Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Shak Ek Nasoor Hai

Category

📚
Learning
Transcript
00:00شادی کے 10 سال گزر جانے کے بعد بھی جب ارسلان کے گھر بچہ پیدا نہ ہوا تو لوگوں نے
00:05ترہ ترہ کی باتیں بنانا شروع کر دیں
00:07کبھی اس کی بیوی سائمہ میں خامیہ نکالی جاتی تو کبھی ارسلان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا
00:13یہاں تک کہ ارسلان کے گھر والوں نے اسے دوسری شادی کرنے کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا تھا
00:18لیکن ارسلان سائمہ سے اتنی محبت کرتا تھا کہ وہ کسی صورت بھی اپنی زندگی میں کسی دوسری عورت کو
00:25نہیں لاسکتا تھا
00:26ہر سال وہ اس امید پر گزارتے کہ اب اللہ پاک ان کی جھولی بھر دے گا
00:30ارسلان اور سائمہ کو پوری امید تھی کہ یہ گیاروان سال ان کی زندگی میں خوشیاں لے کر آئے گا
00:36مہینے گزرتے رہے لیکن خوشخبری کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے
00:41ارسلان اب واقعی بہت پریشان تھا لیکن وہ اپنی یہ پریشانی سائمہ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا
00:48ایک دن صبح وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ گھر کے دروازے پر گاڑی کا ہارن
00:53بجا
00:54سائمہ گیٹ پر پہنچی تو گاڑی میں ایک اجنبی آدمی بیٹھا تھا جو سائمہ کو دیکھ کر گاڑی سے اترا
01:00اور اس سے کچھ باتیں کی
01:01وہ دونوں کافی دیر تک مسکرا کر باتیں کرتے رہے
01:04اس کے بعد وہ آدمی وہاں سے چلا گیا اور سائمہ واپس آ گئی
01:09ارسلان یہ سارا منظر کھڑکی سے دیکھ رہا تھا
01:12اسے حیرانی ہوئی کہ آخر یہ اجنبی کون ہے جس کے ساتھ وہ اتنی خوشی سے باتیں کر رہی تھی
01:17اس نے جان بوچھ کر سائمہ سے کوئی سوال نہیں کیا کہ شاید وہ خود بتا دے گی
01:22لیکن سائمہ نے اسے اس بارے میں کچھ بھی نہ بتایا
01:26وہ سائمہ کے اس روئی پر کافی ناراض تھا
01:29شام کو جب وہ آفس سے واپس آیا تو سائمہ گھر کے کاموں میں لگی ہوئی تھی
01:33اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی نظر آ رہی تھی
01:36ارسلان نے اب بھی اس سے کوئی سوال نہیں کیا
01:40وہ سوچوں میں ڈوبا ہوا کانچ کے جگ سے پانی نکال رہا تھا
01:44کہ اس کے کانوں میں فون کی گھنٹی بجنے کی آواز آئی
01:47جگ اسی طرح اٹھائے وہ فون کی طرف آیا
01:50یہ سائمہ کا فون تھا جس پر مسلسل کال آ رہی تھی
01:54وہ خود فون سے دور تھی
01:56ارسلان نے کال اٹھائی تو دوسری طرف سے ایک مردانہ آواز آئی
02:00میں بس تھوڑی دیر میں پہنچ کر
02:01تمہیں دنیا کی سب سے بڑی خوش خبری دیتا ہوں
02:04یہ سن کر ارسلان کے اندر آگ لگ گئی
02:07غصے میں آ کر اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا جگ فرش پردے مارا
02:11جو ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا
02:12اور ساتھ ہی فون بند کر دیا
02:14جگ گرنے کی آواز سن کر سائمہ بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی
02:18اور ہڑ بڑا کر پوچھا
02:19کیا ہوا ارسلان سب ٹھیک تو ہے
02:21اس سے پہلے کہ وہ ارسلان کو چھوٹی
02:24اس نے سائمہ کو خود سے دور کرنے کے لیے زور سے دھکا دیا
02:28وہ لڑکتی ہوئی پیٹ کے بل کانچ کے ٹکڑوں پر جا گری
02:31اور بےہوش ہو گئی
02:33اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی
02:35ارسلان نے دروازہ کھولا
02:36تو سامنے وہی اجنبی آدمی کھڑا تھا
02:38جس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا
02:41اس نے جوش سے کہا
02:42ہیلو ارسلان میں سائمہ کا کزن ہوں
02:45اور ایک ڈاکٹر بھی ہوں
02:46یہ لفافہ دیکھ رہے ہو
02:47اس میں تم دونوں کے لیے خوش خبری ہے
02:49سائمہ ماں بننے والی ہے
02:51اگلے ہی لمحے اس کی نظر سائمہ پر پڑی
02:54جو فرش پر بےہوش پڑی تھی
02:56ارسلان اب تک یہ سمجھ رہا تھا
02:58کہ سائمہ کسی اور کی وجہ سے
03:00اسے چھوڑ کر جا رہی ہے
03:01جبکہ وہ تو بس اس رپورٹ کا انتظار کر رہی تھی
03:04تاکہ ارسلان کو سرپرائز دے سکے
03:07لیکن ایک ذراسی غلط فہمی نے
03:09سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا
03:11سائمہ کی جان تو بچ گئی
03:13لیکن اس کے پیٹ میں موجود بچہ نہ بچ سکا
03:17دوستو غصے اور شک میں
03:19انسان اکثر ایسے قدم اٹھا لیتا ہے
03:21جس کا دکھ اسے پوری زندگی بھگتنا پڑتا ہے
03:25ارسلان کے ساتھ بھی بلکل ایسا ہی ہوا
03:28کیا آپ کو لگتا ہے
03:29کہ ارسلان سائمہ سے سیدھا سوال کر لیتا
03:32تو یہ حادثہ ٹل سکتا تھا
03:34ہمیں مشکل وقت میں باتچیت کا راستہ
03:36کیوں نہیں چھوڑنا چاہیے
03:38کمنٹس میں ضرور بتائیے گا
03:39اور ویڈیو کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کر لیجے گا
Comments