- 23 hours ago
Prophet Yousuf Episode 50 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:01نام نہیں پوچھے ان کے
00:02کیوں نہیں آلی جناب
00:03ان کے نام اس میں درچ کر لی گئے
00:14وہی ہے
00:15بنی اسرائیل
00:22کیا ہوا نبی خدا
00:24کیا کوئی ناخشکور واقعہ پیش آیا ہے
00:32اس میں ایسا کیا لکھا ہوا تھا
00:34کچھ نہیں بانو
00:35صرف ان دس بھائیوں کے نام درشتے
00:38مالک
00:39انہیں اہترام کے ساتھ
00:41قصر آخنا تون لے جائیے
00:52آپ کو خدا کا واسطہ کچھ تو بتائیں
00:56آخر آپ کچھ بولتی کیوں نہیں
00:58بلاخر تقدیر میرے بھائیوں کو مصر لے آئی ہے
01:01تاکہ وعدہ خداوندی کی تکمیلیت کا
01:03اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکیں
01:05اتنے طویل عرصے بات
01:08ارادہ خداوندی یہی تھا
01:10کہ ہم ایک دوسرے سے اتنے عرصے دور رہیں
01:12بس میرا آپ سے یہ تقاضہ ہے
01:14کہ یہاں میرے بھائیوں کی موجود کی کا
01:16کسی کو عرم نہ ہونے پائے
01:19خدایہ سپاس گزار ہوں
01:22سپاس گزار ہوں
01:39کہاں ہے
01:41یہ ہے
01:45کیا آپ لوگ کنانی ہیں
01:47جی ہاں
01:48ہم سب کنان سے آئے ہیں
01:51آپ لوگ تو دس افراد سے زیادہ ہیں
01:53مجھے تو بتایا گیا تھا
01:55کہ دس کنانی بھائی ہیں
01:56بس ہم دس بھائی ہیں
01:58باقی سب کافلے والے ہیں
02:01میں عزیز مصر کی جانب سے آیا ہوں
02:03اگر آپ کو کسی قسم کی تکلیف ہوئی ہو
02:05یا انتظار کی زہمت اٹھانی پڑی ہو
02:08تو ہم معذرت چاہتے ہیں
02:09آپ دس بھائی طبس میں داخل ہو سکتے ہیں
02:13مجھے حکم ملا ہے
02:14کہ آپ لوگوں کو عزیز مصر کے قصر لے جاؤں
02:17اور باقی کنانیوں کا کیا ہوگا
02:19باقی سب لوگ گندم کی وصولی کے لیے جا سکتے ہیں
02:23آپ سب بھائی میرے ساتھ تشریف لائیے
02:26آخر ہم دس بھائی ہیں کیوں
02:27یہ تو مجھے نہیں معلوم
02:29یہ آپ خود عزیز مصر سے پوچھ لیجے گا
02:32تشریف لائیے
02:48گھبرائیے من
02:50آپ اپنی گندم حاصل کرنے چاہیے
02:53واپسے میں آ کر اسی دروازے پر ایک گوسر سے ملی چھے گا
02:56ان کے جانوروں کو ان کی واپسی تک استفر لے جائیے
02:59اور ان کے دیکھ بھال کریں
03:01آئیے
03:19میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا
03:22کہاں اتنے سختی بڑھتی گئی اور کہاں اب اتنی نرمی سے پیش آیا جا رہا ہے
03:26آخر ہمیں عزیز مصر کے قصر کیوں لے جایا جا رہا ہے
03:28وہ سختی ادم آگاہی کے باعث تھی جو معمون نے کی تھی
03:32اور یہ نرمی اس مہربانی اور مہمان نوازی کی بدولت ہے جس کا عزیز مصر نے حکم دیا ہے
03:38کیا وہ سب پر اتنے ہی مہربان ہیں
03:42اہل مصر یوزار صیف کی پرستش کرتے ہیں
03:44وہ سب کے ساتھ ہی نہیت مہربان ہیں
