Skip to playerSkip to main content
  • 23 hours ago
Prophet Yousuf Episode 46 - Urdu

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بانو
00:01بانو زولیخہ
00:03بانو
00:05بانو زولیخہ
00:11بانو
00:12بانو
00:14زولیخہ
00:16بانو
00:18بانو
00:21بانو
00:24بانو زولیخہ
00:25بانو
00:28کہاں ہے آپ
00:34بانو
00:36کہاں ہے آپ
00:47یاد آ گیا
00:49تاما
00:50مجھے پتا ہے وہ کہاں گئی ہوں گی
00:52جہاں ہمیشہ ہوتی ہیں
00:54ابھی آتی ہی ہوں گی
00:57چلو تب تک تھوڑا سا گندوں پیس کر
00:58آٹا گون لیتے ہیں
01:28دا سا روٹی کی خوش بود
01:53کان ہے یہاں
02:04میں نے پوچھا کون ہے یہاں
02:06سلام بانو
02:08خوشاندید بانو
02:09ہم نے سارا کسر چان مارا
02:12آپ نہ ملیں یہ لیجیے تازہ روٹی
02:14ہم جانتے تھے کہ ابھی آپ آتی ہی ہوں گی
02:16اور یقیناً شدید بھوک لگی ہوگی
02:18لہٰذا آپ کے لیے تازہ روٹی پکائی ہے
02:25بڑی باتیں بنا دا آگئی ہیں
02:29تم سے یہاں دوبارہ آنے کو کس نے کہا تھا
02:39آئیے بانو
02:40آئیے یہاں آرام سے بیٹھ جائیے
02:42پہلے گرم گرم روٹی کھا لیں
02:53ہم نے سوچا کہیں بانو کو بھوک نہ لگی ہو
02:56لہٰذا تھوڑی گنتم پیسی اور گرم گرم روٹی تیار کر لی
03:01اور ہم نے تھوڑا سا آٹا یہیں پہ رکھ دیا ہے
03:08بس آپ ایک انتظار کر رہے تھے
03:10کہ ایک نظر بانو کو دیکھ لیں
03:16کہیں جانے کی ضرورت نہیں
03:21بھلا کوئی اپنے گھر کو بھی چھوڑ کر جایا کرتا ہے
03:31ہمارا تو کوئی ٹھکانہ نہیں جہاں جائیں بانو
03:34بچپن سے اب تک کسی قصر میں زندگی گزاری ہے
03:37اب کہاں جائیں
03:38اور پھر ہمیں یہاں کی عادت چھوڑ پڑ گئی ہے
03:41اور بانو سے ان سے ات الگ ہو گئی ہے
03:44ارادہ تو کہیں اور کا تھا
03:47لیکن کہاں نہیں معلوم
03:49پھر اچانک غیر ارادی طور پر
03:52خود کو کسر کے دروازے پر پایا
03:55مجھے بھی تمہاری ضرورت ہے
03:58اگ اچھا ہو تو رکھ سکتی ہو
04:01میرا بھی تمہارے سیوہ کون ہے
04:11بانو آپ نے یہ تو بتایا نہیں
04:13کہ آج کہاں گئی تھی
04:19یوسف کے دیتار کو
04:23یوسف
04:24یوسف
04:26ہاں
04:27یوسف
04:28خوب
04:30تو دیکھا انہیں
04:32ہاں
04:34دیکھا
04:35خوب تھی پھر کے دیکھا
04:39کتنا ہی یوسف کہہ کر پکارا
04:42نہیں سنا
04:46جو ہی یوسف کہہ کر پکارا تو
04:50سن لیا اور مجھے ڈھونڈنے لگا
04:53کیا انہوں نے بھی آپ کو دیکھا
04:55نہیں
04:56میں نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا
04:59میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے اس طرح دیکھیں
05:05لیکن مجھے خوشی ہے
05:07میں نے اسے جی بھر کے دیکھا
05:10اس کمزور بینائی کے ساتھ تھی
05:13ہاں
05:14اسی لئے تو بہت خوش ہوں
05:17کہ مکمل بینائی زائل ہونے سے پہلے
05:22یوسف کو قریب سے دیکھ لیا
