- 23 hours ago
Prophet Yousuf Episode 44 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:02دو آدمی بانو زلیخہ سے ملنا چاہتے ہیں
00:06مجھ سے انہیں کیا کام
00:09کہو کہ آجائیں
00:17ہویا مجھے صاف دکھائی نہیں دے رہا
00:23میری بینہ ہی روز پر روز کمزور ہوتی جا رہا ہے
00:26یہ سب کسرت گریہ کے باعث ہے بانو
00:28خود پر رہن کیجئے
00:30ورنہ کل کو چلنے پھرنے کے لیے بھی آپ دوسروں کی مدد لینے پر مجبور ہو جائیں گی
00:36بانو زلیخہ آپ اپنی آنکھیں طبیب کو کیوں نہیں دکھا دیتی
00:40شاید وہ کوئی دوا دارو کر دیں
00:44میرا طبیب تو کوئی اور ہی ہے
00:46اور وہ اپنے ہی بیمار سے بے خبر ہے
00:52درود پر بانو زلیخہ
00:57یہ تازیم اس وقت اچھی لگتی تھی جب میں مصر کی بانو دوم ہوا کرتی تھی
01:02لیکن اب یہ حرکات مزے کا خیز معلوم ہوتی ہیں
01:06ذرا آگے آؤ
01:13کہو کیا بات ہے
01:15مجھ سے کیا کام تھا
01:17خوش خبری ہے بانو خوش خبری
01:18اور وہ یہ کہ یوزار سیو
01:23البتہ ہمارا مقصد آپ کے خوشنودی ہے انہام نہیں
01:27یوزار سیو کی کوئی خبر لائے ہو
01:29جی بانو وہ آپ کو بتانا تھا کہ وہ گندوں کے گوداموں کی طرف
01:35جس طرح ہم بانو زلیخہ خوش کرنا چاہتے ہیں
01:38کیا وہ بھی ہم دونوں نیاز مندوں کو خوش کرنا نہیں چاہیں گی
01:43کیوں نہیں
01:45تم یہی رکو
01:54تم لوگ ضرورت مند نہیں ہو
01:56بلکہ دھوکے باز اور مکار ہو
02:10یہ لو
02:11تمہارا اینہ
02:13دھہریے بانو
02:14پہلے تم لوگ پوری خبر بتاؤ
02:17جی جی ضرور
02:18آلی جناب یوزار سیو
02:21ابھی ابھی گندوں کے گوداموں کی جانب گئے ہیں
02:25بس بس کافی ہے
02:26اب تم لوگ جاؤ یہاں سے
02:27چلو جاؤ
02:31انہوں نے بتایا کہ
02:32یوزار سیف تیپس کی گوداموں کی طرف گیا ہے
02:35میں وہی جا رہی ہوں
02:43ان کے ساتھ جاؤ
02:45پتہ ہے نہ انہیں کم دکھائی دیتا ہے
02:47انہیں تنا مت چھوڑنا
03:06درود پر یوزار سیف
03:15اگلا شخص
03:19درود پر عزیز مرس
03:23عزیز مصر زندہ بات
03:32سپاس گزار ہوں
03:33اپنا کام جاری رکھئے
03:38ساٹھ پیمانے
03:40اگلا شخص
03:42کس گودام سے استفادے کا پہلے آغاز کیا ہے
03:45پہلے سال کے گودام سے
03:47جو سات سال پہلے زخیرہ کیا گیا تھا
03:49آفرین
03:50پہلے سال کے گودام اگر زیادہ دیر بند رہیں
03:52تو خراب ہو جائیں گے
03:54یہ بتائیے
03:55کیا کاشتکاروں کو بھی گندم دے رہے ہیں
03:57نہیں آلی جناب
03:59کاشتکاروں کے پاس ایک سال کی گندم پہلے سے زخیرہ ہے
04:02سب سنتکاروں اور شہریوں کو گندم دی جا رہی ہے
04:08پچاس پیمانے
04:09سپاس گزار ہوں
04:11یوزار سیف حکیم پائن دباد
04:15نام اور دھگر کوائف
04:16ڈی جی ہوتی
04:17والد کا نام نمرود
04:19سکنہ شہر تیبس
04:20چار بچے اور ایک ہمسہ
04:22دی جی ہوتی
04:23تعلق متوسط طبقہ
04:27تمہارا اس ماں کا حصہ
04:29ساٹھ پیمانے گندم میں
04:30ایک سکھ کے بعد
