- 15 hours ago
Prophet Yousuf Episode 54 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:01نہیں نہیں یقینا کوئی اور وجہ ہوگی
00:04انہوں نے تو حتہ اپنے مشیر خاص کو ہماری پذیرائی پر معمور کر رکھا تھا
00:10مصر ایک عظیم سلطنت اور عزیزیں مصر ایک عظیم اور صاحبی قدرت شخصیت ہیں
00:16پھر بھلا انہیں بے وقت چراؤں سے کیا سروگار
00:20ان کی یہ لطف و نایات یا تو ازروع حکمت تھی
00:24یا عشنائی
00:27کیا تم نے انہیں پہچانا
00:28یا انہوں نے کسی قسم کا اظہار عشنائی نہیں کیا
00:33نہیں
00:35کسی قسم کی شناسائی کا اظہار نہیں کیا
00:38البتہ مجھے اور روبین کو ایسا لگا
00:40یا تو ہم انہیں جانتے ہیں
00:41یا پھر ہم نے انہیں کہیں دیکھا رہا
00:42ہم نے بہت سوچا
00:45لیکن ہمیں کچھ یادی نہیں آیا
00:48انہوں نے انہیں عام اکرام کے عوض
00:50تم لوگوں سے کچھ نہیں چاہا
00:52کوئی توقع
00:55سوال
00:56تقاضہ
00:58نہیں نہیں
00:59وہ ان تمام چیزوں سے بے نیاز تھے
01:01بھلا وہ ہم سے کیا چاہیں گے
01:03حالانکہ حضیظہ مصر ایک مہربان اور فیاض انسان تھے
01:06لیکن پھر بھی ہمیں زیادہ گندم نصیب نہیں ہوئی
01:10اگر آپ اور بن یامین بھی ہوتے ہیں تو ہمیں دو حصے زیادہ گندم مل جاتی ہے
01:15کوئی بات نہیں
01:18اگر ہر دفعہ اتنی گندم بھی لے آئے تو ہمارے گزارے کے لیے کافی ہوگی
01:25اگلے سال کا پھر دیکھا جائے گا کہ مشیط خداوندی کیا ہوتی ہے
01:30لیکن اگلی بار کوئی امکان نہیں ہے بابا
01:34بس شرط یہ کہ بن یامین کو بھی اگلی بار اپنے ہمراہ مصر لے جائے
01:40نہیں اگر بن یامین تمہارے ساتھ نہیں جائے گا
01:42تو تم لوگ بھی گندم لینے نہیں جاؤ گی
01:45نہیں بابا شامون کا یہ مقصد نہیں تھا
01:48انہوں نے یہ کہا ہے کہ اگلی بار اگر اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر نہیں آئے
01:53تو آپ لوگوں کو گندم نہیں دی جائے گی
01:55انہیں کیسے پتا چلا کہ تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے
01:59اور وہ بھی تم سب لوگوں سے چھوٹا
02:02انہیں ہماری باتوں سے پتا چلا تھا
02:03ہم نے انہیں بتایا تھا کہ ہمارا ایک زہیب باپ اور ایک چھوٹا بھائی ہے
02:07لہٰذا ان کا بھی حصہ دے دیجی
02:10وہ ہم پر شک کرنے لگے تھے بابا
02:12کہ ہم ان کی محبتوں کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں
02:15ہاں بابا
02:16ان کا خیال میں ہم زیادہ گندم لینے کے لیے زہیب باپ اور ایک چھوٹے بھائی کے ہونے کا دعویٰ
02:21کر رہے ہیں
02:22ہم نے انہیں بہت یقین دلایا
02:24لیکن انہوں نے ہمارا یقین نہیں کیا
02:26کہنے لگے کہ اگر آپ لوگ سج بول رہے ہیں
02:29تو اگلی بار اپنے چھوٹے بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لائے
02:31تاکہ تصدیق ہو