05:26بڑائی بارروپ اور دب دبے والا لگ رہا تھا
05:29سب اس کے دیدار سے خوش تھے
05:3254
05:35کبھی تو مجھے ان لوگوں سے جلد سی ہونے لگتی
05:42کہ میرے سوا
05:45دوسرے کیوں
05:48محبت کر رہے ہیں
05:51پھر کبھی یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوتی
05:57خوشی ہوتی ہے کہ میری طرح
06:03میرے اس محبو کو
06:06سب ہی انتہائی پالہانا انداز میں چاہتی ہیں
06:29گوداموں کی طرف چلیں
06:38گوداموں کی طرف چلیں
06:42اگر گندوں خوش و سمیت زخیرہ نہ کی ہوتی تو
06:46تو اب تک ہمارے مال مبیشن سب ختم ہو چکے ہوتے ہیں
06:49یہ سب تو خداوند یکتہ کی لطف و انعیات ہیں
06:53البتہ خوش و سمیت زخیرہ سازی کے دوسرے بھی کئی سمرات ہیں جو آپ انقریب جان جائیں گے
07:09ساڑ پیمانے
07:19نوامون پر زندے گود کی
07:22کل سات افراد پندرہ عدد بھیڑیں
07:27دو عدد گائیں
07:31سات افراد کے لیے ستر پیمانے گندوں ستر دہرم کی
07:34اور جانوروں کے لیے چارے کے دو گھٹے
07:37کھل ملا کے نویت
07:40سکے تو نہیں ہیں
07:41ہیرے موتی کوئی سونا چاندی
07:45افسوس کہ میرے پاس وہ بھی نہیں ہیں
07:47البتہ گائیں اور بھیڑے ہیں اگر بھولے لیں تو
07:49کوئی حرج نہیں
07:50گائے بھیڑ اور بکری بھی بھی جا سکتی ہے
07:53بس سنت لے لیں تاکہ واضح ہو جائے کہ اب یہ مال حکومت مصرک ملکیت ہے
07:57پھر وہ جانور اسی کے مالک کو لوٹا دی جائیں تاکہ وہ ان کی دیکھ بھال کر سکے
08:01یعنی جو پھیڑے میں گندوں کے بدلے میں دوں گا
08:05میں انہیں دوبارہ اپنے پاس رکھ سکتا ہوں
08:07بس یہ یاد رہے کہ پھر یہ حکومت مصرک ملکیت ہو جائے گی
08:11اور جس وقت بھی حکومت چاہے گی انہیں آپ سے واپس لینے کی مجاز ہوگی
08:15سپاس گزار ہوں یا نبی خدا سپاس گزار ہوں
08:18بہتر حصے اور کیا ہوگا
08:20میری گائوں بھی سے ایک کے بدلے میں مجھے گندوں دے دیجئے
08:24پتائیے کس جگہ مجھے درسخر کر دیں
08:28کہاں پر
08:29ہم چلتے ہیں
08:31سپاس گزار ہوں یا نبی خدا
08:33خدا آپ کی حفاظت کرے
08:36اگر کسی کے پاس سکے نہ ہوں
08:37تو ضرور جواہرات بھی لیے جا سکتے ہیں
08:40اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو مال مویشی کاغذی کاروائی کے بعد انہی کے حوالے کر دیں
08:44اس کے علاوہ گھر زمینے اور دیگر املاک بھی قبول کر سکتے ہیں
08:47گھروں کے مالکانہ حقوق حاصل کر کے انہیں اسی گھر میں رہنے دیا جائے
08:51اور اسی طرح زمینے بھی تحریر زمانت دینے کے بعد کاشتکاری کے لیے واپس کاشتکاروں کے حوالے کر دی جائے
08:57میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا اس میں کیا مسئلہ ہے
09:06میرا مقصد صرف قیامِ عدل ہے
09:07بعد میں آپ جان جائیں گے
09:09چلیں حرکت کریں
09:12یہ لیندین اور معاملہ کرنا کافی مدھا کا خیز بات معلوم ہوتی ہے
09:16آپ لوگوں کی املاک اور مال موشی کے بدے میں انہیں گندوں تو دے رہے ہیں
