- 15 hours ago
Prophet Yousuf Episode 58 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:03اگر جناب فرما روا اور بانو حضور کی اجازت ہو تو بانو زلیخہ کو چند روز سوچنے کی محلت دی
00:09جائے
00:12سوچنے کی محلت تو ہے لیکن رد کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہمیں مصبت جواب چاہیے
00:22آپ دونوں ہی ہمیں نہایت عزیز ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اب یہ ملاب زیادہ ارسل توابی رہے
00:30زلیخہ جا سکتی
01:16بینیا مل کو غلامی ملیا تھا
01:20لیکن یہ تو بہت پہترین اور ہمدہ لباس میں ایک چرہ رہا ہے
01:39بیس پہمانے جاؤ وصول کر لو
01:41بیس پہمانے
01:44پانچ افراد ہو
01:46پندرہ سکھے
01:47جاؤ وصول کر لو
01:49میرے پاس سکھے نہیں ہیں
01:54کچھ اور بھی نہیں ہے
01:56نہیں جو کچھ تھا وہ اب تک
01:58گندم کی خریداری پر صرف کر دیا ہے
02:00پہلے بھی بتایا ہے
02:01کہ جن کے پاس گندم کے قیمت ادا کرنے کے لئے
02:04کچھ نہ ہو وہ سند غلامی پر دستخط کر کے
02:06گندم وصول کر سکتے ہیں
02:07ہم اپنی تمام عمر یا حکومت کے غلام تھے
02:10یا مابت کے
02:11لیکن آپ کا غلام ہونا تو بڑی سعادت ہے
02:14صرف تنہ آپ ہی نہیں ہے
02:16اس وقت تمام مردم مصر
02:18جناب یوزار صیف کے غلام ہیں
02:20ہمارے لئے یہ غلامی تو
02:22ازاری سے کئی بڑھ کر ہیں
02:24اور ہمیں اس پر بڑا فخر ہے
02:27میرے خواہش ہے کہ
02:28آپ سب ایک خدا کے بندے بن جائیں
02:30اور کسی غیر خدا کے بندے نہ رہیں
02:32جناب یوزار صیف
02:34آپ میرے پاس گندم کے عوض دینے کو کچھ نہیں
02:37کیا آپ مجھے مف گندم انعیت فرمائیں گے
02:40آلی جناب
02:41اس کا شمار میسے کے دولت مترین افراد میں ہوتا تھا
02:46آپ یوں کیجئے
02:48کہ اس کی غلامی کے عوض اسے گندم دے دیں
02:50یعنی میں حکومتیں مثل کا غلام بڑھنوں کا
02:51تب مجھے مف گندم دی جائے گی
02:54میرا سب کچھ تو مجھ سے لے لیا گیا ہے
02:56میرا گھربار
02:57میرے بچے
02:59میرا مال و مطا
03:00میرے غلام
03:01میرے بیوی بچے
03:03سب آپ کے غلام ہیں
03:05اب مجھ سے اور کیا چاہتے ہیں
03:06مجھے تو کنگالی کر دیا ہے
03:08کیا کسی نے مجبور کیا ہے آپ کو گندم خریدنے پر
03:11ہاں
03:12کہت نے
03:13بھوک نے
03:15اگر گندم نہ ہو تو میں تو ہلاک ہی ہو جاؤں
03:19زمانہ فراوانی میں
03:20آپ نے حکومتی گوداموں میں گندم جمع کروائی تھی
03:23نہیں
03:25میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ کہت بھی پڑھ سکتا ہے
03:28پس تو آپ اپنی جان کے قیمت ادا کر رہے ہیں
03:33میں غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا
03:36اگر غلامی بری چیز ہے
03:38تو پھر کیوں جب آپ خود صاحب دولت تھے
03:41تو بیسیوں غلام رکھے ہوئے تھے
03:43میرا درد یہی تو ہے
03:44میں جس کے بیسیوں غلام ہوا کرتے تھے
03:47آپ خود کیسے غلام بن جاؤں
03:49شاید اس طرح غلاموں کے درد کو زیادہ بہتر محسوس کر سکیں