02:32اور کہا کہ اگر اپنے بھائی کو اپنے ہمراہ نہیں لائے
02:35تو مصرانی کی اجازت نہیں ہے
02:36بس صورت دیگر گریفتار کر لیے جائیں گے
02:38محال ہے
02:39محال ہے کہ میں بن یامین کو تم لوگوں کے ہمراہ بیچھو
02:42یہ اپنے سین سے نکال دو
02:44خود کو سنبھالیے بابا
03:14محال ہے
03:55یہ کیا ہے
04:07یہ سکھیں گندوں کی بہری میں کیا کر رہے ہیں
04:11اور وہ بھی اتنے سارے
04:18تم لوگ اپنا کام کرو
04:19میں ابھی آتی ہوں
04:26یہ آپ کو کہاں سے ملے ہیں
04:28یہ سکھیں مجھے گندوں کی بھوری سے ملے ہیں
04:31گندوں میں؟
04:33یہ تو وہی سکھیں ہیں جو ہم نے معمولین کو گندوں کی قیمت کے طور پر ادا کیے تھے
04:37یہ ہمارے ہی تو سکھیں ہیں
04:39تھیلی نہیں پہچان رہے ہیں
04:41ہاں واقعی یہ تو ہمارے ہی ہیں
04:44گویا عزیز مصر نے ہمیں گندوں بلا معافضہ دی دیئے
04:47کہیں انہوں نے غلطی سے تو نہیں رکھ دیئے
04:49کوئی شک نہیں کہ ایسا آمدن کیا گیا ہو
04:52کیا معلوم؟
04:54ان کا مقصد ہمارا امتحان لینا ہو
04:57شاید عزیز مصر یہ جاننا چاہتے ہوں
04:59کہ ہم اس آمانت کو استعمال کر لیتے ہیں
05:01یا انہیں واپس لٹا دیتے ہیں
05:04کہیں ایسا تو نہیں
05:05کہ تم لوگوں نے دھوکہ دہی سے
05:06گندوں کی قیمت ادا نہ کیو
05:10آپ نے ہمیں حرام خوری کے طریبت نہیں دی بابا
05:12ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں بابا
05:14کہ ایسا کچھ نہیں ہے
05:16ہمیں اس کے مطالب کچھ پتا نہیں ہے
05:18اس کا مطلب تو یہ ہے
05:20کہ عزیز مصر نے تم لوگوں کو
05:22اس طرح دوبارہ مصر آنے کی تشفیق دلائی ہے
05:27لیکن کیوں؟
05:29ہاں آخر کیوں؟
05:31عزیز مصر تم لوگوں کو دوبارہ بلانے کے
05:33اتنے مشتاق کیوں ہیں؟
05:39ہمیں نہیں پتا
05:42یا ہو سکتا ہے ان کا یہ اقدام
05:44نہ صرف یہ کہ ان کے مشتاق نہ ہونے کا اشارہ ہے
05:48بلکہ عزیز مصر کی
05:49عدم دلچسپی اور بے رقبتی اور بے زاری کی طرف بھی اشارہ ہے
05:53کیونکہ جن سے راضی ہوا کرتے ہیں
05:55ان کا مال بھی قابل قبول ہوتا ہے
05:57اور جن سے راضی نہیں ہوا کرتے
05:59ان کے مال کو واپس لٹا دیا جاتا ہے
06:02جیسے خدا بند مطالب نے جس بندے کو پسند کرتا ہے
06:05اس کے عامال کو قبول کر لیتا ہے
06:08اور اسے نامہ عامال میں لکھ دیتا ہے
06:10اور جسے وہ نا پسند کرتا ہے
06:14ریاضتوں اور عبادتوں کو یک سرعت کا دیتا ہے
06:17مبادہ عزیز مصر کا
06:19گندم کی بوری میں سکھوں کو یوں چھپانا
06:22تم لوگوں کو اپنے دربار سے دھتکار دینے کا اشارہ ہو
06:25ایسا نہیں ہے
06:28عزیز مصر تو ہم سے ملنے کی بڑے مشتاق تھے
06:31اگر ہم لوگ اسرات نہ کرتے تو وہ اتنی جلدی ہمیں چھوڑنے والے نہیں تھے
06:34اگر ہمارے سکھے قبول نہ کرنا
06:37ہمیں قبول نہ کرنا ہوتا
06:39تو پھر اتنی محبت اور میمان نوازی کس لیے تھی
