00:00ایک دروش اور اس کا کمسن چلا شہر سے دور کسی جنگل میں رہتے تھے
00:04دروش اپنا زیادہ تر وقت خدا کی یاد میں گزارتا تھا
00:07اور چلا قریبی بستیوں سے بھیک مانگ کر اپنے مرشد کی خدمت کرتا تھا
00:12دروش کا دل انسانیت کے درد سے بھرا ہوا تھا
00:15اور وہ صبح شام بڑی آجزی اور تڑپ کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا
00:19کہ اے میرے پروردگار میں ایک بے بس اور بے وسیلہ انسان ہوں
00:23اور تیرے بندوں کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا
00:26لیکن اگر تو مجھے بادشاہ بنا دے تو میری زندگی کا ہر سانس بھوکے اور ننگے انسانوں کی خدمت کے
00:32لیے وقف ہوگا
00:33میں یتیم ہوں بیوہ ہوں اور نادار لوگوں کی سرپرستی کروں گا
00:37میں محتاجوں کے لیے لنگر خانے کھولوں گا
00:41میں عدل و انصاف کا بول بالا کروں گا
00:43رشوت خور اور بددیانت اہلکاروں کو عبرتناک سزائیں دوں گا
00:47مظلوم مجھے اپنی ڈھال سمجھیں گے اور ظالم میرے نام سے کامپیں گے
00:52میں نیکی اور بھلائی کو پروان چڑھاؤں گا
00:54کمسن چیلے کو پکا یقین تھا کہ کسی دن مرشد کی دعا ضرور سنی جائے گی
00:59لیکن وقت گزرتا گیا چیلہ جوان ہو گیا اور نیک دل درویش پر بڑھاپا آنے لگا
01:05آہستہ آہستہ چیلے کے یقین میں فرق آنے لگا
01:09یہاں تک کہ جب درویش دعا کے لیے ہاتھ اٹھا تھا
01:12تو وہ اس کے قریب بیٹھنے کی بجائے چند قدم دور بیٹھتا
01:15اور دبی زبان سے یہ دعا شروع کر دیتا کہ اے میرے پروردگار اب میرا مرشد بڑھا ہو چکا ہے
01:23اس کے بال سفید ہو چکے ہیں دانت جھڑ چکے ہیں اور بینائی جواب دے چکی ہے
01:28اب وہ مجھے تخت کی بجائے قبر سے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے
01:32اگر تجھے ایک نیک دل آدمی کا بادشاہ بننا پسند نہیں
01:36تو مجھے بادشاہ بنا دے
01:38میں یہ اہد کرتا ہوں کہ میرا ہر کام اپنے مرشد کی خواہشات کے الٹ ہوگا
01:43میں صدق دل سے اہد کرتا ہوں کہ میں ناداروں کو زیادہ نادار
01:48اور بے بسوں کو زیادہ بے بس اور مظلوموں کو زیادہ مظلوم بنانے کی کوشش کروں گا
01:53میں چوروں اور ڈاکوں کی سرپرستی کروں گا
01:56میں شریف لوگوں کو زلیل کروں گا اور زلیلوں کو عزت کی کرسیوں پر بٹھا دوں گا
02:01میں رشوت خور اور بددیانت اہلکاروں کی سرپرستی کروں گا
02:05ابتدا میں یہ ہوشیار چیلا چھپ چھپ کر دعائیں کرتا تھا
02:08لیکن آہستہ آہستہ اس کا حوصلہ بڑھتا گیا اور کچھ عرصے کے بعد اس کی یہ حالت تھی
02:14کہ جب مرشد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا تو وہ بھی اس کے قریب بیٹھ کر بلند آواز میں
02:19اپنی دعا دھورانا شروع کر دیتا
02:21درویش اپنی آنکھوں میں آنسوں بھر کر کہتا کہ اگر بادشاہ بن جاؤں
02:25تو عدل و انصاف نیکی اور سچائی کا بول بالا کروں
02:29اور چیلا کہکہ لگا کر کہتا
02:31کہ اگر میں بادشاہ بن جاؤں تو ظلم اور بدی کا جھنڈا بلند کروں
02:35درویش کہتا کہ میرے خزانے سے معذور اور نادار لوگوں کو وظائف ملیں گے
02:40اور چیلا کہتا کہ میں ان پر سخت جرمانے لگاؤں گا
02:44درویش اسے ڈانٹتا اور کبھی کبھی ڈنڈا اٹھا کر پیٹنا شروع کر دیتا
02:49لیکن چیلا اپنی آجزی کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹا رہا
02:53پھر وہی ہوا جو پرانے وقتوں میں ہوتا تھا
02:56یعنی ملک کا بادشاہ فوت ہو گیا اور تخت کے دعوے دار ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکال کر میدان
03:03میں آ گئے
03:03دور اندیش وزیر نے راتوں رات تمام عہدداروں کو جمع کر کے یہ تجویز دی
03:09کہ ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی ایک ہی صورت ہے
03:12کہ شہر کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں
03:15اور صبح صویرے باہر سے جو آدمی سب سے پہلے مشرقی دروازے پر دستک دے
03:20اسے بادشاہ تسلیم کر لیا جائے
03:22یہ تجویز سب نے مان لی
03:24پھر یہ ہوا کہ نیک دل درویش کا چیلا بھیک مانگنے کے لیے کسی چھوٹی بستی کی بجائے
