- 15 hours ago
Prophet Yousuf Episode 59 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:01ہم دس بھائی جو کہ کنانی ہیں
00:03اپنے غلام یوسف کو مالک ابن الزار کے ہاتھوں بائی وز اٹھارہ درہم فروخت کرتے ہیں
00:10ایک شرط کے ساتھ کہ وہ یوسف کو کسی دور دراز سرزمین پر لے جائیں
00:15تاکہ یہ پھر کبھی کنان کا روح نہ کر سکے
00:20لاوی اور شمون نے سنت پر مہور لگائی ہے
00:25غالباً یہ شمون کی تحریر ہے
00:27آپ میں سے شمون کون ہے
00:36میں ہوں
01:13وہ ہمارے گھر میں ایک کنیز گواہ کرتی تھی
01:15جس کا ایک گستاق اور نافاروان بیٹا تھا
01:18ناچار وہ لڑکا مالک نامی ایک شخص کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا
01:21البتہ صرف اس لیے تھی کہ ہم اس کی شرارتوں سے نجات پالیں
01:28یہ ساند اسی زمانے سے متعلق ہے آپ یقین کیجئے
01:38بن یامین یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں
01:44نہیں آلی جناب ہمارا کبھی کوئی غلام اس نام و نشان کا نہیں تھا
01:56اب بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آ رہے ہیں آپ لوگ
02:00یہ ساند آپ کے اور بانو زلیخہ کے پاس کیا کر رہی ہے
02:03یہ ساند میں نے یوسف سے لی تھی
02:08وہی یوسف جسے کاروان والوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا
02:14آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں تمام باتوں کا علم ہے
02:19ہمارے لیے یہ ناقابل یقین ہے
02:23آپ کو یہ سب کیسے معلوم ہوا
02:25ہم نے اس جام سے سنا ہے
02:32اسے تو پہچانتے ہیں نا آپ
02:35یہ وہی تلائی جام ہے جو بن یامین کے سامان سے برامت ہوا تھا
02:40یہ جام مجھ سے کلام کرتا ہے
02:45یہ جام آپ سے کلام کرتا ہے
02:52اس نے اپنی آواز سے تمام حقائق کھول کر رکھ دیا ہے
02:57آپ کو تمام حقائق سننا پسند کریں گے
03:06جام کہتا ہے
03:09یوسف کو اس کے بھائیوں نے بہت زدگو کیا
03:12اور اسے شدید زفنی کر دیا
03:21جام بتاتا ہے
03:22کہ وہ اس کے قصر کا ارادہ رکھتے تھے
03:26لیکن لاوی مانے ہو گیا
03:28اور انہوں نے اسے دیوے میں ڈال دیا
03:31اور تیہ یہ پایا کہ اپنے بابا سے جاگرد کر دیں گے
03:34کہ یوسف کو بھیڑیے نے کھا لیا
03:37میں گوا تھا کہ آپ لوگ میرے بھائی کا خون
03:39آلوک کرتا بابا کے پاس لے کر آئے
03:41اور کہا کہ یوسف کو بھیڑیے کھا گئے
03:43یہ سب آپ کو بن یامین نے بتایا ہے
03:46اس میں کوئی صداقت نہیں ہے
03:48یہ سب جھوٹ ہے
03:49بلکل جھوٹ
03:53آپ کا یہ جام بلکل حقیقت بیان کر رہا ہے آلی جناب
03:56یہ ہماری رسوائی کے دھنورہ پیٹ رہا ہے
03:59اس حقیقت بتانے دیجئے
