Skip to playerSkip to main content
Hazrat Umar Ki Shahadat Ka Waqia | Death of Caliph Umar | Noor TV

Hazrat Umar Farooq (RA) Islam ke doosre khaleefa thay aur unka maqam Islami tareekh mein be-misaal hai. Unki shahadat ka waqia Islami tareekh ka ek sabse afsosnaak aur dukh bhara hadsa hai.

Hazrat Umar (RA) ne Islam ko mazboot banane mein azeem kirdar ada kiya aur unka dor-e-hukoomat adil aur insaaf ka mashhoor tareen dor mana jata hai. Magar kis ne is azeem sahabi ko shaheed kiya? Aur kyun?

Is video mein aap jaan sakein ge:
✅ Hazrat Umar Farooq (RA) ki shahadat ka mukammal waqia
✅ Unka qatil kaun tha aur iske peeche kaun tha?
✅ Hazrat Umar (RA) ki zindagi aur unke aakhri alfaz

Islam ki tareekh gawah hai ke Hazrat Umar (RA) ne Muslim Ummah ki taraqqi aur Islami nizaam ko behtareen tareeke se chalay magar unke dushman unke inhi kaamon se ghabra gaye. Unki shahadat ek sazish ka nateeja thi jo Islami tareekh ka ek sabse dukh bhara hissa hai.

Agar aap Islami tareekh aur Hazrat Umar Farooq (RA) ki shahadat ka asal waqia jaan'na chahte hain, to yeh video zaroor dekhein!

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Naye Islamic Updates Milti Rahein

#HazratUmar #CaliphOmer #IslamicHistory #ShahadatHazratUmar #NoorTV #DeathOfCaliphUmar #IslamicTeachings #QuranAurHadees #HazratUmarKiZindagi #IslamicLegends

Category

📚
Learning
Transcript
00:02Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
00:32Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
01:05Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
01:33Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:00Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:11Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:22Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:23Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:30Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:39Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:49Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
02:53Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
03:06Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
03:13He said to him,
03:39and I'll see you next time.
04:09. . . .
04:40. . . .
05:10. . . . .
05:11. . . . .
05:18
05:41He said,
06:11फ्रचाय और मदद पर जजा दे और ई श्थ अल्ला तुझे तेरी वदाओ और जजा कर दे और अए उमर
06:17अल्ला तुझे तेरे अदल रहम पर जजा दे ये था ह॥ज़त अमर र्जियल्हा अन्हों का अदल जो कि लिए एक
06:24मिथाल बन गया
06:25ناظرین دوسرا واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل شفقت اور عازی کی ایک بڑی مثال ہے
06:31جو ہمیں سکھاتا ہے کہ حکمران کا اصل کام عوام کی خدمت اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا
06:37ہے
06:37نہ کہ ان پر روب جمعنا یا اقتدار کے نشے میں مست رہنا
06:40یہ اس وقت کی بات تھی جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلافت کے فرائض سر انجام دے رہے
06:45تھے