04:31تمہیں قیمت خرید پر گندم فروغ کی جائے
04:35ساٹھ سکھ کے عدا کر دو
04:56جنابی جزار سیف یہ ہر مہینے گندم دینے کے بجائے بہتر نہ ہوگا کہ ہم سال بھر کی گندم ایک
05:01ساتھ دے دیں؟
05:03سال بھر کا اناج بہت زیادہ ہو جائے گا اور چوروں اور منافخوروں کی توجہ کا باعث بن جائے گا
05:14بانو
05:17بانو
05:28بانو
05:29اپ جزار سیف کو دیکھ تو سکتی نہیں
05:32پھر اتنی اجلت اور اسرار کیوں ہے
05:34میرا نہیں خیال کے وزاعت کرنے پر بھر سمجھ پاؤ گی
05:37میں جانتی ہوں کہ آپ جزار سیف سے بے انتہا محبت کرتی ہیں
05:41لیکن بانو
05:42جزار سیف کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور خوبصورت چہرہ چاہیے
05:44لیکن آپ تو رات دین کی گریہ زاری سے اپنی بینائی اور خوبصورتیں دونک ہو جکی ہیں
05:51تو کیا جو نابینا ہو جاتا ہے
05:53وہ اپنی گمشدہ چیز کو تلاش نہیں کرتا
05:56یا جو بھی بوڑا اور بسورت ہو جاتا ہے اسے اپنی جان عزیز نہیں ہوتی
06:00وہ جہ بھی میرا گمشدہ نہائید عزیز ہے
06:03اور میری بینائی کی کمزوری بھی میری چاہت کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی
06:40mau بینائی بینائیں
07:05موسیقی
07:44کیا ہو جنابی جزار سیف کسی کی تلاش ہے آپ کو
07:49ایک لمحے کو مجھے ایسا لے گا جیسے میں نے اپنے خواب میں آنے والی بڑی عورت کو دیکھا ہے
07:54لیکن لگتا ہی یہ میرا بہم تھا
07:57حرکت کریں
08:11موسیقی
08:18کیا ہوا لگتا ہی نے مجھے دیکھ لیا تو کیا آپ انہیں دیکھنے کے لیے نہیں آئی تھی
08:23ہاں کیوں نہیں لیکن اس لیے کی اس بس صورت چہرے اور بے نور آنکھوں کے ساتھ بھی مجھے دیکھے
08:30میں تو آئی تھی کہ میں اسے دیکھوں اور وہ بھی صحیح سے نہ دیکھ سکی
08:35آخر آپ یزار سیف کو کیوں دیکھنا چاہتی ہیں
08:58میں یوسف کو بہت چاہتا ہوں
09:04مشپی میری بچے کاروما کی آواز آ رہی ہے
09:09جی دادا جان
09:10چاہو اپنے بابا بینی آمین سے کاؤ کہ میری پاس آئے
09:13چاہو میری بچے
09:14چاہو
09:15خیال سے جانا میری بچے
09:46موسیقی
09:56موسیقی
10:00جی بابا آپ نے مجھے بڑھایا تھا
10:03بینیامین میرے بیٹھے
10:04دیکھو کیا اس کاروان کے ساراں کو میرے پاس لا سکتے ہو
10:09جی بہتر
10:31موسیقی
10:37درود بر یاکوب نبی پیمبر خدا
10:40ملیخہ تم ہو
10:42درود خدا ہو تم پر بھی
10:44کیا ہوا پیمبر خدا نے مجھے پہچانا نہیں
10:47نہیں ملیخہ
10:48ذرا میری بینائی کمزور ہو گئی ہے
10:51میں بہت سمجھاتا ہوں اتنا کے لیے مات لیا کریں
10:53لیکن بابا نہیں مانتے
10:55آہاں تو ملیخہ
10:57کیا خبر ہے
10:58خبریں تو بہت زیادہ ہیں
10:59لیکن وہ خبر نہیں جس کے آپ منتظر ہیں
11:02کہاں سے آ رہے ہو
11:03اب کہاں جا رہے ہو
11:05کس چیز کی تجارت کرتے ہو
11:07وہی ہمیشہ کی طرح ہند سے خوشبجات اور عدویات وغیرہ خرید کر
11:11اجاز و کنان کے رستے مصر جاتا ہوں
11:14اور وہاں کے تاجروں کو فروخت کر دیتا ہوں