03:46البتہ سب کو قصر میں مدو نہیں کیا کرتے
03:49اور اس کی وجہ بہتر ہوگا آپ خود انہی سے پوچھ لیجئے
03:52میں نہیں جانتا
04:04ہی نہیت مرد دلتان
04:27گرہ
04:28گرہ
04:30دیکھ رہی ہیں آسنات
04:34یہ دسوں میرے بھائی ہیں
04:38لیکن میں کسی کو بھی پہچان نہیں پا رہا
04:43یہ فرما روای مصر جناب آخناتون کا قصر ہے
04:46آپ پہلے قبیلے والے ہیں جن کو یہاں آنے کی سعادت ملی ہے
04:51لیکن وہ جو سب سے آگے آگے مالک کے ساتھ چل رہے ہیں وہ لاوی ہے
04:58ان کا چہرہ خوب اچھی طرح یاد ہے
05:03میرے سب سے اچھے بھائی ہیں
05:05انہوں نے ہی مجھے قتل ہونے سے بچایا تھا
05:10یا خدا
05:13ان کے بال کتنے سفید ہو گئے ہیں
05:20دیکھا زمانے کے سرد و گرمیوں کی کیا حالت کر دی ہے
05:28اور وہ جو سب سے آخر میں کھڑے ہیں وہ یہودہ ہیں
05:32ہر طرف مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں
05:35وہ ہمیشہ ہی مشکوک رہتے ہیں
05:40وہ ابھی تک اپنی اسی فطرت پر قائم ہیں
05:48میرے خدا
05:51یہ سب لوگ کتنے بدل گئے ہیں
05:56امید کرتا ہوں کہ بین یامی بھی ان کے ساتھ ہی میں ہو
06:02ان میں سے اکثر کے سر و داڑی کے بعد کتنے سفید ہو گئے ہیں
06:07آسنات
06:08کیا وہ بھی مجھے نہیں پہچان پائیں گے
06:12پریشان مت ہوئیے
06:14آپ عمر میں سب سے چھوٹے تھے
06:17لہذا سب سے زیادہ تبدیلی آپ ہی میں آئی ہوگی
06:19خاص کر اس لباس میں
06:22امید ہے ایسا ہی ہو
06:33موسیقی
06:58چلی
07:03موسیقی
07:26خدا مندہ
07:28میں کس طرح ان کے سامنے جاؤں
07:32اگر مجھے پہچان دیا تو
07:35کب نائمت
07:37وہ آپ کے بھائی ہیں نبی خدا
07:39کچھ بھی نہیں ہوگا
07:42وہ بھائی جو میرے قتل کا ارادہ رکھتے تھے
07:44اور اب بھی نہیں معلوم کہ وہ کن خاصلتوں کے حامل ہیں
07:48اور ویسے بھی
07:49میرے رہن میں ان کے لئے ایک منصوبہ ہے
07:51لہذا میں ابھی نہ پہچانا جاؤں تو بہتر ہے
08:01پھر وہی مہارے ماؤد
08:09معلوم نہیں
08:09اس اسم میں ایسا کیا راز پوشیدہ ہے
08:12کہ جب بھی میں اس سے متوصل ہوتا ہوں
08:14تو مجھے سکون ملتا ہے
08:18میں چندروں دنے اپنے پاس ہی روکنا چاہتا ہوں
08:22آج کئی برسوں کے بعد میں نے انہیں دیکھا ہے
08:28مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر ہم لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں
08:32آپ کے خیال میں عزیز انفیسٹر کم سے کیا کام ہو سکتا ہے
08:35ہمیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا
08:37لگتا ہے اسی مصیبت میں فس گئے ہیں جس سے رہائیہ بمکن نہیں
08:41اس کے برعکس
08:44مجھے تو نہایت سکون محسوس ہو رہا ہے
08:46اور ان کی ارادے بھی ناپاک معلوم نہیں ہوتے ہیں