09:21لیکن کوئی بھی چیز حکومت کے زیر تصرف نہیں ہو
09:23سابر سے کام لیجئے
09:25وقت آنے پر یہ مزاہ کا خیز بات ایک ایسی حقیقت میں تبدیل ہو جائے گی جو ناقابل تصور ہوگی
09:31بس اتنا جان لیں کہ مصر کو تہو بالا کرنا ہوگا
09:35تاکہ وہ جو حاکم ہیں محکوم ہو جائیں
09:38اور وہ جو ابھی دوسروں کے دست نگر ہیں خودکفیل ہو جائیں
09:42تو کیا ایسا ممکن ہے؟
09:44اگر خدا چاہے تو ہاں
10:15وہ ہی چاہے تو ہوں
10:16ہاں
10:16ہاں
10:16ہاں
10:16ہاں
10:37یہ تو ہو آمون
10:42وہی جو کبھی بڑے خرور سے
10:46اوڈو امبر میں مہتر
10:49میرے کمرے کے کونے میں
10:52بنے محبت میں کھڑے رہتے تھے
10:56اور چاہتے تھے
10:58کہ میرے گناہ کے کوا بنو
11:00میں نے مارے شرم کے
11:04تمہارے چہرے کو ڈھاں دیا تھا
11:08کیا ہوا
11:13چھوکروں میں کیوں پڑے ہو
11:18جانتی ہو
11:20عرصہ ہوا کہ میں تم سے خافل ہو گئی ہوں
11:25دیکھ رہے ہو بیمار ہو ناتوا ہوں
11:29اور اپنے امور کے لیے آجی سو درماندہ ہو چکی ہو
11:34میں نہ صرف تمہیں
11:37بلکہ خود کو بھی فراموش کر چکی ہوں
11:44جب تک میں صاحب جاہو مرتبہ تھی
11:51تم بھی عزیز و محترم تھے
11:55میں خود سے کیا غافل ہوئی
12:00تم سے بھی ہو گئی
12:02اب تم سے کیا چھپا ہوں آمون
12:05تم سے میری غفلت پرتنا شاید امدن تھا
12:09پتہ ہے تمہیں
12:11پوری عمر میں نے تمہاری تقدیز کی
12:16لیکن معاف کرنا آمون
12:18تم نے بلکل بھی بندہ نوازی نہیں کی
12:24اور تم نے مجھے
12:28محبت آمون کی دیوی کو
12:32ہمیشہ نظر انداز کی
12:37مجھے تمہاری موجودگی میں گناہ کرتے شرم آئی
12:43لیکن تم نے مجھے لوگوں کے سامنے شرم سار ہوتے دیکھا
12:48لیکن تم نے کچھ نہ کیا
12:53خیر
12:57تم آمون ہو
12:59آمون
13:03مصریوں کے خدا عظیم آمون
13:16لیکن نہیں
13:19سننے میں آیا ہے کہ مصریوں کے خدا تبدیل کیے جا رہی ہے
13:26یعنی یوسف یہ تبدیلی لانا چاہتا ہے
13:30وہ چاہتا ہے کہ اپنے خدا
13:35یعنی خدای یکتہ کو تمہاری جگہ مطارف کرائے
13:43اور وہ حق بجانب ہے
13:49کیا نہیں ہے
14:00آمون
14:01دیکھا تم نے
14:04یوسف اے غلام سے زیادہ کچھ نہ تھا
14:09اور اس کے خدا نے اسے عزیز مصر بنا دیا
14:16حق تو یہ ہے کہ
14:19یوسف کو ایسے خدا کی تازیم و تقریم بھی کرنی چاہیے
14:24کیا ایسے بندہ پرورہ بندہ نواز خدا کی تازیم و تقریم نہیں کرنی چاہیے
14:32کیا آمون کی جگہ ایسے خدا کے پرستش نہیں کرنی چاہیے
14:38اور تم نے میرے لئے کیا کیا
14:45کہ بس کا بندہ نوازی ہی سیکھ لو یوسف کے خدا سے
15:12یہ دیکھو
15:15یوسف کی غلامی کی ساند
15:18اب بھی میرے پاہیے
15:20وہاں سے دیکھ رہے ہو
15:23یوسف کے خدا نے
15:26ایک غلام کو پستی کی زلہ سے نکال کر
15:30عوجِ کمال کو پہنچا دیا
15:32اور تم نے
15:35مصر کی بانوی عزیب کو