11:16کیا میرے گمشدہ کو بھی تلاش کیا تم نے
11:18میں نے ہر جگہ سبھی تاجروں اور سنتکاروں سے
11:21یوسف کے بارے میں معلوم کیا تھا
11:23لیکن اسے کوئی بھی نہیں جانتا
11:25میں نے بردہ فروشن سے بھی معلوم کیا تھا
11:27لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں چلا
11:30ایک دن تم مصر کے ایک جوان قیدی کا پیغام لائے تھے
11:34معلوم نہیں
11:35معلوم نہیں کیوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
11:38جیسے میرا یوسف مصر میں ہے
11:40اور مصر کے کیا حالات ہیں
11:42وہاں قید پڑا ہوا ہے
11:45البتہ عزیز مصر نے
11:46جو ایک حکیم ادانہ شخص ہے
11:48قبل از وقت گندم کی محفوظ زخیرہ سالی سے
11:51اب تک بڑی دانائی سے قید پر قابو پایا ہوا ہے
11:53لوگ اسے یوزار صیف کی نام سے یاد کرتے ہیں
11:56اور وہ عوام میں کافی مقبول ہے
12:00یوزار صیف
12:02یہ نام یوسف سے کتنی محاصلت رکھتا ہے
12:06ہمارا یوسف کہاں
12:08اور عزیز مصر کہاں
12:10مجھ بوڑے ناتوا کی استقاضے کو کبھی مدبول نہ
12:14میں بھی بارگاہ خداوندی میں
12:16تمہارے لئے دعا گھو رہوں گا
12:18حتمن یا نبی خدا
12:20میں جہاں کہیں کبھی سفر کروں گا
12:23آپ کے یوسف کا ضرور معلوم کروں گا
12:24خداوند تمہیں اور تمہارے کاروانوالوں کو
12:27سلامتی اور خیر و برکت عطا فرمائے
12:29جاؤں ملیخہ میں منتظر رہوں گا
12:32امید کرتا ہوں کہ
12:33یاکوب نبی جلد ازلد
12:35اپنے گمشورا کو پا لیں
12:36خدا نگہدار
12:38خدا نگہدار
12:47کنان میں بھی
12:48قید پڑھنے کا قوی امکان ہے بیٹا
12:51ہر چند ممکن ہے
12:53کہ کچھ عرصے بات پڑے
12:55چنانچہ جس قدر ممکن ہو
12:56کندم زخیرہ کر لو
12:58تاکہ غزائی قلت کا شکار نہ ہو
13:08موسیقی
13:09موسیقی
13:11موسیقی
13:16موسیقی
13:22موسیقی
13:35نیلہ استہ استہ خوشک ہوگا ہے
13:37تو کیا کبھی نیلے مقدس بھی خوشک ہو سکتا ہے
13:57بانو
14:02کیا ہوا
14:04پریشان کیوں ہو
14:05ماں کیجئے گا بانو
14:07قصر میں پکانے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں ہے
14:14سنائے کی ضرورت مندوں کو مفتگندوں دی جارہی ہے
14:18کیا ہم ضرورت مند نہیں ہیں
14:20نہیں بانو
14:22ان کے آداد و شمار کے مطابق
14:24کوئی ساکنینے کسر ضرورت مندوں میں شامل نہیں
14:28اس حساب سے ہمیں گندوں نہیں مر سکتی
14:34تو پھر کیا کیا جائے
14:36جائیں حکومتی گوداموں سے رجوع کریں
14:39شاید کسی طور گندوں کا انتظام ہو جائے
14:49میں تاما کے ساتھ جاتی ہوں
14:51دیکھیں شاید کسی طرح گندوں ملی جائے
14:54اگرچہ مجھے کوئی امید نہیں
14:56لیکن کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا
14:58ٹھہرو ہویا کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ
15:01میں اور باغبان بانو کے پاس ہی رکھ جاتے ہیں
15:04ہاں
15:05کسر کو یوں خالی چھوڑنا ٹھیک نہیں
15:07چلو کچھ تھیلے بھی ساتھ لے لیں
