Skip to playerSkip to main content
  • 23 hours ago
Prophet Yousuf Episode 45 - Urdu

Category

📚
Learning
Transcript
00:02باوجود ان تمام
00:03تحمدوں
00:05سازشوں اور خیالت کے
00:07جو میں نے تمہارے خلاف کیے
00:11یہ کیسی بیچا توقع ہے نا
00:15میں تم سے جمع مرتی
00:18محبت و وفاداری کی توقع رکھتی ہوں
00:26امید کرتی ہوں
00:28کہ تم ہمیشہ
00:32دشمنوں کے شرح
00:33اور زمانے کے سرد و کرم سے
00:37امان میں رو
00:43لیکن ذلیخان
00:45ہرگز نا امید نہیں ہوگی
00:50اب تک میں نے
00:52تمہارے فراہ میں زندگی گزار دی
00:57هاہم
00:58آج کے بعد
01:01تمہارے انتیزار میں گزار دوں گی
01:07ہاہم
01:08ہاہم
01:09ہاہم
01:10تمہارے انتیزار میں گزار دوں گی
01:16انتصار میں گزار دوگی
01:24یوسف
01:31آپ یہاں کی سو رہے ہیں
01:34ایک پل کو آنکھ لگ گئی تھی
01:40میں نے پھر اسے ضرورت مند ضعیفہ کو خواب میں دیکھا
01:43کیا وہ بلکل بھی مانوس نہیں لگتی
01:46کیوں نہیں
01:48ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں نے اسے کہیں دیکھا ہے
01:51لیکن جتنا بھی غور کرتا ہوں پتہ نہیں چلتا کہ اسے کب اور کہاں دیکھا ہے
01:57معلوم نہیں اس کا چہرہ واضح کیوں نہیں دکھائی دیتا
02:00تمام ضرورت مند و خستہ حال خواتین کے نام محکمہ آدات و شمار کے حوالے کرتے ہیں
02:06شاید ان میں سے کوئی نام مانوس ہو
02:08یا اس کی بارے میں کچھ پتہ چل جائے
02:11اگر مسئلہ تے خداوندی ہوتی کہ اسے پہچانوں
02:13تو یقین ان اس کا چہرہ واضح نظر آ جاتا
02:19یوں ناشنا رہنا
02:21یقین ان حکمت سے خالی نہیں
02:35غالباً آخمہ ہو اور کاہنان شکوہ و شکایات کی غرص سے آخر اتون کے پاس جانا چاہتے ہیں
02:39جبکہ جناب فرما روا تنہا ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتے
02:43سو میری موجودگی وہاں ضروری ہے
02:51کیا آپ کی موجودگی واقعی بہت ضروری ہے
02:54ہاں
02:54میرا خیال ہے بدپرستی سے جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے
03:00یقین ان مابت کے گندم کے زخائر حب تک ختم ہو گئے ہوں گے
03:31موسیقی
03:51تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہیں
03:53میں نے کہا نہیں چلی جاؤ یہاں سے
03:57ہم اپنی بھانوں کو کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں
04:02شاید شاید ہویا سوفر اور باغبان کو آپ سے اتنی دلوی بابستگی نہ ہو
04:07لیکن میں اور تاما آپ کو یہ تنہا نہیں چھوڑ سکتی
04:10ایک بار کہہ دیا کہ چلی جاؤ
04:14چلی جاؤ یہاں سے اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دوں
04:17مجھے تم لوگوں کی ہمدرگی کی ضرورت نہیں
04:19جاؤ تم لوگا آساد ہو
04:40موسیقی
04:41موسیقی
05:00جرود بلفرما روای مختدر امس جناب آمون ہوتا
05:07اوہ کہیے جناب آخمہ ہمیں کیسے یاد کیا
05:12اگر مجبور نہ کیا جاتا تو آپ کے قیمتی وقت میں مخل نہ ہوتا
05:17سن رہا ہوں کس نے آپ کو مجبور کر دیا ہے
