00:00ناظرین آج کی اس گفتگو میں ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ایک عابد شخص کا واقعہ آپ کے سامنے
00:07پیش کریں گے ناظرین
00:08حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ایک نیک عابد تھا جس کی عمر چھے سو ساٹھ سال تک پہنچ
00:16گئی تھی
00:16وہ ایک الگ تھلگ جزیرے پر عبادت کیا کرتا تھا جو لوگوں کی بستیوں سے ایک گہرے اور وسی دریا
00:24کے ذریعے جدا تھا
00:25ہر سال وہ اپنے جزیرے سے نکلتا لوگوں کے درمیان آتا اور ایک سنسان سہرا میں اپنے رب کی عبادت
00:32میں مصروف ہو جاتا
00:33ایک دن سہرا سے گزرتے ہوئے اس کی نظر چند بھیڑ بکریوں پر پڑی جو غیر معمولی حد تک حسین
00:40تھی
00:41اور ان کا بدن ایسے چمک رہا تھا جیسے روغن سے مالش کیا گیا ہو
00:46اس عابد نے ان بھیڑ بکریوں کے پاس ایک خوبصورت نوجوان کو دیکھا جو انہیں چورا رہا تھا
00:52وہ ان بھیڑ بکریوں اور اس نوجوان کو دیکھ کر بے حد متاثر ہو گیا
00:58قریب آ کر اس نے پوچھا
01:00اے نوجوان یہ بھیڑ بکریوں کس کی ہیں
01:03نوجوان نے جواب دیا
01:05یہ حضرت ابراہیم خلیل الرحمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں
01:09عابد نے پوچھا
01:11تم کون ہو
01:12نوجوان نے جواب دیا
01:13میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا ہوں
01:16اور میرا نام حضرت اسحاق علیہ السلام ہے
01:20اس عابد جس کا نام ماریہ تھا
01:23نے کہا
01:23اے اللہ میری موت سے پہلے
01:26مجھے حضرت ابراہیم خلیل الرحمان علیہ السلام کی زیارت کرنے کی توفیق عطا فرما
01:31اس کے بعد وہ عابد وہاں سے روانہ ہو گیا
01:35جناب اسحاق علیہ السلام نے
01:37اس عابد کا سارا ماجرہ
01:39اپنے والد گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گوش گزار کیا
01:44اس واقعے کو تین سال گزر گئے
01:47حضرت ابراہیم علیہ السلام اس عابد کو دیکھنے کے مشتاق ہوئے
01:52اور اس کی ملاقات کی خاطر سہرہ کا سفر شروع کیا
01:56بلاخر وہ اس مقام پر پہنچ گئے
01:58جہاں ماریہ عبادت اور نماز میں مشغول تھا
02:02آپ نے اس سے ملاقات کی
02:04اس کا نام اور عمر پوچھی
02:06تو ماریہ نے اپنا حال بیان کیا
02:08حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا
02:11تمہاری قیام گاہ کہا ہے
02:13ماریہ نے ارز کیا
02:15میں ایک جزیرے میں زندگی بسر کرتا ہوں
02:18حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
02:20میں چاہتا ہوں
02:22کہ تمہارے گھر آؤں
02:23اور دیکھوں
02:24کہ تم کس طرح زندگی گزارتے ہو
02:26ماریہ نے کہا
02:28میں ایک سال کے لیے تازہ پھل وغیرہ جمع کر کے
02:31خوشک کر لیتا ہوں
02:32اور سال بھر انہی پر گزارا کرتا ہوں
02:35پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام
02:38اور ماریہ وہاں سے روانہ ہوئے
02:40اور پانی کے کنارے پہنچ گئے
02:42حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
02:45یہاں تو کوئی کشتی وغیرہ موجود نہیں
02:47تم اس پانی کو عبور کر کے
02:50جزیرے تک کیسے پہنچتے ہو
02:51ماریہ نے ارز کیا
02:53میں اذن خدا کے ساتھ پانی پر چلتا ہوں
02:57حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
02:59میں بھی تمہارے ساتھ پانی پر چلوں گا
03:02جس خدا نے یہ پانی تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے
03:05شاید وہی خدا
03:06اسے میرے لیے بھی مسخر فرما دے
03:10ماریہ آگے بڑھا
03:11بسم اللہ پڑھی
03:12اور پانی پر قدم رکھ کر
03:14سفر شروع کر دیا
03:16حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی
03:18بسم اللہ پڑھی
03:19اور پانی پر چلنا شروع کر دیا
03:21جب ماریہ نے دیکھا
03:23کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی
03:25اسی طرح پانی پر چل رہے ہیں
03:27تو وہ حیران رہ گیا
03:29تو وہ بہت حیران ہوا
03:31دونوں اس جزیرے میں پہنچ گئے
03:33حضرت ابراہیم علیہ السلام
03:35تین دن تک ماریہ کے مہمان رہے
03:40آیا کہ میں ابراہیم ہوں
03:42ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام
03:44نے ماریہ سے فرمایا