15:38عوجِ کمال سے
15:39ان صلیت اخواری کی پستی میں دھکیل دیا
15:46یوسف کے خدا کی لادت
15:48اور دیکھر تمام خداوں کی لادت ہو
15:51کہ تم جیسے کمزور و ناتوا خدا پر
15:54کہ جس نے مجھے ان صلیت کی پستی میں دھکیل دیا
16:07لیکن نہیں
16:09تم تو
16:11ایسے کہیں زیادہ کمزور ہو
16:13کہ زلہ خان کو زلیر کر سکو
16:20میرے خیال میں
16:23میری یہ ذلت بھی
16:25یوسف کے خداون کے ارادے سے
16:30میرے
16:31میرے
16:31میرے
16:32میرے
16:32مرے
16:32ایسے
16:32مرے
16:40میرے
16:41میرے
16:42میرے
16:43یوسف آشک خدا کے ساتھ
16:46بہت بہت بنا کیا ہے
16:48خوشا نصیب یوسف
16:50کہ وہ اتنی خوبیوں والا خدا رکھتا ہے
16:54کون ہے
16:58کیا بات ہے کوئی کام تھا
17:00نہیں بانو آپ کے لئے کھانا لائیں
17:08تم نے دیکھا میں نے عامور کے ساتھ کیا کیا
17:11اسی قابل ہے بہت پہلے آپ کو یہ کام کر لینا چاہیے تھا
17:15لیکن خدا یوسف کہا کیوں کر ادا ہوگا
17:23اسے کس طرح خوشنود کروں
17:30اسے کس طرح راضی کروں
17:48لشکرے میں سے فرمان دے دورم دھوب کی سربراہی میں
17:53آمون ہیپیوں کے ساتھ برسوں برسرے پیکار دینے کے بعد
17:57کامیاب و کامران مصر واپس لوٹتا ہے
18:14موسیقی
18:32درود ہو مصر کے خداوندگار اور فرما روائے عظیم جناب آخر تون پر
18:38درود خداوند بر فرماند پارا موہ حرمحوب اور ردامون
18:46اگر فرما روائے اجازت مرحمت فرمائیں تو جنگ کے تمام صورتحال ان کے گوشت گزار کی جائے
18:51اگرچہ فرماند حرمحوب اور لشکرے مصر کی صلاحیتوں اور
18:55کامیابیوں کی خبریں ہم تک پہنچ چکی ہیں
18:57لیکن خود ان کی زبان سے سننے کا لطف ہی کچھ اور ہے
19:01یہ سب خداوند آخر تون کی لطف و عنات ہے
19:04عام ان ہیٹیوں نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے
19:07قتل و غارتگری کا بازار گرم کر رکھتا
19:09اور اپنے مفاق کے مطابق قوانین وضا کیے ہوئے تھے
19:12انہیں ایک ہی حملے میں شکست دفاعش دے کر
19:14ان کے ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا
19:17اور ان کی مصنورات اور بچوں کو گیت کر لیا
19:21اور نتیجتاً کثیر مال غنیمت لشکر مصر کے ہاتھ لگا
19:24بعد اس شکست تمام لشکر کے سامنے
19:27ان کے بادشاہ کی ماہ اہل و ایال گردہ نے اڑا دکھائی
19:31اور ان کے اجساد
19:32میں فرماند حرمحوب کی پیدر پہ کامیابیوں اور جافشانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں
19:37مگر آلی جناب بہت سی باتیں ابھی بیان کرنا باقی ہیں
19:42مجھ میں قتل و غارتگری کے متعلق سننے کا حوصلہ نہیں
19:48اگرچہ میں جانتا ہوں کہ مصر کا امن اور استحقام
19:50آپ کی فداکاریوں اور جافشانیوں کے مرہونے منت ہے
19:54اور اگر آپ کی شجاعت اور استقامت نہ ہوتی
19:57تو شاید آج مصر بھی نہ ہوتا
20:00جناب فرما روان جنگی صورتحال کے متعلق تو سن لیں گے