08:56حکم کی تعمیل ہو چکی ہے
08:59اب کیا حکم ہے
09:00میرے بھائی ہمارے مہمان ہیں
09:03کچھ روز یہاں قیام کریں گے
09:05نیمی صاحبوں سے کہیے کہ ان کے قیام اور طوام کے لیے بہترین احتمام کرے
09:11جناب مالک
09:15مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ لوگ خوش نہیں ہیں
09:19وہ لوگ یہاں لائے جانے کا سبب جاننا چاہتے ہیں
09:21انہیں بتائیے کہ اگر عزیز انفیسٹر کے ارادے نیک نہ ہوتے
09:24تو اس وقت وہ یہاں قصر میں نہ ہوتے
09:26آپ بے فکر ہو جائیے
09:28انہیں مطمئن کرنا میرا کام ہے
09:38خوش حمدید
09:42میں امید کرتا ہوں کہ یہاں اس طویل مسافت کی تھکان اور خست کی دور ہو جائے گی
09:49آخر ہمیں یہاں کیوں لائے گیا ہے
09:51عزیز مصر کو بھلا ہم سے کیا کام ہے
09:53بلا شبہ جنہیں سزا دینا مقصود ہوتا ہے انہیں قصر میں نہیں لائے جاتا
09:58البتہ یہ کہ عزیز مصر کو آپ سے کیا کام ہے
10:01یہ تو وہ خود ہی بتائیں گے
10:03میں فقط آپ کی پذیرائی اور خدمت پر معمور ہوں
10:07نیمی صاحبو عزیز مصر کے مسائب خاص آپ کی خدمت کے لیے ہما وقت موجود ہیں
10:12جس چیز کی بھی ضرورت ہوں ان سے کہہ سکتے ہیں
10:26میں بھی آپ لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہوں
10:33میرے خیال میں بہتر ہوگا کہ پہلے نہا دھو کر تازہ دم ہو جائیے
10:38تاکہ سفر کی تھکان دھور ہو سکے
10:52ہاں آجایی
10:54ہاں آجایی
11:14تاجب ہے
11:15میں نہیں پہچان پا رہا کہ دان کون ہے
11:17اور جاد و عشیر
11:19نفتالی و زبونو کون
11:22یہ سب کتنے بدل گئے ہیں
11:23اب آپ کیا کریں گے
11:25انہوں نے میرے ساتھ بہت برا صدوق کیا
11:27بہت برا
11:29جو ظلموں سے تم انہوں نے مجھ پر ڈھایا
11:31وہ خون کے پیاسے دشمن بھی ایک دوسرے پر نہیں ڈھاتے
11:35حق تو یہ ہے کہ انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے
11:39لیکن میں نے انہیں بخش دیا
11:41اسی لمحے جب انہوں نے بطور غلام مجھے فروخت کیا تھا
11:52اور آپ کے بابا یاکوب
11:55کیا انہوں نے بھی انہیں بخش دیا ہے
11:57نہیں
11:59اگر انہیں یہ پتا چل جائے کہ ان لوگوں نے میرے ساتھ کیا صدوق کیا تھا
12:02تو بابا ان کو کبھی معاف نہیں کریں گے
12:05خداوند ان پر رحم فرمائے
12:07مجھے ان کے لئے کچھ کرنا ہوگا
12:09بابا کی نفرین انہیں برباد کر دے گی
12:14میں بھی اگر ان کی جگہ ہوتی تو انہیں اتنی آسانی سے کبھی معاف نہ کرتی
12:23ان کے آرام اور مہمان آوازی میں کوئی کمی نہیں رہ جانی چاہیے
12:26وہ ہمارے بہت خاص مہمان ہیں
12:30چاہت آلی جناب
12:41موسیقی
12:42موسیقی
13:05موسیقی
13:12یہ قصر آخناتون خدا اور خدا کے بیٹے کی رہائشگاہ مانی جاتی ہے