03:45تم کتنی خوبصورت اور سرسبز
03:48و شاداب جگہ پر رہتے ہو
03:49کیا تم یہ دعا کروگے
03:51کہ خداوند قدوس مجھے بھی
03:53اسی مقام پر سکونت عطا فرمائے
03:55تاکہ میں تمہارا ہمنشین بن جاؤں
03:57ماریہ نے کہا
03:59میں ایسی دعا نہیں کروں گا
04:01حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
04:03کیوں دعا نہیں کروگے
04:05ماریہ نے ارز کیا
04:07کیونکہ تین سال سے میری ایک حاجت ہے
04:09میں نے دعا کی ہے
04:11لیکن خداوند قدوس نے
04:12ابھی تک اسے مستجاب نہیں فرمایا
04:14حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا
04:17تمہاری دعا کیا ہے
04:19ماریہ نے خوبصورت بھیڑ بکریوں
04:21اور حضرت اسحاق علیہ السلام
04:23کو دیکھنے کا سارا واقعہ بیان کیا
04:25اور کہا
04:26میں تین سال سے مسلسل دعا کر رہا ہوں
04:29کہ اللہ تعالیٰ مجھے
04:31حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام
04:33کی زیارت نصیب فرمائے
04:35لیکن ابھی تک ذات حق نے
04:37میری دعا قبول نہیں فرمائی
04:39اسی وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام
04:41نے اپنا تعرف کرایا
04:42اور فرمایا
04:43اب اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا قبول فرما لی ہے
04:47میں ہی ابراہیم خلیل اللہ ہوں
04:49یہ سن کر ماریہ بے حد خوش ہوا
04:52اٹھا
04:53حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
04:55گلے سے لگا لیا
04:56اور خوش آمدیت کہا
04:57بعض روایات کے مطابق
05:00حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
05:03کونسا وقت سب سے زیادہ مشکل ہے
05:05اس نے عرض کیا
05:07روز قیامت
05:08حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
05:11آؤ
05:12مل کر اپنی ذات اور عبادت خدا کرنے والوں کے لیے
05:15روز قیامت کی سختیوں سے نجات کی دعا کرتے ہیں
05:19ماریہ نے کہا
05:20چونکہ تین سال سے میری ایک دعا قبول نہیں ہوئی تھی
05:23اس لیے میں دعا نہیں کرتا تھا
05:25لیکن جب اسے معلوم ہو گیا
05:27کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دیدار کی دعا
05:30مستجاب ہو چکی ہے
05:31تو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مل کر
05:34عبادت گزاروں کے لیے
05:36روز قیامت کی سختیوں سے نجات کی دعا کی
05:39دعا کرنے کا انداز یہ تھا کہ
05:42حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی
05:45اور اس عابد نے آمین کہا
05:47حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت خوش تھے
05:50کہ انہیں ایک ایسا نیا دوست ملا
05:52جو دنیا سے بے نیاز
05:54آشف خدا
05:55اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز
05:58اور مناجات میں مشغول رہتا تھا
06:00آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
06:03عشق حقیقی کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے
06:06حضرت ابراہیم علیہ السلام
06:08عابد پارسہ اور عاشق حق ہونے کے ساتھ ساتھ
06:13محنت و مشکت اور جد و جہود کرنے والے مردے کامل تھے
06:16بیکار رہنا آپ ہرگز پسند نہیں فرماتے تھے
06:20آپ کی زندگی کا ایک حصہ کھیتی باڑی کرنے
06:23اور بھیڑ بکریاں پالنے میں گزرا
06:25اس میدان میں آپ نے بڑی ترقی کی
06:28اور کسیر تعداد میں بھیڑ بکریوں کے مالک بن گئے
06:31بعض فرشتوں نے بارگاہِ الہی میں عرض کیا
06:34اے اللہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیرے ساتھ دوستی
06:39ان بے شمار نعمتوں کی وجہ سے ہے
06:41جو تُو نے انہیں عطا فرمائی ہیں
06:43اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بتانا چاہا
06:46کہ ایسا نہیں ہے
06:47بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
06:50اللہ تعالیٰ کو حقیقی طور پر پہچانا ہے
06:52اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا
06:56ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ
06:59اور میرا ذکر بلند آواز سے کرو
07:01حضرت جبرائیل علیہ السلام
07:03حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے
07:06تو دیکھا کہ وہ اپنی بھیڑ بکریوں چورانے میں مصروف ہیں
07:09حضرت جبرائیل علیہ السلام
07:12ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر
07:13بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کا نام لینے لگے
07:16جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
07:19اللہ کا نام سنا
07:20تو ان پر ایک خاص کیفیت تاری ہو گئی
07:23اور ان کا جوش و جذبہ دیدنی تھا
07:26آپ علیہ السلام نے اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائی
07:29تو پہار پر ایک شخص کو دیکھا
07:31اس کے پاس جا کر فرمایا
07:33کیا تم تھے جو میرے محبوب کا نام اپنی زبان پر لائے تھے
07:37اس نے ارس کیا
07:38جی ہاں
07:40حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
07:42ایک مرتبہ اور میرے محبوب کا نام لو
07:45میں تمہیں اپنے ریور کا تہائی حصہ بخش دوں گا
07:48اس شخص نے دوبارہ وہی کلمات ادا کیے
07:51حضرت ابراہیم علیہ السلام
07:53جب بے مثل وہ بے مثال
07:56یکتہ خدا کا نام سنتے
07:58تو اس قدر لطف اندوز ہوتے
08:00کہ اسے الفاظ نہ بیان کرنا ممکن نہیں تھا
08:03حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
08:05اگر ایک بار اور میرے دوست کا ذکر کرو گے
08:09تو میں تمہیں اپنی آدھی بھیر بکریاں بخش دوں گا
08:12اس شخص نے تیسری مرتبہ بھی وہی کلمات دورائے
08:16پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
08:19اگر ایک بار اور میرے محبوب کا تذکرہ کرو گے
08:22تو میں اپنی تمام بھیر بکریاں تمہیں بخش دوں گا
08:26اس شخص نے پھر انہی الفاظ کو دہرایا
08:28حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
08:31اب میرے پاس اور کچھ باقی نہیں رہا
08:33مجھے اپنا غلام بنا لو
08:35اور میرے دوست کا نام ایک مرتبہ پھر اپنی زبان پر لاؤ
08:39اس شخص نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا
08:42حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے قریب گئے اور فرمایا
08:46اب میں اور یہ تمام بھیر بکریاں تمہاری ملکیت ہیں
08:50اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا تعرف کرایا
08:54اور فرمایا
08:55میں جبرائیل ہوں
08:57مجھے آپ کے ساتھ دوستی کی کوئی ضرورت نہیں
08:59حقیقت یہ ہے
09:01کہ آپ نے دوستی خدا کے تمام مدارز مکمل کر لیے ہیں
09:05لہٰذا مناسب ہے
09:07کہ خداوند مطال آپ کو اپنا خلیل منتخب فرمائے
09:10دوستو آج کے واقعے سے
09:12ہمیں سب سے اہم سبق یہ ملتا ہے
09:14کہ حقیقی طاقت اور کامیابی
09:17دنیا کی نعمتوں میں نہیں
09:18بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت
09:21اور عبادت میں ہے
09:22ہم دیکھتے ہیں
09:23کہ ماریہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں
09:27سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے تھا
09:29دنیا کی آسائشیں
09:31دولت یا طاقت
09:32کبھی ایمان اور خلوص کی جگہ نہیں لے سکتی
09:35یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے
09:38کہ اگر ہم دل سے اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کریں
09:41اپنے دل کو صاف رکھیں
09:43اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہیں
09:45تو اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے لوگ
09:48مواقع اور برکتیں عطا فرمائے گا
09:50جو ہماری زندگی بدل دیں گے
09:52اور سب سے بڑی بات یہ ہے
09:54کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کیلئے
09:57کی جانے والی ہر محنت
09:58ہر دعا اور ہر عبادت
10:01کبھی رائے گا نہیں جاتی
10:02یہ ہمیں مضبوط بناتی ہے
10:04دل کو سکون دیتی ہے
10:06اور آخرت میں کامیابی کا راستہ
10:08ہمبار کرتی ہے
10:09دوستو یاد رکھیں
10:11دنیاوی نعمتوں کی دوڑ میں دل نہ لگائیں
10:14بلکہ دل کی حقیقی خوشی
10:16اور سکون کے لیے
10:18اللہ کی یاد اور خلوص کے ساتھ
10:20زندگی گزاریں
10:21یہی اصل کامیابی ہے
10:24یہی اصل دولت ہے
10:25اور یہی راستہ ہے خلیل اللہ جیسے
10:28عظیم بندوں کی محبت اور قربت کا
10:31جیسے
Comments