15:09تو گودام چلتے ہیں
15:10چلو
15:23ہمیں یہ ماننا ہی پڑے گا
15:25کہ یوزار شیف قریب و محتاج تب کے قدل جیتنے میں کافی کامیاب رہا ہے
15:31ہاں واقعی
15:32اس نے حالات پر بخوبی کابو پایا ہے
15:35اور تمہاں امور کو بڑی کچھ اسلوبی سے نبایا ہے
15:38نہ صرف کمزور اور نہ توان طبقے میں
15:40بلکہ حکومتی حلقے میں بھی
15:43اس نے اپنے اقتدار اور اثر اور سوہ کو خوب فروغ دیا ہے
15:47اور اسے خوب وسیع کیا ہے
15:49اس کا وجود ہمارے لئے خطرے کا باعث ہے
15:52اس نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی اور جارہانہ ابدام کے بغیر
15:57اپنے تمام مخالفین کو میدان سے نکال بہار کر دیا ہے
16:02دیکھا پی ہم لوگوں نے اس نے کس طرح
16:04کسرِ آخناک تون میں ہمارے اختیارات کو ختم کر کے
16:08ہمیں مابت تک ہی محدود کر دیا ہے
16:11اور یہ بھی دیکھا کہ بانو جی کو کس طرح نظر بند کر کے
16:14گوچھا نچینی پر مجبور کر
16:16اور لوگوں کی بڑی تعداد کو مابت سے منعرف کر دیا ہے
16:21میرا تو یہ خیال ہے کہ
16:22اصل حقیقت اس سے کہیں بڑھ کر ہے
16:26جسے قبول کرنے سے ہم سب آنکھیں چُرہ رہے ہیں
16:33یزا عصیف نشلِ طبقے کو خداوند یقتہ سے قریب کرنے میں
16:38نیہ تھی کامیاب رہا ہے
16:40اور یہ آمون اور دیگر خداوں اور قائنوں کے لیے
16:44پڑی زلط کا مقام ہے
16:46ان تمام زلطوں میں گندم کی آدم دستیابی کی
16:49زلط کا بھی اضافہ کر دے
16:51پہلا سال تو گزر گیا
16:53اور زخیرہِ گندم بھی ختم ہو گیا
16:55لیکن اب آنے والے دیگر سالوں میں کیا کریں گے
17:01کاہنانِ مابجِ آمون
17:03سب کے سب ناز و نم کے پروردہ ہیں
17:06اور گندم کی قلت اور بھوک کے متحمل نہیں ہو سکتے
17:10لیازہ ہم گندم خریدنے پر مجبور ہیں
17:20اے خداِ آمون
17:24یوزار شیف کے ساتھ اس جنگ میں
17:27اپنے خدمتگاروں اور قائنوں کی مدد فرما
17:46گندم کا ایک پہمانا
17:48ایک سکے کا
18:01نہ فرمون
18:02نہ فرمون
18:04تیس پہمانے گندم
18:06اگلا شخص
18:08گندم کا ہر ایک پہمانا
18:11تین سکے کا
18:13تین سکے
18:15تین سکے کا
18:16عام لوگوں کیلئے صرف ایک سکے میں
18:19بعض کو بالکل مفت
18:22لیکن برائے ماہ بھر
18:24تین سکے
18:25یہ سب کیا ہے
18:27تو قہد اور غضائی قلت پر قابو پانے کے لیے
18:30سرمایہ کہاں سے مہیا کیا جانا چاہیے
18:32ضرورت مندوں کی جیبوں سے
18:33یا دولت مندوں کی تجوڑیوں سے
18:35تم معبت کو دیگر اغنیاں سے ملا رہے ہو
18:38آپ سے بھی دوسروں کے برابر ہی قیمت لی جا رہی ہے
18:41البتہ سرمایہ داروں کے برابر قیمت
18:44اگر آمون غنی ہے
18:46تو اس سے آپ کو کیا مطلب ہے
18:48آپ کچھ چاہیے کہ
18:50معبت کے خادمین کو
18:51کم قیمت پر گندم فروغ کریں
18:53آپ کو یہ سب کچھ آمون کا عطا کردہ ہے
18:55ہاں بالکل
18:56ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے
18:58وہ یوزار سید اور اس کے خدا کی بدولت ہے