05:22میں آپ کی خدمت میں جناب یوزار صریف کی شکایت لے کر حاضر ہوا ہوں
05:31کیا انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کاہنہ نے مابد کو
05:34گندم دھروں اور دینار کے عوض فروخت کیا کریں
05:39کیوں حق نہیں پہنچتا
05:41گندم عوام کا سرمایہ اور ان کی برسوں کی محنت کا سمر ہے
05:45تو پھر مابد آمون کو یہ گندم بلا معافضہ کیوں دی جائے
05:48گندم بلا شبہ عوام کی ہے
05:50اس میں کوئی شک نہیں
05:51لیکن آمون بھی عوام سے تعلق رکھتا ہے
05:55اور کاہنہ نے مابد لوگوں کے ایمان کے محافظ ہیں
05:59اگر مابد آمون کی نیک دعائیں آپ کے شامل حال نہ ہوتیں
06:03تو کیا آپ لوگ وشی پیمانے پر گندم کی زخیرہ سازی میں کامیاب ہو سکتے تھیں
06:08لیکن ہمیں آپ سے اتفاق نہیں
06:10جہاں تک ہمیں پتا چلا ہے
06:11آپ لوگوں نے تو اپنی بھرپور کوشش کی تھی
06:13کہ لوگوں کو جناب یوزار صریف کے ساتھ لدم تعامل پر حسائیں
06:17اور انہیں گندم کو حکومت تحویل میں دینے سے باز رکھیں
06:20یہ تمام باتیں بے منیاد ہیں جو پھیلائی گئی ہیں
06:23وقت آنے پر ہم آپ کو یہ ثابت بھی کر دیں گے
06:27لیکن میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ
06:30اب جبکہ آپ عوام کے خادم کاہنوں کو
06:34رقم کے ایور گندم بیشنا ہی چاہتے ہیں
06:37تو تین گناہ زیادہ قیمت پر کیوں
06:39اس لیے کہ آپ صاحب استطاعت ہیں
06:41اور دولت و سربت رکھتے ہیں
06:43کیا یہ بہتر نہیں ہوگا
06:44کہ خدا آمون کی سیمزر سے بھری ہوئی تجوریوں کے
06:47مو تھوڑے سے کھول دیے جائیں
06:50کیا خداوں کے ان خزانوں کو
06:52کڑے وقت میں بھی کام نہیں آنا چاہیے
06:54معاف کیجئے گا
06:55ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے معاود آمون کے خزانوں
06:58کو خالی کرنے کے لیے بھی ساتھ بچھائی گئی ہے
07:00کیا آپ کو گندم خریدنے پر کسی نے مجبور کیا ہے
07:03نہیں کسی نے مجبور نہیں کیا
07:05اسی وجہ سے ہم گندم کو
07:07مہنگے ڈامو خریدنے پر راضی نہیں ہیں
07:09حالانکہ ہم اس سے
07:11کہیں کم قیمت پر گندم
07:12اور اسے خرید سکتے ہیں
07:14میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں جناب آخمہ ہو
07:17آپ جہاں سے اور جس قیمت پر
07:19چاہیں گندم خرید سکتے ہیں اور
07:25چاہیں تو کسی ہمسائے
07:27ممالک سے بھی رجوع کر سکتے ہیں آپ
07:33امید ہے کہ ہمارے اس اقدام کو
07:36حکومتی مفات کے خلاف شمار نہیں کیا جائے گا
07:51آلی جناب
07:52ان کا یہ اقدام حکومتی مفات کے خلاف ہوگا
07:55اور اس طرح گندم کی درامت سے تو
07:57آمون کی شکست کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا
08:01پریشان مت ہوں
08:03میں اپنے خدا کی جانب سے کچھ ایسی باتیں جانتا ہوں
08:06جو یہ کہنان نہیں جانتے
08:08یہ لوگ جلد ہی ہم سے گندم خریدنے پر مجبور ہو جائیں گے
08:12چونکہ مجھے یوزار سیف اور ان کی دورندیشی اور حکمت پر مکمل بھروسہ ہے
08:17لہٰذا میں امامت کے اقدامات کی مخالفت نہیں کروں گا
