00:00حاجی صاحب نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں ایک فیکٹری لگا لی
00:03اب وہ دن رات وہیں رہنے لگے تھے
00:06وہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کرتے اور تھک کر وہیں گیسٹ ہاؤس میں سو جاتے
00:10لوگ ان کی اس تبدیلی پر حیران تھے
00:13کیونکہ حاجی صاحب نے اپنی زندگی کے پچھلے تیس سال عبادت اور ریاضت میں گزارے تھے
00:18اور وہ ایک پہنچے ہوئے صوفی بزرگ کے طور پر بھی مشہور تھے
00:22اللہ نے ان کی دعاوں میں اتنا اثر دیا تھا
00:24کہ دور دور سے لوگ اپنی حاجتیں لے کر ان کے پاس آتے تھے
00:27مگر پھر اچانک انہوں نے خانقہ چھوڑی اور کاروبار شروع کر دیا
00:31ان کی یہ کہانی ایک کتے سے شروع ہوئی اور کتے پر ہی ختم ہوئی
00:36حاجی صاحب کی 35 سال کی عمر تھی جب انہوں نے پہلی بار کاروبار چھوڑا تھا
00:41اس وقت ان کی گارمنٹس کی فیکٹری تھی
00:43ایک دن وہ فیکٹری پہنچے
00:45تو دیکھا کہ ایک درمیان قد کا کتہ گھسٹ گھسٹ کر گدام میں جا رہا ہے
00:50کتہ شدید زخمی تھا شاید کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا
00:53جس سے اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ چکی تھیں
00:56حاجی صاحب کو اس پر رحم آیا
00:58اور انہوں نے ڈاکٹروں کو فون کرنے کا سوچا
01:00مگر اچانک ان کے ذہن میں ایک انوکہ خیال آیا
01:03اور انہوں نے فون رکھ دیا
01:05انہوں نے سوچا کہ یہ کتہ اتنا زخمی ہے
01:07کہ خود چل کر کھانا تلاش نہیں کر سکتا
01:10اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ اسے رزق کیسے پہنچاتا ہے
01:14وہ خاموشی سے مشاہدہ کرنے لگے
01:16شام کو انہوں نے دیکھا کہ فیکٹری کے گیٹ کے نیچے سے
01:19ایک تندرست کتہ اندر داخل ہوا
01:21جس کے موں میں بوٹی تھی
01:23اس کتے نے زخمی کتے کو جگایا
01:25بوٹی خود چبا کر نرم کی
01:27اور اس کے موں میں ڈال دی
01:29پھر اس نے پانی کے حوز میں اپنی دم گیلی کی
01:32اور زخمی کتے کو چسائی
01:33تاکہ اس کی پیاس بجھ سکے
01:35یہ منظر دیکھ کر حاجی صاحب کے دل پر گہرہ اثر ہوا
01:39اور انہوں نے خود سے سوال کیا
01:41کہ اگر اللہ اس زخمی کتے کو رزق دے سکتا ہے
01:44تو کیا وہ مجھے نہیں دے گا
01:46اسی وقت انہوں نے اپنی فیکٹری اپنے بھائی کے حوالے کی
01:49اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر
01:51اللہ کی عبادت میں لگ گئے
01:52وہ تیس سال تک صوفی بابا کے نام سے مشہور رہے
01:56اور لوگ ان کے پاؤں کی خاک کو تبرک سمجھنے لگے
02:00پھر ایک دن ان کی بیٹھک میں ایک واقعہ پیش آیا
02:03صوفی بابا عقیدت مندوں کو
02:09زخمی کتے سے توقع سیکھا اور دنیا چھوڑ دی
02:12وہاں ایک نوجوان پروفیسر بھی بیٹھا تھا
02:14اس نے یہ سن کر کہہ کہہ لگایا
02:16اور کہا کہ صوفی بابا
02:18ان دونوں کتوں میں افضل وہ زخمی کتہ نہیں تھا
02:21بلکہ وہ تندرست کتہ تھا
02:23جو اسے کھانا کھلاتا تھا
02:25کاش آپ نے زخمی کتے کی مجبوری کے بجائے
02:28اس صحت مند کتے کی خدمت اور عیسار کو دیکھا ہوتا
02:31اگر آپ فیکٹری چلاتے رہتے
02:33تو آج سیکڑوں لوگوں کا چولہ جل رہا ہوتا
02:36پروفیسر نے مزید کہا
02:37کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے
02:41وہ تندرست کتہ اوپر والا ہاتھ تھا
02:43اور زخمی کتہ نیچے والا
02:45ایک سخی کاروباری انسان
02:46دس ہزار نکم درویشوں سے بہتر ہے
02:49جو صرف اپنی ذات کے لیے جیتے ہیں
02:51یہ بات صوفی بابا کے دل کو لگی
02:53اور انہیں پسینہ آ گیا
02:55انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا
02:57کہ انہوں نے توقع کا غلط مطلب لیا تھا
03:00انہوں نے اسی وقت بیٹھک کو تالہ لگایا
03:02اور دوبارہ اپنی فیکٹری کھول لی
03:04اب وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے
03:06اور کاروبار کر کے سیکڑوں خاندانوں کا سہارا بھی بنے ہوئے ہیں
03:10دوستو حقیقی توقع یہ نہیں ہے
03:13کہ انسان ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جائے
03:15اور دوسروں کا محتاج بن جائے
03:17بلکہ اصل توقع اور بندگی یہ ہے
03:20کہ انسان محنت کرے
03:21اور اس مقام پر پہنچے
03:22جہاں وہ اللہ کے دوسرے بندوں کی مدد کر سکے
03:26اللہ کو دینے والا ہاتھ زیادہ پسند ہے
03:29اس لئے آپ بھی دینے والے بنیں
Comments