19:01نہ کہ آمون کی
19:02آمون تو خود اپنے کہانوں کا پیٹ نہیں پال سکتا
19:09یعنی معبت کے تین ہزار خادموں کے لیے
19:12ہمیں نو ہزار سکھے دینے ہوں گے
19:15آپ حساب میں تو کافی ماہر معلوم ہوتے ہیں جنابِ قبرونی
19:20معبت یہ قیمت تو ہرگز ادا نہیں کرے گا
19:23اور نہ ہی کبھی راسیف کے آگے گھٹنے ٹکے گا
19:27چلو چلے
19:28چلو چلو
19:38اگلا شخص
19:39آگے جاؤ
19:40کیا ہوا
19:41چلدی آگے بڑھو
19:42آگے کیوں نہیں آ رہے
19:44آگے جاؤ
19:45آگے بڑھو بھائی
19:46چلدی آگے جاؤ
19:47تو مینے جانتے ہو
19:58نہیں میں نہیں جانتا
20:03نام کیا ہے تمہارا
20:05میں ہویا ہوں
20:06فرزندے ہوردیدہ
20:08میں تیامینی ہوں
20:09والد کا نام بینگی
20:12تاما
20:12والد کا نام پواتما
20:18یہ نام تو پھر اس میں نہیں
20:21آپ یا تو کسی کے غلام ہیں
20:23یا کسی کے زیر کی فالت
20:27جی ایسا ہی ہے
20:29ہم جناب پوتی فار
20:31اور بانو زلیخہ کے
20:33خدمتدار ہیں
20:35ہم مجبور ہیں
20:36آپ کا حصہ صرف
20:38آپ کے ارباب اختیار ہی
20:39آ کر لے جا سکتے ہیں
20:40ہم آپ کو نہیں دے سکتے ہیں
20:42دیکھئے ہماری ارباب بھی
20:44ضرورت نگ ہے
20:44ورنہ وہ ہمیں
20:45یہاں کبھی نہ بیشتے ہیں
20:47آپ پس اس دفعہ
20:48ہمیں گندن دے دیں
20:49ہم بادہ کرتے ہیں
20:50آئیں گا یہاں پھر گئیں ہیں
20:51جناب یزار سیٹ کی ہی لائت ہے
20:53اگر آپ کے ارباب آپ پر پیٹ
20:55نہیں پاسکتے تو آپ کو
20:57آزاد کیوں نہیں کر دیتے
20:58آزاد کردہ غلاموں کی
20:59کفالت کے ذمہ دارے
21:01حکومت کی ہوگی
21:01جبکہ غلام
21:02اپنے ارباب کی
21:03زیرے کفالت شمار ہوں گے
21:05یا تو آپ کے ارباب
21:06خود گندن لینے یہاں آئیں
21:07یا تو آپ لوگ کو
21:08آزاد کر دیں
21:09تاکہ آپ لوگ خود
21:10مجھ گندن حاصل کر سکیں
21:11اگر ہم آزاد ہو جائیں
21:13تو ہمیں گندن مل جائے گی
21:14بشت یہ کہ آپ کے پاس
21:16آزادی کی سند ہو
21:17تب آپ حکومت کے غلام
21:19شمار کیے جائیں گے
21:20اور حکومت آپ کو
21:21گندن فرہم کرنے کی
21:22پابند ہوگی
21:30پہلیے
21:33ادھر آئیے
21:44اس بات کو آپ کو
21:46تھوڑی گندن مف دی جا رہی ہے
21:47اگلی بار یا تو
21:48ارباب کے ساتھ آئیں
21:49یا آزادی کے پڑھوانے کے ساتھ
21:51خود آواند آپ کو
21:52اور جناب یوزار سیف کو
21:53اپنی حفاظت میں رکھیں
21:54ہر پڑھ کو
21:56دس پہمانے گندن موق دے دیں
21:58جائیں
21:59جلدی آئیں
23:12دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ خالی ہاتھ لوٹے ہو
23:15ازاد صیف نے حکم دیا ہے کہ سروتبندوں اور قائلوں سے تین گناہ زیادہ قیمت وصول کی جائے
23:23لوگوں کے سامنے ہماری تحقیر کی گئی ہے اور ہمارا مذاق اڑایا گیا
23:28کیا معلوم تھا کہ ایک دن گندم سونے سے بھی زیادہ گرہ قیمت ہو جائے گی
23:32اس وقت اس کی قسمت اس کا ساتھ دے رہی ہے
