00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اباوٹ ریلیجن
00:08عمر بن سالم حدادی نیشہ پوری رحمت اللہ تعالی علیہ
00:13طریقہ کی اماموں میں سے ایک بزرگ خراسان کے شیخ المشایخ
00:18زمین و زمان کے نادر حضرت ابو حفظ عمر بن سالم حدادی رحمت اللہ تعالی علیہ
00:25آپ صوفیہ کے بزرگ اور سردار اور تمام مشایخ کے ممدوہ تھے
00:31حضرت ابو عبداللہ لابیوردی رحمت اللہ علیہ کے صحبت یافتہ
00:35اور حضرت احمد خضرویہ کے رفیق تھے
00:39کرمان سے شاہ شجاع آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے
00:45جب آپ بغداد میں وہاں کے مشایخ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے
00:49تو عربی زبان سے ناواقف تھے
00:51اس لیے مریدوں کے واسطے سے گفتگو کی
00:54مگر خیال کیا کہ یہ بڑے عیب کی بات ہے
00:57کہ خراسان کے شیخ المشایخ کے لیے ترجمان کی ضرورت پڑے
01:03چنانچہ جب آپ مسجد شنیزیہ میں پہنچے
01:06تو بغداد کے تمام مشایخ کو ملاقات کی دعوت دی
01:09اور ان سے عربی میں فصیح گفتگو فرمائی
01:13یہاں تک کہ تمام مشایخ آپ کی فصاحت پر ششدر رہ گئے
01:18بغداد کے مشایخ نے آپ سے سوال کیا
01:21جوامردی کیا ہے
01:23آپ نے فرمایا بہتر یہ ہے
01:25کہ پہلے آپ میں سے کوئی صاحب الرائے
01:27اپنی رائے ظاہر کریں
01:29چنانچہ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
01:33میرے نزیق جوامردی یہ ہے
01:35کہ جو عمل کیا جائے
01:36اسے نہ خود دیکھے
01:38اور نہ اس کو اپنی طرف منصوب کریں
01:42اس پر حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
01:48شیخ نے نہائیت امدہ بات فرمائی ہے
01:50لیکن میرے نزیق جوامردی یہ ہے
01:53کہ خود تو دوسروں کے ساتھ انصاف کرنے میں کوتاہی نہ کرے
01:56مگر دوسروں سے اپنے لیے انصاف کا مطالبہ نہ کرے
02:00یہ سن کر
02:01حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
02:04اے میرے ہمراہیوں
02:06اٹھو
02:07یقیناً ابو حفظ آدم اور ان کی اولاد پر بازی لے گئے ہیں
02:12آپ کی ابتدائے توبہ کا واقعہ بڑا ہی عجیب ہے
02:15عالم شباب میں ایک لونڈی پر آپ فریفتہ ہو گئے
02:19ہر چند منانے کی تدبیریں کی
02:21مگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی
02:24لوگوں نے بتایا کہ نشہ پور میں
02:26ایک یہودی جادوگر رہتا ہے
02:29جو تمہارے کام کو آسان کر سکتا ہے
02:31ابو حفظ اس کے پاس پہنچے
02:34اور اس سے اپنا حال بیان کیا
02:37یہودی نے کہا
02:38اے ابو حفظ
02:39تمہیں چالیس دن تک نباز شوڑنی ہوگی
02:42اس اسنا میں نہ تو زبان پر خدا کا نام لانا ہے
02:45اور نہ ہی نیکی کا کوئی کام کرنا ہے
02:47تاکہ تمہاری مراد جلدی برپور ہو سکے
02:52حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ نے
02:55یہودی کی یہ شرط مان لی
02:57اور چالیس دن اسی طرح گزار دیے
03:00یہودی نے اپنا جادو جاری رکھا
03:02پر اس کی مراد بر نہ آئی