03:54بہرحال
03:55ہم جبرن کسی کو غلامی میں نہیں لیتے
03:57آلی جناب
03:58میں پہلے اس شخص کا غلام ہوا کتا تھا
04:00اس نے مجھ پہ بہت ظلم ڈھائے ہیں
04:04کل تمام مردمِ تیبز
04:07مابدِ آمون کے سہن میں جمع ہو جائیں
04:10ان میں سے اکثر کو غلامی میں لینے کا سبب
04:12میں کل وہیں بتاؤں گا
04:14وہ کل کیا خطاب کریں گے
04:16معلوم نہیں
04:21اس آدمی کو مفت گندم دے دیں
04:25کسی بھی انسان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے
04:28جی آلی جناب بہت بہتر اطاعت ہوگی
04:34گندوں پسول کر لو
04:36کیا غلامی کے عوض
04:38نہیں آپ کو گندوں مفت دی جا رہی ہے
04:42یہ جنابی عزار صرف کا حکم ہے
04:45کیا ایسے عظیم انسان کی غلامی
04:48آزادی سے بہتر نہیں ہے
04:57موسیقی
04:59موسیقی
04:59موسیقی
05:02موسیقی
05:14موسیقی
05:15موسیقی
05:15موسیقی
05:37موسیقی
06:02مصر میں اب کوئی بھی چیز کسی کی ملکیت نہیں رہی
06:05حتیٰ کہ عوام بھی حکومت مصر کی ملکیت بن چکے ہیں
06:10مابد آمون کے تمام خزانے بھی حکومت مصر کی تحویل میں آ چکے ہیں
06:14تمام سرمایہ دار طبقے اور صاحبان دولت و قدرت افراد بھی
06:18اپنی تمام دولت و قدرت گما چکے ہیں اور اب وہ دیگر عوام کے برابر ہو چکے ہیں
06:23یکتہ پرستی اور یکتہ پرستوں کو بھی اب کوئی خطرہ نہیں ہے
06:28اب آپ کا کیا فیصلہ ہے؟
06:31اس تمام دولت اور ان تمام غلاموں کا آپ کیا کریں گے؟
06:35مصر کے پاس آج جو کچھ بھی ہے وہ آپ ہی کے وجود ابابرکت کی بدولت ہے
06:39اگر آج آخناتون صاحب قدرت ہے تو وہ آپ ہی کے مرہون منت ہیں
06:43آپ عزیز مصر اور صاحب اختیار ہیں
06:47آپ کو مکمل اختیار حاصل ہے
06:50آپ جس طرح مناسب سمجھیں؟
06:53حتیٰ کہ سب کچھ بخش بھی دوں
06:59یوزار صیف کو آخناتون اور اس کے بچوں پر بھی مکمل اختیار ہے
07:04خداون جناب آخناتون کو سلامت رکھے
07:08بہت خوب
07:10میں کل مابد میں تمام اہل طبز کے سامنے اپنے فیصلے کا اعلان کروں گا
07:25آج بانو زلیخہ کا مابود یکتہ کے ساتھ خلوت نشینی کا چھالیس واروز ہے
07:32کیا آپ بھی جناب یوزار صیف کی خواستگاری کو قبول کرنے کا وقت نہیں آیا؟
07:38حکم دینے کا مکمل اختیار عزیز مصر کو حاصل ہے
07:43اگر ان کا حکم ہوگا تو میں اس خلوت کو ترک کر دوں گی
07:47نہیں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں
07:49کیونکہ اگر مہر محبت ہی نہ ہو تو جبر بیسود ہے
07:55کبھی میں خود سے کہتی ہوں کہ
07:57عشق حقیقی کے ہوتے ہوئے عشق مجازی کی کیا ضرورت ہے؟
08:02پھر سوچتی ہوں کہ اگر عشق یوسف نہ ہوتا
08:06تو آج میں مابود حقیقی کی عاشق نہ ہوتی
08:11میں نے یوسف سے اپنے مابود کی طرف سفر کیا ہے
08:16یوسف کی محبت سے مجھے عشق حقیقی کا تجربہ ہوا ہے
08:19اور ایمان کے ذریعے ماشوق حقیقی کو حاصل کیا
08:26میں خود کو عشق یوسف کا مقروح سمجھتی ہوں
08:30لیکن لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس جیسے ماشوق کے
