Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kashful Mahjoob Part 39

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08حضرت احمد بن الحواری رحمت اللہ تعالی علیہ
00:14طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ سراج وقت متحملِ آفات
00:20حضرت ابو الحسن احمد بن الحواری رحمت اللہ تعالی علیہ
00:27طریقت اور صحیح آحادیث نبویہ کی روایات کے تمام علوم و فنون
00:32اور اس کے اشارات میں آپ کا کلام نہائیت بلند اور لطیف ہے
00:37تمام تر علوم میں علماء وقت آپ سے رجوع کرتے رہے ہیں
00:41یہاں تک کہ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
00:45احمد بن حواری ملک شام کے مہکتے پھول ہیں
00:49آپ حضرت ابو سلمان حضرت عبد الرحمن بن عطیہ دارانی رحمت اللہ علیہ کے مورید تھے
00:55اور حضرت صفیان بن اینیہ اور حضرت مروان بن معاویہ الفرازی
01:01رحم اللہ تعالی علیہ مجمعین کے صحبت یافتہ تھے
01:05آپ نے عدب کے ہر مسالہ میں ہر ایک سے استفادہ کیا ہے
01:10آپ کا ارشاد اگرامی ہے
01:12یہ دنیا گندگی کا ڈھیر اور کتوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے
01:17وہ شخص کتے سے بھی کم تر ہے
01:20جو اس پر جم کر بیٹھ جائے
01:21کیونکہ کتہ اس ڈھیر سے اپنی حاجت پوری کر کے چلا جاتا ہے
01:25لیکن دنیا سے محبت کرنے والا
01:27اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا
01:29اور نہ کسی حالت میں اسے چھوڑتا ہے
01:33آپ کا یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے
01:35کہ آپ دنیا پرستوں سے کنارہ کش رہتے تھے
01:38اہلِ طریقت کے لیے دنیا میں آزردہ رہنا
01:41ہمیشہ موجبِ مسررت ہوا کرتا ہے
01:44آپ نے ابتدا میں تحصیلِ علم کیا
01:47اور درجہِ امامت تک پہنچے
01:49پھر اپنی کتابوں کو اٹھا کر دریا برد کر دیا
01:53آپ نے فرمایا اے خدا
01:54تو بزاتے خود دلیل ہے
01:57اور مقصود کے پا لینے کے بعد
01:59دلیل ہی میں مشغول رہنا محال ہے
02:02کیونکہ دلیل تو اس وقت تک کام دیتی ہے
02:05جب تک سالک حصولِ مقصد کی راہ میں ہوتا ہے
02:08حصولِ مقصد کے بعد دلیل کی کیا حاجت ہے
02:11اس کے بعد فرماتے ہیں
02:13مجھے وصولِ اللہ ہو گیا
02:15اب میں دلیل کے جھنجٹ سے آزاد ہو گیا
02:18اس کے بعد
02:19اس راہ سے چمٹے رہنا
02:21محض مشغولیت ہے
02:23اب فراغت ہی فراغت ہے
02:25فراغت و شغل کے حصول میں
02:28ایک قائدہ اور ایک نسبت ہے
02:30اور یہ دونوں بندے کی صفتیں ہیں
02:32اور
02:34فصل و وصل
02:35اور انعائتِ حق
02:36اور اس کا عزلی ارادہ
02:38بندے کیلئے یہ خیرخواہی ہے
02:41جو شغل و فراغت کے دوران
02:43بندے کو حاصل نہیں ہوتا
02:44لہذا
02:46اس کے وصول کو اصول نہیں
02:48اور دائمی مجاورت کا
02:50اتحاد روا نہیں
02:52کیونکہ خدا کا وصل
02:54بندے کی کرامت
02:55اور اس کی عزت افضائی ہے
02:56اور اس سے جدائیگی
02:58اس کی احانت اور تظلیل ہے
03:00اس کے صفات کا تغیر
