Skip to playerSkip to main content
  • 15 hours ago
Prophet Yousuf Episode 51 - Urdu

Category

📚
Learning
Transcript
00:14موسیقی
00:22کیا عزیزے مصر کو ہماری باتیں ناغوار گزریں ہیں؟
00:25میرا نہیں خیال
00:26بس ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے
00:29ابھی واپس آ جائیں گے
00:39سنا آسنات
00:41میری جدائی میں بابا نے اتنا گریہ کیا
00:44کہ ان کی آنکھوں کی بینائی زائل ہو گئی ہے
00:48خدا جانے اس طویل عرصے میں ان پر کیا گزری ہوگی
00:56صبر سے کام لیجیہ نبی خدا
00:59مہمان منتظر ہیں آپ کے
01:02کئیوں نے شک نہ ہو جائے
01:06اے کاش میرے بابا یہاں ہوتے
01:10تمہیں ان کی آنکھوں کے بوسے لیتا
01:13اور ان کے قدموں کو اپنے عشقوں سے دھوتا
01:18کیا میں ان کے اس درد کا جو انہوں نے میرے فراق میں ساہم مدعبا کر سکتا ہوں
01:25اگر خدا نے چاہا تو جب وہ تشریف لائیں گے
01:27تو ہم سکت دنوں کی یادیں ان کے ذہن سے مٹا دیں گے
01:49میرے سینے میں ایک درد ہے جو بساوقات ناقابل تحمل ہو جاتا ہے
01:53کہیں ہماری باتوں نے عزیز مصر جناب ایزار صف کو رنجیتہ تو نہیں کر دیا
01:57نہیں
01:59یاد ماضی نے بس یوں ہی کچھ اداسہ کر دیا تھا
02:04نہیں معلوم کیوں میں آپ لوگوں کی باتوں سے مطمئن نہیں ہو پا رہا ہوں
02:09لگتا ہے آپ لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں
02:13ہم عزیز مصر کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے سوائے حقیقت کے اور کچھ نہیں کہا
02:19کیا آپ لوگ اپنے اس بھائی کو جیسے بھیڑیے کھا گئے محبت کرتے تھے
02:39وہ تو ظاہر سی بات ہے علی جناب آخر وہ ہمارا بھائی تھا
02:46لیکن جب آپ لوگ اپنے اس بھائی کا ذکر کر رہے تھے
02:49تو آپ کی باتوں سے مجھے کسی بھی قسم کے دکھ درد کے آثار دکھائی نہیں دی
02:56جبکہ بھیڑیوں کا ایک بھائی کو کھا جانے کا واقعہ تو کافی کربناک ہوا کرتا ہے
03:01کیا ایسا نہیں ہے
03:13میں نے غلط تو نہیں کہا کہ آپ لوگ ہم سے کچھ چھپا رہے ہیں
03:18معلوم ہوتا ہے جیسے آپ کے آنے کا اصل مقصد کچھ اور ہی ہے
03:21لیکن علی جناب ہم نے سوائے حقیقت کے کچھ نہیں کہا
03:24نہیں معلوم آپ کی ہم سے بدگمانی کی وجہ کیا ہے
03:28یہ ایک کون جانے کہ آپ نے یہ باتیں حقیقت چھپانے کے لیے نہیں کی ہیں
03:32کیا معلوم کہ آپ لوگ مصر کے نظم و ضبط میں خلل پیدا کرنے
03:36یا کسی اور مقصد کے تحت یہاں نہیں آئے ہیں
03:39اور کیا خبر کہ آپ مخالف حکومتوں کے خریدے ہوئے کارندے نہیں ہیں
03:42جی نہیں علی جناب
03:44یہ تحمدیں فرزندان امبیاء کے شائع نشان نہیں ہیں
03:49ذوریت امبیاء ان تحمدوں سے مبررہ ہے علی جناب
03:55گویا آپ لوگ نو نبی کے بیٹوں جیسے پیامبرزادوں
03:58اور قابیل آدم کی اولاد کی خطاؤں سے بے خبر ہیں
04:03کیسے معلوم ہو کہ آپ لوگ واقعی حقیقت بیان کر رہے ہیں
