00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اباوٹ ریلیجن
00:08حضرت ابو الحسن احمد بن محمد نوری رحمت اللہ تعالی علیہ
00:13طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ شیخ المشایخ شریعت کے امام العائمہ
00:21بادشاہ اہل تصوف بری از آفت و تکلف
00:25حضرت ابو الحسن احمد بن محمد نوری رحمت اللہ تعالی علیہ
00:31جو تصوف کے معاملات میں امدہ کلمات میں ظاہر اور مجاہدوں میں واضح تر تھے
00:38تصوف میں آپ کا اپنا ایک خاص مشرب ہے
00:41صوفیہ کی جماعت آپ کو نوری کہتی اور ان کی اقتداء اور پیروی کرتی ہے
00:47صوفیہ کے بارہ گروہ ہیں جس میں سے دو گروہ مردود ہو چکے اور دس مقبول ہیں
00:53اور ان مقبول گروہوں میں ایک گروہ محاسبیوں کا ہے
00:57اور دوسرا کساریوں کا
00:59تیسرا تیفوریوں کا
01:02چوتھا جنیدیوں کا
01:04پانچوان نوریوں کا
01:07چھٹا سہلیوں کا
01:09ساتوان حکیموں کا
01:12آٹھوان خرازیوں کا
01:14نوان خفیفوں کا
01:17اور دسوان سیاریوں کا ہے
01:19یہ دس گروہ محقق اور اہل سنت و جماعت ہیں
01:24لیکن دو گروہ مردود ہیں
01:27ان میں سے ایک گروہ
01:30حلولیوں کا ہے
01:31جو حلول اور امتزاد سے منصوب ہیں
01:34اور سالمی اور مشبہ ان سے تعلق رکھتے ہیں
01:38اور دوسرا گروہ حلاجیوں کا ہے
01:41جو ترک شریعت کے قائل ہیں
01:42انہوں نے
01:43الہاد کی راہ اختیار کی
01:45جس سے وہ ملحد اور بے دین ہو گئے
01:48عباہتی اور فارسی
01:50انہی سے تعلق رکھتے ہیں
01:52اس کتاب میں اپنی جگہ
01:54ہر ایک کا جدہ جدہ تذکر آئے گا
01:56اور ان کا اختلاف بھی
01:58مذکور ہوگا
01:59انشاءاللہ
02:00لیکن نوری طریق میں
02:02قابل تعریف خصوصیات
02:04ترک مداہنت
02:06جوان مردی کی رفت
02:08اور دائمی مجاہدہ ہے
02:11حضرت ابو الحسن نوری رحمت اللہ علیہ
02:14فرماتے ہیں
02:14کہ میں
02:15حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ
02:18کی خدمت میں حاضر ہوا
02:19تو انہیں مسند سدارت پر
02:21تشریف فرما دیکھا
02:22میں نے کہا
02:23اے ابو القاسم
02:24آپ نے ان سے حق کو چھپایا
02:26تو انہوں نے آپ کو
02:28مسند سدارت پر بٹھا دیا
02:29اور میں نے ان کو نصیحت کی
02:31تو انہوں نے مجھ پر پتھر پھینکے
02:34اس کی وجہ یہ ہے
02:35کہ مداہنت
02:37خواہشات کے ساتھ
02:38موافقت رکھتی ہے
02:40اور نصیحت کو اپنے خلاف سمجھتی ہے
02:43اور آدمی چونکہ
02:44اس چیز کا دشمن ہوتا ہے
02:46جو اس کی خواہش کے خلاف ہو
02:48اور اس کو پسند کرتا ہے
02:49جو اس کی خواہش کے موافق ہو
02:53حضرت ابو الحسن نوری رحمت اللہ علیہ
02:55حضرت جنید رحمت اللہ علیہ کے رفیق
02:58اور ان کے شیخ طریقت
02:59حضرت سری سکتی رحمت اللہ علیہ کے مرید تھے
03:03حضرت نوری رحمت اللہ علیہ نے
03:05بکسرت مشائق سے ملاقاتیں کی
03:07اور ان کی صحبت میں رہے
03:08اور حضرت احمد بن الحواری رحمت اللہ علیہ سے بھی ملے ہیں
03:12طریقت و تصوف میں
03:14آپ کے ارشادات لطیف اور پسندیدہ ہیں
03:17اور فنون علم میں
03:18آپ کے نکات بہت بلند ہیں
03:20آپ کا ارشاد ہے
03:24حق کے ساتھ جمع ہونا
03:25اس کے غیر سے جدائی ہے
03:27اور اس کے غیر سے جدائی
03:29حق کے ساتھ ملنا ہے
03:31مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص
03:33جو حق تعالی سے واصل ہے
03:35وہ
03:36ماں سوائے اللہ سے جدہ ہے
03:39اسطلاح طریقت میں
03:41اسی کو جمع کہتے ہیں
03:42معلوم ہوا