04:00ہم سن رہے ہیں
04:02ہم سن رہے ہیں آلی جناب
04:10آپ نے اپنے بھائی یوسف کو
04:12اس کاروہ والوں کے ہاتھوں جس نے اسے کنوے سے باہر نکالا تھا
04:17صرف اٹھارہ درہم کے عوض فروخت کر دیا
04:21آپ نے اپنے ہی بھائی کو غلامی میں دے دیا
04:26اس بات سے بے خبر کہ وہ تو خود اپنی مرضی سے جا رہا تھا
04:30کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مستقبل میں اسے ایک عظیم ذمہ داری سنبھا دی
04:38کاروہ والوں نے یوسف کو
04:41رسیوں سے باندھ کر غلاموں کی صورت
04:44یہاں مصر لے آئے
04:46اور اسے بردہ پروشوں کے بازار ملا کر بیش ڈالا
04:51میں مالک ہوں
04:52وہی مالک جس سے یوسف کو کوئے سے نکالا تھا
04:56خریدار یوسف
04:57کچھ یاد آیا تمہیں
05:01اگر اجازت ہو
05:03تو اس جام کی بقیہ کہانی کو
05:05میں آکے بڑھاؤں
05:11پوتی فار
05:12عزیز مصر
05:15یوسف کو خرید کر
05:19اسے اپنی ہم سرزلیخہ کو
05:21حدیتن پیش کر دیا
05:23یوسف آپ کو حدیتن پیش کر دیا تھا
05:27ہاں
05:28میں برسوں یوسف کی مالک کو مختار رہی ہوں
05:33وہ میرے ہی قصر میں پروان چڑھا
05:41میں نے بھی آپ لوگوں کی طرح
05:43اس پر کئی ستم ٹھائے
05:46اس کے خلاف سازشیں کی
05:48اسے زندان میں ڈلوا دیا
05:57خدا ہم مجھے ماف کرے
06:04اور یوں یوسف بارہ سال بے گناہ زندان میں رہا
06:08سالوں زندان کی سختیاں و صوبتیں سہیں
06:11پتر کی کالوں کی سخت ترین مشقتیں جھیلیں
06:15پھر یوں ہوا کہ
06:17جناب آخ ناتون نے ایک ایسا خواب دیکھا
06:20کہ تمام معابرانے مصر جس کی تعبیر پیش کرنے سے آجز رہ گئے
06:53میں جانتا تھا کہ یوسف
06:54یہ نبی میرے ہمسر اور یہ دونوں منسسا اور افراہیم ہمارے بچے ہیں
07:10اور وہ یوسف
07:11اس وقت عزید سے مصر ہے
07:18یہ یوسف ہے
07:23یوسف ہمارا بھائی
07:27تم یوسف ہو
07:30ہمارا بھائی
07:32یوسف
07:33تم یوسف ہو
07:35عزید سے مصر
07:36ہمارا بھائی یوسف
07:38ہمارا بھائی یوسف
07:40یوسف
07:40ہاں
07:42میں یوسف ہی ہوں
07:46اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے
07:51وہی جسے ہم نہیں چاہتی تھے کہ وہ بابا کا جانشین بنے
07:54وہی جس نے آبائے رسالت اور کمر بندے نبوت بابا سے ورسے میں پایا
08:00ہاں
08:01میں آپ کا وہی بھائی ہوں
08:04خدا نے مجھ پر بڑا احسان کیا
08:07صبر کرنے اور تقویہ اختیار کرنے والوں کی عجر کو
08:11کبھی زائے نہیں کرتا
08:16دیکھ رہے ہو
08:19دیکھ رہے ہو ہم سب نادیم و شرمسار کھڑے ہیں
08:23اب
08:25آپ تم ہمارا ساتھ کیا سلوک کرو گے
08:29ایک بھائی کو اپنے بھائی کے ساتھ
08:32سوائے درگزر کے اور کیا کرنے چاہیے