06:44اگر ایسا ہے
06:45تو پھر جان لو کہ عزیز مصر کے ذہن میں ضرور کوئی منصوبہ ہے
06:51وہ میمان نوازی
06:54وہ عزت و اکرام
06:57گندم کی قیمت کا واپس لوٹا دینا
06:59اور سب سے اہم
07:01بن یامین سے ملنے پر بزد ہونا
07:05یہ سب کسی منصوبے کی طرف اشارہ کرتا ہے
07:08جو عزیز مصر کے ذہن میں پنپ رہی ہے
07:13امید تو یہی ہے کہ اس میں ان کی کوئی بدنیتی شامل نہ ہو
07:17لیکن آپ کو نہیں لگتا کہ یہ سکھے
07:19عزیز مصر کے حسن نیت کی غماز ہیں
07:23اور بن یامین سے ملنے پر اسرار کو کیا کہو گے
07:27اگر بن یامین کے حوالے سے آپ ہم پر اعتماد نہ کریں تو آپ حق بچانی پہیں
07:32لیکن عزیز مصر کے حسن نیت پر کوئی شک نہیں
07:36نہیں اس سب کے باوجود
07:38میں بن یامین کو تم لوگوں کے ساتھ کسی صورت مصر نہیں بھیجوں گا
07:46ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں
07:52بن یامین کو ان کے ساتھ بھیجنے میں حرجی کیا ہے
07:56اس لیے کہ انہوں نے یوسف کے حوالے سے کیے گئے گناہ پر اب تک
07:59اس سارے ندامت نہیں کیا ہے
08:02جو اس ہر ندامت نہ کرے کیا معلوم کہ وہ شخص وہی خلطی دوبارہ نہیں دورائے گا
08:08اگر گندم ختم ہو گئے تو کیا ہوگا
08:11پھر ہم کیا کریں گے بابا
08:25موسیقی
08:42وہ جب ہی یوسف کی یاد کو ٹھیک طرح سے بھلا نہیں پائے ہیں
08:45بھلا کس طرح اگلے سفر میں وہ بن یامین کو ہمارے ساتھ بھیج سکتے ہیں
08:49وہ مجبور ہیں
08:51وگر نہ عزیز مصر ہمیں ہرگز گندم نہیں دیں گے
08:53یعنی بابا مجبور ہے کہ ایک بار پھر اپنے جگر گوشوں کے بھیڑیوں کے حوالے کرتے ہیں
08:57لیکن ہم کوئی بھیڑیے تو نہیں ہیں
09:00ایک بار غلطی ہو گئی ہو گئی
09:04لیکن اب بن یامین کے حوالے سے تو کوئی غلطی کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں
09:09یا ہمارے توبہ کر لینے سے
09:11یا ہمارے اظہار پشیمانیوں سے
09:12یا پھر تمام حقیقت بیان کر کے اپنی غلطی کو مانگی مانگ لینے سے
09:16ہمارے بابا نے کس قدر الٹے جا کی
09:18کہ ہم حقیقت بیان کر دیں
09:20اور اپنے گناہ سے توبہ کر لیں
09:24لیکن ہم نے کیا کیا
09:27ہاں واقعی ہم نے کیا کیا
09:32چالیس سال ہونے کو آئے
09:33بابا کو یوسف کے فراق میں انگاروں پر لوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں
09:37لیکن ہم اپنا مو نہیں کھول رہے ہیں
09:39ہم میں سے کوئی ایک بھی حقیقت بیان کر دیتا
09:43تو انہیں اس غم سے تو نجات مل جاتی
10:11درود برد جناب یدار سیف
10:13تم پر بھی خداوند کا درود ہو
10:16تکلیف تو محسوس نہیں ہو رہی
10:18نہیں علی جناب
10:19نبی خدا کے گھر کے نگرانے کرنا تو
10:21بڑی سعادت کی بات ہے
10:25سپاس گزار ہو
10:26خداوند آپ کو سلامت رکھے
10:51درود بر نبی خدا
10:54انتظار فرمایا جا رہا ہے
