00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اباؤٹ ریلیجن
00:09حضرت اسکری بن الحسین النصفی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:14طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ امام متوقع لان برگزیدہ اہل زمان ابو تراب
00:23حضرت اسکری بن الحسین النصفی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:30آپ خراسان کے بزرگ ترین سادات مشایخ اور مشہور جوامردوں میں سے تھے
00:35آپ کا زہد و تقوی نہائیت معروف تھا
00:38عبادی اور سہرا میں ہر جگہ آپ کی بکسرت کرامتیں اور بے شمار اجائب دیکھے گئے
00:46صوفیاء اور سالکوں میں آپ بہت دانشور تھے
00:49جنگلوں میں بسیرہ رکھتے تھے حتیٰ کہ بسرہ کے جنگل ہی میں آپ کی وفات ہوئی
00:54چند سال کے بعد جب مسلمانوں کا ایک کافلہ اس طرف سے گزرا
00:59تو آپ کو قبلہ روح حالت قیام میں پایا اور اسی حالت میں آپ کی وفات ہو چکی تھی
01:05آپ کا جسم خوشک ہو چکا تھا آگے لوٹا رکھا ہوا تھا اور اسا ہاتھ میں تھا
01:11اس اسنا میں نہ کوئی درندہ ان کے قریب گیا اور نہ کسی انسان کے نشان قدم وہاں پائے گئے
01:18آپ کا ارشاد ہے
01:22درویش کی غزہ وہی ہے جو اسے مل جائے
01:25اور اس کا پہناوہ وہی ہے جس سے سطر پوشی ہو جائے
01:29اور اس کا مکان وہی ہے جہاں ٹھہر جائے
01:33مطلب یہ ہے کہ درویش کی غزہ میں اس کی اپنی کوئی پسند نہیں ہوتی
01:37اور لباس میں بھی اس کی پسند کا کوئی دخل نہیں ہوتا
01:40اور مکان بھی وہی ہوتا ہے جہاں وہ ٹھہر جائے
01:43کوئی خاص جگہ یا ٹھکانہ نہیں ہوتا
01:46ان تینوں باتوں میں تصرف کرنا مشغولیت ہے
01:50سارے جہان کی بلائیں انہی تین چیزوں میں ہیں
01:54جبکہ وہ اس میں تصرف کرے
01:56یہ بات معاملہ سے مطالق ہے
01:58ورنہ عذروع تحقیق درویش کی غزہ وجد ہے
02:02اور اس کا لباس تقوی اور اس کا مسکن غیب ہے
02:06اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
02:15اگر وہ طریقت پر استقامت رکھیں
02:18تو ہم یقیناً انہیں شیری اور ستھرا پانی پلائیں گے
02:22پھر ارشاد فرمایا
02:29اور تقوی کا لباس ہی بہتر ہے
02:32حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
02:37فقر غیب کا وطن ہے
02:40معلوم ہوا کہ درویش کا کھانا پینا
02:43شراب قربت اور اس کا لباس تقوی اور مجاہدہ
02:48اور اس کا وطن غیب اور انتظار وصل ہے
02:51لہٰذا طریقت کی راہ واضح
02:54اور اس کا معاملہ ظاہر و روشن ہے
02:56اور یہی کمال کا درجہ ہے
02:58حضرت یحیٰ بن معاذ راضی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
03:04طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ
03:07محبت و وفا کی زبان
03:08ولایت و طریقت کی زینت
03:11حضرت ابو زکریہ
03:12یحیٰ بن معاذ راضی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
03:17آپ کا حال بلند
03:19نیک خصلت اور حقیقت میں حق تعالیٰ کی امید پر
03:23کامل اور ثابت قدم تھے
03:26حضرت حسری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
03:28کہ اللہ تعالیٰ نے دو یحیٰ پیدا فرمائے ہیں
03:31ایک انبیاء میں
03:32جو حضرت یحیٰ بن زکریہ علیہ السلام ہیں
03:35اور دوسرے اولیاء میں
03:37جو حضرت معاذ راضی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
