Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
hAZAR dEENAR

Category

📚
Learning
Transcript
00:00شهر کے بازار میں رفیق کی کپڑے کی دکان تھی
00:02رفیق ایک نیک اور اماندار تاجر تھا
00:05وہ صبح فجر کی نماز پڑھ کر ذکر و اذکار وغیرہ سے فارغ ہو کر دکان کھولتا
00:10اور جیسے ہی زور کی آزان ہوتی وہ دکان بند کر کے مسجد چلا جاتا
00:15اللہ رب العزت نے بھی اس کے کاروبار میں برکت دی تھی
00:18رفیق کا شمار مالدار لوگوں میں ہوتا تھا
00:22رفیق کے پاس ایک تھیلی تھی جس میں اس نے ایک ہزار دینار رکھی ہوئے تھے
00:27ایک مرتبہ رفیق کو کاروبار کے سلسلے میں دوسرے ملک جانا پڑا
00:31وہ اپنے ایک قریبی دوست آمیر کے پاس اپنی تھیلی لے کر گیا
00:35اور اس سے کہا کہ بھائی آمیر میں کچھ عرصے کے لیے دوسرے ملک جا رہا ہوں
00:39اور تمہارے پاس اپنی ایک امانت چھوڑ کر جا رہا ہوں
00:42امید ہے کہ تم اس کی حفاظت کرو گے
00:45میں واپس آ کر تم سے یہ امانت لے لوں گا
00:47یہ کہہ کر رفیق نے ہزار دینار سے بھری ہوئی تھیلی آمیر کے حوالے کر دی
00:52آمیر نے وہ تھیلی حفاظت سے اپنے پاس رکھ لی
00:55رفیق اپنے سفر پر روانہ ہو گیا
00:57دن گزرتے گئے
00:59رفیق کو گئے ہوئے کئی سال ہو گئے
01:01اب آمیر کے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا
01:04اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں اس تھیلی سے دینار نکال کر درہم ڈال دوں
01:09رفیق واپس آ کر اگر پوچھے گا
01:11تو میں جھوٹ بول دوں گا
01:13کہ تم نے تو مجھے یہی دیا تھا
01:15میں نے اس تھیلی کو کھول کر بھی نہیں دیکھا
01:17اور آمیر نے اسی طرح کیا
01:19تھیلی سے دینار نکالے اور ان کی جگہ درہم رکھ دیئے
01:22دینار سونے کے سکھے ہوا کرتے تھے
01:25اور درہم چاندی کے سکھے
01:27کچھ عرصے کے بعد رفیق واپس آ گیا
01:29وہ آمیر کے گھر گیا
01:31آمیر اس سے بہت اچھے طریقے سے ملا
01:34اور سکھوں سے بھری تھیلی رفیق کے حوالے کر دی
01:37رفیق نے گھر آ کر تھیلی کھولی
01:39تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا
01:41کہ تھیلی بجائے دینار کے درہم سے بھری ہوئی ہے
01:44اب تو رفیق بہت پریشان ہوا
01:46وہ بھاگتا ہوا آمیر کے پاس گیا
01:48اور اسے ساری بات بتائی
01:50آمیر بہت غصہ ہوا اور کہا
01:51کہ ایک تو میں نے تم پر احسان کیا
01:54اور تمہارے مال کی حفاظت کی
01:56اور اب تم مجھ پر ہی چوری کا الزام لگاتے ہو
01:58بیچارہ رفیق گھر واپس آ گیا
02:01دو رکعت نفل نماز پڑی
02:03اور اللہ سے دعا مانگی
02:04کہ اے اللہ میں تو ہر سال
02:07اپنے مال کی زکوات بھی نکالتا ہوں
02:09اور جس مال کی زکوات ادا کر دی جائے
02:11اس کی آپ حفاظت فرماتے ہیں
02:13میرے مال کی حفاظت فرما
02:15مجھے واپس لوٹا دیں
02:17پھر اللہ کا نام لے کر عدالت پہنچا
02:19اور قاضی صاحب کو سارا واقعہ سنا دیا
02:22قاضی صاحب نے آمیر کو بلایا
02:24اور اس سے پوچھا کہ
02:25کہ رفیق نے تمہارے پاس امانت
02:27کتنے سال پہلے رکھوائی تھی
02:28اس نے کہا کہ پانچ سال پہلے
02:30اب قاضی صاحب نے تھیلی کھولی
02:32اور سکوں کو باہر نکالا
02:33اور عامر سے کہا
02:35کہ تم کہتے ہو
02:36کہ یہ سکے رفیق نے
02:37تمہارے پاس پانچ سال پہلے رکھوائے تھے
02:39جبکہ ان سکوں پر
02:41ان کے بننے کی تاریخ
02:42دو سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے
02:43اس کا مطلب ہے
02:45کہ تم جھوٹ بول رہے ہو
02:46اب جلدی سے رفیق کا مال
02:48اس کے حوالے کر دو
02:49اور سزا کے لئے تیار ہو جاؤ
02:51عامر نے شرمندگی سے
02:52اپنا سر جھکا لیا
02:54اور اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے
02:56رفیق کا مال
02:57اس کے حوالے کر دیا
Comments