10:55درود ہو میری اچھی اور مہروان آسنات پر
10:57اور بانو زلخہ کی کیا خبر ہے
11:00اسی طرح عبادت میں مصروف ہیں
11:02بہت کم بولتی ہیں
11:04کم سوتی ہیں
11:06خانے سے بھی کوئی خاص رقبت نہیں رکھتی
11:10درود بر نبی یہ خدا
11:12آپ پر بھی خداوند کا درود ہو
11:14بانو زلخہ کے لیے ہے
11:16جی علی جناب
11:17شاید وہ چند لقمیں تناول کر لیں
11:35موسیقی
11:36موسیقی
11:36موسیقی
12:05موسیقی
12:12موسیقی
12:20موسیقی
12:22موسیقی
12:31موسیقی
12:32موسیقی
12:34موسیقی
13:04موسیقی
13:14موسیقی
13:25موسیقی
13:26موسیقی
13:35موسیقی
13:44موسیقی
13:45موسیقی
13:57موسیقی
14:02موسیقی
14:09موسیقی
14:15موسیقی
14:21موسیقی
14:26موسیقی
14:27موسیقی
14:28موسیقی
14:40موسیقی
14:48موسیقی
14:49موسیقی
15:01موسیقی
15:09موسیقی
15:10موسیقی
15:12موسیقی
15:20موسیقی
15:32موسیقی
15:46گندم بس اتنی ہی رہ گئی ہے
15:48یہ گندم دو تین دن سے زیادہ ہماری ضرورت پوری نہیں کر سکے گی
15:52اگر گندم نہ ہوئی تو مجبورن ہمیں بھیڑے زبا کرنی پڑے گی
15:56لیکن پھل وقت ہم ان کے دودھ دہی پر ہی تو گزارہ کر رہے ہیں
16:13میرے دادا ابراہیم
16:16میرے چچا اسماعیل کو قربانی کے لیے لے گئے تھے
16:21خداون نے اس قربانے کا حکم دیا تھا
16:27جب خدا نے دیکھا کہ میرے دادا نے
16:30اپنے بیٹے اسماعیل کو زبا کرنے کا قطعی ارادہ کر لیا ہے
16:34تو ان کی قربانی کو قبول کر لیا
16:36اور اسماعیل کی جگہ قربانی کے لیے
16:41ایک بھیڑ کو بیج دیا
16:45اس کے بعد سے میرے چچا حضرت اسماعیل کو
16:47سبی اللہ کہا جانے لگا
16:51جب ابراہیم اسماعیل سے دسپردار ہو گئے
16:56تو خدا نے بھی اسماعیل واپس لوٹا دیا
17:03میرے بچوں
17:04میرا خیال ہے کہ تمہاری دادی کو شاید مجھ سے کوئی کام ہے
17:09اب تم جا سکتے ہو
17:12اب اپنے گھر جاؤ
17:16سلام میرے بچوں
17:23کیا ہوا
17:24تم پھر ایسی حالت میں چلنے پھرنے لگی
17:28جلدی ہمیں
17:30اپنی جگرگوشوں کو مرتبہ دیکھنا پڑے گا
17:36وہی بچے جو اس وقت خوشی خوشی کھر کود میں مصروف ہیں
17:40آن قریب مرقی بسمیل کی طرح
17:45ہماری آنکھوں کے سامنے تڑپیں گے
17:48اور ہم کچھ نہ کر سکیں گے
17:51کچھ نہ کر سکیں گے
17:53میں کیا کروں
17:54آیا میں مقصر ہوں
17:59اب زیادہ گندم نہیں بچی گھر میں
18:01اگر جلدی گندم کا دیزام نہ کیا کیا
18:04تو میں خود کو مصیبت کیلئے تیار کر لینا چاہیے
18:06سلام بابا
18:13سلام بیٹا
18:16سلام بیٹا
18:18کوئی کوشش کیوں نہیں کرتے
18:20کیا منتظر ہو کے
18:21کہاں تمہارے بچوں کو باری باری تم سے چھین لے
18:24تب کوئی اقدام کرو گے
18:26گندم صرف مصر میں دستیاب ہے اور وہ بھی
18:29اب ہمیں نہیں دی جائے گی بابا
18:31یعنی
18:32عزیز مصر بن یامین کے بغیر ہمیں گندم نہیں دیں گے