08:20امید کرتی ہوں کہ جنابی یوزار سیف کی پیشنگوئین درست ثابت ہوں
08:24آپ کے اتمنان کے لیے عرض کرتا چاہتوں کہ
08:28بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے
08:29کہ تمام ہمسائے ممالک بھی قاہت سے دو چار ہیں
08:33تو آنکھ ماہو اور کاہنان
08:35کسی بھی سرزمین سے گندم حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے
08:39کیا آپ کو یقین ہے؟
08:41یہ تو بہت اچھی بات ہے
08:42مجھے اس کی خبر نہ تھی
08:43کاہنوں کی شکست کے لیے تو یہ بات اچھی ہے
08:46لیکن ان ممالک کے لوگوں کے لیے بلکل بھی اچھی نہیں ہے
08:49انہوں نے سلسلے میں کوئی تدارف نہیں کیا ہے
08:52لہٰذا انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا
08:59کنان کے لوگ بہت میں کیا کریں گے؟
09:03خداوند ان پر رحم کرے
09:30موسیقی
09:31موسیقی
09:58یہودہ
09:59دیکھو
10:01یہ اتنی سے گندم دس خونشوں سے نکلی ہے
10:06یہ گندم تو کاشت کرنے کے لیے نہ کافی ہے
10:11باقی ہے
10:13بنیامین
10:15جاؤ بابا سے پوچھو کہ ساری گندم ایسی ہی ہے
10:19آیا ہم اسے کاشت کریں یا رہے دیں
10:21ہاں ہم اسے بچ پنا لے
10:23جی اچھا میں ابھی پوچھ کر آتا ہوں
10:26ہم دین حنیف ابراہیم کے پیروکار ہیں
10:29اور ہماری کتاب آسمانی صحیفہ ہے
10:32دادا جان حضرت ابراہیم کون تھے؟
10:34وہ میرے دادا تھے
10:37خدا کے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر تھے
10:40میرے دادا کنان میں آنے والے پہلے شخص تھے
10:43دادا جان مجھے یہ پوچھنا تھا کہ ہم سے پہلے بھی کوئی کنان میں آباد تھا
10:48یا یہاں رہنے والوں میں ہم لوگ ہی سب سے پہلے ہیں
10:51نہیں میری جان ہم سے پہلے بھی کنان موجود تھا
10:55اور دوسرے لوگ یہاں پر آباد تھے
10:58دادا جان ہمیں بنی اسرائیل کیوں کہا جاتا ہے؟
11:01کنان والے شروعی سے تم لوگوں کو بنی اسرائیل کہتے ہیں
11:06چونکہ تم لوگ میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد ہو
11:11چونکہ میرا نام اسرائیل ہے
11:14لہٰذا تم لوگ اور تمہارے باپ
11:17سب فرزندان اسرائیل کہلائے جاتے ہیں
11:28دھروت بن نبی خدا
11:30کیا بات ہے بنی آمین؟
11:33بابا
11:34اس سال گندم کی فصل ایسی ہوئی ہے
11:36اسے کاش کریں یا نہیں؟
11:43اگرچہ یہ نہ ہونے کے برابر ہے
11:45اور کافی محنت طلب ہے
11:49لیکن کیا کیا جائے؟
11:51ابھی تو سختیوں کے کئی سال درپیش ہیں
11:53جتنی ہے اسی کو کاشت کر لو
11:56اور جس قدر ممکن ہو زخیرہ کر لو
11:58اور اسراف سے اجتناب کرو
12:02وگرنہ یہ قہد ہم سے بہت بڑا خراج وصول کرے گا
12:06ہم پوری کوشش کریں گے
12:07اور ایک دانہ بھی نہیں چھوڑیں گے
12:09اور اگر
12:10خوشوں میں دانے نہیں بھی ہوئے
12:12تو کم از کم
12:12جانوروں کے چارے کے کام ہی آ جائے گا
12:16یہی اگا دو یہی اگا دو
12:19یہ بھی خنیمت ہے
12:22ٹھیک ہے بابا
12:31تیس سال ہونے کو آئے
12:32میرے بچوں کی زندگی سے
12:34خیر و برکت ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئی ہے