06:45مدینہ کی حدود سے کچھ فاصلے پر ایک شخص اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ رات کے وقت پہنچا
06:49چونکہ آدھی رات ہو چکی تھی اور وہ ایک مسافر تھا
06:53اس لئے اس نے شہر میں داخل ہونے کے بجائے وہیں خیمہ لگا لیا تاکہ صبح ہونے پر مدینہ جا
06:58سکے
06:58مسافر کی بیوی حاملہ تھی اور ولادت کا وقت قریب آ چکا تھا
07:02رات کی تاریخی میں درد زہ کی شدت سے وہ کرانے لگی
07:05یہ ایک مسافر کا درد تھا ایک بے بس انسان کی بے بسی تھی
07:09جسے نہ کسی مددگار کا علم تھا نہ کسی سہولت کی دستیابی کا
07:13ادھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے روایت تگشت پر تھے
07:17رات کے وقت وہ مدینہ کی گلیوں میں پھرتے
07:19تاکہ خود اپنی آنکھوں سے عوام کے حالات دیکھ سکیں
07:22ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا
07:24جب وہ شہر کی حدود کے قریب پہنچے
07:26تو انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ آگ جل رہی ہے
07:28اور ایک خیمہ لگا ہوا ہے
07:30یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر رک گئے
07:39اور اس شخص سے اس بارے میں پوچھا
07:41تو اس نے بے روخی سے جواب دیا
07:42تمہیں اس سے کیا مطلب
07:44ہم یہاں مہمان ہیں اور صبح ہونے پر مدینہ میں چلے جائیں گے
07:47غلام نے آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو صورتحال بتائی
07:51حضرت عمر خود اس شخص کے پاس گئے
07:52اور نہای شفقت سے اس سے پوچھا کیا بات ہے
07:54کوئی پریشانی ہے
07:55خیمہ سے کسی کے کراہنے کی آواز آ رہی ہے
07:58مسافر نے پھر وہی جواب دیا
08:00جو غلام کو دیا تھا
08:01مگر جب حضرت عمر نے اسرار کیا
08:03تو اس نے بتایا میری بیوی حاملہ ہے
08:05اور اس کا وقت قریب ہے
08:07میں مدینہ امیر المومنین حضرت عمر سے ملنے آیا ہوں
08:10لیکن رات زیادہ ہو چکی تھی
08:12اس لیے یہیں قیام کر لیا
08:13مگر اب میری بیوی شدید تکلیف میں ہے
08:15اور میرے پاس کوئی مدد نہیں
08:17یہ سنتے ہی حضرت عمر کے دل پر ایک چوٹ سی لگی
08:20ایک مسافر ایک غریب شخص
08:22جو صرف ان سے ملنے آیا تھا
08:23آج رات کی سیاہی میں ایک بہت بڑی
08:25آزمائش سے گزر رہا تھا
08:27وہ ایک لمحہ بھی زائے کیے بغیر تیزی سے پلٹے
08:29اور سیدھے گھر پہنچے
08:31گھر پہنچ کر حضرت عمر نے اپنی زوجہ سے کہا
08:33کیا تم ایک مسافر عورت کی مدد کرو گی
08:35ان کی زوجہ نے حیرانی سے پوچھا
08:37کون ہے وہ
08:38اور کیا ضرورت تان پڑی ہے
08:40حضرت عمر نے جواب دیا
08:41مدینہ کی حدود کے باہر ایک مسافر
08:43اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ ہے
08:44اور وہ شدید درد میں مبتلا ہے
08:46تم اس کی مدد کرو گی
08:47بیوی نے بلا جھجک کہا
08:49کیوں نہیں
08:49ضرور کروں گی
08:51حضرت عمر نے
08:52فوراں ہی ایک تھیلی میں کھانے پینے کا سامان رکھا
08:54اور اپنی زوجہ سے کہا
08:55وہ کچھ گھی اور دانے لے لیں
08:57جبکہ خود لکڑیاں
08:58اپنے کاندھے پر رکھ لیں
08:59غور کیجئے
09:00یہ وہ شخص ہے
09:01جس کے عدل کی گواہی دشمن بھی دیتے تھے
09:03وہی عمر
09:04آج ایک عام آدمی کے لئے لکڑیاں اٹھا رہے ہیں
09:06جب حضرت عمر
09:07اور ان کی زوجہ وہاں پہنچے
09:09تو فوراں کام میں لگ گئے
09:10زوجہ اندر جا کر
09:11مسافر کی بیوی کے دیکھ بھال کرنے لگی
09:13جبکہ حضرت عمر باہر موجود رہے
09:15وہ شخص بے خبر تھا