18:36تو گویا مجھے اب بن یامین
18:38اور اپنے بیٹوں اور پوتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا
18:47بن یامین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا بابا
18:50آپ مطمئن رہیں
18:51یوسف کو بھی تو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا
18:53ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں
18:55یقین دلاتے ہیں کہ ہم بن یامین کی حفاظت کریں گے
18:57اسی طرح جیسے یوسف حفاظت کی تھی
19:00اگر بن یامین ہمارے ساتھ نہیں گیا تو
19:03نصیح یہ کہ ہمیں گندم نہیں ملے گی
19:06بلکہ مس جانا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوگا
19:08اگر قہت نہ ہوتا تو پھر بن یامین کو ساتھ لے جانے کے لیے کون سا بہانہ بناتے
19:17نہیں
19:18مجھے تم لوگوں پر بلکل بھروسہ نہیں
19:20اس لیے اسے تمہارے ساتھ نہیں بیچوں گا
19:23بس شرط ہے کہ
19:32آپ کے جو بھی شرط ہوگی ہمیں قبول ہے
19:35بس شرط ہے کہ کیا؟
19:36بس شرط ہے کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر اہیت کرو
19:40اور خدا کے حضور میں قصب گھاؤ کہ بن یامین کو صحیح سلامت واپس لے کراؤ گے
19:48اہیت کرتے ہیں
19:49ہم سب بادہ کرتے ہیں بابا
19:51ہاں بابا ہم بادہ کرتے ہیں
19:52ہاں ہم بادہ کرتے ہیں
19:53ہم قول دیتے ہیں بابا
19:54یاد ہے نا کہ میری بددعا نے مابد اور اسطار و کاہنان مابد کا کیا حجر کیا تھا؟
20:00نہیں
20:01اس طرح نہیں
20:03تم سب یہاں آکر بیٹھو
20:05اور بارگاہ خداوندی میں ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر کے سب قسم کھاؤ
20:12آجو
20:13آکر بیٹھ جاؤ
20:24ہم خداوندی متعال کی بارگاہ میں قسم کھاتے ہیں کہ
20:28بن یامین کی حفاظت کر کے
20:31اسے واپس با حفاظت بابا کے پاس لے کر آئیں گے
20:33ہاں بابا ہم سب آپ سے یہ اہد کرتے ہیں کہ ہمیشہ
20:36اپنی جان سے زیادہ بن یامین کی حفاظت کریں گے
20:43ہم سب تیری بارگاہ میں اور تیرے پیامبر کے محضر میں اہد کرتے ہیں
20:48ہم سب تیری بارگاہ میں اور تیرے پیامبر کے محضر میں اہد کرتے ہیں
20:53کہ ہم اپنی آخری سانس تک اپنے اہد کے پاسداری کریں گے
20:59اور اگر ہم اپنی اس قسم پر عمل نہ کریں
21:02تو ہم مغفرت پروردگار سے محروم رہیں
21:09اور عذابِ الٰہی کے سزابار
21:15میں اس مرتبہ اپنے بیٹے کو خدا کے سپرد کر رہا ہوں
21:18تم لوگوں کے نہیں
21:19اور اسی سے واپس لوں گا
21:23پہلے میں نے یوسف کو لاوی کے سپرد کیا تھا
21:25اور جو کچھ بھی ہوا تھا وہ تم سب جانتے ہو
21:30امیدوار ہم کی اس مرتبہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا
21:32بکرنا تم لوگ اپنے باپ کو زندہ نہیں پاؤگی
21:38آپ کا خوف بچا ہے بابا