04:07کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں
04:08ہم حقیقت بیان کر رہے ہیں علی جناب
04:12ہم قسم کھاتے ہیں
04:13قسم کھانے کے بجائے آئندہ مصر آئیں
04:16تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لے کر آئیے گا
04:20اس سے مل کر ہی آپ لوگوں کے بیان کی صداقت کا پتہ چل سکے گا
04:25مناحضہ کیا
04:26کہ میں ایک اچھا مہمان نواز بھی ہوں
04:28اور گندم بھی پوری ناب طول کر دیتا ہوں
04:33اگر آپ اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر آئیں گے
04:36تو اسے بھی گندم دی جائے گی
04:38اور نہ لانے کی صورت میں
04:40کسی کو بھی گندم نہیں دی جائے گی
04:48انہیں بھی دوسروں کے طرح پوری گندم دے دی جائے
04:51اور اس کی قیمت
04:52ان سے وصول کر لی جائے
04:57البتہ آئندہ سفر میں ہماری شرط یاد رہے
04:59آپ لوگ جا سکتے ہیں
05:14خدا یہ گہدار
05:16امید کرتا ہوں کہ خدا بندہ آپ لوگوں کی خطاؤں سے درگزر فرمائے
05:21آپ لوگوں نے اپنے بابا اور بھائی کے ساتھ بہت برا کیا
05:24میں نے آپ لوگوں کو معاف کیا
05:28امید کرتا ہوں کہ بابا بھی معاف کر دیں گے
05:35میرے بھائیوں سے گندم کی جو قیمت وصول کریں
05:38وہ انہی کے سامان میں مناسب موقع پا کر واپس رکھ دیجئے گا
05:42میں بعد میں اس کے قیمت ادا کر دوں گا
05:44اداع دالی شرط
05:46معاف کیجئے گا جواب
05:48آخر نبی خدا نے اپنے بھائیوں سے اپنا تعرف کیوں نہیں کروایا
05:53انہیں ہرگز اس بات کا پتہ نہیں چلنا چاہیے
05:55جب تک کہ میں خود انہیں نہ بتاؤں
06:03آپ ان سے قیمت وصول کریں گے اور پھر انہی کے سامان میں رکھوا دیں گے
06:08تو پھر پہلے ہی انہیں مفت میں گندم کیوں نہیں دے دیتے
06:11جب انہیں اپنی ادا کردہ قیمت اپنے ہی سامان میں واپس ملے گی
06:14تو وہ دوبارہ مسر ضرور آئیں گے
06:16اس پخشش کی وجہ جاننے کے لیے بھی اور دوبارہ مفت گندم حاصل کرنے کے لیے بھی
06:20جب آپ اپنے بابا کے لیے اس قدر غمگین ہیں
06:23تو بجائے بین یامین کو بلانے کے خود انہیں کیوں نہیں بلویا
06:28بابا
06:29نہیں
06:30بابا مجھے دیکھتے ہی پہچان جائیں گے
06:32اور جان جائیں گے کہ میرے بھائیوں نے میرے ساتھ کیا کیا تھا
06:34تو جان جائیں
06:36یہ تو اچھا ہے ان کا جھوٹ سامنے آ جائے گا
06:39اس میں کیا برائی ہے
06:41اگر انہیں معلوم ہو گیا تو وہ میرے بھائیوں پر نفرین کریں گے
06:45نفرین وہ بھی پیامر خدا کی میرے بھائیوں کو تباہ و برباد کر دیکھیں
06:50بلخصوص جبکہ ابھی تک وہ تائب بھی نہیں ہوئے اور مستقل اپنے جھوٹ پر قائم ہے
06:54تو پھر کیا
06:57آپ چاہتے ہیں کہ یاکوبی نبی اسی طرح آپ کی جدائی میں سسکتے رہیں
07:00نہیں
07:02پہلے میرے بھائیوں کو توبہ کرنی ہوگی
07:05خداوند جب ان سے درگزر فرمائے گا تو بابا کا غم اس سے بھی ٹھنڈا ہو جائے گا
07:12آپ کس طرح انہیں تابہ کرنے پر مجبور کریں گے
