Pakistan ka mustaqbil hamesha se ek aisa mauzu raha hai jis par logon ki gehri nazar rehti hai. Aaj ke daur mein jab duniya bhar mein siyasi aur mazhabi tensions barh rahe hain, to log phir se purani peshgoiyon ki taraf rujoo kar rahe hain. Khaas taur par Hazrat Nematullah Shah Wali ki 800 saal purani peshgoi ko le kar ek nayi behas shuru ho chuki hai. Kya waqai Pakistan ke liye koi aisa mustaqbil likha ja chuka hai jo ab dheere dheere zahir ho raha hai?
Is video mein hum tafseel se baat karenge ke is peshgoi mein Pakistan ke baray mein kya kaha gaya tha, aur kya aaj ki duniya ki halat — jaise Iran aur Israel ke darmiyan tanav, Saudi Arabia ki strategy, aur Middle East ki badalti siyasat — in tamam cheezon ka koi taluq is peshgoi se jura hua hai ya nahi. Aap dekhenge ke kaise kuch waqiat aur current global scenario is baat ki taraf ishara karte hain ke duniya ek naye mor par khari hai.
Hum is baat ka bhi jaiza lenge ke kya yeh sirf ittefaq hai ya phir waqai ek aisi haqeeqat hai jise hum nazar andaaz kar rahe hain. Agar yeh peshgoi sach hoti hai to Pakistan ka kirdar mustaqbil mein kya ho sakta hai? Kya Pakistan ek bari quwwat ban kar ubhrega ya phir yeh sirf afwahon aur tashreehon ka natija hai?
Yeh video aap ko sochne par majboor kar dega. Aakhir tak zaroor dekhein kyun ke har naya nukta aap ke liye ek nayi soch ka darwaza kholega.
#PakistanFuture #NematullahShahWali #PakistanPrediction #MiddleEastCrisis #IranIsraelTension #SaudiArabia #GlobalPolitics #IslamicWorld #BreakingNews #FutureOfPakistan #NOORTV
Is video mein hum tafseel se baat karenge ke is peshgoi mein Pakistan ke baray mein kya kaha gaya tha, aur kya aaj ki duniya ki halat — jaise Iran aur Israel ke darmiyan tanav, Saudi Arabia ki strategy, aur Middle East ki badalti siyasat — in tamam cheezon ka koi taluq is peshgoi se jura hua hai ya nahi. Aap dekhenge ke kaise kuch waqiat aur current global scenario is baat ki taraf ishara karte hain ke duniya ek naye mor par khari hai.
Hum is baat ka bhi jaiza lenge ke kya yeh sirf ittefaq hai ya phir waqai ek aisi haqeeqat hai jise hum nazar andaaz kar rahe hain. Agar yeh peshgoi sach hoti hai to Pakistan ka kirdar mustaqbil mein kya ho sakta hai? Kya Pakistan ek bari quwwat ban kar ubhrega ya phir yeh sirf afwahon aur tashreehon ka natija hai?
Yeh video aap ko sochne par majboor kar dega. Aakhir tak zaroor dekhein kyun ke har naya nukta aap ke liye ek nayi soch ka darwaza kholega.
#PakistanFuture #NematullahShahWali #PakistanPrediction #MiddleEastCrisis #IranIsraelTension #SaudiArabia #GlobalPolitics #IslamicWorld #BreakingNews #FutureOfPakistan #NOORTV
Category
📚
LearningTranscript
00:02Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:30اکستان آج کے ایران اور آج کی دنیا کے بارے میں ہے
00:33یہ اتفاق نہیں ہے
00:34یہ ایک اللہ کے ولی کا وہ کلام ہے
00:36جو صدیوں سے ایک ایک لفظ سچا ثابت ہوتا آیا ہے
00:40لیکن اس پیشگوئی کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے
00:43کہ ہم آج کی دنیا کو اس کی اصل شکل میں دیکھیں
00:46کیونکہ جب آپ دونوں کو ساتھ رکھیں گے
00:48تو جو تصویر بنے گی وہ آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے گی