13:17نہ جانے کس طرح کے لوگ یہاں آنے لگے ہیں
13:20کیا تم جانتا ہے یہ کون ہے
13:22ان میں مانو کو جناب یوزار صیف نے بلوایا ہے
14:05موسیقی
14:31موسیقی
14:51کتنی رغبت سے کھا رہے ہیں
14:55یقین ان کا حط نے کنان میں ایک حشر برپا کیا ہوگا
14:58جو یہ لوگ اتنا طویل سفر تائے کر کے یہاں آئے ہیں
15:01جب ان لوگوں کا بھوک سے یہ حال ہے
15:04تو ان کی بیوی بچوں کی کیا حالت ہوگی
15:09موسیقی
15:36کتنی دھول مٹی میں تم مٹے ہوئے ہو
15:46یہاں تو مکڑیوں کے جالے تنے ہوئے
15:49بلکل میرے اندر کی طرح ایک ویران تاری کھنڈر
15:56تم سب کے نام مجھے یاد ہے
16:05البنتہ کونسا نام
16:07کہ اس مجسمے کا ہے یہ بھول چکی ہوں
16:12کوشش کرتی ہوں
16:13کہ یاد کر سکوں
16:15کہ کس کا کیا نام تھا
16:19بورس
16:24تمہارا یاد نہیں ہے
16:26تیا
16:30شغال انبیس
16:32مافتو
16:34مفتیس
16:37گیت
16:41ہاں
16:42یہی نام دینا تمہارے
16:44میں یہاں آیا کرتی تھی
16:47اور ایک ایک کے سامنے عبادت کیا کرتی تھی
16:54آمون
16:57اریہا
16:58یامان کہاں ہے
17:02آخر یہ آمون کہاں ہے
17:10آمون
17:12تم نے دیکھا میں نے تمہیں کس خطر تلاش کی ارتا جا کر تمہیں پایا
17:19پہلے جانتی تھی کہ تمہارا مجسمہ کام ہوا کرتا تھا
17:23میں یہاں آیا کرتی تھی
17:25اور تمہاری گرد چکل لگایا کرتی تھی
17:31ویسی
17:33تم ابھی تک کیوں کھڑے ہو
17:37کیا تم نے نہیں دیکھا کہ
17:39یوسف نے
17:40تمہارے خدا عظیم کو
17:43مابد آمون پر
17:45کس طرح سا نگل کیا
17:50تو میں تو یوسف کے خدا عظیم کے روپ روپ
17:53آزی دکھانی چاہیے
17:56اس کے سامنے زمین بوس ہو جانا چاہیے
18:20یوسف کے خدا عظیم کو پارتر کی حضور میں
18:23تمہیں زمین بوس ہونا چاہیے تھا
18:28تم بے جانت پتھر کے خداوں کو
18:31ذرا شرم نہیں آتی
18:33کہ یوسف کے خدای عظیم
18:35کے مدھے مقابل
18:36اب بھی اپنی خدای کا دم بھرتے ہو
18:43جب یوسف نے سارے
18:45بتوں کو ٹوٹ ڈالائے
18:46تو پھر ذلے خان کیوں نہ ٹھوڑے
18:53اے خدای یوسف
18:58تو گواہ رہنا
19:01میں نے اپنے خداوں کو سر نگو کر دیا
19:09یوسف کہتا تھا
19:11تو ہر جگہ حاضر و نازل ہے
19:16تو ہر جگہ موجود ہے
19:19کوئی چیز تُس سے پوشیدہ نہیں
19:22پس یوسف سے کہنا
19:24کہ آپ زلے خوابطوں کی
19:29پرستش نہیں کرتی
19:42پروردگارہ
19:45تو نے میرے بھائیوں کو مجھ سے ملایا میں اس بات پر
19:49تیرا شکر ادا کرتا ہوں
19:53مجھے میرے بابا اور بنیامین کی بہت یاد آ رہی ہے
19:58اب انہیں بھی مجھ سے ملا دے
20:04الہین
20:05ہجر کے یہ دن بہت طویل ہو گئے ہیں
20:10تو فسل کی گھڑیوں کو
20:13نزدیک کر دے
20:23موسیقی
20:25موسیقی
20:35موسیقی
20:36موسیقی
20:45موسیقی
20:57موسیقی