08:34ہم بھی تو بھائی تھے
08:36تو پھر ہم نے کیوں تم پر اتنے ستم دھائی یوسف
08:39مگر میں نے تو ماضی کو بھولا دیا ہے
08:43وہیں کوئے ہی میں میں نے آپ لوگوں کو بخش دیا تھا
08:46لیکن میں نہیں چاہتا میں بخشا جاؤں
08:48ہم نے تمہارے ہاتھ میں بڑا ستم کیا ہے یوسف
08:51لیکن تم ستم مت کرو
08:53تمہارا یہ بخش دینا مجھے مار ڈالے گا
08:55تمہارا یہ بخشنا
08:56یہ بخشنا ہی تو سب سے بڑی سزا ہوگی جو تم ہمیں دوگے
09:00تمہیں خدا کا واسطہ یوسف
09:02تمہیں خدا کا واسطہ یوسف ہمیں کو سزا دو
09:05مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے
09:08مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے یوسف
09:10شاید شاید یہ سزا میرے احساس
09:14گناہ کو کچھ کم کر دے
09:16تمہارا یوں بخش دینا میرے لئے
09:18سزا سے زیادہ سخت ہے یوسف
09:22کیا آپ واقعی سزا چاہتے ہیں لاوی؟
09:25اگر تم نے سزا نہ دی
09:27میں خود کو ہلاک کر ڈالوں گا
09:29خود کو ہلاک کر ڈالوں گا
09:32ٹھیک ہے
09:36اب جب کہ آپ سزا چاہتے ہی ہیں تو آگے آگے ہیں
09:56مجھے مارو یوسف
09:58تو میں خدا کا باستان مجھے مارو
10:02مجھے مارو یوسف
10:04مجھے مارو یوسف
10:06جسیل
10:07جب دو mü
10:07میرا
10:07مجھے مارو یوسف
10:14آپ
10:28مجھے مرم
10:30آپ
10:32میرے دل میں اب کبھی بھی بھائیوں سے
10:34نہ کوئی کینا تھا اور نہ ہے
10:38خدا کی قسم
10:40خدا کی قسم میرے لیے سے زیادہ سزا اور ہو بھی کیا سکتی ہے
10:46اگر ان تمام گناہوں کے باوجود مجھے سزا نہیں تھی گئی
10:49تو مجھے ڈر ہے کہ میں خود ہی اپنی جان لینے کے مرتقی نہ ہو جاؤ
10:52میں خود کو مار ڈالوں گا یوسف
10:54خدا نہ کوئی سزا دو
10:57خدا کے لیے یوسف مجھے کوئی سزا دو
10:59میں دیکھتا رہا میرے بھائیوں نے تم پر کیا کہتے تمڈائے
11:03لیکن خاموش تماشا ہی بنا رہا
11:07میں سالوں خاموش رہا
11:09اور اصل حقیقت بابا سے چھپائی رکھی
11:11جلا سے کوئی میرے ٹکڑے ٹکڑے کرتے
11:15کہو کہ مجھے تازیانے مار مار کے
11:18اس بے حیثی اور درندگی کو میرے وجود سے نکال باہر کرتے
11:21ورنہ یہ احساس گناہ مجھے مار ڈالے گا
11:24یہ احساس ندامت مجھے ہلاک کر ڈالے گا
11:26خود پر قابو رکھیے لاوی
11:30خود کو سنبھالیے
11:35اٹھئے اٹھئے
11:42اب تک کئی بار آپ لوگوں سے میرا آمنہ ساننا ہوا
11:48میں نے بار ہاتھ چاہا کہ
11:51آپ لوگوں کو اپنے سینے سے لگا کر
11:56طویل جدائی کے ان دردوں کا مدعوہ کروں
12:02لیکن نہ کر سکا
12:05یعنی
12:07مجھے اجازت نہ تھی
12:12میں اپنے پورے وجود سے آپ تمام بھائیوں کو چاہتا ہوں
12:18اور کا مجھے تہروز