00:52ابھی دنیا کی سب سے زیادہ زیر بحث خبر یہ ہے
00:54کہ امریکہ کی آب نائے حرمز پر ناکبندی کا عملی اثر انتہائی محدود رہا ہے
01:00ایکسپریس نیوز، رائٹرز اور اے پی سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں نے ریپورٹ کیا
01:05کہ صرف چوبیس گھنٹوں میں بیس سے زائی تجارتی جہاز آب نائے حرمز سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزر گئے
01:11ابتدا میں چند جہازوں کو واپس جانا پڑا
01:13اور امریکی انتظامیہ نے اسے اپنی کامیہ بھی قرار دیا
01:16لیکن چین، پاکستان، ہندوستان، جاپان اور دیگر بڑے ممالک کے تجارتی بیڑوں کو روکنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا
01:23کیونکہ ایسا کرنے سے ان ممالک کے ساتھ تعلقات براہ رہاست متاثر ہوتے
01:27واشنگٹن میں تجزیہ کار اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں
01:30کہ امریکہ ایک ایسی صورتحال میں کیسے داخل ہوا جس سے نکلنے کا راستہ پہلے سے تیہ نہیں تھا
01:36آب نیا حرمز وہ تنگ آبی گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بہر اے امان سے ملاتی ہے
01:41اور دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے
01:45اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے
01:48کہ ناکہ بندی کی خبر آتے ہی عالمی تیل منڈیوں میں قیمتیں ہل گئیں
01:52ایران کا موقف یہ ہے کہ یہ گزرگاہ تمام ممالک کے لیے کھلی ہے
01:55بشرتی کہ وہ ایران کی مقرر کردہ شرائط کے تحت معاملات کریں
01:59اور ڈالر کے بجائے دوسری کرنسی میں تیجارت کریں
02:01یہ موقف ایران کو ایک اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے
02:05جو امریکہ کے پاس نہیں ہے
02:07کیونکہ یہ گزرگاہ پہلے کھلی تھی اور اسے فوجی مداخلت نے متاثر کیا
02:11ایران نے یہ بھی باضح کیا کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی
02:14تو بہرہ اہمر کو بھی متاثر کیا جا سکتا ہے
02:16بہرہ اہمر وہ آبی راستہ ہے جو باب المندب سے نہر سویس تک جاتا ہے
02:21اور یہی وہ سب سے چھوٹا راستہ ہے جو یورپ اور ایشیا کو تجارتی اعتبار سے جوڑتا ہے
02:25یمن میں موجود حوثی افواج اس علاقے میں اس مقام پر تائینات ہیں
02:29جہاں سے اس گزرگاہ کو متاثر کیا جا سکتا ہے
02:32اور گزشتہ مہینوں میں انہوں نے یہ صلاحیت عملی طور پر بھی ظاہر کی
02:36ایرانی صدر نے اپنے ایک بازابتہ بیان میں کہا
02:39کہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی
02:43اور ایرانی قوم ایسا کبھی قبول نہیں کرے گی
02:46اس پس منظر میں چین نے ایک اہم قانون منظور کیا ہے
02:49جس کے تحت چین کے خلاف اقدامات ملوث غیر ملکی افراد
02:53کمپنیوں اور اداروں کی ایک خصوصی فہرس تیار کی جائے گی
02:57اور ان پر مختلف نویت کی پابندیاں آئیت کی جائیں گی
02:59چینی صدر شی جن پنگ نے چھہ ہفتوں کی خاموشی کے بعد پہلی بار ذاتی بیان دیا
03:05جس میں کہا کہ بنو لقوامی قانون کا موجودہ نظام دباؤ میں ہے
03:08اور یہ صورتحار مزید پیچیدگی کی طرف جا رہی ہے
03:11یہ بیان اس لیے اہم ہے کیونکہ
03:13مئی میں ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے
03:16اور اس سے پہلے چین کا یہ موقع اختیار کرنا ایک باز سفارتی پیغام ہے
03:21ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی
03:23کہ چین آب نائے حرمز کھلوانے کی کوشش کا حامی ہے
03:26اور چینی صدر انہیں گلے لگانے کے منتظر ہیں
03:29چین کی طرف سے ایسی کوئی تصدیق نہیں آئی
03:31بلکہ چین کا موقع فی رہا ہے
03:33کہ ایران کے ساتھ اپنے تجارتی مہائدے ہیں
03:36اور چینی جہاز آب نائے حرمز سے بلا رکاوٹ آتے جاتے رہتے ہیں
03:39ٹرمپ اکثر ایسا یک طرف بیانیاں بناتے ہیں