03:02جائز نہیں ہے
03:04میں
03:05علی بن عثمان کہتا ہوں
03:08کہ اس ارشاد میں لفظ
03:10وصول سے مراد
03:11وصول راہ حق ہے
03:13اس لیے
03:14کہ طریقت کی کتابوں میں
03:16اس کی تعبیر
03:17راہ حق سے بھی کی گئی ہے
03:19جب راہ واضح ہو گئی
03:21تو عبارت
03:22یعنی
03:23دلیل منکتے ہو جاتی ہے
03:24کیونکہ
03:25دلیل اور عبارت کی
03:26اب چندہ حاجت
03:28باقی نہیں رہتی
03:30عبارت کی تو
03:31اس وقت تک
03:31ضرورت رہتی ہے
03:32جب تک
03:33کہ مقصود مخفی ہو
03:34اور جب
03:35مشاہدہ حاصل ہو گیا
03:36تو عبارت کی احتیاج
03:38ختم ہو گئی
03:39جب معرفت کی صحت میں
03:41زبانیں گنگ ہیں
03:42تو کتابوں کی عبارتیں
03:44بدرجہ اولہ بیکار ہیں
03:46ان کے سوا
03:47بعض دیگر مشایخ نے بھی
03:50اسی طرح کتابوں کو
03:51ضائع کیا ہے
03:51جیسے شایخ المشایخ
03:53حضرت ابو سعید
03:55فضلاللہ بن محمد
03:56رحمت اللہ تعالی علیہ
03:58اور کچھ ایسے بھی
04:00رسمی نقال ہیں
04:00جنہوں نے
04:01اپنے جہالت کے باوجود
04:03ان آزاد شیوخ کی
04:04تقلید کی ہے
04:05بلا شبہ
04:06ان مقدس آزاد بزرگوں نے
04:09ان کتائے علائق
04:10ترکِ التفات
04:12اور
04:13ما سوا اللہ کے
04:15دل کو فارغ کر کے
04:16کمال کا درجہ حاصل کیا
04:18ان کی یہ کیفیت
04:20سکر کی حالت کی ہے
04:22مبتدی اور
04:24نو آموز آدمی کو
04:25ایسا نہیں چاہیے
04:26کیونکہ متمکن
04:28یعنی مقامِ رفی پر
04:29فائز ہونے والے کے لیے
04:30جب دونوں جہان
04:32ہجاب نہیں بنتے
04:33تو کاغذ کے پرزے
04:34اس کے لیے کیا حجاب بنیں گے
04:37جب دل ہی
04:38علائق سے جدا ہو گیا
04:39تو کاغذ کے پرزے کی
04:40کیا قدر و قیمت ہے
04:42لیکن کتابوں کو
04:43بردباد کرنے سے
04:44ان کی مراد
04:45تحقیقِ معانی سے
04:46عبارت کی نفی ہے
04:47جیسا کہ ہم نے بیان کیا
04:49لہٰذا
04:50سب سے بہتر یہ ہے
04:52کہ عبارت کو
04:53زبان سے
04:54ادا نہ کیا جائے
04:55اس لیے
04:56کہ جو کتاب میں مکتوب ہے
04:57اور جو عبارت
04:59زبان پر جاری ہے
05:01یہ عبارت
05:02اس عبارت سے زیادہ بہتر نہیں ہے
05:04مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے
05:06کہ حضرت احمد بن حواری
05:08رحمت اللہ علیہ نے
05:09اپنے غلبہ حال میں
05:10کسی کو اس کے سننے کے
05:12قابل نہیں پایا
05:12اور اپنے حال کی وضاحت
05:14اور تشریح
05:15کاغذوں پر تحریر فرمائی
05:16جب بہت کچھ
05:18جمع ہو گیا
05:19اور کسی کو
05:20اس کا اہل نہ پایا
05:21تو اس کو منتشر کرنے کے لیے
05:23دریاب ارد کر دیا
05:24اور پھر فرمایا
05:25کہ مراد کو پا لینے کے بعد
05:27دلیل میں مشغول رہنا محال ہے
05:29یہ بھی ممکن ہے
05:31کہ ان کے پاس
05:32بکسرت کتابیں جمع ہو گئی ہوں
05:34اور وہ کتابیں
05:35ان کو اوراد و وضائف سے
05:36باز رکھتی ہوں
05:37تو انہوں نے
05:38اس شغل کو
05:39اپنے سامنے سے ہٹا دیا
05:41اور اس طرح
05:42دل کی
05:43فراغت کا سامان
05:44حاصل کر لیا