12:21سانو بت衅ر
12:21میں کچھے
12:23سانو
12:24سانو
12:24س
12:34موسیقی
12:46مجھے
12:47یہ آپ کیا قدر ہیں
12:49مجھے
12:54مجھے احساس شرمندگی ہوتا ہے
12:59خدا من مجھے ہرگز نہ بخشے
13:01اگر میں آپ بھائیوں کی شرمندگی کا باعث بنوں
13:05خدا من تو دیکھ رہا ہے
13:08ستم میں نے کیا
13:11گناہ میں نے کیا اور شرمندہ یوسف ہے
13:16کیا ہم جیسے ستمگر لائقے بخشش ہیں
13:20دیکھ رہے ہو یہودہ
13:22ہم نے کتنی عظیب ہستی کورج پہنچایا ہے
13:42نیمے ساب
13:50ہم نے
13:52صرف تمہیں ہی رنج نہیں پہنچایا ہے
13:57جو دکھ بابا نے ہمارے ہاتھوں اٹھائے ہیں
14:00وہ اس سے کہیں زیادہ سخت اور تکلیف دے ہیں
14:04ان کی تلافی کیسے ہوگی
14:07اگر انہوں نے ہمیں رہی بخشا تو ہم کہاں بنا لیں
14:13بابا بھی آپ لوگوں کو بخش دیں گے
14:16بشا دیئے کہ توبہ کر لیں
14:19یہ جو دائی اب قتل کیوں نہیں ہو جاتی
14:22آخر یہ جروف راق اتنا طویل کیوں ہو گیا ہے
14:26میرا خیال ہے کہ ہمارے جد حضرت ابراہیم کی کہانی دوبارہ دہرائے گئی ہے
14:30مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بابا نے اب جا کر اپنے اسماعیل کی قربانی دی ہے
14:34یہی وجہ ہے کہ اب خداون نے ارادہ کیا ہے کہ ان کا اسماعیل اب انہیں لوٹا دے
14:42آلی جناب
14:49آپ میں سے کوئی یہ پیراہن بابا تک پہنچا سکتا ہے؟
14:55میں
14:58اگر ہم بابا کی بینائیوں نے واپس لوٹانے میں مدد کریں
15:01تو میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح آپ اپنے گناہوں کی کچھ تلاف ہی کر سکیں گے
15:06اگر ایسا ہو جائے تو
15:08البتہ ایسا ہونا ناممکن ہے
15:12ارادہِ خداوندی ہر ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے
15:17اٹھئے
15:22یہ وہ پیراہن ہے جو ہمارے جد ابراہیم سے اسحاق نبی اور ان سے ہمارے بابا اور پھر مجھ تک
15:27پہنچا ہے
15:29لاوی
15:31آپ یہ پیراہن بابا تک پہنچا دیجئے
15:33اور اسے ان کے آنکھوں سے مس کیجئے گا خدا نے چاہا تو بابا کی بینائی لوٹ آئے گی
15:39جائیے بابا کے پاس جائیے
15:40اور ان سے کہیے گا کہ وہ تمام بنی اسرائیل اور ان کے اہل و آیال کے ہمراہ مار ساز
15:45و سامان کے مصر تشریف لے آئیں
15:47میری فرما روائے مصر سے اس حوالے سے بات ہو چکی ہے
15:50سو اب میرا ارادہ ہے کہ منفیر کے نزدیک ایک ذرخیز خطے پر آپ لوگوں کی رہائش کا بندوبست کیا
15:54جائے
15:55کورشن یہاں نزدیک ہی میں ایک بہترین خطہ ہے
15:57میرا ارادہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے وہاں ایک نیا شہر تعمیر کرواؤں
16:07مالک میرے بھائی کے لئے سامانے سے پر تیار کروائیے