12:37جب سے ان کا بھائی گم ہوا ہے
12:40ہزار کوششوں کے باوجود بھی
12:43نانش شبینہ کو مہتاج رہتے ہیں
12:50ہاں تو بچوں ہم کیا باتیں کر رہے تھے
13:10گندم کہاں ہے
13:11سوائے یوزار شیف کے
13:13کسی کے پاس گندم نہیں
13:15ساری گندم تو اس نے اپنے گوداموں میں بھر لی ہے
13:19جانتا ہوں
13:20میرا مطلب مصر سے باہر سے ہے
13:23ہمسائے ممالک سے
13:25مجھے بس گرت اور ہتانی کی خبر ہے
13:28یہ دونے ممالک بھی قہد کا شکار ہے
13:30دوسرے ممالک میں پتا کر باؤ
13:33شاید وہاں سے ہی کچھ گندم کا انتظام ہو جائے
13:38شکریہ
13:42کیا دونے
14:01کہ نانشہ
14:03آپrole
14:05آپ
14:05آپ
14:06آپ
14:18پھیرو
14:25پہلے شہر میں اپنے آنے کی وجہ بیان کرو
14:28ہمارا ملک بھی کہہ زدہ ممالک میں سے ہے
14:30پتہ چلا تھا کہ مصر میں آن آج مل جائے گا
14:34بس اسی لئے آئے ہیں ہو سکے تو ہماری مدد کیجئے
14:37کیا آپ لوگ خاوری ہیں نا
14:40جی بلکل جناب
14:41رکھیں جب تک کہ میں آپ کے بارے میں حکم لے کے آؤں
14:45ان لوگوں کو یہی رکھو میں ابھی آتا ہوں
15:01اب تک تقریباً چار سو غلاموں کے صاحبان
15:06ناقابل برداشت اخراجات کے باعث اپنے غلاموں کو آزاد کر چکے ہیں
15:11یہ غلام اب ضرورت مندوں کے فہرست میں شمار ہوں گے
15:14لہٰذا انہیں بلا معاوضہ گندم دی جانی چاہیے
15:17بلا معاوضہ گندم کیوں دی جائے
15:19ان سے کوئی کام کیوں نہ لے لیا جائے
15:22آپ لوگوں کو گندم کی تقسیم اور گوداموں کے اندھے کے داشت اور نگرانی کے لیے
15:26یقیناً کئی لوگ درکار ہوں گے
15:29لہٰذا انہیں کام کے عیویز گندم دینا زیادہ بہتر ہوگا
15:33آفرین آسنات
15:35نہائیت ہی مناسب تجویز ہے
15:37مجھے جناب آخناتون اور بانو نفرتیتی کا شکر گزار ہونا چاہیے
15:41کہ جنہوں نے میرے لیے آپ جیسی شریک حیات کا انتخاب کیا
15:45اس طرح سے افرادی قوت کی درپیش کمی کو ان غلاموں کے ذریعے
15:49بہ آسانی دور کیا جا سکتا ہے
16:05درود بر یوزار صیف دانا و حکیم
16:08درود خداوند ہو آپ پر بھی
16:10آلی جناب
16:10میں شہر کے شرکی دروازے کا پہرے دار ہوں
16:13کچھ لوگ ہمارے پڑوسی ممالک سے جو خود کو خاوری بتا رہے ہیں
16:17گندم خریدنے کے لیے آئے ہیں
16:19ان کے لیے کیا حکم ہے
16:20پہلے پوری طرح سے اتمنان کر لیں
16:22کہ کیا واقعی وہ قہد زدہ ہیں
16:24قہد زدہ ممالک کے علاوہ کسی کو گندم نہ دی جائے
16:26اور قہد زدہ ممالک کے ناموں کی فہرست میں آپ کو ابھی دیئے دیتا ہوں
16:31منافع خوروں سے بچنے کے لیے ہر ایک کو
16:33صرف ایک ماہ کی گندم دی جائے
16:35یعنی دس پہمانے سے زیادہ گندم کسی کو نہ دی جائے
16:38اور یہ قیمت بھی فراوانی کے زمانے کے حساب سے ہی لی جائے
16:41اور ان کے نام اور دیگر کوائف کا اندراج کر لیا جائے
16:43تاکہ مہینے میں ایک بار سے زیادہ گندم نہ لی جا سکے
16:46اور ان کے اسواب کی بھی اچھی طرح تلاشی لی جائے
16:48کہ کہیں اپنے ساتھ کوئی اسلحہ یا کوئی اور جنگی ہتھیار نہ چھپا رہا ہوا ہو