23:36میں بھی اگر اس کی جگہ ہوتا تو تشمن کو ایک لمحے کو بھی چین سے نہ بیٹھنے دیتا
23:40اور اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا
23:44اب ہم کیا کریں
23:45بابت کے ہزاروں خادمین کو کھانا چاہیے
23:49یہ وقت جنگ ہے اور جنگ میں مختلف حربیں استعمال کیے جاتے ہیں
23:55فی الوقت اقتدار یوزار صیف کے پاس ہے
23:59لہٰذا ہمیں سمجھوتا کرنا ہی پڑے گا
24:03لیکن ہمیں شکست قبول نہیں کرنی چاہیے
24:06یوزار صیف یہی تو چاہتا ہے
24:08اگر زبان کا اتیار کارگرد ثابت نہ ہوا
24:11تو مجبورا ہمیں تلوار کی سبان استعمال کرنی پڑے گی
24:17ہمیں قسرِ آقناتون جانا ہوگا
24:19اور ان سے قہد کے متعلق بات کرنا ہوگی
24:22اور ان سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا
24:24کہ وہ مابت کو مفت یا کم قیمت پر گندم فرام کریں
24:28جاؤ اور آقناتون سے کہو کہ ہم ان سے ملنا چاہتے ہیں
24:50بس اتنا ہی
24:52کسی کے زیر کفالت غلاموں کو گندم نہیں دی جائے گی
24:57یہ بھی انہوں نے ہم پر رحم کھا کر مفت دی ہے
25:03اور اگر آزاد ہو جائیں تو پھر
25:05تو پھر اس صورت میں حکومت ہماری ضروریات پوری کرنے کی پابند ہوگی
25:10کیونکہ پھر ہمارا شمار ضرورت مندوں میں ہو جائے گا
25:18میرے ساتھ آؤ
25:20سب لوگ
25:23میں جا کر باغ باغ کو بلاتا ہوں
25:46یہ پوتی فار کی موہر ہے
25:49اور کوئی بھی اسے رد نہیں کر سکتا
25:52بانو لیکن ہم آزاد نہیں ہونا چاہتے
25:55ہمیں آپ کی غلامی عزیز ہے باگ
25:57ہم نے تو صرف وہی بتایا تھا جو معموری نے ہم سے کہا
26:02مجھے کسی کی خمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے
26:06بہتر ہے آپ لوگ بھی اس غم قدے میں اپنی عمر مزید آیا مت کریں
26:12جائیے
26:14آپ لوگ آج سے آزاد ہیں
26:17یہ لیں
26:18یہ آپ کی آزادی کی سرنت ہے
26:22کوئی بھی آپ پر نہ اعتراض کر سکتا ہے
26:24اور نہ ہی آپ کو آپ کے حق سے محروم کر سکتا ہے
26:28لیکن
26:29لیکن ہم آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتے بانو
26:32آپ کا ہم پر حق ہے
26:34ہم آپ کو کیسے چھوڑ دیں
26:37آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں
26:40اگر یہاں رہیں گے تو بھوک سے مر جائیں گے
26:45لیکن آپ تنہا زندگی کیسے گزاریں گے
26:47بانو
26:48قہد اور بھوک کا خطرت تو آپ کو بھی لاکھ ہے
26:52اب آپ کے کھانے کے لیے بھی یہاں کچھ نہیں بچا ہے
27:04ابھی
27:06قصر میں بہت سے قیمتی اشیاں موجود ہیں
27:09جنہیں فرخت کر کے
27:13گندوں مہیا کی جا سکتی ہے
27:17یہ لو
27:21کیا حکومتی زخائر میں میرا کوئی
27:24حصہ نہیں ہوگا
27:30جاؤ
27:33امید کرتیوں کی اچھی زندگی کا آخاز کریں گے
27:37آپ کو خداوں کا واسطہ
27:39ہمیں یوں مت نکالیے بانو
27:43جاؤ قصر زلقہ کے رنج و غم سے نجات پالو
27:47بانو
27:48ہم آپ کے غلام ہیں ہم اپنے ارباب کو کیسے تھا نہ چھوڑ دیں
27:54بس کبھی کبھائی مجھے یاد کر لینا