09:16کہ جسے
09:16وہ ایک عام چوکی دار سمجھ رہا ہے
09:18وہی مدینہ کا خلیفہ ہے
09:20مسافر کبھی پانی مانگتا
09:22تو حضرت عمر فوراں پانی لے کر حاضر ہو جاتے
09:24کبھی وہ گھبراہت میں پوچھتا
09:25کہ تمہاری بیوی کو یہ سب کام کرنا آتا ہے
09:28تو حضرت عمر مسکرا کر کہتے
09:29ہاں انشاءاللہ وہ سب سمحال لے گی
09:32یہاں تک کہ جب بچے کی ولادت ہو گئی
09:34تو حضرت عمر کی زوجہ نے اندر سے آواز دی
09:36یہ عامیر المومنین بیٹا ہوا ہے
09:38یہ سننا تھا کہ وہ مسافر چونک گیا
09:40اس کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی تھی
09:42اس نے فوراں پوچھا
09:43کیا عامیر المومنین
09:45کیا آپ ہی حضرت عمر ہیں
09:46جب اسے یقین آئے کہ وہ
09:48واقعی حضرت عمر فاروق ہیں
09:49تو وہ زمین پر گر پڑا اور رونے لگا
09:51اس نے کہا وہ عمر جس کے عدل کی مثالیں دی جاتی ہیں
09:54وہی عمر جس کا روب
09:56قیسر و کسرہ پر تاری ہے
09:57وہی عمر جس کے بارے میں
09:59رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:00نے دعا مانگی تھی
10:01وہ خود میری خدمت کر رہے تھے
10:03حضرت عمر نے اسے اٹھایا اور شفقت سے کہا
10:05بیٹا تمہیں معلوم نہیں کہ تم کہاں آئے ہو
10:07تم میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
10:10مدینے میں ہو
10:11یہاں غریبوں کا استقبال ہوتا ہے
10:13یہاں بادشاہوں کیلئے نہیں
10:15بلکہ یتیموں مسکینوں
10:16اور مظلوموں کیلئے دروازے کھلتے ہیں
10:19یہاں عزت مال و دولت سے نہیں
10:21کردار اور تقوی سے ملتی ہے
10:23بھی کہہ کر حضرت عمر فاروق کی آنکھوں میں آنسو آگئے
10:25وہ مسافر بزار و قطار رونے لگا
10:27اور حضرت عمر نے اسے گلے لگا لیا
10:29یہی وہ عدل و انصاف تھا
10:31جس کی بادورت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام
10:34آج بھی زندہ ہے
10:35اور رہتی دنیا تک رہے گا
10:37ناظرین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی
10:40کا ہر پہلو ایک منفرد شان
10:41اور غیر معمولی خصوصیات کا حامل ہے
10:44ان کی بہادری دیانتداری
10:45عدل و انصاف اور اسلامی تعلیمات سے
10:48بے پناہ محبت نے انہیں تاریخ کا
10:49ایک روشن ستارہ بنا دیا
10:51ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ
10:53نہایت ایمان افروز اور حیرت انگیز ہے
10:55جو اس بات کا ثبوت ہے
10:57کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت دینا چاہتا ہے
10:59تو اس کے لئے راستے خود کھول دیتا ہے
11:01چاہے وہ ابتدا میں اسلام کا سخت ترین دشمن ہی کیوں نہ ہو
11:05روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے
11:07زمانہ جاہلیت میں
11:08ایک کاہن ان کے پاس سے گجرا
11:10حضرت عمر نے اس سے کہا
11:12کوئی ایسی حیرت انگیز خبر سناؤ جو تمہیں
11:14تمہارے موکل جنہوں نے دی ہو
11:15اس کاہن نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا
11:18عمر یہ دنیا بہت بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے
11:21میں ایک دن بازار میں جا رہا تھا
11:23کہ اچانک میری موکل جنیا میرے پاس آئی
11:25وہ شدید خوفزدہ اور گھبرائی ہوئی تھی
11:27میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا
11:29تو وہ کہنے لگی
11:30جنات میں زبردست حلچل مچ چکی ہے
11:32وہ سب نہایت خوفزدہ اور مایوس ہو چکے ہیں
11:35ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے
11:37ان کی دنیا اُلٹ گئی ہو
11:38ان کے عقائد و طریقے ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں
11:41وہ اپنا سامان سمیٹ رہے ہیں
11:42اور کسی انجان خوف کے زیر اثر بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں
11:46یہ بات سنکا
11:47عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے
11:48اس کی تعاید کی اور کہا
11:50یہ بات بالکل درست ہے
11:51میں خود اس کی گواہی دیتا ہوں
11:53ایک دن میں ہمارے بتوں کے پاس سو رہا تھا
11:55کہ اچانک ایک آدمی آیا
11:56اس نے وہاں ایک بچڑا زبا کیا
11:58اور جیسے ہی وہ زبا کیا
12:00اس بط کے اندر سے
12:01ایک زبردست اور لرزہ خیز چیخ سنائے دی
12:04ایسی چیخ جو میں نے
12:05اسے پہلے کبھی نہیں سنی تھی
12:07وہ آباز مسلسل یہی کہہ رہی تھی
12:09ہائے ہم مارے گئے
12:10ہم تباہ ہو گئے
12:12ایک عظیم المرتبت
12:13اور فسی و بلیغ انسان آ گیا ہے
12:15جو صرف ایک ہی معبود کی بات کرتا ہے
12:17اور کہتا ہے
12:18لا الہ الا اللہ
12:20میں یہ سن کر حیران رہ گیا
12:22لیکن پھر میں نے زیادہ غور نہیں کیا
12:24اور اپنی عام زندگی میں مگن رہا
12:26مگر کچھ دنوں بعد ہم نے سنا
12:28کہ واقعی ایک نبی کا ظہور ہو چکا ہے
12:30جو کہتا ہے کہ
12:31اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
12:32وہ لوگوں کو
12:34ایک خدا کی عبادت کی دعوت دے رہا ہے
12:35یہ واقعہ ایک باز اشارہ تھا
12:38کہ کوئی غیر معمولی
12:39اور آسمانی حقیقت
12:40حضرت عمر کے دل میں جگہ بنا رہی تھی
12:42مگر وہ ابھی بھی
12:44اپنے سخت گیر مزاج کے باعث
12:46اسلام کے سخت دشمن تھے
12:47ناظرین یہاں
12:49حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے
12:50قبول اسلام کا واقعہ بھی سنتے جائیں
12:52ایک روز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
12:54اپنی تلوار لٹکایا غصے میں بھرے ہوئے نکلے
12:57راستے میں بنو زہرہ قبیلے کے
12:59ایک شخص سے ملاقات ہوئی
13:00اس نے پوچھا
13:01اے عمر کہاں جا رہے ہو
13:02حضرت عمر نے غصے میں کہا
13:03محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
13:05قتل کرنے جا رہا ہوں
13:07وہ ہمارے آبا و اجداد کے دین کو بدل رہے ہیں
13:09ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہیں
13:11اور لوگوں کو بہکا رہے ہیں
13:13وہ شخص مسکر آیا
13:14اور کہا
13:15عمر
13:16تمہیں معلوم ہے
13:17کہ اگر تم نے ایسا کیا
13:18تو بنی حاشم
13:19اور بنی زہرہ کے انتقام سے کیسے بچ ہوگے
13:22ان کا پورا قبیلہ
13:23تمہارے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا
13:25حضرت عمر نے بھمیں چڑھائیں اور کہا
13:27کہ تم بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکار ہو چکے ہو
13:30اس شخص نے
13:32ایک اور حیرت انگیز خبر دی اور کہا
13:34اے عمر
13:35میں تمہیں اس سے بھی زیادہ حیران کن بات بتاؤں
13:37تمہاری اپنی بہن فاطمہ
13:39اور تمہارے بہنوئی بھی اسلام قبول کر چکے ہیں
13:41یہ سن کر حضرت عمر کا غصہ اور بڑھ گیا
13:44اور وہ سیدھے
13:46اپنی بہن کے گھر پہنچے
13:47دروازہ کھٹ کھٹ آیا
13:48اندر سے قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی
13:57ان کی بہن کا چہرہ خون سے بھر گیا
13:59مگر اس کے باوجود وہ ایمان پر مضبوط رہی
14:02اس نے کہا عمر
14:03تم جو چاہو کر لو