16:52یہ ان قہد زدہ ممالک کے ناموں اور لازم احکامات کی فہرست ہے
17:01آپ کچھ تو کریے بانو
17:04وہ لوگ مابت کو نابود کرنے پر تلے بیٹھے ہیں
17:08حتی کہ گندم دینے سے پہلے بھی اعتراض کر رہے ہیں
17:15میں کر بھی کیا سکتے ہوں
17:17اب تو مدت ہوئی قصر میں میرے عمل دخرب پر پابندی لگا دی گئی ہے
17:22میرے سامنے کوئی بات نہیں کی جاتی
17:24اور مجھے بھی مابت کا ایک قارندہ اور تربدہ سمجھتے ہیں
17:28اگر فیلحال ہمیں چند ماہ کی بھی گندم مل جائے تو کافی ہے
17:32اگلے سال تو ہونے والی فصل سے مابت خود کفیل ہو ہی جائے گا
17:36آنے والے پاس سالوں تک تو بارش کا کہیں کوئی امکان نہیں
17:39لہذا گندم کی پیداوار کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
17:42نہیں معلوم کیوں یوزار سیف کی تمام پیشنگوئیاں سچ ثابت ہو
17:46ہماری امیدیں ہمیشہ آپ سے وابستہ رہی ہیں بانو
17:49اس کسر آخنا تون میں
17:52آمون ہو تب
17:53سنا تم نے
17:56میرا بیٹا آمون ہو تب ہے
17:58میں ہمیشہ اسے اسی نام سے بلاؤں گی
18:02اور یہ مزیغ خیز نام میں کبھی اپنی زمان پر نہیں لاؤں گی
18:07جی بہتر بہت بہتر
18:10وہی آمون ہو تب
18:11کسر آمون ہو تب میں
18:13صرف آپ ہی ہمیشہ ہماری پشت بنا رہی ہیں بانو
18:17اب اس کڑے وقت میں آمون کے خدمتگاروں کو یوں تنہاں مت چھوڑیں
18:22آپ ایک بار پھر
18:24جناب آخن
18:27مافی
18:28مافی جاتا ہوں
18:30جناب آمون ہو تب کے پاس جائیے
18:32شاید
18:34مابت کی ضرورت اور گندوں کا
18:36انتظام کر سکیں
18:38ٹھیک ہے
18:39اپنی سے پوری کوشش کروں گی
18:58خداوں کے غزب سے ڈرو
19:00آمون کے قہر سے ڈرو
19:03آمون ہو تب
19:04اگر آمون نفرین کر دے تو
19:06تم اور تمہاری یہ سارے گودام جل کر خاکستر ہو جائیں گے
19:10یوزار سیف نے تمہیں دھوکا دیا ہے
19:13ہم سب کو دھوکا دیا
19:15چھوڑ دو مجھے
19:16آمون کرے یہ قصر ویران ہو جائیں
19:19اور تم اور یوزار سیف نابود ہو جاؤ
19:21چھوڑو مجھے مخو
19:23چھوڑو مجھے
19:24اس سے زیادہ آمون کو غزبناک مت کرو
19:33بانوتی بہت غصے میں ہے
19:38یقیناً مابت کی جانب سے کوئی ناگوار بات سنے ہوگی
19:40بلکل ایسا ہی ہے
19:41یقیناً انہیں کاہینوں کی ناکامی کی خبر ملی ہے
19:44میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ انہیں گندم کی دستیابی میں ناکامی کا سامنا ہوگا
19:48جب کبھی میں آپ کے ایمان کے متعلق تردد کا شکار ہونے لگتا ہوں
19:53تو آپ اور آپ کے خدا کی خدرت کی کوئی نہ کوئی نشانی دیکھ کر
19:57میرا ایمان دوبارہ تازہ ہو جاتا ہے
20:02مجھے یقین ہے کہ آپ کا اپنے خدا سے بہت نزدیکی رابطہ ہے
20:07ہم اب تک خدا یقتہ کے مقابل آمون کی شکست کا بارہا مشاہدہ کر چکے ہیں
20:13یقیناً گندم کی خریداری کے سرسلے میں آنکھ ماہو کا ہمارے سامنے گھٹنے دیکھ دینا
20:17ان کی شکست کا ثبوت ہے
20:20آرزو یہ ہے کہ آئین یقتہ پرستی کا مصر کے سرکاری آئین کے طور پر اعلان کرو