03:43کہ حق سے واصل ہونا
03:45فکر خلائق سے
03:47الہدگی ہے
03:47جس وقت
03:48خلق سے کنارہ کشی ہو جائے
03:50حق سے وصال درست ہوگا
03:52اور جب حق تعالی سے وصال درست ہے
03:54تو خلق سے
03:55اعراض صحیح ہوگا
03:57کیونکہ
03:58ایک ساتھ
03:59دو زدیں
04:00کبھی جمع نہیں ہو سکتی
04:03ایک دفعہ ایسا ہوا
04:04کہ حضرت ابو الحسن نوری رحمت اللہ علیہ
04:07تین دن رات
04:08مسلسل
04:08اپنے گھر میں کھڑے ہو کر
04:10زور زور سے
04:11ذکر الہی کرتے رہے
04:12لوگوں نے
04:13حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ سے
04:16آپ کا حال بیان کیا
04:18آپ اٹھ کر فوراں تشریف لائے
04:20اور فرمایا
04:20اے ابو الحسن
04:22اگر تم جانتے ہو
04:23کہ اس شور کا کوئی فائدہ نہیں
04:27الہی کے حوالے کر دو
04:28تاکہ تمہارا دل خوش و خرم
04:30اور مطمئن ہو جائے
04:32چنانچہ
04:33حضرت نوری رحمت اللہ علیہ
04:34آپ کی ہدایت پر خاموش ہو گئے
04:36اور آپ سے فرمانے لگے
04:38اے ابو القاسم
04:40آپ ہمارے کیسے اچھے استاذ اور رہنما ہیں
04:43آپ کا ارشاد ہے
04:46ہمارے زمانے میں دو چیزیں بہت پیاری ہیں
04:48ایک
04:49عالم
04:50جو اپنے علم سے کام لے
04:52اور دوسرا وہ عارف
04:54جو حقیقت کو بیان کرے
04:57مطلب یہ کہ ہمارے زمانہ میں
04:59علم و معرفت دونوں عزیز ہیں
05:01اس لیے
05:02کہ بے عمل علم
05:04بجائے خود جہالت اور نادانی ہیں
05:07اور بغیر حقیقت کے معرفت
05:09ناشناسی ہے
05:10آپ نے اپنے زمانہ کے حالات
05:12اور نشانیاں بیان فرمائی ہیں
05:14ورنہ آپ خود
05:16تمام اوقات میں عزیز تر ہوئے ہیں
05:18اور آج بھی عزیز ہیں
05:21جو شخص
05:22عالم اور عارف کی جستجو میں
05:24سرگردان رہتا ہے
05:26اور اپنے حال میں پریشان رہتا ہے
05:28وہ کبھی عالم و عارف کو
05:30نہیں پاسکے گا
05:31حالانکہ
05:32اسے اپنی ذات میں
05:33تلاش کرنا چاہیے
05:34تاکہ اسے سارا جہان
05:36عالم و عارف نظر آئے
05:38اور خود کو
05:39حوالہ خدا کر دے
05:40تاکہ جہان کو عارف نظر آئے
05:43کیونکہ عالم و عارف
05:44بہت پیارا اور عزیز ہوتا ہے
05:47اور عزیز اور محبوب
05:48دشواری سے حاصل ہوتا ہے
05:50جس چیز کا ادراک دشوار ہو
05:52اس کے حاصل کرنے میں
05:54وقت کا زیاہ ہے
05:55خود اپنے علم و معارفت
05:58کو حاصل کرنا چاہیے
05:59اور اپنے ہی اندر
06:00علم و حقیقت کے چشمیں
06:02جاری کرنے چاہیے
06:03آپ کا ارشاد ہے
06:06جو شخص
06:07ہر چیز کو خدا تعالی کی طرف سے
06:09جانتا اور سمجھتا ہے
06:10وہ ہر شے کو
06:12دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے
06:14اس لیے
06:15کہ ملک اور ملک
06:17دونوں کا قیام
06:18مالک کے ساتھ ہوتا ہے
06:21لہٰذا
06:21تسکین خاطر
06:24خالق کائنات کو
06:26دیکھنے سے ہی حاصل ہوتی ہے
06:27نہ کہ یہ
06:29پیدا شدہ اشیاء کو
06:30دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے
06:32کیونکہ اگر
06:33اشیاء کو
06:34افعال کی علت بنائے
06:35تو غم و فکر میں
06:37مبتلا ہو جائے گا
06:38اور وہ کسی شے کی طرف
06:39اس کا متوجہ ہونا
06:41شرک ہوگا
06:42اور اشیاء کو
06:43فیل کا سبب قرار دے گا
06:45تو سبب
06:46از خود قائم نہیں ہوتا
06:48بلکہ اس کا قیام
06:49مسبب کے ساتھ ہوتا ہے
06:51اور جب وہ
06:52مسبب الاسباب کی طرف
06:54متوجہ ہو گیا
06:55تو وہ غیر میں
06:56مشغول ہونے سے
06:57نجات پائے گا
06:58واللہ ہو عالم
06:59موسیقی