16:10خدا حافظ بھائی
16:11و امید دیدار
16:36میرے بابا کی آنکھوں کے شفاہت اس پیرہن میں پوشیتا ہے
16:43جلدی کریں جلدہ جلد اسے یاقوب نبی تک پہنچا دیں
16:56خدا نگدار
16:57با امید دیدار
17:10ہاں میرے بچوں
17:12دنیا صرف ایک قنان تک ہی محدود نہیں ہے
17:15دنیا میں لا تعداد چہر ہے
17:18اور بے شمار حکمدان اس دنیا میں حکومت کرتے ہیں
17:24لیکن ایک دن آئے گا کہ جب پورے عالم میں ایک ہی حاکم اور ایک ہی حکومت ہوگی
17:31اور وہ حاکم بلا شبا دنیا کا صالح ترین انسان ہوگا
17:36اور اس کی حکومت دنیا کی بہترین حکومت ہوگی
17:40وہ حاکم کون ہوگا دادا جن؟
17:44تم شمہون کے بیٹے جرشون ہو نا؟
17:47جی دادا جن
17:49یہ تو میں بھی نہیں جانتا
17:51لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ خدا کے صالحین بندوں میں سے ایک ہوں گے
17:56اور وہ آخری پیامبر کی بیست کے بعد اپنی حکومت کو تشکیل دیں گے
18:05آخری پیامبر کو آپ جانتے ہیں دادا جن؟
18:09اچھا تم رشپیل
18:10تم بنیامین کے بیٹے ہو نا؟
18:14ہاں میں انہیں جانتا ہوں
18:17اور دیگر پیامبر بھی انہیں جانتے ہیں
18:22سب انہی کی آمد کی خوش خبری دینے کیلئے آئے ہیں
18:27ان کا نام احمد ہے
18:32احمد؟
18:33ہاں احمد
18:36وہ میرے چچا اسماعیل کی ضروریت میں سے ہیں
18:47کیسے دلاوے اس خوشبو ہے؟
18:51یہ خوشبو اس میں احمد زبان پر لانے کی بھی دس گئے
19:07مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
19:10کیا کہا آپ نے بابا؟
19:24اگر مجھے دیوانا نہ سمجھو تو
19:26مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
19:28بس کہجئے بابا
19:31یوسف یہاں کہاں؟
19:33آپ کو بہم ہوا ہے
19:34ہمیں تو کوئی خوشبو نہیں آ رہی ہے
19:38یوسف کو مرے ہو ایک مدد ہو گئی
19:40اور آپ کو اب اس کے خوشبو آ رہی ہے
19:42وہ مرا نہیں ہے
19:45میرا یوسف مرا نہیں ہے
19:47میں نے اپنے یوسف کو کبھی مردہ نہیں سمجھا
19:50میرا یوسف زندہ ہے
19:53آج کا یہ دن یاد رکھنا
19:55مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
19:59سنا تم لوگوں نے
20:03ہمیں اپنے شہروں اور بھو کے بچوں کی پڑی ہے
20:06اور انہیں اپنے یوسف کی فکر لگی ہوئی ہے
20:19میرا یوسف کی
20:51امید ہے جلد ملاقات ہوگی
21:01امید ہے جلد ملاقات ہے
21:47اہت کو آئے پات سال ہوگئے ہیں
21:50اگر اب بھی بارش نہ بڑسی تو تمام اینے مصر ہلاک ہو جائیں گی
21:53نیل خوشک ہو چکا ہے
21:56مزید اگلے دو سال تک بارش نہیں بڑسے گی
21:58یہ یوسف کی پیشنگ ہوئی ہے
22:07موسیقی
22:09موسیقی
22:17موسیقی
22:19موسیقی
22:24موسیقی
22:32موسیقی
22:33موسیقی