20:24اور شرک و برد پرستی کی بسات کو لپیٹ کر رکھ دوں
20:27میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اب وہ دن زیادہ دور نہیں ہے
20:30بس اس وقت تک اور صبر کر لیجئے کہ جب تک معبد آمون کے خزانے کم
20:35اور لوگوں پر آمون اور دیگر خداوں کے عیوب زیادہ ظاہر ہو جائیں
20:39یعنی وہ دن بھی آئے گا
20:41کہ جب کئی ہزار سالہ اس جھوٹے
20:44اور خود ساختہ خدا آمون کی اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا
21:00خداوند مطال کا ارادہ یہ ہے کہ
21:03شرک کو بد پرستی پر یکتہ پرستی کا غلبہ ہو جائے
21:07اور یہ وعدہ خداوند بہت جل تحق پائے گا
21:21بس میری واحد پریشانی بانوتی کی جانب سے ہے
21:25وہ معبد کے کاہنوں کو آپ کی حکومت
21:27یا ہمارے اہداف کے خلاف استعمال کر سکتی ہیں
21:30اگر بانوتی سے اتنا ہی خطرہ لاحق ہے
21:33تو ہم انہیں قید کروا سکتے ہیں
21:34نہیں جناب فرماراوار
21:36بس اتنا کافی ہوگا کہ ان پر کڑی نظر رکھی جائے
21:39تاکہ وہ ہمارے مخالفین سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ کر پائیں
21:43بہت خوب
21:45حرمحوب کو بلاؤ
21:49میری ماں کو ان کے قصر میں نظر بند کر دیا جائے
21:53کاہنوں کو ان سے ہر کس نہ ملنے دیا جائے
21:56اور اگر وہ مجھ سے ملنا چاہیں
21:58تو انہیں میرے پاس لائے جائے
22:01تاہم کسی کو بھی ان کے قصر میں ورود و خروج کی اجازت نہیں ہوگی
22:08ہم نے پڑوسی ممالک کے تاجروں سے گندم کے درامت کے بارے میں سوال کیا تھا
22:13لیکن کہیں سے بھی کوئی حوصل آفزہ جواب نہیں ملا
22:16ان کا کہنا ہے کہ ہم سایہ ممالک بھی قیت سالی کی ذات میں
22:22شہر میں بھی کسی کے پاس گندم نہیں
22:24اور اگر کسی نے زخیرہ کیا بھی تھا تو
22:27وہ بھی دو سال کی مدت میں ختم ہو گیا
22:31کوئی اور چیارہ نہیں
22:33مابج آمون کے ہزاروں افراد پر مشتمل خادمین کو
22:37پھوک سے مرتا نہیں چھوڑا جا سکتا
22:40ہمیں اسی قیمت پر گندم خریدنی پڑے گی
22:42لیکن جناب مابت کی تمام طرح طاقت ان خزانوں پر منصر ہے
22:47مابت کی اصل طاقت اس کے حامی اور خادمین ہے
22:51ہم انہیں پھوک سے مرتا ہوا نہیں چھوڑ سکتے
22:54اس وقت گندم مابت کے ان خزانوں سے بھی زیادہ قیمتی ہو گئی ہے
23:00تو نچار ہمیں مابت کے خزانوں سے دزوردار ہونا پڑے گا
23:04کیا ہیں اور مابت کے خزانوں میں سے کچھ سندوق سے لے جائیں
23:08اور اس کے ایورسٹریپس کے گھوڈاموں سے جا کر گندم خرید لائیں
23:15بس کندم لیے بغیر واپس نہیں آنا ہے
23:20ملہدہ کیا
23:21ہم یوزار شیف کے مقابل شکست قبول کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں
23:31لیکن میں مناسب وقا ملتے ہیں
23:34اخنا چون اور یوزار شیف کا کام تمام کر دوں گا
23:45ملتے ہیں
24:22خداوں کی مار ہو یوزار شیف پر آمون کرے یوزار شیف نابود ہو جائے
24:27یہ خزان آمون کی عظمت اور مابت کے اقتدار کے استحکام کا باعث ہیں
24:33میری دعا ہے کہ یوزار شیف اور آخنا تون پر خداوں کے قہر و غزب کی بجلی گرے