20:04لیکن خون خرابے کی ذکر سے اجتناب کیجئے
20:07جناب حورم ہوت
20:09کچھ اس طرح جنگی احوال بیان کیجئے
20:12جو خداوند آخرتون کو آزودہ نہ کریں
20:15بین اروس
20:18ہمارے بہادر اور تھکے ماندے فوجی سربراہان کی خاطر توازو نہیں کروگے
20:29موسیقی
20:33موسیقی
20:36موسیقی
20:37موسیقی
20:44موسیقی
20:45موسیقی
20:46بھرنے تو دیکھو
20:51آخر کتنی گانتم خریدیں گے جو اتنے سارے تھیلے لے کر آئے ہیں
20:55ان کے آگھو بھرنے کی طرح پھولے وے پیٹت ہوں دیکھو
20:57انہیں بھرنے کے لئے تو اس سے کہیں زیادہ گانتم درکار ہوگی
21:02یہ کون لوگ ہیں
21:07یہ شمالی علاقہ جان سے آئے ہیں
21:09یہ لوگ غندم خریب نے آئے ہیں
21:12کیاڑی ہمارے پاس اتنی غندم ہوگی کہ انہیں بھی دی جائے
21:34تو کاہنہ نے مابد بھی گندم لینے کی غرصے تشریف لائے ہیں
21:38جی ہاں وہ بھی تین گناہ قیمت میں
21:41اس وقت تو مابد عامون کی حالت ان سے بھی بتر ہے
21:44آپ ہماری مدد کیوں نہیں کرتے
21:48پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ خاوری ہیں اور ہماری طرح انسان ہیں
21:52اور دوسری بات یہ کہ یہ لوگ برسوں سے مصر کو خراج دیتے رہے ہیں
21:56اور اپنی آمدنی کا ایک کثیر حصہ حکومت مصر کے حوالے کرتے رہے ہیں
22:00اب جبکہ انہیں قہدر پیش ہے
22:03تو ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی مدد کریں
22:06جبکہ آمون ایک سروتمند خدا ہے
22:08کیا حرج ہے کہ وہ اپنے اس عظیم خزانوں میں سے کچھ دولت
22:11اپنے ہی مابد کے کاہنوں پر سرف کر دے
22:13تھا کبھی تھا
22:15لیکن اب آمون دولتمند نہیں رہا
22:18جو کچھ تھا سکت تم نے لے لیا
22:20آلی جناب
22:22یہ خزان چیئے مابد عامون ہے
22:26نادانستگی میں آپ نے ایک اچھی خبر دے دی ہے
22:28اچھی خبر مطلب
22:31ہاں
22:31یہ آپ کو بعد نہ معلوم ہو جائے گا
22:33حرکت کریں
22:40بہت سے پیامبر
22:43دیگر پیامبروں پر فضیلت
22:45اور برطری رکھتے ہیں
22:47زیادہ جان
22:48تو کیا آپ سے پہلے بھی بہت سے پیامبر گزرے ہیں
22:51ہاں میری جان
22:52مجھ سے پہلے بھی کئی پیامبر گزرے ہیں
22:54اور میرے بعد بھی آتے رہیں گے
22:57تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم ہیں
23:01نوح اور میرے دادا ابراہیم مجھ سے پہلے گزرے ہیں
23:06اور یوسف اور دیگر پیامبر میرے بعد ہوں گے
23:12آخری پیامبر کے جن کا نام احمد ہے
23:15میرے چچا اسماعیل کی نسل سے ہوں گے
23:19بابا
23:21کون سے پیامبر تمام پیامبروں سے برطر و والد ہے
23:25وہ جن کی لبوت کا دائرہ سب سے وسیع ہے
23:31ہر فرستالہ نبی
23:32کسی خاص خرطے کی ادایت پر معمور کیا جاتا ہے
23:36بس ان میں
23:38صرف اپنے قوم کی ادایت پر معمور ہوں
23:40لیکن ایک پیامبر ایسے بھی ہیں
23:42جو پوری کائنات پر خدا کے احکامات کے نفاظ پر معمور ہے