03:42جس کی دوسری طرف سے تصدیق نہیں آتی
03:44اور یہ اس کی ایک اور مثال تھی
03:46اب اس سارے منظر نامے میں پاکستان کا کردار سمجھنا ضروری ہے
03:50امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے دور کے مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے
03:54اور اب واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سمیت متعدد بین الاقوامی اخبارات نے ریپورٹ کیا ہے
03:59کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی وائٹ ہاؤس ٹیم کی اس سفارش کو مسترد کر دیا ہے
04:03کہ دوسرا دور جینبا میں ہو
04:04انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہی ہونے چاہیے
04:07اس فیصلے کی وجہ دہری ہے
04:09امریکہ کے نکتے نظر سے پاکستانی عسکری قیادت پر
04:12ٹرمپ انتظامیہ کا اعتماد ہے
04:14اور وہ نے ایران سے متعلق مذاکرات کے لیے
04:16ایک قابل بھروسہ رابطہ کار سمجھتی ہے
04:18ایران کے نکتے نظر سے پاکستان اس لیے قابل قبول ہے
04:21کیونکہ پاکستان نے ایران پر حملے کے لیے
04:24اپنی سرزمین فراہم کرنے سے انکار کیا تھا
04:26اگرچہ ایران یہ بھی جانتا ہے
04:27کہ گیس پائپلائن منصوبہ امریکی دباؤ کی وجہ سے ادھورا رہا
04:30لیکن ان سب باتوں کے باوجود پاکستان
04:33دونوں فریقوں کے لیے ایک قابل قبول مقام ہے
04:35جیڈی وینس نے اسلام آباد مذاکرات میں
04:37ایران کو بیس سال کی زیرو
04:39افزودگی کی پیشکش کی
04:40جس کے جواب میں ایران نے پانس سال کی پیشکش کی
04:43اب ٹرمپ نے اس پیشکش سے خود کو الک کر لیا ہے
04:46دوہزار پندرہ کے جے سی پی او اے میں
04:49ایران نے پندرہ سال کا وقفہ قبول کیا تھا
04:52جس میں محدود افزودگی کی اجازت تھی
04:54اوبامہ دور کے مذاکرات
04:55کار روبٹ میلے کا کہنا ہے
04:57کہ یہ قابل ذکر پیشرفت ہے
04:59اگر ٹرمپ اسے سمجھ سکیں
05:01اصل رکاوٹ پابندیوں کا خاتمہ ہے
05:04ایران کا کوری اور قطر میں
05:05پھسے اربو ڈالرز کی فنڈز کی واپسی بھی درکار ہے
05:08اور پابندیوں سے عملی ریلیف ملنے میں بھی
05:10کئی سال لگ سکتے ہیں
05:11یورپ میں بھی تبدیلی واضح ہے
05:14اسپین کے وزیر آزم نے
05:15اپنے چار روزہ چین دورے کے بعد
05:17صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ
05:19اس وقت دنیا میں مشیق وستہ کے بہران کا حل
05:21نکالنے کے صلاحیت رکھنے والا
05:23سب سے بڑا فریق چین ہے
05:25گزشتہ چند ہفتوں میں
05:26برطانوی وزیر آزم کیرس ٹرامر
05:28جرمن چانسلر فریڈک مرز
05:30آئیلینڈ اور فنلینڈ کی قیادت
05:31سبھی بیجنگ کا روح کر چکے ہیں
05:33دہائیوں سے یہ تاثر آئے
05:34کہ دنیا کے مسائل کا حل واشنگٹن میں ہے
05:36لیکن یورپی قیادت کا یہ بدلتا ہوا رجحان
05:39اس تاثر پر ایک بڑا سوال کھڑا کر رہا ہے
05:41اٹلی کی وزیر آزم جورجیا میلونی نے
05:44اسرائیل کے ساتھ 2006 سے
05:45چلا آنے والا دفاع معاہدہ
05:47تشدید کرنے سنکار کر دیا
05:49جس کے تحت اسرائیل کے لیے جانے والا
05:51ساز و سمان اطالوی مندرگہوں سے گزرتا تھا
05:53اسپین اور اٹلی دونوں نے
05:55ایران کے خلاف آپریشنز میں شامل
05:57امریکی جنگی تیاروں کو
05:58اپنے اڈنوں سے اڑان بھننے کی اجازت دینے
06:00سنکار کیا ہے
06:01ڈونر ٹرمپ نے ایک اطالوی اخبار کو
06:03انٹرویو دیتے ہوئے میلونی کو
06:05شدید تنقید کا نشانہ بنایا
06:06یہ وہی میلونی ہیں
06:08جن کی وہ پہلے کھل کر تعریف کرتے تھے
06:10یہ طرز عمل پاکستان کو بھی آئینہ دکھاتا ہے
06:12کہ جب کسی کی ضرورت نہ رہے
06:14تو رشتے کیسے بدلتے ہیں
06:15تائیوان کی اپوزیشن جماعت
06:17کومنگ تانگ کی قائد نے
06:19چینی صدر سے ملاقات کی
06:20اور دونوں ممالک کے درمیان
06:21بہتر تعلقات کا فریم ورک رکھنے کی کوشش کی