14:04ہم اپنے دین سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
14:06یہ الفاظ حضرت عمر کے دل میں تیر کی طرح لکے
14:09وہ یکتم خاموش ہو گئے
14:10پھر انہوں نے کہا وہ کتاب مجھے دو
14:12جس سے تم پڑھ رہے تھے
14:13بہن نے کہا تم نجس ہو پہلے وضو کرو
14:16حضرت عمر نے وضو کیا اور سورة تاہہ کی
14:18یہ آیات ان کی نظر سے گزریں
14:29یہ الفاظ سنتے ہیں ان کے جسم پر لرزہ تاری ہو گیا
14:32آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
14:34ان کے دل نے گواہی دی کہ
14:35واقعی یہی دین حق ہے
14:36حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فوراں
14:39نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:41کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے نکلے
14:42اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:46دار ارقم میں تشریف فرما تھے
14:48جب صحابہ اکرام نے حضرت عمر کو
14:49دروازے پر دیکھا تو گھبر آ گئے
14:51حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
14:53اگر عمر اچھے ارادے سائے ہیں
14:55تو ٹھیک ورنہ آج وہ یہاں سے زندہ نہیں جائیں گے
14:57ورنہ آج وہ یہاں سے زندہ نہیں جائیں گے
15:00حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:03عمر کو اندر آنے دو
15:04جب حضرت عمر اندر داخل ہوئے
15:06تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے
15:08انہوں نے عرص کیا
15:09یا رسول اللہ
15:10میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہوں
15:12یہ سنتے ہی پورا مکان نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا
15:15صحابہ اکرام نے خوشی صلی اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے
15:18جن کے آواز پورے مکہ میں گونج گئی
15:21ناظرین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے
15:23بعد میں چوبیس لاکھ مربہ میل پر حکومت کی
15:28لیکن ان کی حکمرانی غرور و تکبر سے نہیں
15:31بلکہ عادل سے بھری ہوئی تھی
15:33وہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں پہرہ دیتے
15:35عوام کے مسائل خود دیکھتے
15:37وہ فرمایا کرتے تھے
15:39اگر فراد کے کنارے کوئی کتہ بھی پیاسا مر گیا
15:41تو قیامت کے دن مجھ سے اس کا حساب لیا جائے گا
15:43یہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کردار تھا
15:46جو تاریخ میں ہمیشہ کے لئے عمر ہو چکا ہے
15:49حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی
15:51زندگی عدل و انصاف دیانتداری
15:54اور تقویٰ کا عالی نمونہ تھی
15:55ان کے فیصلے اور طرز حکمرانی
15:58نہ صرف ان کے دور کے لوگوں کے لئے مشلے راہ تھے
16:01بلکہ آج بھی حکمرانوں کے لئے ایک مثال ہیں
16:03ان کی سادگی خود احتسابی
16:05اور عوامی خدمت کے جذبے کی
16:07بے شمار مثالیں تاریخ میں محفوظ ہیں
16:09ایک مرتبہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد
16:12حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
16:14اپنے گھر آئے اور کسی ذاتی کام میں
16:15مصروف ہو گئے
16:16اسی دوران ایک شخص حاضر ہوا
16:18اور اپنے کسی مقدمے کے فیصلے کے لئے
16:20آپ سے مدد طلب کرنے لگا
16:21حضرت عمر کو یہ بات ناغوار گزری کے دربار میں آنے کے بجائے
16:25وہ شخص اب وقت فرصت میں ان کے پاس آیا تھا
16:28غصے میں آ کر آپ نے اس شخص کو درہ مارا اور فرمایا