20:59موسیقی
21:12موسیقی
21:19اس وقت میں نہیں جانتی تھی
21:25کہ یوسف کس سے باتیں کیا کرتا تھا
21:28لیکن کیا باتیں کرتا تھا
21:35کہ میں اب بھی نہیں چانتی
21:42موسیقی
21:43ایسے تو کون ہے
21:47تو یوزار سیف
21:49یوں دیوانا وار
21:52تیری برستش کرتا ہے
21:56کیا
21:57کیا تو آمون جیسا خدا ہے
22:02مجھے تو یقین نہیں آتا
22:06میں نے تو کبھی آمون کے لیے
22:10گریہ نہیں کیا
22:13کسی بھی خدا کے لیے نہیں
22:17لیکن میں نے بارہا یوسف کو
22:20تیری لیے گریہ کرتے دیکھا
22:26میں نے یوسف کے لیے
22:28بہت گریہ کیا
22:33لیکن تیری لیے
22:35کبھی نہیں گیا
22:40یوزار سیف
22:41یوزار سیف
22:51یوسف
22:52یوسف
22:53یوسف
22:53میصر کی بڑی تعداد
22:57یوسف کی ایک خدا کی طرح
22:59پرستش کر دی ہے
23:04آخر تو کون ہے
23:05جو مصریوں کا محبوب
23:08یوسف
23:09اپنا سر تیرے آستانے پر
23:12جھکاتا ہے
23:15زلیخہ کی طرح بہت سونے
23:18یوسف کے فراق میں
23:20گریہ کیا
23:22لیکن وہ تیرے فراق میں
23:25گریہ کنا رہتا ہے
23:32تو یقیناً بہت
23:34اچھا محبوب ہوگا
23:36بگر نہ یوسف جیسا
23:40تیری ستائش نہ کرتا
23:44اور نہ ہی گریہ کنا رہتا
23:49خوشہ نصیب یوسف کے
23:52جو تجھ جیسا خدا رکھتا ہے
23:56خوشہ نصیب دیرے
23:58کہ تو یوسف جیسا بندہ رکھتا ہے
24:05مصری کی ایک اشرافزادی
24:07نے اپنے شوہر کے ساتھ
24:08خیانت کی ہے
24:11بس اتنا سنا ہے
24:13کہ وہ عاشق ہو گئی ہے
24:15یقین مت کیجئے گا بانو حضور
24:16عشق مقدس ہے
24:18اور عاشق کبھی خیانت نہیں کرتا
24:21دل کا معاملہ ہے
24:22اور دل کسی منطق کو نہیں مانتا
24:25عاشق کسی آلودگی کو
24:26اپنے پاک و مقدس دل میں جگہ نہیں دیتا
24:30حوص کو عشق کا نام دینا مناسب نہیں
24:34کیا؟
24:34آپ نے
24:40کبھی عشق کیا ہے؟
24:44جیہاں
24:45کون ہے وہ؟
24:50تو یقیناً بہت حسین و چمل ہوگا
24:55تب ہی تو تیرے ہوتے ہوئے
24:58یوسف نے تمام خوبروح حسینہوں سے
25:02بے اتنائی پڑتی ہے
25:09بہتا نہیں
25:10جس طرح تو یوسف کو
25:15اپنی بندگی اور راز و نیاز کی اجاست دیتا ہے
25:20کیا دوسروں کو بھی دیتا ہے؟
25:48اب ہر کوئی تو یوسف کی طرح
25:50پاک سا نشت نہیں ہوا کرتا
25:55کیا گناہگاروں کو بھی
25:57اپنے دربان میں قبول کرتا ہے؟
26:02کیا ان کا دردی دل بھی سنتا ہے؟
26:09یوسف تو سب پر میربان ہے
26:12کیا تو بھی ایسا ہی ہے؟
26:17نہیں معلوم تو کون ہے اور کیا ہے؟
26:21لیکن میں یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ
26:24یوسف کا معبود
26:27یقیناً یکتہ و بے مثل ہوگا
26:33تو یقیناً بہترین
26:36اور زیبہ ترین ہوگا
26:42بگر نہ یوسف اس کی پرستش نہ کرتا
