00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:14طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ
00:16طریقت کے شیخ المشایخ شریعت کے امام العائمہ
00:21حضرت ابو القاسم جنید بن محمد بن جنید بغدادی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:28آپ علماء ظاہر اور عرباب قلوب میں مقبول تھے
00:32فنون علم میں کامل سلوک و معاملات کے اصول و فروع میں
00:37اماموں مفتی اور امام سوری رحمت اللہ علیہ کے مصاحب تھے
00:42آپ کا کلام بلند اور حوال کامل ہیں
00:45یہاں تک کہ تمام اہلی طریقت آپ کی امامت پر اتفاق رکھتے ہیں
00:50اور کسی مدعی اور متصرف نے آپ پر اعتراض نہیں کیا ہے
00:54آپ حضرت سری سکتی رحمت اللہ علیہ کے بھانجے اور انہی کے مرید تھے
00:59ایک مرتبہ حضرت سری سکتی رحمت اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا
01:03کہ کیا کوئی مرید اپنے پیر سے زیادہ بلند مرتبہ ہوا ہے
01:07آپ نے فرمایا ہاں
01:10اور اس کا ثبوت ظاہر ہے کہ حضرت جنید کا درجہ میرے درجہ سے بلند ہے
01:15حالانکہ ان کا یہ فرمانہ عز راہ انکسار اور توازو تھا
01:19مگر انہوں نے جو فرمایا بصیرت سے فرمایا
01:22عمر واقعہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے سے بلند کا درجہ نہیں دیکھ سکتا
01:27کیونکہ دیدار تحت تعلق ہے
01:30اور ان کا یہ فرمان دلیل واضح ہے
01:32کہ انہوں نے حضرت جنید رحمت اللہ علیہ کو
01:35اپنے سے بلند مقام پر پایا
01:37اور جب بھی انہیں دیکھا
01:39اگرشہ انہوں نے بلندی میں دیکھا
01:41لیکن در حقیقت وہ ان کے تحت ہی ہیں
01:44چنانچہ مشہور واقعہ ہے
01:46کہ حضرت سری سکتی رحمت اللہ علیہ کی حیات میں
01:48موریدوں نے حضرت جنید سے عرض کیا
01:51کہ اے شیخ ہمیں ایسی نصیحت فرمائیے
01:54جس سے ہمارے دلوں کو چین اور قرار آئے
01:56آپ نے فرمایا
01:57جب تک میرے شیخ اپنے مقام پر جلوہ فروز ہیں
02:01میں کوئی تلقین نہیں کر سکتا
02:03یہاں تک کہ ایک رات آپ کو رسول خدا
02:06صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا
02:10حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا
02:14اے جنید لوگوں کو نصیحت کیوں نہیں کیا کرتے
02:17تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے
02:19ایک جہان کو نجات عطا فرمائے
02:22جب آپ بیدار ہوئے تو آپ یہ خیال فرما رہے تھے
02:25کہ میرا درجہ میرے شیخ کے درجہ سے بڑھ گیا ہے
02:28اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
02:32دعوت و تبلیغ کا حکم فرمایا ہے
02:34جب صبح ہوئی
02:36تو حضرت سری سکتی رحمت اللہ علیہ نے
02:38ایک مرید کو بھیجا
02:39کہ جب جنید نماز فجر کا سلام پھیریں
02:42تو ان سے کہنا
02:43تم نے مریدوں کے کہنے سے
02:45تعلیم و تبلیغ نہ کی
02:47اور نہ مشایخ بغداد کی سفارش قبول کی
02:49سب کی درخواستوں کو رد کرتے رہے
02:52میرا پیغام بھی پہنچا
02:54تب بھی تبلیغ شروع نہیں کی
02:56اب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:59کا حکم بھی ہو چکا ہے
03:00اب تو حکم بجا لاؤ
03:03حضرت جنید فرماتے ہیں
03:05کہ اس وقت میں نے جانا
03:06کہ میرا شیخ میرے دل سے بخوبی واقف ہے
03:09اور وہ میری ظاہری
03:10اور باطنی ہر حالت سے باخبر ہے
03:13ان کا درجہ
03:14میرے درجہ سے بلند تر ہے
03:16کیونکہ وہ تو میرے اسرار سے واقف ہیں
03:18میں ان کے حوال سے
03:20بلکل بے خبر ہوں
03:22اس کے بعد میں اپنے شیخ کے دربار میں حاضر ہوا
03:24اور توبہ و استغفار کیا
03:26میں نے عرض کیا کہ حضرت
03:28آپ کو کیسے معلوم ہوا
03:29کہ میں نے خواب میں رسول خدا
03:31علیہ تحیت و سنہ کا دیدار کیا ہے
03:34انہوں نے فرمایا
03:35کہ میں نے خواب میں
03:36اللہ رب العزت کو دیکھا
03:39اللہ نے مجھ سے فرمایا
03:41کہ میں نے اپنے محبوب
03:43صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:45کو جنید کے پاس بھیجا ہے
03:46تاکہ وہ اسے حکم کریں
03:48کہ وہ لوگوں کو واضح تبلیغ کیا کریں
03:50تاکہ بغداد کے لوگوں کی دلی مراد
03:53پوری ہو جائے
03:54اس واقعہ کی روشن دلیل یہ ہے
03:56کہ مرشد جس حال میں بھی ہو