21:42کوئی بھی انسان اس جماعت پر جو بد اہد و پیما شکن ہو اعتماد نہیں کرتا
21:47آپ حق بچانے پہنے
21:48جاؤ
21:51جاؤ اور جا کر سفر کی تیاری کرو
21:53جاؤ
22:25جو سکے گنتم کی بوری سے برا مد ہوئے تھے انہیں رکھ لیا
22:28رکھ لیا ہے ماں آپ فکر مت کریں
22:30گم نہ ہو جائیں
22:31ورنہ عزیز مصر تم لوگ کو چوڑ سمجھیں گے
22:33بتایا نا سامھال کر رکھ لیا ہے پریشانے کے کوئی بات نہیں
22:36ہاں پریشان مت ہوئیے
22:38پچھلی بار تو ہمارا ہولیا کچھ مناسب نہ تھا
22:41ہمیں کیا محروم تھا کہ قسمت نے عزیز مصر کے مہمان بننا لکھا تھا
22:45یہ کیسے معلوم کہ اس بار بھی وہ آپ لوگ کو مہمان کریں گے
22:53اس بار عزیز مصر ہم سے بلکر بہت خوش ہوں گے
22:59ہاں جیسے اب تو بڑے ضربیقت کی لباس پہن کر جا رہے ہیں نا آپ لوگ
23:03عزیز مصر بھی جانتے ہیں کہ کہت ہے
23:05ہمارے پاس اتنے پیوتے تو پہلے ہم کھانے کا انتظام کرتے ہیں
23:09نہ کہ لباس کا
23:12خدا نکہدار اپنا خیال رکھنا
23:14خدا نکہدار ہم روانہ ہوں گے
23:18خدا نکہدار
23:20خدا نکہدار
23:57سلام بر نبی خدا
24:00تم پر بی دروت ہو
24:01دروت بر نبی خدا
24:03خدا تم لوگ کی فعصت کرے
24:06دروت بر نبی خدا
24:11سلام بابا
24:12سلام
24:15دروت بر نبی خدا
24:16تم پر بی دروت ہو
24:28دروت بر نبی خدا
24:34ہمیں دعا نہیں دیں گے بابا
24:36خدا تمہیں اپنے حفظ آمان میں رکھے
24:41نہیں معروم کیوں میں تم لوگوں کے لئے بہت فکر بند ہوں
24:44اب بھی بنیامین کی فکر دامنگیر ہے
24:46نہیں
24:48اس پار تو مجھے تم سب کی فکر ہو رہی ہے
24:52لگتا ہے کہ عزیزے مصر کے ذہن میں کوئی منصوبہ آئے
24:58بابا کیا آپ کے خیال میں وہ کوئی مسموع مضائم رکھتے ہیں
25:02اگر ایسا ہے
25:04تو آپ ہمارے بچوں کو اس صفر پر کیوں بھیج رہے ہیں
25:08نہیں معلوم کہ وہ کیا ارادہ رکھتے ہیں
25:10ماتات رہنا ہوگا
25:12کیسی احتیاط بابا
25:15عزیزے مصر یوزار سیف تو جو چاہے وہ کر سکتے ہیں
25:18ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں
25:20اتنا تو کر سکتے ہو کہ عزیزے مصر سے آمنہ سامنا ہی نہ ہو
25:24یہ ممکن نہیں بابا
25:27سب ہم دسوں بھائیوں کو پہچانتے ہیں
25:30اور دروازے کے معمون تو خاص طور پر
25:32تم نے تو بتایا تھا کہ طبز کے کئی دروازے ہیں
25:36دوسرے دروازوں سے داخل ہو جاؤ
25:38اگر وہ کوئی غلط ارادہ رکھتے ہوں گے
25:41تو یقینا اب تک نگہبانوں کو ہم دسوں بھائیوں کے ناموں نشان دے چکے ہوں گے
25:45اور اگر تم گیارہ بھائی ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہو
25:47تب کیا
25:49یقینا انہوں نے تاقید کی ہوگی
25:51کہ اگر دس کنانی بھائیوں کو دیکھیں
25:53تو انہیں متعلق کریں
25:55ہاں میرے خیال میں اگر وہ ہمیں
25:57ایک ساتھ نہیں دیکھیں گے
25:58تو ہرگز نہیں پہچان پائیں گے