16:31جب میں عدالت لگاتا ہوں تو تم نہیں آتے
16:33اور جب میں اپنے ذاتی امور میں مشغول ہوتا ہوں
16:35تو تم اپنے مقدمے لے کر آ جاتے ہو
16:37تاہم بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو
16:39اپنی اس حرکت کا شرید احساس ہوا
16:41کہ انہوں نے اس شخص کے ساتھ زیادتی کی ہے
16:43فوراں اس شخص کو بلوایا
16:45درہ اس کے ہاتھ میں دیا
16:46اور اپنی پیٹھ آگے کر کے فرمایا
16:48مجھے بھی ویسا ہی درہ مارو
16:50کیونکہ میں نے تم پر زیادتی کی ہے
16:52وہ شخص شرمندہ ہوا
16:54اور عرض کی امیر المومنین
16:56میں نے آپ کو معاف کیا
16:57مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسرار کیا
16:59کہ قیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا
17:01اس لئے ابھی بدلہ لے لو
17:02اس دوران وہ روتے جا رہے تھے
17:04اور فرماتے جا رہے تھے
17:05عمر ایک شخص تیرے پاس
17:07اپنا حق لینے آیا تھا
17:08اور تُو نے اسے درہ مار دیا
17:09کیا تُو سمجھتا ہے
17:11کہ تُو ہمیشہ زندہ رہے گا
17:12اللہ نے تجھے اسلام کی دولت سے نوازا
17:14لیکن تُو پہلے ایک کام چرواہا تھا
17:16تُو پہلے ظالم تھا
17:18تُو کافر تھا
17:19اے عمر
17:19تجھے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا
17:21یہ کہتے ہوئے آپ دیر تک روتے رہے
17:23اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہے
17:25ایک روز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
17:27مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے
17:29کہ انہیں بڑی مقدار میں
17:30غلہ زخیرہ کیا ہوا نظر آیا
17:33جب آپ نے دریافت کیا
17:34تو معلوم ہوا
17:34کہ غلہ تجارت کے لئے رکھا گیا ہے
17:36آپ نے خوش ہو کر فرمایا
17:38اللہ اس نے برکت دے
17:39اس کے مالک کو بھی برکت عطا فرمائے
17:41مگر جب آپ کو معلوم ہوا
17:43کہ یہ زخیرہ اندوزی کا مال ہے
17:44تو آپ کا چہرہ سختی سے سرخ ہو گیا
17:46دریافت کرنے پر معلوم ہوا
17:48کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے
17:50ایک غلام فروغ
17:51اور آپ ہی کے ایک غلام نے
17:53یہ زخیرہ کر رکھا تھا
17:54دونوں کو فوراں بلا بھیجا
17:56اور پوچھا
17:56تم نے مسلمانوں کی غزائے ضروریات کی
17:58زخیرہ اندوزی کیوں کی
18:00انہوں نے جواب دیا
18:01ہم نے یہ اپنے پیسوں سے خریدا ہے
18:03اور ہمیں اختیار ہے
18:04کہ جیسے چاہیں بیچیں
18:05حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
18:06سختی سے فرمایا
18:07میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:10کو فرماتے سنا ہے
18:11کہ جو شخص مسلمانوں کی غزائے ضروریات کی
18:13زخیرہ اندوزی کرے
18:15اللہ تعالیٰ اسے تنگ دستی
18:16اور کوڑ کے مرز میں مبتلا کر دیتا ہے
18:18یہ سنتے غلام فروغ
18:20کانپ اٹھا
18:20اور فوراں توبہ
18:21اور فوراں توبہ کر لی
18:23کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا
18:24مگر دوسرا غلام بزید رہا
18:26کہ وہ اپنا مال جیسے چاہے بیچ سکتا ہے
18:27بعد میں لوگوں نے دیکھا
18:29کہ وہ واقعی کوڑ کے مرز میں مبتلا ہو گیا
18:31ناظرین حضرت عمر رضی اللہ عنہ
18:33اپنی خواہشات پر مکمل قابو رکھتے تھے
18:36اور اپنی ریاعہ جیسی ہی زندگی بسر کرتے تھے
18:39ایک دن آپ کے دل میں
18:40مچھلی کھانے کی خواہش پیدا ہوئی
18:42آپ نے اپنے وفادار غلام یرقہ سے فرمایا