26:55میں نے بھی گریہ کیا ہے
27:02یوسف کے خدا کے لیے
27:06میں نے بھی تیرے لیے گریہ کیا ہے
27:16موسیقی
27:18موسیقی
27:45آخر کب تک تم لوگ یہاں رکو گے؟
27:48شاید وہ لوگ آئے ہیں نا
27:49بلاخر تو آئیں گے ہی نا
27:51ہم ان لوگوں کو چھوڑ کے تو نہیں جا سکتے ہیں
27:53ہمیں یہ انجزار کرتے ہوئے دو روز تو ہو چکے ہیں
27:56اب ہمارے مسجد لکنے پر بھی وہ لوگ نہ آئے تو
27:58ہمارے گھر اور خاندان والے بھوکے اور منتظر ہیں
28:00اگر دیر سے پہنچے تو وہ لوگ بھوک سے ہلاک ہو جائیں گے
28:10معاف کیجئے گا
28:12وہ دس بھائی جو ہمارے ہمرا تھے کچھ علم ہے آپ کو کچھ پتہ نہیں چل رہا
28:17کہ ہم ان کے لئے رکھیں یا چلے جائیں
28:19اتنا جانتا ہوں کہ ازیر زمیس کے میمان ہے
28:23لیکن وہ کب تک آئیں گے یہ نہیں جانا
28:27اب ہمیں بتائیں کہ ہم کیا کریں
28:29آپ لوگ جائیے وہ بھی آ جائیں گے
28:32مسجد ان کا انتظار مت کریں
28:40مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگ دعویٰ توڑھانے آئے ہیں
28:42گندم خریدنے نہیں
28:45انتظار کرنا بے سود ہے
28:46ہم روانہ ہوں گے
29:05ہمارے خاندانوں قبیلے والے بھوکے ہوں گے
29:07اور گندم کے لئے ہماری واپسی کے بیچینے سے انتظار کر رہے ہوں گے
29:11اگر عزیز مصر ہمیں جاننے کی اجازت دینے تو ہم ان کے نہایت مشکور ہوں گے
29:16تین دن سے ہمیں یہاں روکا ہوا ہے
29:17کیا اس کی وجہ معلوم کرنے کا حق نہیں ہمیں
29:20اب مصر میں دعوتیں اڑانے کے غرصے دنیا آئے ہیں
29:22عالی جناب دیگر کے نانی بھی ہمارے ہمراہ ہیں
29:26اگر چلے نہ گئے ہوں تو اب تک شہر کے دروازے پر ہمارے منتظر ہوں گے
29:30آخر ان بیچاروں کی کیا خطا ہے
29:37انتظار کیجئے
29:39میں ابھی آتا ہوں
29:45آپ کا کیا خیال ہے وہ لوگ مجھے پہچان لیں گے
29:49یہ تو ان کی اکلمندی برمنصر ہے
29:52لیکن میرا خیال ہے کہ نہیں
29:56ہمیں معلوم ہے
29:59وہ لوگ جنابی یوزار سیف سے ملنا اور یہاں اپنی موجودکی کی وجہ جاننا چاہتے ہیں
30:06دربار آرازتہ کروائیں
30:09اور میرا تک دربار میں بلند مقام پر قرار دیں
30:13کنانیان شان و شوکت اور جاہو جلال کو بہت اہمیت دیتے ہیں
30:16اور بہت جلد مروب ہو جاتے ہیں
30:17انہیں دربار میں لے جائیں
30:19میں ابھی آتا ہوں
30:21اتاعت علی جناب
30:25اگر وہ مجھے پہچان گئے تو میرا سارا منصوبہ ناکام ہو جائے گا
30:29اس وقت آپ بہت چھوٹے تھے جب آپ کے بھائیوں نے آخری بار آپ کو دیکھا تھا
30:33وہ یقیناً اب آپ کو پہچان نہیں پائیں گے
30:37چلو چلیں
30:46امید کرتا ہوں کہ ایسا ہی ہو
30:51اس طرف سے
30:57جو ہی عزیزے میں سے تشریف لائے آپ سب
31:00ان کے اعترام میں جھگ جائیے گا
31:04اور جب تک وہ نہ کہیں اپنا سر مت اٹھائیے گا
