00:00جاؤں کی ایک پرانی گلی کے کچھے سے مکان میں زینب بی بی رہتی تھی
00:04وہ زندگی کے کئی بڑے توفان دیکھ چکی تھی
00:07شوہر کا انتقال جوانی میں ہی ہو گیا تھا اور پیچھے تین چھوٹے بچے رہ گئے تھے
00:12اس دن کے بعد زینب بی بی کے کندوں پر ایک ایسا بوجھ آ گیا تھا
00:17جسے اٹھانے کے لیے شاید سو مردوں کی حمد بھی کم پڑ جاتی
00:21وہ دن رات محنت کرتیں کبھی کسی کے گھر جھاڑو دیتیں
00:25تو کبھی کھیتوں میں مزدوری کرتیں اور کبھی کپڑے سی کر پیسے کماتیں
00:30پیروں اور ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے چہرے پر جھوریاں آ گئیں
00:34مگر لبوں پر ہمیشہ صبر کی مسکراہٹ رہتی
00:37وہ اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی تھی
00:40اس لیے خود بھوکی رہ لیتیں مگر بچوں کو نوالہ دے کر خوش ہو جاتیں
00:45سال گزرتے گئے بچوں نے پڑھائی میں ترقی کی
00:49ماں نے اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو تعلیم دلوائی
00:52وہ رات کو چراغ کی روشنی میں بیٹھ کر ان کے کپڑوں پر پیوند لگاتی
00:57اور صبح اسکول کے خرچے کے لیے پیسے تیار رکھتیں
01:00ایک ایک کر کے بچے بڑے ہوئے
01:03تعلیم مکمل کی اور اچھی نوکریاں حاصل کر لیں
01:07زینب بی بی کے دل کو سکون ملا کہ اب ان کی محنت ضائع نہیں ہوئی
01:12پھر بچوں کی شادیوں کا وقت آیا
01:14ماں نے اپنی چادر چودیواری بیچ کر جہیز بنایا
01:17اور اپنی چوڑیاں بیچ کر ولی میں کے اخراجات اٹھائے
01:21جب بھی کسی نے کہا کہ بہو کے بغیر گھر مکمل نہیں ہوتا
01:25تو ماں نے خوشی خوشی بیٹوں کے ہاتھ پی لے کر دیے
01:28لیکن شادی کے بعد حالات بدلنے لگے
01:32بڑے بیٹے نے کہا کہ اماں بیوی کہتی ہے
01:35کہ اس چھوٹے سے گھر میں سب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے
01:38آپ کچھ دن چھوٹے بھائی کے پاس رہ لیں
01:41ماں نے کچھ نہیں کہا
01:42دل میں ہلکی سی تکلیف ہوئی
01:44مگر خاموشی اختیار کر لی
01:46بیٹے کی خوشی کی خاطر اپنی تنہائی قبول کر لی
01:50کچھ دن چھوٹے بیٹے کے پاس گزرتے
01:53تو وہاں سے بھی یہی بہانہ سامنے آتا
01:56اماں بیوی کو تنہائی پسند ہے
01:58آپ تیسرے بھائی کے پاس چلی جائیں
02:01یوں زینب بیوی ایک گھر سے دوسرے گھر تک
02:04صرف ایک مہمان بن کر رہ گئیں
02:07وہی ماں جس نے دن رات ایک کر کے ان کو پالا تھا
02:11اب اپنے ہی بیٹوں کے گھر میں اجنبی بن گئی
02:14آخر کار ایک دن سب بیٹوں نے مل کر فیصلہ کیا
02:18کہ اماں کو الگ گھر میں رہنے دیا جائے
02:21ہر بیٹے نے کچھ پیسے دینے کی ذمہ داری لے لی
02:24تاکہ اماں کی ضرورتیں پوری ہو سکیں
02:27جب زینب بیوی کو یہ بات معلوم ہوئی
02:30تو ان کے آنسوں تھم نہ سکے
02:32انہوں نے کہا کہ میں نے تمہیں ہمیشہ پیٹ بھر کر کھلایا
02:36تمہاری تعلیم کے لیے اپنی بھوک برداشت کی
02:39اور اپنی نیدیں قربان کر کے تمہیں پروان چڑھایا
02:45اور آج تم سب کو میری سانسیں بھی بوجھ لگنے لگی ہیں
02:49بیٹے سر جھکا کر خاموش کھڑے تھے
02:52مگر کسی میں اتنی ہمت نہ تھی
02:54کہ اپنی ماں کو دل سے گلے لگا سکے
02:57زینب بیوی اس دن اپنے کمرے میں دیر تک روتی رہیں
03:01انہوں نے مسلح پر بیٹھ کر اللہ سے دعا کی
03:04کہ یا اللہ میں شاید اپنے ماں باپ کی ویسی خدمت نہ کر سکی
03:09تو نے مجھے تین بیٹے دیئے
03:11تاکہ بڑھاپے کا سہارا بنے
03:13مگر یہ بھی مجھے بوجھ سمجھنے لگے
03:16یا اللہ مجھے سبر دے
03:18اور میری اولاد کو ہدایت دے
03:20اگلے دن گاؤں والوں نے دیکھا
03:23کہ زینب بی بی دروازے کے سامنے چار پائی پر خاموش پڑی ہیں
03:27ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا
03:31جیسے ساری تکلیفیں ختم ہو گئی ہوں
03:34ان کی سانسیں بند ہو چکی تھیں
03:36جب جنازہ اٹھا تو پورا گاؤں آنسوں بھا رہا تھا
03:40مگر وہ تینوں بیٹے جن کی خاطر انہوں نے اپنی جوانی قربان کر دی تھی
03:45زمین پر نظریں جھکائے کھڑے تھے
03:47شاید انہیں زندگی میں پہلی بار یہ ایسا سوا تھا
03:51کہ ماں بوجھ نہیں بلکہ دعا ہوتی ہے
03:54ماں بوجھ نہیں بلکہ جنت ہوتی ہے
03:58مت ٹٹولا کیجئے میرے لفظوں سے
04:00میری ذات اپنی ہر تحریر کا عنوان نہیں ہوں میں
04:04دوستو اس سے پہلے کہ ماں چلی جائے
04:08ماں کی خدمت کریں اور جنت حاصل کریں
Comments