00:00ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا
00:04کہ باہر سے ایک دہاتی کی صدا سنائی دی
00:07سیب لیجئے سیب تازہ تازہ سیب
00:10حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا
00:13کہ ایک کسان چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھوریاں
00:16سادہ اماما اور گرد آلودہ چغا پہنے
00:19اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے
00:24جن میں سرخ رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں
00:27بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی
00:30اس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا
00:32کہ خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو
00:34اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ
00:37وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے
00:39اور اپنے معاون سے کہا
00:41یہ چار سونے کے سکے لے لو
00:43اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ
00:46معاون نے تین سکے رکھے
00:48باقی محل کے منتظم کو دیئے اور کہا
00:50یہ تین سونے کے سکے لے لو
00:52اور ایک سیب لے آؤ
00:53محل کے منتظم نے دو سکے رکھے
00:56اور چوکی داری کے منتظم کو بلایا اور کہا
00:58یہ دو سکے لے جاؤ
01:00اور فوراں ایک سیب لاؤ
01:01چوکی داری کے منتظم نے ایک سکہ گیٹ پر
01:04موجود سپاہی کو دیا اور کہا
01:06سنو یہ لو ایک سونے کا سکہ
01:08اور وہ جو گلی کے کونے میں سیب بیچ رہا ہے
01:11اس سے سارے سیب خرید لو
01:13سپاہی تیزی سے باہر نکلا
01:14مگر سکہ دینے کے بجائے
01:16سیب فروش کو گریبان سے پکڑ کر دھاڑا
01:19او نادان دیاتی
01:20تجھے خبر نہیں
01:21کہ یہ شاہی محل ہے
01:22تیری بلند آواز نے حضور والا کی نیند میں خلل ڈال دیا ہے
01:26اب مجھے حکم ہے
01:27کہ تجھے قید کر دوں
01:28بیچارہ دیاتی تھر تھر کامنے لگا
01:31اور ہاتھ جوڑ کر گڑ گڑ آیا
01:33حضور میری خطہ معاف کیجے
01:35یہ گدھا میری ایک سال کی محنت سے کمائے گئے سیبوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے
01:40یہ سیب لے لیجے
01:41مگر مجھے قید مت کیجے
01:43سپاہی نے جلدی سے دونوں ٹوکریاں قبضے میں لے لیں
01:46کچھ سیب خود رکھے
01:47باقی چوکیداروں کے منتظم کو دے دیے
01:50اس نے ان میں سے چند سیب رکھے
01:52اور باقی اوپر کے افسر کو دے دیے
01:54ساتھ کہا
01:55کہ یہ وہ سیب ہیں
01:56جو ایک سونے کے سکے میں خریدے گئے ہیں
01:59افسر نے سیبوں میں سے کچھ اپنے لیے چنے
02:01اور باقی محل کے منتظم آلہ کو بھیج کر کہا
02:05کہ یہ دو سونے کے سکوں والے سیب ہیں
02:07منتظم آلہ نے سیبوں کو دیکھا
02:10اور کچھ چکھا
02:11باقی اسسٹنٹ وزیر کو دے دیے
02:13اور کہا
02:13یہ تین سکوں کے سیب ہیں
02:15اسسٹنٹ وزیر نے کچھ سیب رکھے
02:17باقی وزیر کے حوالے کیے
02:19اور کہا
02:19کہ یہ سیب چار سونے کے سکوں کے بدلے حاصل کیے گئے ہیں
02:23وزیر نے آخری پانچ سیب بچا کر
02:25حکمران کی خدمت میں پیش کیے
02:27اور عرض کیا کہ بادشاہ سلامت
02:29آپ نے ایک سیب کا کہا تھا
02:31مگر اس نے پانچ سونے کے سکوں کے بدلے
02:33یہ پانچ سیب دیے ہیں
02:35حاکم نے سیبوں کو دیکھ کر مسکرا کر کہا
02:37میرے دور میں کسان واقعی خوشحال ہیں
02:40ہر سونے کے سکے کے بدلے ایک سیب
02:42اب وقت آ گیا ہے
02:43کہ ٹیکس میں مزید اضافہ کیا جائے
02:46تاکہ ہم شاہی اخراجات پورے کر سکیں
02:48چند ہی دنوں میں عوام پر ایسے بھاری ٹیکس لگے
02:52کہ مزدور روٹی کو ترسنے لگے
02:54کسان قرض میں ڈوبنے لگے
02:56اور بازاریں بے رونق ہو گئیں
02:58اور پھر عوام میں غربت بڑھتی چلی گئی
03:01دوستو ظلم تباہی کی بنیاد ہے
03:03اگرچہ معمولی ہو
03:04کیونکہ چھوٹا ظلم بڑے ظلم تک لے جاتا ہے
03:07پھر وہ عادت بن جاتا ہے
03:09اور اس کے نتیجے میں ملک اور عوام
03:11دونوں ہلاک ہو جاتے ہیں
03:12سلطان کو چاہیے کہ رعایہ کے معاملات میں
03:15چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی احتیاط کرے
03:17کیونکہ ان میں غفلت فساد کا دروازہ کھول دیتی ہے
03:21ظلم صرف تلوار سے نہیں ہوتا
03:23کبھی کبھی ایک سکہ بھی
03:25ظلم کا ذریعہ بن جاتا ہے
03:26معمولی بدعنوانی جب مسلسل
03:29نظرانداز کی جائے
03:30تو وہ نظام کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے
03:33عدل کے بغیر حکومت قائم رہ سکتی ہے
03:35لیکن ظلم کے ساتھ کبھی نہیں
03:37جو حکمران فقط اطلاع پر فیصلہ کرتا ہے
03:40مگر تحقیق نہیں کرتا
03:42وہ عوام کے مقدر سے کھیلتا ہے
03:44آپ کیا کہتے ہیں
03:45کمنٹس میں بتائیے کا
Comments