07:15وقت آنے پر جان جائیں گے
07:21بنیامین کو اسی وجہ سے میں نے مصر بلایا ہے
07:28امید کرتا ہوں کہ جو طریقہ میں نے سوچا ہے وہ کارگر ثابت ہو
07:48معلوم نہیں
07:50معلوم نہیں کیوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں نے آجی چاہمیسر کو پہلے کہیں دیکھا ہے
07:54تم سب کو دیکھے دیکھے سے نہیں لگ رہے تھے
07:58کیوں نہیں کیوں نہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے کئی بار ایک ساتھ چراغہ میں گلہ بانی
08:06کی ہے
08:10تم صحیح کہہ رہے ہو لاوی مجھے بھی ایسا محسوس ہوا جیسے میں انہیں جانتا ہوں
08:23چلیے اور اپنے اپنے گندم حاصل کر لیجئے چلیے
08:55موسیقی
09:06یہ کیا ہے جناب نیمی صاحبو
09:08یہ آپ لوگوں کے لیے حدیعہ ہے
09:10ہم آپ کے ممنون و مشکور ہیں
09:12یہ آٹا منزل تک پہنچنے کی زیادے راگے طور پر استعمال کیجے گا
09:16آٹا گھننا اور روٹیاں بنانا تو آتی ہے نا
09:19آپ کی مہمان نوازی کے لیے ہم آپ کے سپاس گزار ہیں
09:22خدا آپ کا ہم یہ ناصر
09:29کیا بابا ہمیں بنیامین کو اپنے ہمارا مشل آنے کی اجازت دے دیں گے
09:34یوسف کے اس طلب واقعے کے بعد تو
09:36ظاہر ایک ہرگز اجازت نہیں دیکھیں
09:38تو کیا وہ حق بجانب نہیں
09:41کیا ہم نے اپنے بھائی کے ساتھ برا نہیں کیا
09:44کب اس کھون توبہ ہی کر لیتے
09:46اگر توبہ کر لی ہوتی
09:48تو بابا ضرور اجازت دے دیتے
09:50کوئی اور چارہ نہیں
09:52ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ اگلے سپر میں بنیامین کو اپنے ساتھ لے کر آئے
09:56بننا گندوق کے امید رکھنا بیکار ہے
10:35موسیقی
10:37موسیقی
10:39موسیقی
10:40موسیقی
10:40موسیقی
10:40موسیقی
10:40موسیقی
10:41موسیقی
10:41موسیقی
10:42موسیقی
10:42موسیقی
10:42موسیقی
10:43موسیقی
10:44موسیقی
10:47موسیقی
10:53موسیقی
10:54موسیقی
10:54موسیقی
10:56موسیقی
10:56موسیقی
10:58موسیقی
11:03موسیقی
11:04موسیقی
11:06موسیقی
11:06ٹھوکڑوں میں پڑے ہوتے
11:09مجھے آمون اور دیگر خداوں کی عبادت کرنے کے لیے
11:13مابت آنا پڑتا تھا
11:15اور ان کے سامنے کھڑی ہوا کرتی تھی
11:18تاکہ ان سے راز و نیاز کر سکوں
11:28لیکن یوسف اپنے کمرے کے اندر ہی
11:32جا جی چاہے تم سے راز و نیاز کر لیا کرتا تھا
11:37مجھے کچھ عرصے سے ایسا محسوس ہوتا ہے
11:40جیسے میں ہر وقت تیرے حضور میں ہوں
11:46چند روز پہلے تو مجھے شدید احساس اتنہ ہی ہوتا تھا
11:51لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے
11:55جیسے خلوتوں میں جب کوئی نہیں ہوتا
11:58ایک ہستی میرے ساتھ ہوتی ہے
12:02نہیں معلوم کہ تو کون ہے اور کیا ہے
12:07ابھی میں یہ نہیں کہہ سکتی
12:09کہ میں تجھ پر ایمان رکھتی ہوں
12:13لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے
12:15کہ جیسے تو میرے آس پاسی ہے
12:17اور ہمیشہ مجھے دیکھ رہا ہے