03:40ہیں
03:41حضرت یحیٰ علیہ السلام
03:43خوف الہی کی راہ پر اس طرح گامزن رہے
03:46کہ تمام مدیان خوف
03:49نجات سے ناومید ہو گئے
03:51اور حضرت یحیٰ بن معاذ راضی رحمت اللہ علیہ
03:54حق تعالیٰ کی امید پر ایسے قائم رہے
03:57کہ تمام مدیان امید ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے
04:01لوگوں نے حضرت سے دریافت کیا
04:05کہ حضرت یحیٰ بن زکریہ علیہ السلام کا حال تو معلوم ہے
04:08لیکن حضرت یحیٰ بن معاذ راضی رحمت اللہ علیہ کا حال
04:12کس طرح معلوم ہو
04:13انہوں نے جواب دیا
04:16مجھے معلوم ہے کہ وہ کسی حالت میں بھی
04:19اللہ رب العزت سے غافل نہیں رہے
04:21اور نہ کبھی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا
04:23معاملاتِ طریقت اور اس کے مجاہدے میں کامل تھے
04:27کسی نے دریافت کیا کہ
04:29اے شیخ
04:29آپ کا مقام تو مقامِ رجا
04:32یعنی امید ہے
04:33لیکن آپ کا سلوک تو خائفوں جیسا ہے
04:36آپ نے فرمایا
04:38اے فرزند سنو
04:40بندگی کو چھوڑنا زلالت اور گمراہی ہے
04:42اور خوف اور رجا
04:44ایمان کے دو ستون ہیں
04:46یہ محال ہے کہ کوئی شخص
04:48اپنے مجاہدے میں سے
04:50کسی رکنے ایمان کو زلالت اور گمراہی میں ڈال دے
04:53خائف
04:54اپنے خوف کو دور کرنے کے لیے
04:56عبادت و بندگی کرتا ہے
04:58اور امیدوار
05:00وسالِ الہی کی امید میں
05:03جب تک عبادت نہ ہو
05:04تو نہ خوف کا وجود درست ہے
05:07اور نہ رجا کا
05:08اور جب عبادت موجود ہو
05:10تو یہ خوف و رجا
05:12سب عبادت بن جاتا ہے
05:13جہاں محض عبادت ہو
05:16تو ایسی عبادت سود من نہیں ہوا کرتی
05:19آپ کی
05:20بکسرت تصانیف ہیں
05:21اور آپ کے نکتے اور ارشادات انوکھے ہیں
05:25خلفائی راشدین کے بعد
05:26صوفیاء کرام میں سے آپ ہی نے
05:29ممبر پر واضح و نصیحت فرمائی
05:31میں ان کے کلام کو بہت پسند کرتا ہوں
05:33کیونکہ
05:34طبیعت میں رکت اور سماعت میں لذت پیدا کرنے والا
05:38اور دراصل
05:39دقیق اور عبادت میں مفید کلام ہیں
05:42آپ کا ارشاد ہے
05:45یہ دنیا مشغولیتوں کی جگہ ہے
05:47اور آخرت
05:49ہال اور وحشت کا مقام
05:52اور بندہ
05:53ان دونوں کے درمیان ہمیشہ رہتا ہے
05:56یہاں تک کہ کسی جگہ
05:57وہ قرار حاصل کر لے
05:59خواہ و جنت ہو
06:00یا دوزخ
06:03خوشی و مسررت کے مقام میں وہ دل ہے
06:05جو دنیا میں مشغولیتوں سے
06:07اور آخرت میں ہولناکیوں سے محفوظ رہا
06:10اور دونوں جہان سے توجہ ہٹا کر
06:12واصل بحق ہو گیا
06:15آپ کا مذہب
06:16تونگری کو مفلسی پر ترجیح دینا تھا
06:20جب شہر رہ میں آپ پر بارے کرز زیادہ ہو گیا
06:23تو کرز کے بوجھ کی وجہ سے
06:25آپ نے خراسان کا قصد فرمایا
06:27اور جب بلخ پہنچے
06:29تو وہاں کے لوگوں نے آپ کو روک لیا
06:31تاکہ کچھ عرصہ
06:32واضح و نصیحت فرمائے
06:33وہاں کے لوگوں نے
06:35ایک لاکھ اشرفیوں کی تھیلی
06:37آپ کے خدمت میں پیش کی
06:38آپ نے وہ تھیلی قبول کی
06:40اور بارے کرز اتارنے کے لیے
06:42شہر رہ کی طرف واپس ہوئے
06:44راستے میں
06:45ڈاکو نے ڈاکا ڈال کر
06:47تمام نقدی
06:49شین لی
06:50آپ خالی ہاتھ
06:51نیشہ پر آگئے
06:52وہیں آپ نے وفات پائی
06:54آپ ہر حال میں
06:55صاحب عزت
06:56اور وجیح و باوقار تھے
06:58واللہ تعالی عالم