08:36ہوتے ہوئے میں غیر کے عشق سے بے نیاز ہوں
08:39یعنی بانو زلیغہ کے دل کے کسی کوشی میں بھی
08:42جناب نوزار صرف کے لئے کوئی جگہ نہیں
08:49خداوندی
08:51اپنی تمام در خوبصورتیاں اور عظمتوں سے
08:55کچھ اس طرح میرے وجود کو پور کیا ہے
08:58کہ اب کسی اور عشق کے گنجائش نہیں
09:02تردد مت کیجئے بانو جس عشق نے آپ کی
09:05معشوق حقیقی کی جانب بدایت فرمائی ہے وہ مقدس ہے
09:09عشق زمینی اور آسمانی کے مابین ایک ایسا قابل
09:12ستائش تعلق ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا
09:14مگر شرط یہ ہے کہ عشق مجازی آپ کو عشق حقیقی کی جانب سے
09:18غافل نہ کر دیں
09:21یہی تو ڈر ہے کہ کہیں میرا معبود میرا معاخضہ نہ کریں
09:26کہ ایک دل میں دو معشوق کیوں
09:29آپ آزاد و مختار ہیں
09:33میرا فرض تھا کہ اس مقدس عشق کو قائم کرنے کے سلسلے میں
09:36کوئی اقدام کرو
09:38امید ہے غور فرمائیں گی
09:53بانو آپ جنابِ آخنا تون اور مالک کو کیا جواب دیں گی
10:01یوسف پیامبرِ خدا ہے
10:05بھلا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا کی محبت تو میرے دل میں ہو اور اس کے پیامبر کی محبت
10:10نہ ہو
10:12نہیں
10:13تو ہم امید رکھیں
10:14کہ بانو زلیخہ نے اقل مندی کا ثبوت دینے کا حرادہ کر لیا ہے
10:25موسیقی
10:27موسیقی
10:27موسیقی
10:33موسیقی
10:40موسیقی
10:42موسیقی
10:42موسیقی
10:42موسیقی
10:43موسیقی
10:45موسیقی
10:46موسیقی
10:47موسیقی
10:48موسیقی
10:50موسیقی
10:52موسیقی
10:53موسیقی
10:53موسیقی
10:54موسیقی
11:02موسیقی
11:32موسیقی
11:50بنا میں خدا شروع کرتا ہوں جو نجات دہندہ اور روزی رساں ہے مردم مصر کا
11:57ایک دن پیشنگوئیوں کی کتاب جناب پوتی فار کو میں پڑھ کر سنا رہا تھا
12:02اس میں مصر کے مستقبل کی پیشنگوئی کی گئی تھی
12:07اس کتاب میں لکھا تھا کہ ایک روز وہ آئے گا کہ جب مصر میں لوگوں کے میار
12:13الٹ جائیں گے غنی محتاج کی جگہ لے لیں گے عمرہ اپنے محلوں اور غلاموں سے
12:18محروم ہو جائیں گے سروتمند اور غریب افراد آپس میں جگہ تبدیل کر لیں گے
12:26غلام اور ستمزدہ افراد آزاد ہو کر اپنے ہی عرباب اختیار کے مالی کو مختار بن جائیں گے
12:33اور اس وقت مصر میں خدا عامون کی پرستش کرنے والا کوئی نہ ہوگا
12:38ہاں ہاں گروت پر جزار کی پیغمبر خدا
12:42گروت پر مددکار انجات دیندر مصر
12:47گروت پر حسز مصر
12:49گروت پر حسز مصر
12:51گروت پر حسز مصر
12:54اتفار کی بڑی خواہش تھی کہ اس پیشنگوئی کو پورا ہوتے ہوئے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں
13:00لیکن عمر نے ان سے وفا نہ کی
13:02مگر آج آپ لوگ اس پیشنگوئی کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں
13:15شاید بسر کے بہت سے بزرگوں کو یاد ہو
13:17کہ ایک دن اسی شہر دپس میں
13:20بردہ فروشہ کے بازار میں
13:22ایک چھوٹے سے بچے کو
13:25بطور غلام خریدنے کے لیے بے شمار لوگ جمع ہوئے تھے