26:00تو ٹھیک ہے ایک ساتھ مچ جانا
26:02تو دو افراد کر کے مختلف دروازوں سے جاؤ
26:05اور نہایت خاموشی سے اپنی گندم لے کر واپس لٹاؤ
26:09اس طرح اگر کوئی غلط ارادہ رکھتے بھی ہوں گے
26:11تو ناکام ہو جائیں گے
26:12یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں
26:14ہاں یہ ہم کر سکتے ہیں
26:16اور گم پہچان لی گئے تو
26:20اس صورت میں خود کو خدا کے سپرد کر کے
26:23سر تسلیم گھم کر دینا
26:25امید کرتا ہوں کہ بخیر و آفیت لٹھو گے
26:30اپنا خیار رکھنا
26:31بین یامین کی حفاظت کرنا
26:34اب ہم مزید کسی رنجو مسیبت کے متحمل نہیں ہو سکتے
26:37احتیاط کرنا میرے بچوں
26:41آپ گھبرائیے نہیں ماں
26:44ماجرائے یوسف اب دوبارہ نہیں دور آیا جائے گا
26:47آپ پردرو دے خدا حافظ بابا
26:49سلام بابا
26:50اپنا خیال رکھیں
26:52سلام بابا
26:59آپ پریشان مت ہو بابا
27:01خدا نے چاہا تو کچھ بھی نہیں ہوگا
27:04اپنا بہت خیال رکھنا میرے بچے
27:07یوسف کے بعد اب مجبت تمہاری دوری پرداشت کرنے کی سکت نہیں ہے
27:10آپ نے مجھے خدا کے سپرد کیا ہے
27:11تو پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں
27:14اپنا بہت خیال رکھنا میرے بچوں
27:15ضرور خالہ جان ضرور
27:17مجھے ماں کو ہو بین یامین
27:19تم تو مجھے اپنے بچوں سے زیادہ عزیز ہو
27:22ضرور مادر جان
27:23میں نے ہمیشہ آپ کو اپنی ماں کی طرح ہی سمجھا ہے
27:27جب سے دنیا میں آنکھ کھولی ہے
27:29اپنی ماں کی جگہ آپ کو دیکھا ہے
27:32یقین جانئے
27:33بھائی لاوی اور یہودہ سے کہیں بڑھ کر میں آپ کو چاہتا ہوں
27:36خدا نگدار
27:37خدا نگدار
27:53خدا نگدار
27:57خدا کرے کے بخیریت کر واپس لوٹو
28:31درود خداون ہو تم پر
28:33عزیز مصر کی کرم نوازی ہے
28:35وہ دس کے نانے بھائی یاد ہے نا جن کے خادرداری کی تھی
28:38جی جی جناب
28:39مجھے یاد ہے وہی نا جو آپ کے پہلے مہمان ہوئے تھے
28:42ہاں وہ جیسے ہی آئے فلپور انہیں میرے پاس لے کر آنا
28:44کہنا کہ عزیز مصر کو آپ لوگوں سے کوئی ضروری کام ہے
28:47اطاعت آلی جناب
28:48جناب مالک پہلے ہی مجھے یہ حکم دے چکے ہیں
28:54جناب عزیز مصر کا فرمان پہلے ہی پہنچا دیا گیا ہے
28:58اتمنان رکھیں انہیں خدمت میں پیش کر دیا جائے گا
29:03فرکت کریں
29:17عزیز مصر کا کنانیوں کو اتنا زیادہ اہمیت دینا
29:20بلخصوص ان دس بھائیوں کو
29:22عجیب نہیں
29:23ہاں خاص طور پر انہیں اپنے قصر میں مہمان کرنا
29:29کسی بھی ملک کے باشندوں کو وہ اتنی زیادہ اہمیت نہیں دے دے
29:34یقین ان کو خاص بات ہے
29:53بابا
29:55یوسف کے اس طرف تجربے کے بعد
29:57آپ نے بینگامین کو بھائیوں کے ساتھ کیوں بھیج دیا
30:01کوئی اور چارہ نہ تھا
30:04اس کے بھائی بن یامین کے بغیر ہرگز مصر نہیں جاتی