06:24امریکہ کئی دہائیوں سے یہ تاثر دیتا آیا ہے
06:26کہ چین کا تائیوان کے ساتھ
06:27تنازعہ پوجی مہازارائی کی طرف جا رہا ہے
06:30جبکہ عملی طور پر
06:31چین صفارتی اور سیاسی راستہ اختیار کرتا نظر آتا ہے
06:34یہ بھی امریکی خارجہ پولیسی کے بیانیے پر
06:37ایک بڑا سوالیا نشان ہے
06:38اب پاکستان کی اپنی صورتحال پر آتے ہیں
06:41جو ان تمام بین الاقوامی حالات سے جدہ نہیں ہے
06:44بلکہ ان سے براہ راست جوڑی ہوئی ہے
06:46محمد زبیر صاحب کی تفصیلی پریس کانفرنس میں
06:49جو آداد و شمار بیان کیے گئے
06:51ماہرین نے معیشت اور آئی ایم ایف کی رپورٹوں سے
06:54ان کی تصدیق ہوتی ہے
06:55چار سالوں میں ملک کی ذر مبادلہ میں
06:57کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا
06:59ملک میں جو ذخائر موجود ہیں
07:00وہ دوست ممالک کا ودیت شدہ سرمایہ ہیں
07:03جب یو اے ای نے اپنے پیسے واپس مانگے
07:06تو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کا
07:08نیا انتظام کیا گیا
07:09اگر کسی بھی لمحے سعودی عرب یا چین نے
07:11اپنا سرمایہ واپس مانگ لیا
07:13تو ملک ایک ہفتے کے اندر ڈیفورٹ کر سکتا ہے
07:15یہ صرف اپوزیشن کا بیانیاں نہیں
07:17یہ وہ تلقح حقیقت ہے جو بین الاقوامی
07:19مالیاتی اداروں کی رپورٹوں میں بھی
07:22موجود ہے
07:22ستمبر دوہزار تئیس میں آرمی چیف نے
07:25کراچی اور لاہور کے پانچ پانچ گھنٹے کے
07:27اجلاسوں میں سعودی عرب سے
07:29پچیس ارب ڈالر سرمایہ کاری لانے کے
07:31دعوے کیے تھے
07:32کرپشن ختم کرنے اور سمنگلنگ بند کرنے کے
07:34وعدے کیے تھے
07:35اور معیشت بچاؤ مشن خود اپنے کنٹول میں لیا تھا
07:38آج اسی دور میں وزیر داخلہ موسیل نقوی
07:40کاروباری حضرات سے گزارش کر رہے ہیں
07:42کہ کم از کم تیس فیصد سرمایہ واپس لے آئیں
07:44کیونکہ گزشتہ تین سال میں
07:46سو ارب ڈالر سے زیادہ
07:47باہر جا چکے ہیں
07:49یہ تضاد آداد و شمار خود بیان کرتے ہیں
07:51اور کسی تفسرے کا مہتاج نہیں
07:53اس پوری صورتحال کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے
07:55کہ ہم یہ بھی دیکھیں کہ پاکستان کی
07:57معیشت آج کہاں کھڑی ہے
07:59اور اس کا عالمی حالات سے کیا تعلق ہے
08:01پاکستان کا کل قرضہ آج اتنا بڑھ چکا ہے
08:03کہ ہر پاکستانی شہری
08:05عوصتاً دو لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہے
08:08اور یہ قرضہ ہر سال بڑھتا ہی جا رہا ہے
08:10روپے کی قدر گر رہی ہے
08:11مہنگائی بڑھ رہی ہے
08:13بجلی کے بل عام گھرانوں کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں
08:16اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد
08:18بیرون ملک جانے کے لئے بیتاب ہے
08:20کیونکہ انہیں اپنے ملک میں مستقبل نظر نہیں آتا
08:22یہ وہ زمینی حقائق ہیں
08:24جسے کسی بھی تجزیمیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
08:27اسی طرح پاکستان اور امریکہ کے
08:29تعلقات کو سمجھنا بھی ضروری ہے
08:31امریکہ نے پاکستان کو ہمیشہ اپنے علاقہ
08:33مفادات کے تناظر میں دیکھا ہے
08:34جب افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف
08:37جنگ ہوئی تو پاکستان امریکہ کا
08:39سب سے قریبی تحادی بن گیا
08:40جب وہ جنگ ختم ہوئی تو امریکہ نے پاکستان کو
08:42پریسلر ترمیم کے تحت پابندیوں میں جکڑ دیا
08:45پھر 911 کے بعد دوبارہ
08:47پاکستان کی ضرورت پڑی اور رشتہ بحال ہوا
08:49جب افغانستان سے امریکی فوج نکل گئی
08:51تو پھر پاکستان کی اہمیت کم ہو گئی
08:53آج ایران کے معاملے میں پاکستان
08:55کی ضرورت ہے تو پھر رشتہ گرم ہو گیا ہے
08:57یہ ایک چکر ہے جو دہائیوں سے چل رہا ہے