13:31آج وہی غلام بچہ
13:33مالی کو مقتار ہے
13:36مردم مصر کا
13:40ایک دن تھا
13:41کہ آپ سب یوزار سیف کے مالک و مقتار بننے کے خواہش مند تھے
13:45اور آج وہ آپ سب کے مالک و مقتار ہیں
13:48واقعی
13:49اس روز پتی فار نے اس بچے کو خریدا تھا اور آج
13:53اسی بچے نے ہم سب کو خرید لیا ہے
13:57اگر مجھے معلوم ہوتا تو اسی روز اس بچے کا اپنے ہاتھوں سے گلہ گھوٹ دیتا
14:01یہ سب نشانیاں ہیں اس فوکل ارادہ
14:05اور اس قادرِ مطلق کے ارادے کی
14:08لیکن مجھے آج تک نائی ادار سیف دیگر صاحبانِ غلام جیسا لگا
14:11اور نائی مجھے کبھی ایساں سے غلامی ہوا ہے
14:13کون کہتا ہے یہ غلامی ہے
14:16یہ غلامی تو ہمیں اس آدادی اور اربعہ میں اختیار ہونے سے کہیں زیادہ عزیز ہے
14:36آج آپ سب کو یہاں اس لیے جمع کیا ہے
14:39تاکہ آپ سب کو غلامی یزار سیف اور حکومتِ مصر سے آزاد کرو
14:45کیونکہ جو کوئی بھی خدا بند یکتہ کی بندگی قبول کر لیتا ہے
14:50اسے کسی حکومت کسی انسان کا بندہ و غلام نہیں ہونا چاہیے
14:57آج آپ لوگ سندِ آزادی چاہے وہ اپنی ہو یا خاندان والوں کی حاصل کر لیں گے
15:16آج سے آپ سب آزاد ہیں
15:24اللہ
15:26بجز ان لوگوں کے جنہوں نے اس سے پہلے دوسروں کی آزادی سلب کر رکھی تھی
15:33یا وہ صاحبانِ غلام اور سرمایہ داروں کے
15:36جو غریبوں کے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت کے مالک و مختار بنے بچے ہیں
15:42وہ تمام لوگ بدستور یوں ہی غلام رہیں گے
15:46ہم ان کی گردنوں میں باقاعدہ توکہ غلامی تو نہیں ڈالیں گے
15:49لیکن اگر وہ کسی خطا کے متقب ہوئے
15:52تو سخت سزا کے مستحق قرار پائیں گے
15:56میں نے مردمِ مصر کو نہیں خریدا مگر اس لیے
16:07کہ ان کے غلاموں اور ستم زدوں کو ہمیشہ کے لیے آزاد کر دوں
16:10اور صاحبانِ غلام اور ستم گروں کو ہمیشہ کے لیے اصیر
16:31تو یہ تھا مردمِ مصر کو غلامی میں لینے کا رانس
16:36وہ ہکمتِ امیلی تھی تو چناب اور گزار سکھنے اپنا تھے
16:39انہوں نے اس ہکمتِ امیلی سے
16:42اچھے اور برو کو ایک دوسرے سے جگہ کر دیا ہے
16:46آج اسے مصر کے بات ہے تو
16:49بلکل لمبیاں جیسے معلوم ہی نہیں ہو رہی
16:52وہ مچھے مصر ہے
16:57کل سے تمام گوداموں کے معمورین
17:00تمام لوگوں کو بلا معاوضہ گندم دینے کے پابند ہوں گے
17:05آج سے حکومتِ مصر غزائے قلط کو پورا کرنے کی پابند ہوگی
17:11انہیں بھی جو آج سے آزاد ہیں
17:13اور انہیں بھی جو حکومتِ مصر کے غلام ہیں
17:18انقریب خدا نے چاہا تو قہد ختم ہو جائے گا
17:22بس جب تک زمانہ قہد ختم ہو
17:25ہمیں میانہ روی اور کفایت شعاری اختیار کرنی ہوگی
17:29تاکہ ہمیں غزائے قلط کا سامنا نہ کرنا پڑے
17:43پہلے یہاں مابدِ آمون تھا
17:46آج کے بعد سے اس جگہ پر خداوندِ یکتہ کی پرستش کی جائے گی
17:53اگلی مرتبہ اس جگہ کو مجسمہِ آمون اور آثارِ شرق سے پاک ہونا چاہیے
18:06موسیقی
18:07موسیقی
18:07موسیقی
18:10موسیقی