12:21مجھے جر ہے کہ کہیں دوبارہ
12:23تنہا نہ ہو جاؤں
12:26اوہ خدای یوسف
12:29میں تُس سے التجا کرتی ہوں
12:31کہ مجھے تنہا نہ چھوڑنا
12:35مجھے اس غربتوں تنہائی سے
12:38ڈر لگتا ہے
12:40اب انہیں نابینائی کے عادت ہو گئی ہے
12:43کسی کے سہارے کے بغیر ہی اندر باہر آجاتی ہیں
12:51تُو جانتا ہے
12:54میرا خیال ہے
12:57تُو اس وقت بھی
12:59یوسف کے ساتھ ہم کلام ہوگا
13:06نہیں
13:09بلکہ یوسف تُجھ سے ہم کلام ہوگا
13:13اور تُو اسے دیکھ رہا ہوگا
13:19وہ ابھی اس وقت تیرے حضور میں ہوگا
13:28جب تُو میرے ساتھ ہوتا ہے
13:31تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
13:35یوسف بھی میرے ساتھ ہے
13:40ہم دونوں ہی تیرے حضور میں ہیں
13:45میں اسے پاس گزار ہوں
13:52نہایت سے پاس گزار ہوں
13:54کہ تُو میری خبر گیری کرتا ہے
13:58میری تاریخ راتوں کو نوشن کرتا ہے
14:04کئی راتوں سے
14:09میں بنا کسی خوف و عشد کے سو رہی ہوں
14:17مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
14:22ایسے تُو ہمیشہ بیدار رہتا ہے
14:28اور ہمیشہ میری نگے بانی کرتا ہے
14:31ہمیشہ میری نگے بانی کرتا ہے
14:38ہمیشہ
14:38مجھے ایسے تاریخ راتوں کو
14:39ہمیشہ
14:39ہمیشہ
14:40ہمیشہ
14:41ہمیشہ
14:42ہمیشہ
14:43ہمیشہ
14:43ہمیشہ
14:56ہمیشہ
15:11خاندان نیا کو منتظر ہے
15:37موسیقی
16:13موسیقی
16:20موسیقی
16:21موسیقی
16:25موسیقی
16:29موسیقی
16:35موسیقی
16:41موسیقی
16:50موسیقی
17:08موسیقی
17:35موسیقی
17:38موسیقی
17:49موسیقی
17:50موسیقی
18:19موسیقی
18:32موسیقی
18:33موسیقی
18:34موسیقی
18:36موسیقی
18:36موسیقی
18:37موسیقی
18:38موسیقی
18:40موسیقی
18:44موسیقی
18:45موسیقی
18:48موسیقی
18:57واہ واہ تازہ روٹی کی خوشبو آ رہی ہے
19:00جب تک اور روٹیاں بنیں جتنی بن گئیاں وہی لے آؤ
19:03مجھے تو عزیز مصر کی مہمان نوا سے یاد آ گئی
19:06مجھے تو ماں کی یاد آ گئی وہ کتنی اچھی روٹیاں بنایا کرتی تھی
19:09اگر یہ آٹا زادی را کے طور پر ہمیں نہ دیا جاتا
19:12تو ہم روٹیوں کے بغیر کیا کرتے
19:15پیسنے کے لیے چکی تو پاس ہے نہیں
19:18لہٰذا کچھی گندمی چبانی پڑتی
19:20خدا انہیں جزائے خیر دے انہوں نے ہماری کافی مدد کیا
19:24کیسی مدد؟
19:25اگر تین روز تک ہمیں نہ روکتے تو اب تک تو ہم گھر نہ پہنچ چکے ہوتے
19:33واقعی میں یہودہ تمہاری فطرت بلی کسی ہے
19:36جس کا کھاتے ہو اسی پر غررانی کی عادت تمہاری جائے گی نہیں
19:45ارے نفتالی کیا ہوا روٹی کا
19:48بہت بھوک لگ رہی ہے
20:10جناب اے رودہ مون
20:13جناب اے رودہ مون آپ کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی
20:17بورنو بوریاس میرا لائک پائک سپاہی کیا کر رہا ہے؟
20:20آپ تو جانتے ہی ہیں کہ آپ کی ساپ کا ذمہ داری مجھے سوب دی گئی ہے
20:25ہم کافی عرصے سے مہاز پر گئے ہوئے تھے