08:59اور پاکستانی عوام ہر بار
09:01اس چکر میں پیشتے رہے ہیں
09:02دوسری طرف چین کے ساتھ پاکستان کا تعلق
09:05مختلف نوعیت کا ہے
09:06پاکچین اتبسادی راہ داری ایک بڑا منصوبہ ہے
09:09لیکن اس کے فوائد اور اخصانات پر بھی
09:11کھل کر بات ہونی چاہیے
09:12اس منصوبے کے تحج جو قرضے لیے گئے
09:14انہیں واپس کرنا بھی پاکستان کی ذمہ داری ہے
09:16چین کے ساتھ تعلق مضبوط ہے
09:18لیکن یہ برادری کا تعلق نہیں
09:20بلکہ مفادات کا تعلق ہے
09:22اور ہر ملک اپنے مفادات کے لیے کام کرتا ہے
09:24اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے پاکستان
09:26کو اپنی خارجہ پالیسی بنانی چاہیے
09:28ایران کی صورتحال کو بھی
09:30ایک اور زاوی سے دیکھنا ضروری ہے
09:31ایران ایک ایسی قوم ہے
09:33جس نے چالیس سال سے زائد عرصے سے
09:35امریکی پابندیوں کے باوجود
09:36اپنی ریاست کو چلایا ہے
09:38اپنی فوج کو مضبوط رکھا ہے
09:39اور اپنی خارجہ پالیسی خود تیہ کی ہے
09:41یہ کوئی چھوٹی بات نہیں
09:43دنیا میں بہت کم ممالک ہیں
09:44جنہوں نے اتنے بڑے دباؤ کے سامنے
09:46اپنی آزادانہ پالیسی برقرار رکھی ہو
09:48ایران سے تفاہ کے اختلاف
09:50الگ بات ہے
09:51لیکن یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی
09:53کہ ایران نے
09:53اپنی قومی خودمختاری کے لیے
09:55بہت بڑی قیمت ادا کی ہے
09:57اور آج وہ مذاکرات کی میز پر
09:58اسی مضبوط موقف کے ساتھ بیٹھا ہے
10:01اب ایک اہم سوال
10:02یہ بھی ہے کہ ان تمام
10:03بین الاقوامی تبدیلیوں کا
10:05پاکستان کے عام آدمی پر کیا اثر پڑتا ہے
10:07جب آپنا حرمز میں تناؤ بڑھتا ہے
10:09تو تیل مہنگا ہوتا ہے
10:11اور پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں
10:13جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے
10:14تو پاکستان کی برامدات کے نرخ متاثر ہوتے ہیں
10:17جب عالمی غزائی اجناس مہنگی ہوتی ہیں
10:19تو پاکستان میں آٹا چینی
10:21اور کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں
10:23یعنی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والی تبدیلی
10:26پاکستان کے
10:26اس غریب آدمی تک پہنچتی ہے
10:28جو صبح اٹھ کر
10:29اپنے بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا
10:31جتانے کی فکر میں ہوتا ہے
10:33یہی وجہ ہے کہ دنیا کے حالات کو سمجھنا سے
10:36پالیسی سازوں کا کام نہیں
10:37بلکہ ہر پاکستانی شہری کی ضرورت ہے
10:39سرمایہ کار اپنا سرمایہ وہاں لگاتے ہیں
10:41جہاں سیاسی استحقام ہو
10:43قانون کی حکمرانی ہو
10:45اور فیصلہ سازی کا نظام قابل پیش گوئی ہو
10:47دشتگردی کا چیلنج الگ ہے
10:49موسمیاتی تبدیلی سے
10:51ہر سال سے علاوہ آتے ہیں
10:52عدالتوں سے انصاف کے لیے اکثر
10:54غیر رسمی ذرائع کی ضرورت پڑتی ہے
10:56یہ ساختی مسائل ہیں
10:57جن کا حل کسی ایک اپیل سے نہیں نکلتا
11:00جب تک ان بنیادی مسائل کو
11:01نہیں سلجایا جاتا
11:03سرمایہ کاری کی اپیلیں
11:04محدود اثر رکھیں گی
11:05اور ملک کی اقتصادی صورتحال
11:07بہتر نہیں ہوگی
11:08تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان میں
11:10جب بھی کسی بیرونی طاقت کے ساتھ
11:12خصوصی تعلق کام ہوا
11:13اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو کچھ نہ کچھ ملا
11:15لیکن عام پاکستانی کو بہت کم ملا
11:18عیوب خان کے دور میں
11:19جنرل زیاہ کے دور میں
11:20مشرف کے دور میں بھی یہی ہوا
11:21ڈونل ٹرمپ ہر شخص اور ادارے کو
11:23اپنی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں
11:25ایک زمانے میں
11:27عمران خان بھی ان کے خاص دوست تھے
11:29ورلڈ اکنومک فورم میں تعریف ہوتی تھی