18:11درود پر بناتے پہ حکیم
18:15درود پر بناتے پہ حکیم
18:33یوسف
18:34یوسف
18:35یوسف
19:06یوسف
19:06یہاں کس نے مجھے میرے نام کنانی سے پکارا
19:08یوسف
19:11یوسف
19:35یوسف
19:36آپ یہاں کیا کر رہی ہیں
19:40انتظار کر رہی تھی آپ کا
19:42مگر یہاں کیوں
19:44آپ کو کیسے معلوم کہ میں یہاں پر ملوں گا
19:50کل آپ کے جلے جانے کے بعد
19:54میں نے خدا سے دعا کی
19:57اگر اگر وہ مسئلہ سمجھتا ہے
20:00تو اپنے رسول کی محبت میرے دل میں ڈانتے
20:08مجھے
20:09مجھے یہ گوارہ نہ تھا کہ
20:12مجھے
20:12عشق خدا تو میرے دل میں ہو
20:16لیکن اس کے رسول کی محبت نہ ہو
20:26لہذا میں نے نیت کی کہ یہاں ہوں
20:31جہاں برسو مہنڈی
20:35آپ کے وصل کی آرزوں میں آپ کا انتظار کیا
20:40میں جانتا ہوں
20:42انتظار سخت ہوتا ہے
20:46اس سے کہیں زیادہ سخت
20:48وہ تانے تھے جو مجھے سننے کو ملتے تھے
20:52صاحب کہتے تھے
20:54بس کرو
20:56آخر کب تک یوسف کا انتظار کرتی رہو گی
21:05میں نے خود سے کہا کہ اس بار بھی آپ تشریف نہ لائیں
21:10تو سمجھوں گی کہ مرض یہ معبود نہیں ہے
21:13لیکن میں آگیا ہوں
21:15کیا میں سے آپ کے دل میں
21:17دوبارہ محبت کی شما روشن ہو جانے کی علامت سنجھوں
21:22میں بھی آئی ہوں
21:25تاکہ نبی خدا
21:27مجھے بھی دوسروں کی طرح اپنے غلامی میں قبول کر لیں
21:33لیکن میں نے تو آج ہی تمام مردم مصر کو آزاد کر دیا ہے
21:37مجھے آزادی نہیں چاہیے
21:41میں آپ کی غلامی میں آنا چاہتی ہوں
21:44مبارک ہو
21:46یہ غلامی مبارک ہو
21:56آپ سب شاہد ہیں
21:57ظلیخہ خود غلامیں قبول کر رہی ہیں
22:05موسیقی
22:07موسیقی
22:07موسیقی
22:18موسیقی
22:19موسیقی
22:31موسیقی
22:33موسیقی
22:33موسیقی
22:45موسیقی
22:48موسیقی
22:57آپ لوگ پھر آ گئے
22:59آ جائیے
23:00ہم سے پاس گزار ہیں آپ کے
23:03مجھے یاد ہے کہ اس نے کہا تھا
23:04کہ وہ بردہ فروشوں کی بازار میں مجھتا
23:08صحیح کہہ رہے ہو
23:08آؤ اس طرف چلیں
23:29مگر لاوی ہے کہاں
23:32لاوی
23:33لاوی
23:36لاوی
23:38سلام بھائی
23:39سلام بھائی
23:41سلام بھائی
23:42سلام بھائی
23:44کیسے ہو
23:46کیسے ہو لاوی
23:48بلکل ٹھیک
23:49میرے پاس بھی تم لوگ لئے کئی خبریں
23:50یہ تو بہت اچھی بات ہے
23:52کہاں سے تم
23:53اور سب ٹھیک ٹھا گئے
23:55تمہارے بیوی بچوں نے بھی سلام کہا ہے
23:57وہ سب خیریت سے ہیں
23:58بن یامین کی کیا خبر ہے
24:00بن یامین کے متعلق بھی بڑی اہم خبریں ہیں میرے پاس
24:04بات ہے بہت ہے ذرا فرصت سے بتاؤں گا
24:06یہ تو بہت اچھی بات ہے
24:07یہ خط بابا نے عزیز مصر کے لئے بھیجا
24:11اور اس میں تقاضی ہے کہ وہ بن یامین کو آزاد کر دیں
24:15پھر تو ہمیں عزیز مصر سے فوراں ملنا چاہیے
24:18یہ خط ہمیں عزیز مصر کو پہنچانا ہے
24:28ہمیں عزیز مصر کے پاس جانا ہوگا چلو چلیں
24:37تم یہیں رکو ہم ابھی واپس آتے ہیں
24:40مجھے بھی آگر بتانا
25:04کیسا غلام