20:28اور تم سناو نئی تازہ کیا خبریں ہیں؟
20:31ٹپس میں تو تمام خبریں ایک ہی شخص پر جا کے ختم ہوتی ہیں
20:34یوزار سیف
20:35یوزار سیف
20:37یوزار سیف
20:40اب تو یہ نام نا صرف ٹپس میں
20:42بلکہ تمام اہل مصر کی ورد زبان بنا ہوا ہے
20:47وگرنا ہم آپ تو پہلے ہی اسلام سے آشنا تھے
20:52میں نے انہیں فنون حرف سے کھائے
20:55اور انہوں نے مجھے رسم انسانیت اور خدا پرستی
21:00اس وقت وہ کھائے
21:02آپ تو جانتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو
21:04نینے فر کپتہ کی جگہ مجھے قید ہو جاتی ہیں
21:08وہ اس وقت مصروف ہے امورِ ٹپس اور مابدِ آمون کے معاملات میں
21:12اور بانوز علیخہ کی کوئی خیر خبر
21:15برسوں ہوئے انہیں دیکھا نہیں میں نے
21:18بانوز علیخہ بڑی اور نابی نہ ہو چکی ہیں
21:21وہ وہاں ہے
21:26ارے ہمیشہ تو وہیں بیٹھتے ہیں
21:30آج نہیں آئے کیا
21:39اے سنو
21:42وہ بھوڑی نابینا جو ہمیشہ یہاں بیٹھی ہوتی ہیں وہ کہاں ہے
21:45ہاں ہاں وہ نابینا زلیخہ
21:49پتہ نہیں
21:51آج ہم نے اسے دیکھا ہی نہیں
21:53کوئی بات نہیں
21:55میں خود ان سے مل لوں گا
21:56تو مکنی سے مداری نہیں باہو
22:55موسیقی
22:58اے کیا بات ہے
23:02وہاں وہاں پیزین ہے بانوز علیخہ
23:05تم دونوں بدماش پھرا گئے
23:11تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو
23:13آپ بانوز علیخہ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں بچا
23:18افسوس
23:20ہمارے پاس بانوز علیخہ کے لیے جناب جوزار شیف کے حوالے سے ایک عیم قبر تھی
23:25ہاں اور کیا
23:27کھا کہو
23:28تاما
23:29تیامینی
23:31کیا ہوا
23:31یہ لوگ کون ہیں
23:32یہ وہی دونوں آبارہ ہو چکے ہیں بانو
23:35ہمارے پاس ایک اہم خبر ہے زلیخہ
23:38مستاق
23:39بانوز علیخہ کہو سمجھے
23:41معاف کیجئے کہ بانوز علیخہ
23:43بارہ میرے پاس اب دینے کو کچھ بھی نہیں تھا
23:47افسوس کیوں کہ یوزار شیف کے جانب سے ایک شخص صاحب کی تلاش میں تھا
23:56ادھر آوزار
23:57ہاں
23:59ہاں
24:00ہاں
24:04ہاں
24:05جیرے خدمت ہیں بانو
24:08ہمیشہ کی طرح پھر جھوٹ بول رہے ہونا
24:11پھر مجھے دھوکہ دے رہے ہونا
24:13نہیں بانو
24:15ہم اس کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دیں گے
24:19پھر آپ انام دیجئے گا
24:20ٹھیک ہے نا
24:21تم لوگ جانتے ہو نا
24:24میں یوزار شیف سے بتا لیا
24:25تم لوگوں کی جھوٹی خبروں پر بھی
24:28تمہیں انام دیتی رہی ہوں
24:31لیکن آپ میرے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں ہے
24:35ہم بھی مجبور ہیں
24:37جو شخص آپ کی تلاش میں تھا
24:40وہ مصر کا عالی عدیدار تھا
24:42مگر نہیں
24:43ہاں بلکہ
24:45خیر چلو ہم پھر آتے ہیں
24:46چلو
24:47ٹیرو رکھو ذرا دیکھنے تو
24:54ٹیرو میں ابھی آتی ہوں
25:19ٹیرو موسیقی