11:31فون پر بات ہوتی تھی
11:32لیکن آج وہی عمران خان جیل میں ہے
11:34ان کی ایک آنک کی بسارت بھی کم ہو رہی ہے
11:37ان کی بہنیں اڈیالا جیل کے باہر گرفتار ہوئیں
11:39اور ٹرمپ نے کبھی ان کا نام نہیں لیا
11:41کیونکہ ابھی ان کی ضرورت ایران کے ساتھ ڈیل ہے
11:43اور اس کے لیے موجودہ قیادت کا تعاون درکار ہے
11:46پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بھی
11:48وہ عملی اقدامات سامنے نہیں آئے
11:50جن کی توقع تھی
11:51ڈرون حملے نہیں رکے
11:52نظام کے خلاف کوئی بڑا عملی چیلنج کھڑا نہیں ہو سکا
11:55اور پچاس دنوں سے سیاسی سرگرمی بھی محدود رہی
11:58عمران خان کی آنکھ کا معاملہ
12:00ان کے خاندان پر ہونے والا جبر
12:02یہ سب اسی قدر معمول بن گیا ہے
12:04کہ لوگ اس پر وہ ردعمل نہیں دکھاتے
12:06جو ہونا چاہیے
12:07اگر اس کا دسویں حصہ بھی کسی دوسری جماعت کے قائد کے ساتھ ہوتا
12:10تو پارلیمنٹ میں شور مجھ جاتا
12:12قانون کی حکمرانی کا کمزور ہونا
12:14صرف کسی ایک جماعت کا نقصان نہیں
12:16یہ پوری قوم کا نقصان ہے
12:17جب یہ نظام کمزور ہوتا ہے
12:19تو اس سے ہر شہری متاثر ہوتا ہے
12:21چاہے وہ کسی بھی جماعت سے ہو
12:22پیپلز پارٹی کا حامی ہو
12:24مسلم لیگ کا ووٹر ہو
12:25تحریک انصاف کا کارکن ہو
12:26یا کسی بھی جماعت سے نہ ہو
12:28ایک گھر لخاتون ہو
12:30یا ایک ٹریک ڈرائیور
12:31قانون کے بغیر سب کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے
12:33یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے
12:35اور یہیں وہ بزرگ یاد آتے ہیں
12:37جنہوں نے
12:37آٹھ سو پچاس سال پہلے
12:39یہ سب کچھ لکھ دیا تھا
12:40حضرت نعمتاللہ شاہب علی
12:42رحمتاللہ علی
12:42ایران کے صوبہ کرمان کے شہر
12:44ماہان سے تعلق رکھتے تھے
12:46ان کی قصیدے میں
12:47تقریباً دو ہزار اشار بتائے جاتے ہیں
12:49جن میں سے تین سو کے قریب
12:51ہم تک پہنچ سکے
12:52انہوں نے کلام کے آغاز میں
12:53خود فرمایا کہ
12:54یہ باتیں میں
12:55علم نجوم سے نہیں کہہ رہا
12:56بلکہ ذات باری تعالی کی طرف سے دیکھ رہا ہوں
12:59حدیث مبارکہ میں ہے
13:00کہ مومن کی فراست سے ڈرو
13:02کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے
13:04قرآن کریم میں بھی
13:05اللہ تعالی نے فرمایا
13:06کہ اللہ اپنے غیب پر
13:07کسی کو متعلق نہیں کرتا
13:09سوائے اس رسول کے
13:10جسے وہ پسند فرمائے
13:12اولیاء کرام کو جو علم ملتا ہے
13:14وہ اسی الہی فضل کا ایک پرتو ہے
13:16یہی وہ بنیاد ہے
13:17جس پر صدیوں سے
13:18ان کے کلام کو پرکھا گیا
13:20اور ہر بار سچا پایا گیا
13:22انہوں نے فرمایا
13:23کہ مسلمانوں کے رہنما
13:24ظاہر میں تو اپنی قوم کے ساتھ ہوں گے
13:26لیکن دراصل دشمنوں کے
13:27مفادات کو ترجیح دیں گے
13:28چوروں اور ڈاکوں کے
13:30سروں پر دستار رکھی جائے گی
13:31نیک کام کی تلقین
13:32دنیا سے چھپ جائے گی
13:34جبکہ دھوکہ بازی
13:35اور فریب کو
13:35حکومت کا نام دیا جائے گا
13:37انہوں نے یہ بھی فرمایا
13:38کہ مشرق اور مغرب میں
13:39ہر طرف ریاکاری
13:40درواج پائے گی
13:41اور خاص و عام کے لیے
13:43فسق و فجور منظور خاطر ہوگا
13:45آج کے پاکستان میں
13:46جہاں سو ارب ڈالر
13:47تین سال میں باہر جا چکے ہیں
13:49اور بند کمر میں فیصلے ہوتے ہیں
13:51یہ سطریں
13:51ہر باشعور شہری کو
13:52سوچنے پر مجبور کرتی ہیں
13:54انہوں نے ترکی
13:55چین اور ایران کے
13:56مل کر
13:57ایک طرف ہونے کا ذکر کیا
13:59چترال نانگہ پربت
14:00گلگت اور طبت کے علاقوں
14:01کا ذکر کیا
14:02جہاں سے آج پاک چین
14:03اقتصادی راہداری گزرتی ہے
14:05اور پہاڑوں اور جنگلوں سے