24:42ایک پیمانہ
24:44دو
24:49تین
24:52چار
24:54پاندرہ پیمانے رائیوانز کے لیے
24:57تم پہلے کنیز تھیں
25:03دس پیمانے
25:05یہ لوگ
25:05دس پیمانے
25:07اگلا شاک
25:12آمون کر یہ تمام شک کے انگارے بن جائیں اور آپ کے یہ سارے گودام جل کر بھاسم ہو جائیں
25:17لیکن پلحال تو ان شکوں کی جزائی میں آپ جلے بھونے جا رہے ہیں
25:22اس لیے آپ کو اس آگ میں جل کے بھاسم ہو سکتے ہیں
25:25ہم نہیں
25:31یہ سارے تین ہزار سکے ہیں
25:34ہاں
25:36برائے مہابد
25:38ہزار پیمانے
25:41اگلا شاک
25:43خیال
25:43ایک سکے میں ہمیں تین سکے ہیں
25:47دیکھ رہے ہو
25:47ہمارے دیئے ہوئی حدیعہ و نظرانے ہیں
25:49ہاں
25:50سکے کا
25:50ہم نے خداوں پر نسار کیے تھے
25:52یہ لوگ خود پر نسار کر رہے ہیں
25:55لوگوں کے پیٹ بھوک کے مارے ان کی پیٹ سے جا لگے
25:58اور یہ اتنے شکم سہر ہے کہ
25:59اپنی نکلی ہوئی توندوں کے باعث انہیں سامنے چیز دکھائی نہیں دیتی
26:02مہابد کے نام پر وٹوڑتے ہیں ہم خود کھا جاتے ہیں
26:05آہستہ بھائی آہستہ
26:06زمین پر مد گراؤ
26:07خیال رکھنا
26:08بند رہت ہے مانے
26:09جلدی جلدی رکھو
26:10جلدی جلدی رکھو
26:11ہاں
26:12تم ان کے پیچھے جاؤ میں بھی آتا ہوں
26:15دھیان سے
26:16دھیان سے رکھنا
26:17ذرا خیال سے جانا
26:18گنگم کی حفاظت کرنا
26:20جاؤ
26:21جاؤ جاؤ جلدی جاؤ
26:48بچاری ضعیفہ
26:55کیوں لوگوں کی عذیت کا باعث بنتے ہو
26:57چلو جاؤ کہیں اور جا کر کھیلو
27:00چلو
27:00چلو
27:05کیا آپ بیمار ہیں
27:11بانور دھلیخہ
27:11یہ آپ ہے
27:15تم کون ہو
27:17مجھے نہیں پہ جانا آپ نے
27:19میں بھی قصر کے خدمتگاروں میں شامل تھی
27:21جب آپ نے سب خدمتگاروں کو آزاد کیا تھا
27:24تو میں نے بھی اپنا گھر بسا لیا تھا
27:27اگر سچ پوچھیں
27:28تو میں اب بھی آپ کی خادمہ ہوں
27:30مجھے خوشی ہوئی تم نے گھر بسا لیا
27:33چلے بانو
27:34میری گھر چلیں
27:36یہ ہی نزدیک ہے
27:38نہیں
27:39مجھے جانا ہے
27:41مگر کہاں
27:42پاسر کا راستہ اس طرف نہیں ہے
27:46کسی نے بتایا ہے
27:47کہ یوزار صرف منفیز جانے کا ارادہ رکھتا ہے
27:52میں دروازہ سوریہ تک جا رہی ہوں
27:56چونکہ نیل میں پانی کب ہے
27:58لہٰذا یوزار صرف اسی راستے سے منفیز جائے گا
28:02میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں
28:05یہ آپ سے کس نے کہہ دیا
28:07کسی آشنا نے بتایا ہے
28:09یقیناً کسی نے آپ کو تنگ کرنے کی کوہش کی ہے بانو
28:16نہیں
28:17یہیں اسی گلی گوچھے کا کوئی نوجوان تھا
28:21اور آپ نے اسے کوئی نہ کوئی انام ضرور دیا ہوگا
28:24جو میرے یوزار صرف کا مردہ سنائے
28:27کیا اسے کوئی انام نہیں دینا چاہیے
28:30پھر چاہے وہ خبر جھوٹی ہی کیوں نہ ہو
28:33اور اگر حقیقت ہوئی اور وہ بتائی ہوئی جگہ پر واقعی آ گیا تو
28:38لیکن بانو آپ کو تو صاف دکھائی نہیں دیتا
28:42تو پھر آپ یوزار صرف کو کس طرح دیکھیں گی
28:45ابھی مجھے دھنگا سا دکھائی دیتا ہے