25:34ہش میں تھا وہ مصر کا عالیوں دیدار تھا مگر نہیں
25:45اچھا وہ قاسد کہا ہے جس کا تم بتا لے
25:48انام ملتے ہی ہم اسے آپ کے پاس لے آئیں گے
25:51آپ بکر مت کیجئے گا
25:52پہلے قاسد اس آدمی کو یہاں لے کر آؤ اور اپنا انام لے جاؤ
26:01بانو جب تک ہمیں انام نہیں مل جاتا ہم اس آدمی کا نہیں بتائیں گے
26:09دیکھو کتنا قیمتی انام ہے
26:12اس آدمی کو لے آؤ اور یہ انام لے جاؤ
26:20وہ لے گائے دھوکے باغ مکر
26:24چور چور یہی نے پکڑوں
26:28جاؤ یہ کیا ہو رہا ہے
26:30کدھر بھاگے جا رہے ہو
26:32بھاگ تو نہیں رہا تھا حالی جناب
26:33ہم تو آپ کو تلاش کر رہے تھے
26:35مجھے تلاش کر رہے تھے
26:38مجھے کیسے جانتے ہو
26:39کیا آپ قصر سے نہیں آئے ہیں
26:41یہ سوال کیوں کر رہے ہو
26:43ہم ان بانوں سے جتنا بھی کہہ رہے ہیں
26:45کہ قصر کا ایک شخص آپ کا پوچھ رہا تھا
26:47لیکن یقین ہی نہیں آ رہا
26:51آپ قصر سے آئے ہیں
26:54سمجھا نہیں
26:54قصر سے آپ کی کیا مراد ہے
26:56آپ میری تلاش میں آئے ہیں
26:59جی میں آپ ہی کو تلاش کر رہا تھا
27:11ٹھیک ہے
27:12تم لوگ جا سکتے ہو
27:14انہیں چھوڑ دو
27:17اور یہ مجسمہ آمون
27:21کوئی بات نہیں
27:23میں نے انہیں بطور انام دیا ہے
27:33آمون کو یہ نام میں دے دیا
27:36تو کیا آپ آمون کی پرستش نہیں کرتی
27:38نہیں
27:41میں یہ خدای یوسف کی پرستش کرتی ہوں
27:48جب انہوں نے بتایا کہ آپ کو یوسف نے میری تلاش میں بھیجا ہے
27:54تو میں نے آمون انہیں انام میں دے دیا
28:00ان دونوں کو تو میں بات میں دیکھ لوں گا
28:03انہوں نے آپ سے جھوٹ بولا ہے
28:05میں آپ سے ملنے تو آیا ہوں لیکن مجھے
28:07یوسف نے نہیں بھیجا
28:11کیا ہوا پانو
28:14پانو
28:18پاتا نہیں کیوں میرے خوٹنوں نے جواب دے دیا ہے
28:21آپ کا رنگ کیوں تبدیل ہو گیا ہے پانو
28:26کیا اب تک تمہاری کوئی امید نہ امیدی میں بدلی ہے
28:31کتنا جھوٹ سنا آپ نے
28:33کتنا فرے پیا گیا آپ کو
28:35لیکن اب تک آپ کو لوگوں کی سمجھ نہیں آئی
28:42میں تو سمجھی کہ یوسف نے اپنو قاسد میرے پاس بھیجا ہے
28:46اب آپ اتنی ضعیفی اور اس نابینائی کے ساتھ
28:49یوسف سے مل کر کیا کریں گی بانو
28:54تم کون ہو اجنبی
28:59مجھے بانو کہہ کر کیوں مخاطب کر رہے ہو
29:03تم مجھے جانتے ہو
29:05یا مجھے گرڑڑی پوش پینوا کا مزاک اڑا رہے ہو
29:17رودا مون بانو
29:20آپ جناب رودا مون ہیں
29:22خدا کی قسم
29:23آپ مجھے پہلی ہی نظر میں جانے پہچانے سے لگ رہے تھے
29:27تم کہاں تھے رودا مون
29:30میں بارہ لنگر کا تمہاری تلاش میں گئی
29:34گری گری تمہاری تلاش میں ماری ماری پھیری
29:40تمہارے دوستوں سے بھی تمہارا پوچھا لیکن تمہارا کہیں پتا نہ چلا
29:46میں تو بچھلے دس سالوں سے محص پر گیا ہوا تھا بانو
29:51میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی ہوگی
29:56یوسف کی جدائی نے میری یہ حالت کر دی