14:06اٹھنے والوں کا ذکر کیا
14:07جو آج کے ہوسیوں کی شکل میں
14:09دنیا کے سامنے ہیں
14:10یہ سب پیجگوئیاں
14:11اپنی جگہ پر ہیں
14:12لیکن ان کا سب سے
14:13اہم پیغام
14:14مشکلات کی خبر نہیں
14:15بلکہ روشنی کی بشارت ہے
14:17انہوں نے فرمایا
14:18کہ اللہ تعالیٰ کا فضل
14:19پاکستان کے مسلمانوں پر ہوگا
14:21ملک کا پاسبان ظاہر ہوگا
14:23اور دین کی حمایت کرنے والا آئے گا
14:25آخر میں انہوں نے
14:26خود اپنے آپ سے مخادف ہو کر فرمایا
14:28کہ اے نعمت اللہ شاہ
14:29خاموش ہو جا
14:30رب کے رازوں کو ظاہر نہ کر
14:32یعنی انہوں نے اتنا کہا
14:33جتنا کہنا تھا
14:34اور باقی کا فیصلہ
14:35ہمارے عامال
14:36اور اللہ کی معیشت پر چھوڑ دیا
14:39اور اب ان تمام باتوں کو
14:40یک جا رکھ کر دیکھیں
14:41تو ایک بنیادی سوال اُبھرتا ہے
14:43پاکستان اس وقت جو کردار ادا کر رہا ہے
14:46کیا اس سے پاکستانی عوام کو کچھ ملے گا
14:48یہ صرف چند افراد کے مفادات پورے ہوں گے
14:50یہ سوال نہ سیاسی ہے نہ جماعتی
14:52یہ قومی سوال ہے جو ہر شہری کو خود سے پوچھنا چاہیے
14:55قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا
14:57کہ اللہ کسی قوم کا حال تب تک نہیں بدلتا
15:00جب تک وہ خود اپنا حال بدلنے کا ارادہ نہ کرے
15:03پاکستان کی کہانیے بھی ختم نہیں ہوئی
15:05تیمور آیا اور گیا
15:06انگریز آیا اور گئے
15:07انیس سو سیتالیس کی تقسیم ہوئی
15:09اور پھر بھی پاکستان قائم رہا
15:11انیس سو اکتر کا حادثہ ہوا
15:13پھر بھی یہ ملک کھڑا رہا
15:14اللہ کے ولی نے اس ملک کو ختم ہوتے نہیں لکھا تھا
15:17بلکہ انہوں نے مشکلات کے بعد
15:19اللہ کے فضل کی بشارت دی تھی
15:20لیکن وہ بشارت تماشائیوں کیلئے نہیں ہے
15:23وہ ان لوگوں کیلئے ہے جو اپنی جگہ پر کھڑے رہتے ہیں
15:26سوال پوچھتے ہیں اور ظلم پر خاموش نہیں رہتے
15:28آٹھ سو پچاس سال پہلے
15:30ایک اللہ کے ولی نے آج کی یہ کہانی لکھی تھی
15:33اب آپ پر ہے کہ آنے والی نسلیں
15:34اس کہانی کا کون سباب پڑھیں
15:36اور یاد رکھیں کہ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے
15:39جنہوں نے کچھ کیا
15:40نہ ان لوگوں کو جنہوں نے صرف دیکھا اور خاموش رہے
15:43اور سب سے بڑا سوال یہ ہے
15:45کہ جب حساب کا دن آئے گا
15:47تو ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے
15:48کہ ہم نے اپنی قوم اور اپنے ملک کے لیے کیا کیا
15:51پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں
15:53تو یہ سمجھنا ضروری ہے
15:54کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی فضا
15:56کس قدر پیچیدہ ہے
15:57ایک طرف امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی سے
16:00موجودہ قیادت کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے
16:03دوسری طرف ملک کے اندر سیاسی آزادیاں محدود ہیں
16:06میڈیا پر پابندیاں ہیں
16:08اور پوزیشن کو نظام حکومت کے خلاف
16:10اپنی آواز اٹھانے میں عملی رکاوٹوں کا سامنا ہے
16:13عمران خان کی بہنوں کا
16:14ڈیالا جیل کے باہر پہنچنا اور پھر گرفتار ہونا
16:17اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی جدو جہد ابھی جاری ہے
16:19اور اس میں بہت بڑی ذاتی قربانیاں دی جاری ہیں
16:22نوجوانوں نے پاکستان تحریک انصاف میں جو امیدیں لگائیں تھی
16:25وہ ابھی زندہ ہیں لیکن مایوسی بھی بڑھ رہی ہے
16:28آگے کیا ہوگا یہ وقت بتائے گا
16:30لیکن یہ بات تیہ ہے
16:32پاکستان کا سیاسی منظرنامہ آنے والے مہینوں میں مزید بدلے گا
16:36اب اگر ہم ان تمام داخلی اور خارجی حالات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں
16:40تو ایک بات واضح ہوتی ہے