03:29ملک کے دار الحکومت کی طرف جا نکلا
03:32صبح ہوتے ہی اس نے شہر کے مشرقی دروازے پر دستک دی
03:36پہرے داروں نے دروازہ کھول کر اسے سلامی دی
03:38اور عمرہ اسے ایک جلوس کی شکل میں شاہی محل لے گئے
03:42نئے بادشاہ نے تخت پر بیٹھتے ہی یہ حکم دیا
03:45کہ میری سلطنت میں جتنے درویش فقیر اور سادو ہیں انہیں فوراں گرفتار کر لیا جائے
03:52اس حکم پر عمل ہوا
03:53لیکن خوش قسمتی سے نئے بادشاہ کے مرشد کو پہلے ہی پتا چل گیا تھا
03:58کہ اس کے ہوشار چیلے کی دعا قبول ہو گئی ہے
04:01چنانچہ وہ سرد پار کر کے کسی دوسرے ملک میں چلا گیا
04:05اس کے بعد جو ہوا وہ کسی تشریح کا موتاج نہیں
04:08نئے بادشاہ نے اپنی دیانت داری کے ساتھ اپنے تمام برے وعدے پورے کیے
04:13نہروں کا پانی بند کر دیا
04:15کوئیں اور تالاب گندگی سے بھر دیے گئے
04:18چوروں اور ڈاکوں کو جیلوں سے نکال کر حکومت کا کاروبار سونپ دیا گیا
04:22نیک اور خدا پرست انسانوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی
04:26غرض ان دانشمندوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملتی تھی
04:29جنہوں نے ایک بھیکاری کو تخت پر بیٹھا دیکھا تھا
04:33جب نئے بادشاہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے
04:35تو عوام کے لیڈروں نے اس کے خاندان کا پتہ لگانے کی ضرورت محسوس کی
04:40سابق وزیر آزم کی قیادت میں ایک وفد کافی تلاش کے بعد
04:44بادشاہ کے مرشد یعنی درویش کی خدمت میں حاضر ہوا
04:48اور فریاد کی کہ خدا کے لیے ہمیں اس مصیبت سے نجات دلائیے
04:52بڑھا درویش اپنے چیلے کے سامنے جانے سے ڈرتا تھا
04:55لیکن لوگوں کی آہو بکا دیکھ کر وہ یہ خطرہ مول لینے پر تیار ہو گیا
05:00جب وہ دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ کو اپنے پیرو مرشد کو دیکھتے ہی
05:04اپنا ماضی یاد آ گیا اور اس نے کچھ مرعوب ہو کر کہا
05:08کہ پیرو مرشد فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں
05:12درویش نے جواب دیا کہ میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا
05:16میں صرف تمہاری رعایہ کے لیے رحم کی اپیل کرنے آیا ہوں
05:20تم اقتدار کے نشے میں وہ زمانہ بھول گئے جب بھیک مانگا کرتے تھے
05:24خدا سے ڈرو یہ سب ختم ہونے والا ہے
05:26اگر ہو سکے تو موت سے پہلے کوئی نیک کام کر لو
05:29بادشاہ نے تلخ ہو کر جواب دیا کہ دیکھئے قبلہ
05:32آپ میری برداشت کا امتحان نہ لیں
05:35یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ میرے مرشد ہیں
05:38اور میں آپ پر ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراتا ہوں
05:40آپ مجھے جی بھر کر گالیاں دے سکتے ہیں
05:42لیکن خدا کے لیے ان لوگوں کے ساتھ کسی نیکی کا مشورہ نہ دیں
05:46آپ کو یاد ہے کہ ہم دونوں ایک ہی وقت میں دعا مانگا کرتے تھے
05:50پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی دعا قبول نہ ہوئی
05:53اور قدرت نے مجھے بادشاہ بنا دیا
05:55اگر ان لوگوں کے آمال ٹھیک ہوتے
05:58اور قدرت کو ان کی بھلائی منظور ہوتی
06:00تو آپ ان کے بادشاہ بنتے
06:02لیکن یہ بدبخت تھے
06:04انہیں اچھے برے کی تمیز نہ تھی
06:05اور قدرت نے ان کی بد آمالیوں کی سزا دینے کے لیے
06:09مجھے بادشاہ بنا دیا
06:10اب میں مرتے دم تک اپنا پروگرام پورا کرتا رہوں گا
06:13اگر قدرت کو ان کی فریاد پر رحم آ جائے
06:16اور میری زندگی کے دن پورے ہو جائیں
06:18تو اور بات ہے
06:19ورنہ میری طرف سے کوئی کم ہی نہیں ہوگی
06:22نیک دل درویش نے جواب دیا
06:24برخوردار تم بالکل ٹھیک کہتے ہو
06:27اگر یہ لوگ قدرت کی طرف سے
06:29کسی بہتر سلوک کے مستحق ہوتے
06:31تو میری عمر بھر کی دعائیں زائع نہ جاتیں
06:34یہ لوگ جنہوں نے میرے بجائے تمہارے سر پر تاج رکھ دیا ہے
06:38اس قابل نہیں کہ ان پر رحم کیا جائے
06:40تم شوق سے اپنا کام جاری رکھو
06:43دوستو کیسی لگی یہ کہانی
06:45ضرور بتائیے گا
Comments