31:08اور جب تک کوئی سوال نہ کرے جواب مت دیجئے گا
31:13اور کوئی سوال کرے تو آپ کی توجہ میری طرف ہو
31:16اور جواب نہائید مختصر
31:18اور جب جانے کو حکم فرمائے ہاں
31:22جب جانے کا کہیں تو
31:24سر جھکاتے ہوئے نہائید اعترام سے ادربار سے نکلیے گا
31:28مشیر خاص
31:30عزیز مصر
31:31جناب یزار صیف تشریف لاتے ہیں
31:56اٹھ سکتے ہیں
32:45موسیقی
32:47گار ٹھا têm مختصر
32:48آپ لوگ کون ہیں
32:49ہم سب بھائی یاکوب نبی کی پرزند
32:52اور عساق نبی کی پوتے ہیں
32:55یعنی ابراہیم نبی کی نسل سے ہیں
32:57میرا نام لاوی ہے
33:03میرا نام یہودہ ہے
33:08میں یساکیر ہوں جناب
33:12میرا نام عشیر
33:15بندے کو شمون کہتے ہیں
33:19میں جاد ہوں
33:22اور میں روبین ہوں
33:25میں نفتالی ہوں جناب
33:28دن
33:31زبولون
33:47آپ کا پیشہ کیا ہے
33:49اور یہاں مصر آنے کا مقصد کیا ہے
33:52ہم لوگ گلبانی کرتے ہیں
33:55اور اپنی ضرورت بھرکاشتاری پی
33:59دو سال سے کنان
34:01قہد کی ذات میں ہے
34:04اور ہم سب گندم کی تراش میں مصر آئے ہیں
34:06ہم میں سے ہر ایک پر
34:09اپنے اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہے
34:11ہم امید کرتے ہیں کہ عزیز مصر
34:13اس شلسلے میں ہماری مدد ضرور فرمائیں گے
34:17آپ لوگ کتنے بھائی ہیں
34:19ہم گیارہ بھائی ہیں
34:20آخری بھائی بن یامین ہے جو ہمارے بابا کے پاس ہے
34:24بن یامین
34:25اسے اپنے ہمرا کیوں نہیں لائے
34:30میرا مطلب ہے کہ اگر اسے اور اپنے بابا کو بھی ساتھ لے آتے
34:33تو دو حصے گندم مزید حاصل کر سکتے تھے
34:36ممکن نہ تھا
34:38نہیں
34:40ممکن نہیں تھا کہ ان دونوں کو بھی ساتھ لاتے
34:43ہمارے بابا نابینہ ہیں
34:44اور ان میں طویل سفر کرنے کی طاقت نہیں
34:47اور بن یامین کو وہ گہری وابستگی کے باعث
34:50خود سے جدا نہیں کرتے
34:54اتنے گہری دلی وابستگی بن یامین کے ساتھ کیوں
34:59کیا آپ لوگ ایک باپ سے نہیں ہیں
35:01نہیں ہم ایک باپ سے ہیں
35:02البتہ ایک ماں سے نہیں
35:04بن یامین کے ایک سکا بھائی تھا جس کا نام تھا یوسف
35:07جسے بھیڑیوں نے کھا لیا تھا
35:10اس واقعے کے بعد سے بابا نے
35:12یوسف کی جگہ بن یامین کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دے دی
35:16آپ کے باتوں سے لگتا ہے
35:18کہ آپ کے بابا والہانہ چاہتے تھے یوسف کو
35:21ان کی بینائی زائل ہونے کی اصل وجہ بھی
35:24یوسف کی جدائی میں ان کی مسلسل گریہ اظہاری ہے
35:33موسیقا
35:34موسیقا
35:38موسیقا
36:07ہماری باتیں ناغوار گزری ہیں
36:09میرا نہیں خیال بس ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے
36:13ابھی واپس آ جائیں گے