22:33موسیقی
22:34موسیقی
22:40موسیقی
22:45موسیقی
22:56موسیقی
22:57موسیقی
22:59موسیقی
22:59موسیقی
23:00موسیقی
23:02موسیقی
23:05موسیقی
23:30نبی خدا یوسف کی خوشبو محسوس کر رہے ہیں
23:33کوئی آ رہا ہے کوئی سوار کنان کی جانب آ رہا ہے کوئی آ رہا ہے
23:46ایک شخص کنان کی سمتہ رہا ہے ایک شخص کنان کی سمتہ تا دکھائی دے رہا ہے
24:13یہ میرا بھائی لعوی ہے لعوی ہے لعوی ہے لعوی ہے لعوی ہے لعوی ہے لیکن وہ اکیلا کیوں ہیں
24:22لعوی ہے
24:40سلام بیٹا سلام بیٹا خوش آمدید سپاس گزاہ سلام بیٹا
24:48لعوی یہ تمہوں کس قدر پریشان تھا میں
24:53مجھے خوشی ہے کہ آپ کی زیارت نصیب ہوئی میں بھی آپ کے لئے بہت فکر مند تھا
24:59یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
25:02یوسف کو ساتھ لے کر آئے ہو
25:04خود پر کابو رکھیے خود پر کابو رکھیے ہاں بھی اور نہیں بھی میں یوسف کی ایک نشانی لے کر
25:10آیا ہوں
25:15نشانی؟ کیسے نشانی؟
25:20میں آپ کے لئے پیراہن یوسف لے کر آیا ہوں بابا
25:23وہی پیراہن جو کھلتا ہوا نقرائی رنگ کا ہے
25:27ہاں وہی ہے میں اسے پہچانتی ہوں
25:30یہ یہ اباہ رسالت ہے اس کا احترام کرو
25:36یہ پیراہن میرے جد ابراہیم سے میرے بابا اسحاق اور ان سے مجھ تک پہنچا ہے
25:44اسے تو یوسف کے پاس ہونا چاہیے تھا یہ تمہیں کہاں سے ملا؟
25:49یوسف نے خود یہ پیراہن مجھے دیا بابا
25:52یوسف؟ کیا کہا تم نے؟
25:54کیا کہا تم نے بیٹا؟ آیا میں نے درست سنا ہے یوسف کو کیا ہوا ہے؟
25:59یوسف کو کچھ نہیں ہوا بابا
26:01ہمیں یوسف مل گیا ہے
26:03ہمارا بھائی یوسف ہی عزیزِ بسر ہے
26:06عزیزِ مصر ہی ہمارا گمشدہ یوسف ہے
26:10ہاں بابا یہ آپ کو کیا ہوگی ہے بابا؟
26:13بابا پریشان بیٹو کیا ہوگی ہے بابا؟
26:17یا نبی اللہ کیا ہوا؟
26:21کچھ نہیں
26:24تو وہ خود کہاں ہے؟
26:26تم لوگوں کے یوں خالی پیراہن لیانے سے کچھ اچھی آدمہ بستا نہیں ہے
26:30ایک بار اس سے پہلے بھی تم لوگ یوسف کا خون آلود کرتا لے کر آئے تھے
26:35لیکن یوسف نہیں آیا تھا
26:37اس بار بھی پیراہنے یوسف تو لائے ہو لیکن اسے پھر بھی نہیں لائے
26:44میں یوسف کو اپنے ہمارا نہیں لاسکتا تھا بابا؟
26:46کیونکہ وہ اب عزیزِ مصر ہے
26:49میں نے تعقید کی تھی کہ اس پیراہن کو خود سے جدا مت کرنا
26:52تو پھر اس نے یہ تمہیں کیوں دے دیا؟
26:54اس نے یہ آپ کی وجہ سے خود سے جدا کیا ہے بابا؟
26:56اس نے کہا ہے کہ یہ پیراہن بابا کو شفا بخشے گا
26:59اور یہ آپ کی آنکھوں کو منور کرتے گا بابا؟
27:03یہ پیراہن شفا بخش ہے؟
27:07میں نے نہیں کہا تھا