16:41کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے
16:45عالمی طاقتوں کا توازن بدل رہا ہے
16:47امریکی ایک طرفہ بالدستی کو چیلنج ہو رہا ہے
16:50چین ایک نئی عالمی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے
16:53یورپ اپنی خارج پالیسی پر نظر سانی کر رہا ہے
16:56اور اس سارے بدلتے نظام پاکستان کا کیا کردار ہونا چاہیے
16:59یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ نہیں
17:04بلکہ ہر پاکستانی کو ڈھونڈنا ہوگا
17:06یہاں ایک اور اہم پیلو کا ذکر ضروری ہے
17:09جو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے
17:11اور وہ ہے پاکستان کی نوجوان نسل کا کردار
17:14پاکستان میں تقریباً 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے
17:18یہ وہ نسل ہے جو سوشل میڈیا پر خبریں پڑتی ہے
17:21جو دنیا سے جڑی ہوئی ہے
17:22جو اپنے ملک کے حالات دیکھ کر پریشان ہے
17:24لیکن بہتری کی امید بھی رکھتی ہے
17:26اگر اس نسل کو مناسب مواقع ملیں
17:28اگر تعلیم کا میار بہتر ہو
17:30اگر کاروبار کرنے کا ماحول سازگار ہو
17:32اگر ہنر و قابلیت کو پہچانا جائے
17:34تو یہی نسل پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے
17:37لیکن ابھی صورتحال یہ ہے
17:39کہ ہر سال لاکھوں تعلیم یافتوں نوجوان
17:42بیرون ملک چلے جاتے ہیں
17:43اور ان کی صلاحیتیں پاکستان کے بجائے
17:45دوسرے ممالک کے کام آتی ہیں
17:47پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے
17:50جس کا ذکر تو ہوتا ہے
17:51لیکن اس کا حل نکالنے کے لیے
17:53سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی
17:55علاقہ سطح پر بھی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے
17:58ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات
18:00ابھی بھی کشیدہ ہیں
18:01اگوانستان کی صورتحال پاکستان کی سیکیورٹی کو
18:04براہ راست متاثر کرتی ہے
18:05ایران کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھا ہاتا رہتا ہے
18:08ان تمام علاقہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے
18:10پاکستان کو ایک بازے
18:12مستقل اور قومی مفادات پر مبنی
18:14خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے
18:15جو ہر چند سال بعد بدلتی نہ رہے
18:18کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی
18:19اس کی داخلی استحکام اور اقتصادی طاقت پر
18:22منصر ہوتی ہے
18:23اور جب تک پاکستان کا گھر اندر سے مضبوط نہیں ہوگا
18:26بہار کی دنیا میں اس کی آواز
18:28اتنی مضبوط نہیں ہوگی جتنی ہونی چاہیے
18:30ان تمام حالات میں ایک بات
18:32جو سب سے زیادہ امید دیتی ہے
18:33وہ یہ کہ پاکستانی عوام کا شعور بڑھ رہا ہے
18:36لوگ سوال پوچھنے لگے ہیں
18:38میڈیا پر پابندیوں کے باوجود
18:40سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانے لگے ہیں
18:42اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے ملک کے
18:44مسائل کا حل بہار سے نہیں آئے گا
18:46بلکہ انہیں خود مل کر یہ راستہ نکالنا ہوگا
18:48یہ بیداری ہی کہ وہ پہلا قدم ہے
18:50جس کے بارے میں قرآن میں فرمایا
18:52کہ اللہ کسی قوم کا حال تب تک نہیں بدلتا
18:54جب تک وہ خود اپنا حال بدلنے کا ارادہ نہ کرے
18:58آخر میں یہ بھی کہنا ضروری ہے
18:59کہ پاکستان کے حالات
19:01چاہے جتنے بھی مشکل کیوں نہ ہو
19:02یہ ملک اپنے وجود کے ستر سال میں
19:05بہت سے بڑے بہرانوں سے گزر چکا ہے
19:07اور ہر بار کھڑا ہوا ہے
19:08اس قوم میں صلاحیت بھی ہے
19:10اور جذبہ بھی
19:12ضرورت صرف اس بات کی ہے
19:13کہ یہ صلاحیت اور یہ جذبہ
19:15صحیح سمت میں استعمال ہو
Comments