23:46اور وہ آخری پیامبر ہے
23:51بینیامین ابھی تک کیوں نہیں آیا
23:55کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ میں اس کا منتظر ہوں
24:00پریشان مت ہوئی بابا
24:01میں ابھی جا کر دیکھتی ہوں
24:44شکریہologists
24:45کر دیکھتنے کام پر ایسر
24:47میں زمینوں پر دخم پاشی کے لیے کیا ہوا تھا
24:50اگرچہ پیداوار نہ کافی ہے
24:51لیکن اگر یہ کم مقدار بھی کاش نہ کی گئی
24:54تو ہم سب بھوک سے مر جائیں گے
24:56حق کیا تھا
24:58سوچا پہلے ذرا آرام کرلوں
24:59پھر بابا سے ملنے جاؤں
25:01بینیامین
25:01تم تو جانتے ہو کہ وہ سورج خروف ہوتے ہی
25:04تمہارا انتظار کرنے لگتے ہیں
25:05تمہیں انہیں یوں انتظار نہیں کروانا چاہیے
25:08کبھی کبھی کوئی کام پڑ جاتا ہے
25:10تمہیں مصروف ہو جاتا ہوں
25:12دانستہ تو ایسا نہیں کرتا نا
25:14بینیامین
25:15بہانے مد بناو
25:16کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں بابا سے ملنے جانا چاہیے تھا
25:19کیوں نہیں کیوں نہیں جانتا
25:20جانتا ہوں
25:22محصت خواہوں
25:23اچھا چلے اب بابا کو مزید انتظار مت کروائیں
25:25چلے
25:45مجھے معاف کر دیجئے بابا
25:48بابا میں وعدہ کرتا ہوں
25:50زمینوں سے واپسی پر سب سے پہلے
25:52آپ کی قدم بوسی کے لیے آوں گا
25:54یوسف کے جدائی میں میں جس کرب سے گزر رہا ہوں
25:57وہی میرے لیے کافی ہے
25:59اب تم مجھے اور تکلیف مت پہنچاؤ میرے بچے
26:03خدا مجھے ہر کس نہ بخشے اگر میں آپ کو کوئی تکلیف پہنچاؤں تو
26:15یوسف کے بعد میرا تمہاری سما کوئی نہیں
26:21تمہیں دیکھنے سے مجھے تسکین ملتی ہے
26:43مجھے تسکین ملتی ہے
27:08مجھے تسکین ملتی ہے
27:10مجھے تسکین ملتی ہے
27:26مجھے تسکین ملتی ہے
27:35اگر آپ کو یاد ہو تو
27:37میں نے آمون اور آئین آمون پرستی کے خلاف اقدامات کرنے کے لئے
27:40جناب فرما روا کو ہمیشہ کسی مناسب وقت کا انتظار کرنے کا کہا تھا
27:44کہیں اب وہ مناسب وقت تو نہیں یہاں پہنچا ہے
27:48جی بالکل
27:52بانو نفرتیتی اور آسنات
27:55ہمیں یزار سیف کے ساتھ تنہا چھوڑ دیں
28:04معابد آمون کے طرف داروں کی اکثریت اب اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے
28:08اور اس کے خزانے بھی خالی ہو چکے ہیں
28:11میرے علم میں ہے اور یہ بھی کہ مصر کی اکثریت یکتہ پرست ہو رہی ہے
28:15اب تمام شہروں میں یہ منادی قراری جائے کہ آج کے بعد
28:18مصر کے لوگوں کا سرکاری آئین آئین یکتہ پرستی ہوگا
28:22آپ نے سنا جناب حورم ہوں
28:26ہم یکتہ پرست ہیں
28:27اور آج کے بعد آمون پرستی جرم شمار کی جائے گی
28:33اس کے باوجود کے معابد آمون میرے لئے قابل احترام ہیں
28:38لیکن میں اپنے نظریات اور قائد پر اپنے خداوندگار کے فرمان کو پرچی دوں گا
28:43ہمیں آپ سے اسی جواب کی توقع دی
28:45جس طرح آپ نے سرحدوں کو دشمنوں سے پاک کیا ہے