18:44آج مچھلی کھانے کا دل چاہ رہا ہے
18:46مگر مسئلہ یہ کہ دریہ مدینے سے
18:48آٹھ میل دور ہے
18:50اور وہاں جا کر مچھلی خریدنا اور واپس آنا
18:52ایک مشقت بھرا کام ہوگا
18:53اس لئے رہنے دو
18:55غلام نے یہ سن کر دل میں سوچا
18:57کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے
18:58شاید زندگی میں پہلی مرتبہ کوئی خواہش ظاہر کی ہے
19:01اور میں اسے پورا نہ کروں
19:03ایسے کیسے ہو سکتا ہے
19:04چنانچہ جیسے ہی حضرت عمر
19:06زہر کی نماز پڑھنے گئے
19:07غلام نے ایک بہترین نسل کا تیز رفتار گھوڑا لیا
19:11اور دریا کی طرف روانہ ہو گیا
19:13وہاں سے مچھلی خریدی
19:15اور اثر کی نماز سے پہلے واپس پہنچ گیا
19:17واپسی پر اس نے مچھلی تھنڈی جگہ پر رکھ دی
19:19تاکہ حضرت عمر کو معلوم نہ ہو
19:21کہ گھوڑا لمبہ سفر کر کے آیا ہے
19:24اس نے گھوڑے کو دو کر تیار کیا
19:27مگر گھوڑے کے کانوں کے پیچھے پسینہ باقی رہ گیا
19:30جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے
19:32اور غلام نے کہا کہ مچھلی کا انتظام ہو گیا ہے
19:35تاکہ فوراں گھوڑے کے پاس گئے
19:36اس کی پشت اور ٹانگوں پر ہاتھ پھیرا
19:38اور پھر کانوں کے پیچھے دیکھ کر بولے
19:40یرقہ
19:41یرقہ تم نے پورے گھوڑے کو دھو دیا
19:43مگر کانوں کے پیچھے پسینہ خوش کرنا بھول گئے
19:46یہ سن کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمین پر بیٹھ گئے
19:49رونے لگے
19:49پھر فرمایا
19:50یرقہ مجھے تیری وفاداری پر کوئی شک نہیں
19:52مگر میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں
19:55میں تو بس اللہ سے یہی دعا مانگتا ہوں
19:57کہ میری نیکیاں اور برائیاں
19:58برابر کر دے اور مجھے معاف فرما دے
20:00اس کے بعد آپ نے کہا
20:01یہ بتاؤ اگر قیامت کے دن یہ گھوڑا
20:04اللہ کے حضور فریاد کرے
20:05کہ عمر نے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے
20:07مجھ سے سولہ میل کا سفر کر آیا
20:09تو میں کیا جواب دوں گا
20:10یہ سن کر غلام یرقہ شدت سے رونے لگا
20:13حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
20:14اس مچھلی کو مدینہ کے غریبوں میں تقسیم کر دو
20:17اور ان سے دعا کی درخواست کرو
20:19کہ وہ عمر کی مغفرت کے لیے دعا کریں
20:20یہ باقیات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی
20:23غیر معمولی عدل
20:25دیانتداری سادگی
20:26اور خوف خدا کی بہترین مثالیں ہیں
20:28ان کی زندگی کا
20:29ان کی زندگی کا ہر لمحہ
20:31ایک حکمران کے لیے نصیحت ہے
20:33کہ اقتدار
20:34طاقت اور دولت
20:35انسان کو مغرور نہیں
20:36بلکہ مزید ذمہ دار بناتی ہے
20:38ناظرین اگلا واقعہ
20:40حضرت عمر بن خطاب
20:40رضی اللہ عنہ کی
20:41عدل تقوی
20:42اسلامی حمیت
20:44اور اللہ پر کامل بھروسی کی
20:46بہترین مثال ہے
20:47حجرت کے پندروے سال
20:48جب اسلامی لشکر کے قائدین
20:50حضرت عمر بن عاص
20:51شرجیل بن حسنہ
20:52اور ابو عبیدہ بن جرہ
20:54رضی اللہ عنہ کو
20:55مقدس اور زمین کی حکمرانی
20:57سمالنے کے لیے بھیچا گیا
20:58تو وہاں کے مسیحی حکمران
21:00پادری جعفر بن بیروز نے
21:02شہر کی چابیاں
21:03ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا
21:05پادری کا کہنا تھا
21:06کہ ان کی مذہبی کتابوں میں درج ہے
21:07کہ جس شخص کے ہاتھوں میں
21:09یہ شہر فتح ہوگا