03:58وہ مریدوں کی ہر حالت سے
04:01خبر رہتا ہے
04:02آپ کا کلام بہت بلند
04:05پرمغز اور لطیف ہے
04:07چنانچہ آپ کا ارشاد ہے
04:09نبیوں کا کلام حضور حق کی اطلاع دیتا ہے
04:12اور صدیقوں کا کلام
04:14مشاہدے کی طرف اشارہ کرتا ہے
04:18خبر کی صحت نظر سے
04:20اور مشاہدے کی صحت فکر سے ہوتی ہے
04:26خبر اینِ ذات کو دیکھے بغیر نہیں دی جا سکتی
04:29اور اشارہ غیر کے بغیر نہیں ہو سکتا
04:32غرض کے صدیقین کا جو حد کمال اور انتہا ہے
04:35وہ انبیاء اکرام علیہ السلام کے حالات کی ابتدا ہے
04:40نبی و ولی کے درمیان یہ فرق
04:42ان کی فضیلت جو نبیوں کو علیاء پر ہے
04:45اس سے واضح اور ظاہر ہے
04:47بخلاف ملحدوں کے ان گروہوں کے
04:50جو فضیلت میں انبیاء کو مؤخر اور علیاء کو مقدم کہتے ہیں
04:55نعوذ باللہ
04:57حضرت جنیت بغدادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
05:00کہ ایک مرتبہ میرے دل میں شیطان کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی
05:05ایک روز میں مسجد کے باہر دروازے پر کھڑا تھا
05:08کہ دور سے ایک بڑا آتا ہوا نظر آیا
05:11جب میں نے اس کی صورت دیکھی
05:13تو مجھ پر شدید نفرت کا غلبہ ہوا
05:16جب وہ بڑا قریب آیا
05:18تو میں نے اس سے پوچھا ہے بڑے تو کون ہیں
05:20کہ وحشت کی وجہ سے تیری شکل مجھ سے دیکھی نہیں جا رہی
05:24اور
05:25تیری نحوست کی وجہ سے
05:27میرے دل کو سخت وحشت ہو رہی ہے
05:31اس نے کہا
05:32میں وہی ابلیس ہوں
05:33جس کے دیکھنے کی تم نے تمنا کی تھی
05:36میں نے کہا
05:38او ملعون
05:40حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے
05:43تجھے کس چیز نے باز رکھا تھا
05:45ابلیس نے کہا
05:47اے جنید
05:48تمہارا کیا خیال ہے
05:49میں غیر اللہ کو سجدہ کر لیتا
05:52حضرت جنید فرماتے ہیں
05:54کہ ابلیس کی یہ بات سن کر میں حقہ بکہ
05:56اور ششدر رہ گیا
05:58اور مجھے کوئی جواب نہ بن پڑا
06:00اتنے میں غیب سے ندا آئی
06:02کہ اے جنید
06:03اس ملعون کو کہہ
06:06کہ تُو جھوٹا ہے
06:07اگر تُو فرما بردار ہوتا
06:09تو اس کے حکم سے انکار نہ کرتا
06:11اور ضرور اس کا حکم بجا لاتا
06:14شیطان نے میرے دل کے اندر سے یہ آواز سنی
06:17تو وہ چیخا اور کہنے لگا
06:19خدا کی قسم تم نے مجھے جلا دیا ہے
06:21پھر وہ اچانک غائب ہو گیا
06:24یہ حکایت
06:25آپ کی حفاظت و عصمت کی دلیل ہے
06:27اس لیے کہ اللہ رب العزت
06:29اپنے اولیاء کی نگداشت فرماتا ہے
06:31اور ہر حال میں
06:33انہیں شیطان کے شر اور فساد سے محفوظ رکھتا ہے
06:39آپ کے ایک مرید کے دل میں یہ گمان پیدا ہو گیا
06:42کہ وہ کسی درجہ پر پہنچ گیا ہے
06:43اور وہ آپ سے مو موڑ کر چلا گیا
06:46اس کے بعد ایک دن اس کے ذہن میں خیال آیا
06:49کہ وہ آپ کی آزمائش کرے
06:52آپ اپنی بزرگی سے
06:53اس کے دلی خیالات سے باخبر ہو چکے تھے
06:56اس نے آپ سے ایک سوال کیا
06:58حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
07:01اس کا جواب لفظوں میں چاہتا ہے
07:03یا مانوی طور پر
07:06اس نے کہا دونوں صورتوں میں
07:07آپ نے فرمایا
07:08اگر لفظوں میں چاہتا ہے
07:11تو تو نے اپنی ازمائش کر لی
07:13کیونکہ تو یہاں میری ازمائش کے لیے آیا تھا
07:16اور اگر مانوی تجربہ چاہتا ہے
07:19تو میں نے تجھے
07:20اسی وقت
07:21ولایت سے معذول کر دیا ہے
07:23فوراں اسی لمحہ
07:24اس مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا
07:27اور وہ کہنے لگا
07:28کہ یقین کی راحت
07:29میرے دل سے جاتی رہی ہے
07:31پھر وہ توبہ اور استغفار میں
07:33مشہول ہو گیا
07:34اور فضول باتوں سے تائب ہو گیا
07:36اس وقت
07:37حضرت جنید رحمت اللہ علیہ نے
07:39اس سے فرمایا
07:41تو نہیں جانتا
07:42کہ اولیاء
07:43اللہ رب العزت کے
07:44اسرار کے والی
07:45اور حاکم ہوتے ہیں
07:46اور تو ان کے
07:47زخم کی طاقت نہیں رکھتا
07:49پھر آپ نے اس پر دم کیا
07:51اور وہ دوبارہ
07:52اپنی
07:53پرانی حالت پر بحال ہو گیا
07:55اس کے بعد
07:56اس نے مشایخ سے
07:57بدگمانی رکھنے سے
07:58ہمیشہ کے لیے
07:59توبہ کر لے
08:00موسیقی
08:01موسیقی