28:48اسی طرح شہروں کو بھی شرک و بد پرستی سے پاک کرنا ہوگا
28:52فرما روا کے حکم کتابے ہوں
28:54اپنے فرمان کو نافذ العمل سمجھیں
29:06ہمیں معابد کی مضاحمتوں اور یکتہ پرستوں اور بد پرستوں کے معابین تصادم کے لئے ہما وقت آمادہ رہنا ہوگا
29:13بہتر ہوگا کہ لشکر مصر کو بھی مکمل آمادگی کا حکم دے دیا جائے
29:17آئین ممکن ہے کہ ہمیں اٹھتے ہوئے فتنوں کو خاموش کرنا پڑے
29:21باوجود اس کے کہ میں کچھ تو خون کے شدید مخالف ہوں
29:25لیکن کوئی اور چارہ بھی نہیں
29:29اجتناب ناگزیر ہو چکا ہے
29:30ہم نے برسوں صبر کیا اور معابد کے خلاف ہر قسم کی کاروائی کو التواہ میں ڈالتے رہے
29:34محض اس لیے تاکہ اس تبدیلی آئین میں بے گناہوں کا خون کم سے کم پہے
29:40آپ فکر مت کیجئے
29:41میں امید کرتا ہوں کہ کوئی خون ریزی نہ ہو
30:13جناب آخناتون اور جناب یوزار صرف گہری دلی واپس تک ہی رکھتے ہیں
30:20پرمارامہ جناب یوزار صرف کو ایک راہ نمائے الہی کی نظر سے دیکھتے ہیں
30:35اے نبی خدا
30:38دعا کیجئے کہ اس تبدیلی آئین میں کسی کا خون نہ بھائے
30:44اور کسی بے گناہ کی جان سایا نہ
30:50عالی آداب کے حصول کے لیے بہت بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے
30:58بساوقات ایمان کے پودے کی آبیاری کے لیے بہت زیادہ خون مہانا پڑتا ہے
31:03یہی خون ہے جو تاریخ دلوں کو روشن اور مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے
31:14لیکن اس سب کے باوجود میں امید کرتا ہوں
31:16کہ خدا بند یکتہ اپنے پیروکاروں کی نفرت فرمائے گا
31:19اور اس مبارزے میں کفر و شرک پر ایمان کو غلب آتا فرمائے گا
31:31پور مصر میں قاسد روانہ کر دور ہر جگہ آئین یکتہ پرستی کے بطور سرکاری آئین اعلان کرانے
31:37مابت کے سربراہوں کو بھی قبردار کرا دیا جائے
31:40کہ آج کے بعد آمون پرستی کی ترویج و تبلیغ جرن شمار کی جائے گی
31:45اور مراندہ کرنے والوں کو حکم دے دیں
31:47کہ شہر شہر جا کر یہ خبر آرام کر دی جائے
31:50جاؤ
31:53امید کرتا ہوں کہ آمون میرے سمجھ پر مجھے بخش دے گا
31:56کیونکہ میں مجبور ہوں
31:57میں جس طرح آمون کو مصر کا عظیم خدا سمجھتا ہوں
32:00اسی طرح آخناتون کو بھی مصر کا عظیم فرمائے پا
32:05اور خداوں کا بیٹا گردانتا ہوں
32:08اگرچہ آخناتون آمون کا ایک ناخل پیٹا ہے
32:11کہ جس نے اپنے باپ آمون کے ساتھ خیانت کی ہے
32:14اور اس کے آئین کو بدلنے کا حکم دیا ہے
32:23جناب آخناتون
32:24اور عزیز مصر جناب جزار سیف حکیم کے مطابق
32:29آج جسر زمین مصر کا سرکاری آئین
32:33آئین یکتہ پرستی ہے
32:41لہذا آج سے پرستش آمون اور دیگو خداوں کی پرستش کرنا
32:47گناہ اور جرن جمار کیا جائے گا
32:55مجھے پتا تھا کہ آخر کار جزار سیف
32:57جناب جزار سیف حکیم کے مطابق
32:59جناب جزار سیف حکیم کے مطابق