05:45تاکہ عبارت کو چھوڑ کر
05:47اس کے معانی کی طرف
05:49رجوع کریں
05:50واللہ آلم
05:51بس سواب
05:52حضرت احمد بن خزرویہ
05:54رحمت اللہ تعالی علیہ
05:56طریقت کے اماموں میں سے
05:58ایک بزرگ
05:58سر فہرست جوامردان
06:00آفتاب خراسان
06:02حضرت ابو حامد
06:04احمد بن خزرویہ
06:05بلخی رحمت اللہ تعالی علیہ
06:07آپ حال کی بلندی
06:09اور وقت کی
06:10بزرگی کے اعتبار سے
06:11مخصوص ہیں
06:11اپنے زمانہ میں
06:13اہل طریقت کے مقتدہ
06:14اور محبوب خاص و عام تھے
06:16طریقے ملامت کو پسند کرتے
06:18اور فوجی لباس
06:19زیب تن فرماتے تھے
06:21آپ کی زوجہ فاطمہ
06:23حاکم بلخ کی دختر تھی
06:26کام بھی طریقت میں عظیم تھا
06:27جب انہیں توبہ کی
06:29توفیق میسر ہوئی
06:30تو کسی کو حضرت
06:31احمد کے پاس بھیجا
06:32کہ وہ اپنا پیام
06:34میرے والد کے پاس بھیجے
06:35لیکن آپ نے منظور نہ کیا
06:37دوبارہ پھر کسی کو بھیجا
06:39اور کہلوا دیا
06:40کہ اے احمد
06:41میں آپ کو اس سے زیادہ
06:43مرد خدا جانتی تھی
06:44کہ آپ ایک عورت کی
06:46راہ حق میں رہبری کریں گے
06:48نہ کہ رہزنی
06:49اس کے بعد
06:50آپ نے امیر بلخ کے پاس
06:52فاطمہ کے لئے پیغام بھیجا
06:54اس نے اسے برکت جان کر
06:56قبول کر لیا
06:57اور فاطمہ کو
06:58ان کی زوجیت میں دے دیا
07:01فاطمہ نے دنیا بھی
07:02مشاغل تر کر کے
07:03حضرت احمد بن خضرویہ
07:04رحمت اللہ علیہ کے ساتھ
07:06گوشہ نشینی اختیار کر لی
07:07آپ اکثر
07:08حضرت باجزید بستامی
07:10رحمت اللہ علیہ سے
07:11ملاقات کرنے جایا کرتے تھے
07:12اور فاطمہ بھی
07:14ان کے ساتھ جایا کرتی تھی
07:16پہلی مردبہ
07:17جب فاطمہ اپنے شوہر کے ساتھ
07:19حضرت باجزید بستامی
07:21رحمت اللہ علیہ سے
07:21ملنے کے لئے گئیں
07:22تو چہرے سے نکاب اٹھا کر
07:24کلام شروع کر دیا
07:27حضرت احمد رحمت اللہ علیہ
07:29نے اس حرکت پر
07:29بڑا تاجب کیا
07:30اور تیش میں آ کر کہا
07:32اے فاطمہ
07:32حضرت باجزید کے ساتھ
07:34یہ کیسی گستاخی ہے
07:35تمہاری بد اخلاقی کی وجہ
07:37مجھے معلوم ہونا چاہیے
07:39فاطمہ نے کہا
07:40اس کی وجہ یہ ہے
07:42کہ آپ میری طبیعت کے محرم ہیں
07:44اور حضرت باجزید میری طریقت کے محرم ہیں
07:47میں آپ سے اپنی خواہشات کے تحت
07:50رسم و راہ رکھتی ہوں
07:51اور حضرت باجزید سے خدا کے لئے
07:54کیونکہ یہ مجھے خدا سے ملاتے ہیں
07:56غرض کہ فاطمہ
07:57حضرت باجزید کے ساتھ
07:59ہمیشہ بے ہجاب رہیں
08:01اتفاق سے ایک دن
08:03حضرت باجزید علیہ رحمہ نے
08:05ان سے کہا
08:06کہ فاطمہ آج تم نے
08:08اپنے ہاتھوں میں مہندی کیوں لگائی ہے
08:10فاطمہ نے کہا
08:12یزید جب تک تم نے
08:14میرے ہاتھوں کو اور اس کی مہندی کو
08:16نہیں دیکھا تھا میرا آپ سے رابطہ
08:18بے ہجاب تھا اب جب کہ
08:19تم نے مجھ پر نظر اٹھائی اور اب
08:21تمہاری صحبت مجھ پر حرام ہو گئی
08:23اس کے بعد دونوں وہاں سے کوچھ کر کے