25:06بن یامین تو بڑی شہانہ زندگی گزار رہا ہے
25:08اور عزیز مصر اپنے کسی عزیز کے طرح اس کا خیال رکھ رہے ہیں
25:12تم نے خود دیکھائی ہے کسی نے بتائے
25:14میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھائے
25:15ہر جگہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں
25:17حتیٰ کہ وہ اپنی بھگی میں بھی اپنے ساتھ سوار کرتے ہیں
25:20تو کیا عزیز مصر نے اسے اپنا خاص غلام بنا لیا ہے
25:23میں کہہ رہا ہوں کہ بن یامین ایک شہانہ زندگی گزار رہا ہے
25:25وہ بھی اپنے بھائی یوسف کی طرح بڑا خوش قسمت ہے
25:29اس نے عزیز مصر کی توجہ اس طرح اپنے طرف متوجہ کر لی ہے
25:32کہ وہ اسے ایک لمحے کے لیے بھی خود سے جدا نہیں کرتے
25:34اس طرف سے
25:40ہم جناب یوزار صیف سے ملنا چاہتے ہیں
25:42ہم اپنے بابا کی طرف سے ان کے لیے خط لے کر آئے ہیں
25:46ہمیں اندر آنے کی اجازت دیجئے
25:47مجھے اس کی اجازت نہیں
25:49اس کے لیے مجھے جناب حرمحوب سے اجازت لینے ہوگی
25:52فیلحال آپ کو جناب عزیز مصر سے ملنے کی اجازت نہیں
25:56جناب مشیر
26:02جناب مالک
26:04آپ سے ایک التجاہ
26:05آپ لوگ پھر آگئے
26:08آپ کیا چاہتے ہیں
26:10ہم عزیز مصر جناب یوزار صیف سے ملنا چاہتے ہیں
26:13ہم بابا کی طرف سے ان کے لیے ایک خط لائے
26:15میں تو سمجھا تھا کہ جو کچھ آپ کے بھائی نے کیا ہے اس کے بعد تو
26:19آپ لوگ دوبارہ کبھی بھی ٹپس کا رخ نہیں کریں گے
26:36بہرحال آئیے میرے ساتھ دیکھیں کیا ہوتا ہے
26:38چلو چلتے ہیں
27:03سائر اٹھا لیجئے
27:17کہیے کیا کہنا چاہتے ہیں
27:20اگرچہ ہم اپنے بھائی کی اس حرکت پر شرمندہ ہیں
27:24لیکن
27:24لیکن جناب عزیز مصر کی بلدباری کی پیشنز
27:27ہم نے دوبارہ یہاں آنے کی حمد کی
27:31اب تک کنان قہد سے دوچار ہے جناب عزیز
27:34ہمارے پاس نہ تو درم و دینار ہے
27:36اور نہ ہی کوئی مال و متا جو گندوں کے عیوض دے سکیں
27:40اور جو ہے بھی انہا ہونے کے برابر ہے
27:43صرف کچھ کھالے
27:45ریشم اور دھاگہ لائے ہیں
27:47جو کہ نہائیتی کم قیمت کی ہیں
27:50ہمیں امید ہے کہ ان حکیر چیزوں کے عوض سال بھر کے لیے
27:53گندوں دے کر ہمارے قبیلے کو اس مشکل سے نجات دیں گے
27:58ٹھیک ہے
28:00میں کہے دیتا ہوں کہ اس بار تو آپ لوگوں کو گندوں دے دی جائے
28:04لیکن اگلی بار آپ کو اس کی پوری فیمت ادا کرنی ہوگی
28:08ہم سے پاس گزار ہیں آپ کے
28:10خداون جناب عزیز مصر کا سایہ ہمارے سرو پر قائم رکھیں
28:14ہماری ایک گزارش اور تھی
28:17امید ہے کہ عزیز مصر ضرور قبول فرمائیں گے
28:21سن رہا ہم
28:23امید ہے کہ وہ بن یامین کے متعلق نہ ہوگی ہے
28:28اتفاقن ایسا ہی ہے
28:30آلی جناب سے نہائیت آج زنہ گزارش ہے کہ
28:33اسے معاف کر دیں اور ہمارے ساتھ جانے دیں
28:37ہمارے بابا مزید اس کی دوری کے متحمل نہیں ہوسکتے
28:46آلی جانے ہوسکتے ہیں
28:49موسیقی
28:49موسیقی
28:50موسیقی
28:52موسیقی
28:53موسیقی
28:53موسیقی
29:05موسیقی