33:00لیکن کاہینوں سے ہوشیار رہنا ہوگا
33:02وہ لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے
33:14لہذا آج سے پرستش آمون اور دیگر خداوں کی پرستش کرنا
33:21ناکابِ معافی جرن شمار ہوگا
33:26خود جزار سیف نے ہمارے لئے کیا کر دیا ہے
33:28جو اب اس کا خدا ہمارے لئے کرے گا
33:31یوں کہو ناگے چونکہ جزار سیف نے تمہیں بلندی سے پستی میں لاکھڑا کیا ہے
33:35اس لیے تم اس کے مخالف ہو
33:36ورنہ ہم نے تو جزار سیف میں محروموں اور محتاجوں کے خدموں
33:40تو بھلائی کے سیوا کچھ نہیں دیکھا ہے
33:42اس نے تمہاری خدمت نہیں کی
33:44میں نے اور مجھ جیسوں نے تمہاری خدمت کی ہے
33:48اس نے عامول کے خزانوں اور ہم جیسوں کی جیبوں کو خالی کیا ہے
33:52تاکہ تم جیسے فقیروں اور محتاجوں کے پیٹ بر سکیں
33:56تم جیسے کو جو کہ یوزار سیف کے زخم خوردہ ہیں
34:00ان کی محافظت کرنی بھی جائیے
34:02حیرت ہے کہ تم لوگ کس طرح ایک دکھائی دینے والے اور حاضر خدا
34:05عامول کو چھوڑ کر ایک اندیکہ اور غائب خدا کی پرسش کرتے ہو
34:09اس لیے کہ تمہارے ان دکھائی دینے والے اور حاضر خداوں نے
34:12ہمارے لئے کچھ نہیں کیا ہے
34:14جبکہ یوزار سیف کے اندیکہ خدا نے
34:16ہمیں قہت اور غلامی سے نجات دلائی ہے
34:20ہم یوزار سیف کے اس اندیکہ خدا کو
34:24تمہارے ان دکھائی دینے والے خداوں سے
34:26کہیں زیادہ حاضر و ناظر مانتے ہیں
34:29خدا ونکار مصر جناب آخناتون بزرگ
34:34اور جناب یوزار سیف حکیم کے مطابق
34:37آج سے سرزمین مصر کا سرکاری آئین
34:41آئین یقتہ پرستی ہے
34:49لہٰذا آج سے پرستش آمون اور دگر خداوں کی پرستش کرنا
34:55ناکابل معافی جرن شمار ہوگا
34:58خاموش ہو جاؤ خبیصو بند کرو
35:00قضافات بک رہے ہو
35:03کاہن تمہیں اپنی جان عزیز نہیں ہے جو اس سناب آخناتون کے فرمان کے خلاب بول رہے ہو
35:08یہ آخناتون نے تمہیں حکم دیا ہے
35:09کہ کوچھا و بازار میں جا کر اس بات کی ترشیر کرو
35:12بے گل جناب آخناتون اور جناب اوزار سیف کا فرمان ہے
35:15اور جو کوئی بھی دین اقتہ پرستی کی مخالبت کرے گا وہ کیٹ کر دیا جائے گا
35:25میں جانتا تھا کہ اوزار سیف کے ان تمام اقتامات کے نہیں ہی نتائل دوں
35:31ابھی بھی اکثریت آمون کی پیروکار ہے
35:34بہت سے لوگوں نے مابت کے باہر استعمال کیا ہوا ہے
35:38اور آمون کے دشمنوں سے مبارزے کے لیے آمادہ ہیں
35:41ہم اپنی بقا کی خاطر دفاع کرنے پر مجبور ہیں
35:45لہٰذا ہم یوزار سیف سے مقابلہ کریں گے
35:47آخناتون کو ابھی کہنان مابت کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے
35:50کس طاقت کی بات کر رہے ہو
35:51ہمارے پاس اپنے لشکر تک تو ہے نہیں
35:54اسی عوام کے ذریعے
35:56اگر ہم انہیں ہی آمادہ اور مسلح کر دیں تو
35:58آپ دیکھیں گے کہ وہ کس طرح مقابلہ کرتے ہیں
36:07موسیقی