03:05یہودی کہنے لگا
03:06غالباً تم نے شرط پوری نہیں کی
03:09ضرور تم سے کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے
03:11اور نیکی کا کوئی کام
03:13ضرور تم سے سرزد ہوا ہے
03:14ذرا سوچ کر بتاؤ
03:17ابو حفظ نے کہا
03:18میں نے نیکی کا کوئی کام نہیں کیا
03:20اور نہ ظاہر و باطن میں
03:22کوئی عمل خیر کیا ہے
03:24ہاں ایک دن میں نے راستے میں پڑا
03:26ایک پتھر دیکھا تھا
03:27اس خیال سے اسے پاؤں سے ہٹا دیا
03:29کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگ جائے
03:32اس پر یہودی کہنے لگا
03:33افسوس ہے تم پر
03:36کہ تم نے چالیس دن تک
03:37اس کے حکم کی نافرمانی کی
03:38اور اسے فراموش کیے رکھا
03:40لیکن خدا نے تیرے ایک عمل کو بھی
03:43ضائع نہیں ہونے دیا
03:47صدق دل سے توبہ کی
03:48اور وہ یہودی بھی اسی وقت مسلمان ہو گیا
03:53حضرت ابو حفظ رحمت اللہ علیہ
03:56لوہار کا کام کرتے تھے
03:57آپ جب واپس باورد پہنچے
03:59تو حضرت ابو عبداللہ باوردی
04:02رحمت اللہ علیہ سے ملاقات کی
04:03اور ان سے بیعت کی
04:05جب نیشہ پور واپس آئے
04:07تو ایک دن بازار میں
04:08ایک نابینہ کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے سنا
04:12آپ اپنی دکان میں بیٹھے رہے
04:14اور تلاوت کلام مجید سنتے رہے
04:18تلاوت کے دوران ان پر
04:19اتنی مہویت اور وجد کی کیفیت تاری ہوئی
04:21کہ بے خودی میں
04:23بغیر کسی آزار کے
04:25بھٹی سے گرم اور سرخ لوہا
04:27ہاتھ ڈال کر نکال لیا
04:29شاگردوں نے استاد کی یہ مہویت اور استغراق دیکھا
04:32تو ان کے ہوش اڑ گئے
04:34جب آپ کا استغراق ختم ہوا
04:36تو اس پیشہ کو چھوڑ دیا
04:38پھر کبھی دکان پر نہیں گئے
04:39آپ فرماتے ہیں
04:41میں نے ایک مرتبہ
04:43اپنے پیشے کو چھوڑ دیا
04:45دوبارہ اسے اختیار کیا
04:47لیکن پھر اس پیشے نے مجھے چھوڑ دیا
04:49اس کے بعد میں کبھی
04:51ادھر متوجہ نہ ہوا
04:54بندے کو جو چیز
04:55ہنر اور دستکاری سے حاصل ہو
04:57اس کے کرنے سے بہتر ہے
04:58کہ اسے چھوڑ دیا جائے
05:01کیونکہ تمام اقتصابات
05:03آفتوں کے محل ہیں
05:05قابل قدر اور لائک اعتنا
05:07تو وہ چیز ہے
05:08جو غیب سے بلا تکلف آئے
05:10اور جس جگہ بھی بندے کا دخل
05:12اور اختیار شامل ہوگا
05:13وہاں اس سے حقیقت کے لطائف
05:16زائل ہو جائیں گے
05:18اس لئے بندہ پر کسی کام
05:20کرنے یا نہ کرنے کا
05:21از خود اختیار نہیں ہے
05:23کیونکہ اتا اور زوال
05:25اللہ رب العزت کی طرف سے ہے
05:27اور اسی کی تقدیر ہے
05:29جب اتا ہوتی ہے
05:30اسی کی طرف سے لینا بھی ہوتا ہے
05:32اور جب زوال ہو
05:34تو اسی کی طرف سے ترک بھی ہے
05:36جب ایسی حالت ہو جائے
05:38تو اسی کی قدر و قیمت ہوتی ہے
05:40کیونکہ اخذ و ترک کا قیام
05:42اسی کی طرف سے ہے
05:43نہ یہ
05:44کہ بندہ اپنی کوشش سے
05:46نفع یا دفع کرتا ہے
05:48معلوم ہوا