28:48ویسے بھی مجھے یوزار صرف کو دیکھنے کیلئے
28:51ان ظاہری آنکھوں کی ضرورت بھی نہیں
28:54میرے لیے تو اس کی خوشبو کا سونے نہیں کافی ہے
28:58وہ ہمیشہ میرے پاس ہوتا ہے
29:01جب بھی آنکھیں بند کرتی ہوں
29:04وہ میرے سامنے آ جاتا ہے
29:08میرا تو ایک پل بھی اس کے بغیر نہیں گزرا ہے
29:12اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اب تک مر چکی ہوتی ہے
29:18بیچاری زلیقہ
29:19کبھی ان کا عشق صرف حوث پر مبنی تھا
29:22لیکن اب تو یہ حقیقی معنوں میں عاشق ہو گئی ہیں
29:31ملے چڑھا
29:41موسیقی
30:20کیا بات ہے علی جناب آپ کسی کو ڈھونڈ رہے ہیں
30:25کسی نے مجھے یوسف کہہ کر آواز دی ہے
30:30حالانکہ سب مجھے میرے مصری نام سے جانتے ہیں
30:40آپ کسی کو ڈھونڈ رہے ہیں
30:42ایک خاتون جو ملتجی انداز میں اپنے پورے وجود سے مجھے یوسف کے نام سے پکا رہی تھی
30:48کافی مانوس آواز تھی
30:53دیکھنا تار تمہیں وہ دکھائی دے رہی ہے
31:06کسی کو بھی ڈھونڈنا بیسون ہے
31:08آپ پہ اتنے سارے چاہنے والوں میں کسی کو ڈھونڈنا وہ بھی بحث آواز کی بنیا پر ناملکن ہے
31:14..
31:32کامہ والد کا نام پ ب آتمہ
31:49تو آپ لوگ آزاد ہو گئے
31:57آپ لوگ ایک ماہ کی گندوں میں بلا ماہو جلے جا سکتے ہیں
32:05دس بہمانے آگے آو
32:10تیہاں بھی نہیں والد کا نام بہنگی
32:27اچھا تو یہ تمہاری آزادی کی سند ہے
32:32آپ بھی ایک ماہ کی گندوں مکت حاصل کر سکتی ہیں
32:37دس بہمانے آگلا شخص
32:53یہ تمہارے بیس بہمانے گندوں جاؤ
33:03موسیقی
33:04موسیقی
33:09موسیقی
33:18موسیقی
33:25موسیقی
33:26موسیقی
33:27موسیقی
33:27موسیقی
33:27موسیقی
33:27موسیقی
33:28موسیقی
33:28موسیقی
33:30موسیقی
33:31موسیقی
33:34موسیقی
33:39لیکن اب مجھے ان سے اپنایت سے ہو چکی ہے وہ نیہائیتی قابل رحم ہو چکی ہے
34:21آرے ہم یہاں کیا سے پہنچ گئے پتہ نہیں ہمارا تو یہاں آنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا
34:29ایتھنے سالوں تک کہیں بھی گئے واپس یہاں آنے کی عادت سے ہو گئی ہے
34:34اگر اب بانو جو لیکھا ہمیں دیکھ لیں تو کہیں گی کیوں پھر آگئے تم لوگ جہاں
34:41کیا خیال ہے تھوڑی سی گندم بانو کو نہ دے دیں ہاں دے دو
34:46کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ بانو تو گندم لینے کے لیے کبھی نہیں جائیں گی
34:51مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں بھوک سے مر ہی نہ جائیں ہاں چلو
35:17چلو
35:17کیا مطلب بانو جو لیکھا گھر پر نہیں ہے کیا
35:20پتہ نہیں
35:21شاید قصر کے اندر ہوں
35:24بانو
35:25بانو زلیخہ
35:28بانو
35:29بانو زلیخہ
35:35بانو
35:36بانو زلیخہ
35:38بانو
35:45بانو
35:46بانو
35:50بانو
35:51کہاں ہیں آپ
35:58بانو
35:59کہاں ہیں آپ
36:12بانو
36:14کہاں ہیں آپ
36:16جہاں ہمیشہ ہوتی ہیں
36:18ابھی آتی ہی ہوں گی
36:20چلو تب تک تھوڑا سا گندوں پیس کر آٹا گون لیتے ہیں
36:23بانو
36:45بانو
36:52بانو
36:53روٹی کی خوشبو