان سے جھگڑا نہیں کروں گا
08:43یہ آپ کے علم
08:44بردباری اور تفویز
08:46اللہ کا عالم تھا
08:49طریقت و سلوک میں آپ کا کلام بہت عرفہ
08:51اور بلند ہے
08:53آپ سے جب کوئی بھی
08:55مسئلہ دریافت کیا جاتا
08:57اگر وہ راہ سلوک اور طریقت سے متعلق ہوتا
09:00تو جواب ان آیت فرما دیتے
09:01اور اگر وہ حقائق و معرفت سے تعلق رکھتا
09:05تو حضرت بشرحافی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بھیج دیتے
09:08چنانچہ ایک دن کسی نے آپ سے دریافت کیا
09:12اخلاص کیا ہے
09:13آپ نے فرمایا
09:14اخلاص یہ ہے
09:16کہ تم عامال کی آفتوں سے محفوظ رہو
09:18مطلب یہ
09:20کہ عمل ایسا ہونا چاہیے
09:22جو ریا سے خالی ہو
09:23اور وہ آفت رسیدہ نہ ہو
09:25پھر اس نے سوال کیا
09:27کہ توقل کیا ہے
09:28آپ نے فرمایا
09:29روزی رسانی میں
09:31اللہ رب العزت پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھنا
09:35پھر اس نے سوال کیا
09:37رضا کیا ہے
09:38آپ نے فرمایا
09:41تمام کاموں کو خدا کے حوالے کرنا
09:43اور راضی برازا رہنا
09:45پھر اس نے سوال کیا
09:48محبت کیا ہے
09:49آپ نے فرمایا یہ بات حضرت بشر حافی سے دریافت کرو
09:52جب تک وہ حیات ہیں
09:54میں اس بات کا جواب نہیں دوں گا
09:58امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ کی
10:00تمام زندگی
10:01موتزلہ کی
10:02تانو تشنی اور ان کے ظلم و ستم میں گزری
10:05اور وسال کے بعد بھی
10:07ان کی ذات پر افترہ
10:09اور اتحام
10:10مسلسل قائم کیا جاتا رہا
10:12یہاں تک کہ اہل سنت و جماعت بھی
10:15آپ کے حوال پر کما حق کو ہواقف نہ ہو سکے
10:18اور عدم واقفیت کی بنا پر
10:20ان پر اتحام رکھے گئے
10:22حالانکہ وہ اس سے بری اور مبرہ ہیں
10:24موسیقی