28:00ہمیں آپ کی عادت ہو گئی ہے بانو
28:03ہم آپ کے بغیر کیسے رہیں گے
28:06تم لوگ بھی بہت یاد ہوگی
28:08جاؤ چلی جاؤ
28:10بانو
28:11ہم بچپن سے آپ کے پاس رہے ہیں بانو
28:14اب ہم کہا جائیں گے
28:17چلی جاؤ گے
28:27بانو ہماری بات کو سنو
28:34ہم آپ کو تنہا کیسے جھوڑ دیں
28:37تم لوگوں کے لیے بھی یہاں کوئی جگہ دیں
28:41چلے جاؤ
28:45میں تنہا ہی کو زیادہ ترجید ہوں گے
28:51کوئی فائدہ نہیں
28:54کوئی فائدہ نہیں
28:56وہ اب ہمیں قبول نہیں کریں گے
28:59ہرگز قبول نہیں کریں گے
29:14موسیقی
29:31کیا واقعی چلے یہاں سے
29:33دیکھت رہی ہو
29:34انہیں اب ہماری ضرورت نہیں رہی
29:37بلکل ضرورت نہیں رہی
29:47موسیقی
29:49موسیقی
29:58موسیقی
30:09موسیقی
30:10موسیقی
30:14موسیقی
30:16موسیقی
30:22موسیقی
30:31موسیقی
30:32موسیقی
30:37موسیقی
30:41موسیقی
30:52موسیقی
30:52موسیقی
30:53موسیقی
30:53موسیقی
30:56موسیقی
30:59موسیقی
31:07موسیقی
31:19موسیقی
31:43موسیقی
31:48Yo zárci!
31:52Yo zárci...
31:56Yo zárci...
32:02میں کہا جا کر پڑھا لوں
32:05میں کہا جاؤ
32:08ان بے نور آگوں کا کیا کروں
32:18یوسف
32:22یوسف
32:23او کس قدر بے باپا
32:27کتنے زن دلو
32:30میں تمارے خدا سے تمارے شکایت کروں گی
32:35دیکھو تم نے میری کیا حالت کر دی ہے
32:47اس خالی قضر سے فرشت ہوتی ہے
32:51مجھے گھر رکھتا ہے
32:55تم بھی بٹھاؤ
32:57میں گنا جاؤ
33:02کہا پڑھا لوں
33:05یہ رس میں جوابانتی نہیں ہے
33:11یہ رس میں عاشقی نہیں ہے
33:16یہ پیپسی یہ تنائی کب تک
33:23تماری طرف سے یہ پیروخی
33:27کتنا رو ہوں
33:29کتنا کر کر ہوں
33:32اب تو میری آکونے بھی میرا سات چھوڑ دیا
33:38کب تک انتے ساکی اسی اچھا ہوں
34:03میری Jerusalem
34:05تک
34:06تمارا قساظ لپنی
34:18بھلا تمہیں میرے حالت انسار کی کیا خبر
34:27اگر خبر ہوتی
34:30اور پھر بے رخی دکھاتے
34:35تو قصروار ہوتے
34:40لیکن تمہیں کیا ملو
34:46تم تو یہی سمجھ رہ ہوگے
34:49سروتمند
34:52سلے خرناہ سو نیمے غرق
34:57موشو خرم زندگی پسر کر رہی ہوگی
35:07بیسے تم اسے یاد کیوں کرنے لگے
35:12جس نے بس تو تمہیں زندان میں ڈالا
35:17اور عزیتیں پہنچائیں
35:27مجھے تو اسی پاک پہ کہ تم نے مجھے سزا نہیں دی
35:32تمہاری شکر گزارو نہ چاہیے
35:40باوجود ان تمام
35:41توحمدوں سازشوں اور خیالت کے جو میں نے تمہارے خلاف کیے
35:49یہ کیسی بیچا توقع ہے نا
35:52میں تم سے جمع مردی
35:56محبت و وفاداری کی توقع رکھتی ہوں
36:04امید کرتی ہوں
36:06کہ تم ہمیشہ
36:10دشمنوں کے شر اور زمانے کے سرد و گرم سے
36:15امان میں رہو
36:21لیکن زلی خان ہرگز نا امید نہیں ہوگی
36:28اب تک میں نے
36:29تمہارے فراہ میں زندگی گزار دی
36:35آج کے بعد
36:39تمہارے انتصار میں گزار دوں گی
36:46ہمیشہ تمہارے انتصار میں گزار دوں گی
36:53انتصار میں گزار دوں گی
37:01یوسف
37:04موسیقی