30:01مجھے امید تھی کہ آپ مجھے یوسف کے بارے میں بتائیں گے
30:04آپ کی بینائی تو زائل ہو چکی ہے
30:07پھر یوزار سیف کو کیسے دیکھیں گی
30:11یوسف کی دیدار کے لیے ظاہری آنکھوں کی ضرورت نہیں
30:16بس اس کی خوشبو محسوس کر لوں یہی میرے لیے کافی ہے
30:27اگر کبھی وہ مجھے بلا
30:31تو میں اس سے درخواست کروں گی کہ مجھے اپنے نصر کے کسی گوشے میں چکھا دے دے
30:38تاکہ ہمیشہ اس کے پاس روں
30:42اور ہواوں میں بسی اس کی خوشبو محسوس کرتی دوں
30:46لیکن افسوس کہ یہ کبھی نہ پوری ہونے والی خواہش ہے
30:49ایسی بات بھی نہیں
30:52میں یوزار سیف کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کروں گا
30:55میں نہ امید نہیں ہوں
30:58اب میں یوزار سیف کی اطلاع لے کر ہی آپ کے پاس ہوں گا
31:01کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلی کی طرح مجھے آسرے پر رکھو
31:05اتمنان رکھئے وانو
31:07میں نے تم سے امید لگائی ہی رو تھا
31:09وانو یقین دلاتا ہوں کہ میں بہت جلد واپس آؤں گا
31:43جناب یوزار سیف کی کوئی خبر ہے
31:45جی نہیں موجہ ان کی کوئی اطلاع نہیں
31:49حرکت کرو
32:09کچھ معلوم ہے جناب یوزار سیف کہاں مل سکتے ہیں
32:12جی نہیں
32:12وہ یہاں نہیں آئے
32:14چلو حرکت کرو
32:25جناب یوزار سیف یہاں تو نہیں آئے
32:27گوداموں کی طرف چلے جائیے شاید وہیں ہو
32:31آپ کو یقین ہے
32:32جی ہاں
32:33جی ہاں یقین ان وہ وہیں ملیں گے
32:35حرکت کرو
32:43رکھ جائیے بانو
32:44رکھ جائیے
32:46آپ تو پھر چل دیں
32:48مجھ میں اب مزید یہاں رہنے کا حوصلہ نہیں
32:54جب میں دیر سے لنگر کا پہنچتی ہوں
32:56تو ایسا محسوس ہوتا ہے
32:59جیسے میں یوسف سے غافل ہو گئی ہوں
33:02پرس میں عاشقی یہ ہے کہ
33:04ماشوک کی تلاش میں نکلا جائے
33:07جناب رودامون آئے اور آپ کے لئے یوزار سیف کی کوئی خبر لائے
33:10تو میں آپ کو کیسے خبر کروں گی
33:12دیکھ تو رہیو کہ میں نے اب تک ان کا کافی انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے
33:16میرا نہیں خیال کہ وہ آئیں گے
33:23چلو ہم بھی چلتے ہیں
33:37جنابی یوزار سیف کی کچھ خبر ہے
33:38جی آلی جنابی
33:39یہ سارے لوگ جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ سب یوزار سیف کی خطاب کو سننے کے لئے مابت جا
33:44رہے ہیں
33:47وہ آج بہاں عوام سے خطاب کریں گے
33:50اور آج پہلی بار مابت آمون میں بجائے بتوں کے خداوند یکتہ کی عبادت کی جائے گی
33:59قصر پوتیفار چلو حرکت کرو
34:09موسیقی
34:10موسیقی
34:18موسیقی
34:45داما
34:46دیاوینی
34:49کہا ہوں تم لوگ
34:56کوئی ہے یہاں
35:01بانو جلیخا
35:04کہا ہے آپ
35:17ہر کت کرو
35:47موسیقی
35:48موسیقی
35:52موسیقی
36:09مجھے
36:10مجھے
36:12مجھے
36:12مجھے
36:12مجھے
36:12مجھے
36:17مجھے
36:21موسیقی
36:23موسیقی
36:24موسیقی