27:09میں نے نہیں کہا تھا کہ یوسف مجھ پر حق کے ولایت رکھتا ہے
27:13اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا پیراہن میری آنکھوں کے لیے شفا بخش نہ ہوتا
27:20خدایا
27:28پرورتگارا
27:52پرورتگارا
28:00مبارک
28:22مبارک
28:23محسوس کر رہا تھا
28:24برسو پہلے بھی جاہے یوسف سے آپ کا گزر ہوا تھا
28:27تب ہوئے یوسف آپ محسوس نہیں کر پائے تھے
28:30تو آپ اتنے فاصلی سے کیسے محسوس کر لیں؟
28:33یہ ولایت کی مقام و مرتبے کا ادراک جتنا آج آپ کو ہوا ہے
28:38اتنا اس دن نہیں تھا
28:42بس تمہیں صحیح سمجھاتا
28:46یوسف مجھ پر حق کے ولایت رکھتا ہے؟
28:49ہاں آپ نے برسو ایک بلی خدا کے فراق میں گزارے گئے
28:53آپ کی اسی مسلسل گریہ وزاری اور انتظار نے
28:57آپ کو پہلے سے زیادہ بلند مرتبے پر فائز کر دیا ہے
29:03عشق ولایت ہر ایک کو چشم بینہ عطا کرتا ہے
29:22بابا باب کی آنکھیں سفیر نہیں رہی
29:24میں تمہنے وہ کو دیکھ سکتا ہوں
29:27باب کو دکھائی دے رہے بابا
29:28ہاں میرے بیٹے
29:31پیرانیں یوسف ہرین آئے تھے پر مرتکار سے
29:34مجھے تمہارا بھی نہیں مل گئی ہے
29:38جس پیران نے ابراہیم کو آتش نمرود سے نجاتے لائی ہوئے
29:42کیا وہ میری آنکھوں کو شفا نہیں بخشنگا
29:44لیا یہ تم ہو
29:49اور تمہارے دیگر بھائی کا
29:50پرشان مت ہوئی ہے وہ بھی آتے ہوں گے بابا
29:53اور یوسف کیا یوسف بھی ان کے ساتھ ہے
29:56نہیں بابا ہم سب اس سے ملنے چاہیں گے
29:58اپنے تمام عجز و اقارب کے ہمراہ
30:02پروردگارہ سپاس گزار ہوں
30:32موسیقی
30:37میں نے کہا تھا نا
30:39بابا یہاں پر نہیں ہوں گے
30:41یہ حجرہ بیت الحزن ہے
30:43اور بابا اب محضور نہیں رہے
30:45ہاں یہ تو ہے
30:46یقیناً بابا کی بینائے لوٹ آئی ہے
30:48تب ہی وہ برس و بعد گھر گئے ہوں گے
30:51بلکل ایسا ہی ہے
30:54چونکہ میں جانتا تھا کہ آج تم لوگ واپس آوگے
30:57سو یہیں بیٹا تھا
30:58سلام بابا آپ یہاں ہیں
31:00سلام بابا کی جان
31:01میں بہت خوش ہوں کہ اے دوبارہ آپ کی زیارت نسی ہوئی ہے
31:07بابا
31:07بابا آپ کی بنائی لوٹ آئی
31:10آپ دیکھ سکتے ہیں بابا
31:12یہ پیرہان یوسف کا موجزہ ہے میرے بچے
31:18سلام بابا
31:19سلام بابا دیکھ سکتے ہیں
31:21بابا کو تمہیں دیکھو بابا کچھ سکتے ہو گئی ہے
31:28درود پر نبی خدا
31:29تم پر بھی درود ہو
31:39موسیقی
32:12موسیقی
32:22آپ خوش نہیں ہیں؟
32:25کیوں نہیں؟
32:28لیکن ماضی کی ترخیادیں
32:31مجھے چین نہیں لینے دیتی
32:39بابا نراز ہے؟
32:41وہ تو ظاہر ہے
32:42اب انہیں معلوم ہو چکا ہے
32:44کہ ان کے بیٹے کی سازیم گناہ کے مرتقب ہوئے ہیں
32:53موسیقی
33:17موسیقی