08:26نیشہ پر چلے آئے اور یہیں
08:27قیام کر لیا نیشہ پر کے
08:30مشایخ اور عام لوگ حضرت
08:32احمد سے بہت خوش ہوئے
08:34حضرت یحییٰ بن معاذ رازی
08:36رحمت اللہ علیہ بلخ جاتے ہوئے
08:38نیشہ پر آئے تو حضرت احمد نے
08:40ان کی دعوت کا ارادہ کیا
08:41اور اس سلسلہ میں اپنی زوجہ
08:44فاطمہ سے مشورہ کیا کہ
08:45دعوت کے لیے کیا کیا سامان ہونا چاہیے
08:48انہوں نے کہا
08:49اتنی گائیں اتنی بھیڑیں اتنی شمیں
08:52اتنا ایتر اتنا سامان
08:54اور ان کے علاوہ اتنے گدھے
08:57حضرت احمد رحمت اللہ علیہ نے بوچھا
09:00کہ سامان کے ساتھ گدھوں کی کیا ضرورت ہے
09:02ان کی زوجہ فاطمہ
09:04نے جواب دیا
09:04جب کوئی کریم کسی کریم کے ہاں مہمان ہوتا ہے
09:08تو محلے کے کتے بھی آ جاتے ہیں
09:10انہیں بھی کھلانا چاہیے
09:13فاطمہ کے انہی خوبیوں کی وجہ سے
09:14حضرت بایزید رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
09:18اگر کوئی خواہش رکھتا ہے
09:20کہ کسی مرد خدا کو نسوانی لباس میں دیکھے
09:23تو اسے چاہیے
09:24کہ وہ فاطمہ کو دیکھے
09:27حضرت ابو حفظ حداد رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
09:30کہ اگر احمد بن خضرویہ نہ ہوتے
09:32تو جواں مردی ظاہر ہی نہ ہوتی
09:34حضرت احمد رحمت اللہ علیہ کا کلام بلند
09:38اور انفاس محذب ہیں
09:40طریقت اور عداب طریقت کے ہر فن میں
09:43آپ کی تصانیف مشہور اور حقائق میں
09:46آپ کے نکات معروف ہیں
09:47چنانچہ آپ فرماتے ہیں
09:53راستہ واضح ہے
09:54اور حق روشن ہے
09:56اور نگے بان خوب سننے والا ہے
09:58اس کے بعد متحیر اور پریشان رہنا
10:02بجز اندہ پن کے سوا کچھ بھی نہیں
10:06مطلب یہ
10:07کہ راہ کی تلاش کے کیا معنی
10:10وہ تو روز روشن کی طرح بازے ہیں
10:12تو اپنے آپ کو تلاش کر
10:14تو خود کہاں بھٹک رہا ہے
10:16جب تو نے اپنے آپ کو پا لیا
10:18تو راہ حق پر لگ جائے گا
10:20کیونکہ راہ حق اس سے زیادہ ظاہر ہے
10:22جتنا کہ طالب اس کی طلب کرے
10:26آپ کا ایک اور ارشاد ہے
10:28اپنے فقر کی عزت کو لوگوں سے پوشیدہ رکھو
10:32یعنی لوگوں سے
10:34یہ نہ کہتے پیرو کہ میں درویش ہوں
10:36تاکہ تمہارا بھید نہ کھل جائے
10:38اس لیے کہ یہ اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے
10:41اور اس کا اکرام ہے
10:43آپ اس واقعہ کی مثال
10:45اس طرح بیان فرماتے ہیں
10:46کہ ایک درویش نے ماہ رمضان میں
10:48کسی
10:50امیر کی دعوت کی
10:52حالانکہ اس کے گھر میں
10:53صرف ایک سوکھی ہوئی روٹی تھی
10:57چنانچہ وہ روٹی اس نے تونگر کے سامنے رکھ دی
10:59جب وہ امیر آدمی واپس گیا
11:01تو اس نے اشرفی کی ایک تھیلی
11:03اس درویش کے پاس بھیجی
11:05درویش نے تھیلی واپس کرتے ہوئے کہلایا
11:08یہ اس کی سزا ہے
11:09جو اپنے بھید کو ناجنسوں پر کھولتا ہے
11:12یہی ان کے فقر کی صداقت کی دلیل ہے
11:15واللہ عالم
11:17جو اپنے بھید کو ناجنسوں پر کھولتا ہے