29:07ہاں واقعی علام تو بلکل نہیں لگ رہا
29:14بابا کا خط
29:21ہمارے نابینہ بابا نے اپنی عشق بار آنکھوں سے
29:24عزیز مصر کے نام خطر سام کیا
29:26اگر اجازت ہو تو پیش کر
29:28رودامون
29:46از جانبِ بندِ خدا یاقوب
29:50بنامِ عزیزِ مصر
29:52یزار سیف
29:53خداوندِ سبحان نے
29:55ہمیشہ ہم خاندانِ نبوت و رسالت پر
29:59بلائیں نازل کی ہیں
30:01اور مختلف مسائب و علام سے
30:04ہمارا امتحان لیا ہے
30:06ہمارے جت ابراہیم کا
30:08آتشِ نمروت کے ذریعے امتحان لیا
30:12اور ہمارے چچا اسماعیل
30:14زبی اللہ کو قربان گاہ تک لیایا
30:17تاکہ انہیں آسمائے
30:19اور مجھے بھی میرے اس بیٹے کی جدائی میں
30:22جو میری آنکھوں کا نور
30:24اور میرے دل کا سرور تھا
30:26مبتلا کیا
30:27ایک دن اس کے بھائی اسے سہرا لے گئے
30:30اور اس کے بجائے اس کا خون آلود
30:33پرتلا کر دے دیا
30:34اب ایک بیٹا رہ گیا تھا
30:36جو یوسف کا مہا جایا بھائی تھا
30:39جس سے مجھے یوسف کے خلج مو آیا کرتی تھی
30:44اور وہ یوسف کی جگہ میرے دل کے زخموں کا مرہم تھا
30:49اس کے بھائی اسے آپ کے پاس تو لے گئے
30:52لیکن میرے پاس واپس نہ لائے
30:54آپ نے اسے چوری کے الزام میں
30:57اپنا غلام بنا لیا ہے
30:59بلا شبا چوری کا خاندانِ رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے
31:05مختصر یہ کہ میرے بچوں کی جدائی میں
31:08اب بنا تو میرے جسم میں طاقت رہی
31:11اور نہ ہی آنکھوں کی بین آئی
31:13میں آپ سے چاہتا ہوں کہ میرے قیدی بیٹے کو
31:16مجھ پوڑے باپ کو واپس لوٹا دیں
31:17اور مجھے اس قم سے نجات دلا دیں
31:20ایسی صورت میں میں آپ کے حق میں دعا خیر کروں گا
31:24اور اگر ایسا نہیں کیا
31:29اور اس مصیبت زدہ پر رہم نہ کھایا
31:32تو میں اس دل سوختہ سے ایسی آہو خریات کروں گا
31:38کہ جس کے بھڑکتے شولوں میں
31:40تمہاری ساتھ پشتے جل کر خاکستر ہو جائیں گی
31:45اور تمہارا این شولوں سے پچنا محال ہوگا
31:50باندے خدا یا کوب
32:25بس یوسف کے ساتھ کیا کیا
32:34جانتے ہیں آپ کے بابا نے آپ کے اس نافسندید عمل کی وجہ سے
32:38کتنے رنج اور تکالیف اٹھائیں ہیں
33:01ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کو کسی نے ہم سے بدزنگ کیا ہے
33:05ہم اپنے بابا اور بھائی کے حوالے سے کسی گناہ کے مرتقب نہیں ہوئے
33:13وہ سنت لائی ہیں
33:28پس آپ کسی گناہ کے مرتقب نہیں ہوئے ہیں
33:34ہم نے سوائے حقیقت کے کچھ نہیں بتایا آپ کو
33:37یقین کیجئے بہت خوب
33:57ہم دس کے نانی بھائی
34:00اپنے غلام یوسف کو مالک ابن زار کے ہاتھوں بائیوز اٹھارہ دن ہم فروخت کرتے ہیں
34:07اس شرط کے ساتھ کہ اسے کسی ایسی جگہ پر لے جائیں گے
34:11کہ جہاں سے وہ کبھی بھی کنان کا رخ نہ کر سکے
34:17لاوی اور شمون نے اس پر دستخط کیا ہے
34:22غالباً یہ تحریر شمون کی ہے
34:25شمون آپ میں سے کون ہے
34:33م... م... م... مام
34:34م... م... م... م...
34:55موسیقی
35:12موسیقی