00:00قانون کی ایک کلاس میں استاد نے ایک طالب علم کو کھڑا کیا
00:03اس کا نام پوچھا اور پھر بغیر کسی وجہ کے اسے کلاس سے باہر نکل جانے کا حکم دیا
00:09طالب علم نے وجہ جاننے کی کوشش کی اور اپنے دفاع میں کئی باتیں کہنا چاہیں
00:14مگر استاد اپنی بات پر اڑا رہا اور اس کی ایک نہ سنی
00:18وہ طالب علم انتہائی دکھی دل کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا
00:22وہ محسوس کر رہا تھا کہ اس کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے
00:25حیرت کی بات یہ تھی کہ باقی تمام طلبہ یہ سب دیکھ کر بھی سر جھکائے خاموشی سے بیٹھے رہے
00:31لکچر شروع کرتے ہوئے استاد نے طلبہ سے ایک سوال پوچھا
00:35قانون کیوں بنائے جاتے ہیں
00:37ایک طالب نے جواب دیا کہ لوگوں کے روئیوں کو قابو رکھنے کے لیے
00:41دوسرے طالب علم نے کہا کہ معاشرے میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے
00:45تیسرے نے کہا تاکہ کوئی طاقتور کسی کمزور پر زیادتی نہ کر سکے
00:50استاد نے سب کے جواب سنے اور کہا کہ یہ سب جواب تو ٹھیک ہیں مگر مکمل نہیں ہیں
00:56تب ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر کہا تاکہ عدل و انصاف قائم کیا جا سکے
01:00استاد نے خوش ہو کر کہا جی ہاں بلکل یہی وہ جواب ہے جو میں سننا چاہتا تھا
01:06قانون کا اصل مقصد عدل کو غالب کرنا ہے
01:10استاد نے پھر پوچھا لیکن عدل و انصاف کا فائدہ کیا ہوتا ہے
01:14ایک طالب علم نے جواب دیا تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہو سکے اور کوئی کسی پر ظلم نہ
01:20کر سکے
01:21اس بار استاد نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پوچھا
01:24اچھا اب مجھ سے ڈرے بغیر اور سچ سچ جواب دو
01:28کیا میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہارے ساتھی کو کلاس سے نکال کر اس کے ساتھ کوئی ظلم یا
01:33زیادتی کی ہے
01:34تمام طلبہ نے ایک زبان ہو کر جواب دیا
01:37جیاں سر آپ نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے
01:40یہ سن کر استاد غصے سے انچی آواز میں بولا
01:43اگر تم سب مانتے ہو کہ ظلم ہوا ہے
01:45تو پھر تم سب خاموش کیوں بیٹھے رہے
01:47ایسے قوانین کا کیا فائدہ
01:49جن پر عمل کروانے کے لیے کسی کے اندر حمت اور جرت ہی نہ ہو
01:53جب تمہارے ساتھی کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی
01:55اور تم سب خاموش تھے
01:57تو اس کا مطلب یہ تھا
01:58کہ تم اپنی انسانیت کھو چکے تھے
02:01یاد رکھو جب انسانیت ختم ہو جائے
02:03تو اس کا کوئی متبادل نہیں ہوتا
02:05اس کے بعد استاد نے باہر کھڑے طالبِ علم کو اندر بھلایا
02:09سب کے سامنے اس سے اپنی اس زیادتی پر معافی مانگی
02:13اور باقی طلبہ کی طرف دیکھ کر کہا
02:15یہی تمہارا آج کا اصل سبق ہے
02:17اب جاؤ اور معاشرے میں ایسی نائنصافیاں تلاش کرو
02:20اور انہیں دور کرنے کے لیے قانون کا صحیح استعمال سوچو
02:24دوستو قانون صرف کتابوں میں لکھے ہوئے الفاظ کا نام نہیں ہے
02:28بلکہ قانون کی اصل طاقت وہ لوگ ہیں
02:30جو نائنصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی جررت رکھتے ہیں
02:34اگر معاشرے کے افراد خاموش تماشائی بن جائیں
02:37تو بہترین قوانین بھی ظلم کو نہیں روک سکتے
02:40ایک سوال
02:41کیا آپ کو لگتا ہے کہ خاموشی اختیار کرنا بھی
02:45ظالم کا ساتھ دینے کے برابر ہے
02:47کمنٹس میں بتائیے کا
Comments