30:10یعنی آپ اس بار بلکل بھی فکر مند نہیں ہے
30:13اس کی وجہ ہے
30:16ایک تو یہ کہ اہلی کنان کیسے دو چاہ رہے ہیں
30:19اور میں اس بات سے لادان لک نہیں رہ سکتا
30:23دوسرے یہ کہ
30:26پہلے میں نے یوسف کو اس کے بھائیوں کے سپرد کیا تھا
30:29بالخصوص لاوی کے
30:32لیکن اب میں نے بینیامین کو
30:34خدا کے سپرد کیا ہے
31:05موسیقی
31:14ادھر اس طرف آجاؤ بابا کے نورے نظر
31:17کہیں کھوڑوں کی ضد میں آگئے نہ
31:18تو بابا ہمیں کو سروار ٹھہرائیں گے
31:41ویسے تم نے اور تمہارے بھائی نے ایسا کیا کیا ہے جو بابا اتنا زیادہ چاہتے ہیں تم دونوں کو
31:47بابا تو میرے بابا ہے
31:49البتہ تاجی سے بے سے بھی نہ دیکھیں میرے اتنے گرویدہ کیوں ہو گئیں
31:53موسیقی
32:34درود پر نبی خدا
32:36آپ پر بھی خداون کا درود ہو
32:37بانو زلیخہ کیسی ہیں
32:39اسی طرح عبادت اور ذکر خدا میں مشغول ہیں
33:04آپ کو یاد ہے میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں زلیخہ سیست نہیں کروں گی
33:10ہاں کیوں کیا آپ ارادہ بدل گیا ہے
33:14نہیں
33:16البتہ ہی کیفیت دیکھ کر مجھے ان پر رشکارہ ہے
33:26موسیقی
33:28موسیقی
33:28موسیقی
33:37موسیقی
33:38موسیقی
33:38موسیقی
33:41موسیقی
33:51موسیقی
34:01کیا ہوا؟
34:02کیوں رک گئے ہیں؟
34:03مسئلہ کیا ہے؟
34:05میرا خیال ہے کہ بابا کی ہدایت زیر غور ہے
34:08یاد ہے نہ کہ بابا نے کہا تھا کہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا
34:13موسیقی
34:13کیا ہوا؟
34:14فرزندان اسرائیل رک کیوں گئے؟
34:16آ رہے ہیں
34:17کوئی خاص بات نہیں
34:19بس ذرا ہم بھائیوں کے ایک دوسرے سے بات کرنی ہے
34:22آپ لوگ چلیں ہم آپ لوگ کے پیچھے آ رہے ہیں
34:26ٹھیک ہے
34:27بری اسرائیل کے علاوہ سب لوگ میرے ساتھ چلیں
34:32لیکن پہلے کی طرح ہم ایک دوسرے سے جدانہ ہو جائیں
34:35آپ لوگ پریشت مت ہو ہم لوگ بہت جلد آپ لوگوں سے آ ملیں گے
35:02بابا کی نصیت یاد ہے نا سب کو؟
35:05بابا کی نصیت یاد ہے نا سب کو؟
35:08تاکہ ہم الگ الگ دروازوں سے داخل ہو جائیں
35:10کوشش کریں کہ سب اپنے اپنے چہروں کو تھوڑا سا ڈھاپ لیں
35:13تاکہ دروازوں کی پہلے دار پہچان نہ پائیں
35:15اگر قصر کا کوئی شخص یا عزیزہ بسر کے معمورین میں سے کوئی دکھائے دے
35:19تو خود کو چھپا لینا تاکہ وہ پہچان نہ پائیں
35:21ہم لوگ ٹھیک گوداموں کے سامنے ملے گے
35:24لیکن کوشش کریں گے کہ ایک دوسرے کے قریب نہ کھڑے گے
35:33کاروما والی ذرا آگے نکل جائیں
35:35اس کے بعد ہم لوگ چلیں گے
35:40اب ہم تقسیم ہو جاتے ہیں
35:47جادو رشیر جاؤ
35:52شمون
35:54تم ربین کے ساتھ جاؤ
36:01دن نفتہ علی کے ساتھ
36:04اور یا ساکر تم ضبولوں کے ساتھ جاؤ
36:09چلو ہم بھی چلو
36:19موسیقی
36:21موسیقی
36:30موسیقی
36:31موسیقی
36:32موسیقی