05:50کہ اگر مرید
05:51ہزار برس قبول حق کی کوشش کرے
05:54تو یہ ممکن نہیں
05:55ایک لمحہ کے لیے بھی
05:57حق تعالیٰ قبولیت کا شرف دے دے
05:59اس لیے
06:00کہ اس کی قبولیت توازن سے مقرر ہے
06:03اور دائمی مسررت
06:06پہلے ہی شامل ہے
06:07بندے کے لیے
06:08بجز خلوص کے
06:10کوئی راہ رکھی ہی نہیں گئی
06:12اس لیے
06:13وہی بندہ صاحب عزت ہے
06:15جو عالم اسباب کی نسبت چھوڑ کر
06:19مسبب الاسباب سے لو لگائے رکھے
06:21طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ
06:24گریفتارِ بلاو ملامت
06:26حضرت ابو صالح حمدون بن احمد
06:29رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
06:30آپ مشایخِ متقدمین میں
06:34تقویٰ اور ورہ میں
06:36اپنا مقام رکھتے تھے
06:37علم فقہ میں بدرجہ اتم
06:39عالم تھے
06:41حضرت امام سوری رحمت اللہ علیہ
06:43کے مذہب کے متبع
06:44اور طریقت میں
06:45حضرت ابو تراب
06:48اسکری بن الحسین
06:49رحمت اللہ علیہ کے مرید تھے
06:52آپ علی نصر آبادی کے خاندان سے تھے
06:56سلوک کے ہر معاملہ میں
06:58آپ کے اشارات اور مجاہدے کی
07:00تمام اقسام میں
07:01آپ کے اشارات موجود ہیں
07:03چونکہ آپ کا علمی مرتبہ بہت بلند تھا
07:06اس لیے نیشاپور کے تمام اکابرین
07:08آپ کے رشد و ہدایت کے منتظر رہتے
07:11لیکن آپ سب کو یہی جواب دیتے
07:13کہ ابھی میرا دل
07:15دنیا اور حصول مرتبت سے خالی نہیں ہوا
07:18اس حال میں میرا واز کرنا سود من نہیں ہے
07:22کیونکہ اس طرح میرا واز دلوں پر
07:24اثر انداز نہیں ہوگا
07:26جو بات دلوں پر اثر نہ کرے
07:28اس میں علم کا استخفاف اور شریعت کا استہزا ہوتا ہے
07:32واز کرنا اس پر واجب ہے
07:34جس کی خاموشی دین میں خلل انداز نہ ہو
07:37اور جب کچھ کہے
07:38تو خلل دور ہو جائے
07:40علماء نے سوال کیا
07:42کہ ہمارے واز کے مقابلہ میں
07:44اسلاف کا واز کس درجہ سے
07:46دلوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا تھا
07:49آپ نے جواب ارشاد کیا
07:50اس کی وجہ یہ ہے
07:52کہ اسلاف اسلام کی بہتری
07:55لوگوں کی نجات
07:56اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے واز کرتے تھے
07:59اور ہم
08:00اپنی ذات کی عزت
08:02دنیا اور مقبول خلائق ہونے کے لیے واز کرتے ہیں
08:05لہذا
08:06جو شخص رضا الہی کے لیے بات کرتا ہے
08:09اس کی زبان سے حق بات نکلتی ہے
08:12اور اس میں دب دبا و جلال ہوتا ہے
08:14کہ شر پسندوں کے دل بھی
08:16اس سے متاثر ہو جاتے ہیں
08:19اور وہ شخص
08:20جو اپنی ذات کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہے
08:23اس میں رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
08:25ایسی باتوں سے
08:27لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا
08:29اس کے کہنے سے نہ کہنا ہی بہتر ہے
08:31کیونکہ وہ
08:33حقانیت سے خالی بات ہوتی ہے
08:35موسیقی