21:10اس کی کچھ مخصوص نشانیاں ہوں گی
21:12جو وہ ان قائدین میں نہیں دیکھ رہے
21:14اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے
21:15اسلامی لشکر کے سپے سالاروں نے
21:17امیر المومنین
21:18حضرت عمر بن خطاب
21:19رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا
21:21کہ آپ خود یہاں تشریف لائیں
21:23تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے
21:25یہ خبر ملنے پر
21:26حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
21:27سفر کا ارادہ فرمایا
21:29اور اپنے غلام کے ہمراہ روانہ ہوئے
21:30راستے میں عدل و مساوات کا ایسا منظر نظر آیا
21:33جو تاریخ میں سنہر حروف سے لکھا گیا
21:35دونوں باری باری سواری پر سوار ہوتے
21:37اور کبھی کبھی دونوں ہی پیدل چلنے لگتے
21:40تاکہ جانور پر زیادہ بوجھ نہ پڑے
21:42جب آپ شام کی حدود میں
21:44جب آپ شام کی حدود میں داخل ہونے لگے
21:46تو راستے میں کیچڑ کا سامنا ہوا
21:48حضرت عمر رضی اللہ عنہ
21:49اونٹنی سے اترے
21:50اپنے جوتے ہاتھ نے اٹھائے
21:52اور اونٹنی کے لگام تھام کر
21:53کیچڑ عبور کرنے لگے
21:55یہ منظر دیکھ کر
21:57حضرت ابو عبیدہ بن جرہ رضی اللہ عنہ نے ارس کیا
21:59امیر المومنین
22:01شام کے موجز شہری
22:02اور حکمران آپ سے ملنے آ رہے ہیں
22:04اور آپ اس حال میں ہیں
22:05حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
22:07اے ابو عبیدہ
22:08اگر عباد کسی اور نے کہی ہوتی تو
22:10میں اسے امت محمدیہ کے لئے عبرت بنا دیتا
22:12ہم وہ قوم ہیں جسے
22:14اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی ہے
22:15اگر ہم اسے چھوڑ کر
22:17کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے
22:18تو اللہ ہمیں ظلیل کر دے گا
22:20یہاں سے سفر جاری رہا
22:22اور اتفاق ایسا ہوا
22:23کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ
22:25شہر کے قریب پہنچے
22:26تو سواری کی باری غلام کی تھی
22:28اور آپ خود پیدر چل رہے تھے
22:30جب شہر میں داخل ہوئے تو
22:31حکمران نے
22:32حیرت سے آپ کو دیکھا
22:33آپ کے لباس پر نظر ڈالی
22:35جس میں سترہ پیون لگے ہوئے تھے
22:37اس نے فوراں شہر کی چاوییں
22:39آپ کے حوالے کر دیں
22:40پھر کہنے لگا
22:41ہماری کتابوں میں لکھا تھا
22:42کہ فاتح وہ ہوگا
22:43جو پیدر داخل ہوگا
22:44اس کا غلام
22:45سوار ہوگا
22:47ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
22:48ہم امید کرتے ہیں
22:50کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:51ضرور پسند آئی ہوگی
22:52اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:54پسند آئی ہے
22:54تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
22:55کہ آپ ہماری چینل کو
22:56ضرور سبسکرائب کر لیں
22:57اور ساتھ ہی لگے
22:58بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
23:00تاکہ آپ کے پاس
23:01ہماری آنے والی
23:02مزید معلوماتی ویڈیوز کا
23:03نوٹفیکشن بھروقت ملتا رہے
23:05سبسکرائب کے ساتھ ساتھ
23:06ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
23:07اور اپنی قیمت رائے کا اظہار
23:09کمنٹس میں ضرور کریں
23:10کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی
23:11ہم تک پہنچا سکتے ہیں
23:13اللہ تعالیٰ آپ کو
23:14اپنے حفظ و مان میں رکھے
23:15آمین
Comments

Recommended