00:00سوچو ایک ایسی دنیا جہاں ایک انسان اپنی سانس لینے کو بھی اپنی طاقت سمجھنے لگ جائے
00:05جہاں تاج سر پر ہو اور غرور دل میں
00:09اور جہاں ایک حکمران خود کو صرف بادشاہ نہیں بلکہ خدا کہلوانے لگے
00:14یہ کہانی کسی افسانے کی نہیں
00:17یہ کہانی حقیقت کی ہے
00:19یہ کہانی اس شخص کی ہے جس نے کہا
00:24میں تمہارا سب سے بدا راب ہوں
00:28اور پھر اسی شخص کو پانی کی ایک لہر نے
00:32تاریخ کا سب سے بڑا عبرتناک نشان بنا دیا
00:36یہ کہانی ہے فیرون کی اور اس سچ کی جو آخر کار ظلم کو ڈبا دیتا ہے
00:43یہ کہانیاں نہیں ہیں
00:45یہ سچائیاں ہیں
00:51مصر اس دور کا سب سے طاقتور ملک
00:54نیل کے کنارے بسی ہوئی ایک ایسی سلطنت جہاں زمین سے سونا اکتا تھا
01:00فصلیں لا محدود ہوتی تھی
01:02بازار روشنی سے بھرے رہتے تھے
01:05اور محل ایسے تھے جیسے پتھر کے نہیں غرور کے بنے ہوں
01:09مصر کے لوگ فیرون کو صرف حکمران نہیں مانتے تھے
01:12وہ اسے عقیدہ سمجھتے تھے
01:15اس کا حکم قانون سے اوپر تھا
01:17اس کا کہنا سچ سے زیادہ طاقتور تھا
01:20فیرون کا ایک جملہ لوگوں کی نسلوں کی سوچ بدل دیتا تھا
01:25وہ کہتا تھا میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں
01:28اور مصر خاموش رہتا تھا
01:31لیکن اسی مصر کے اندھیروں میں ایک ایسی قوم زندہ تھی
01:35جو روشنی سے محروم رکھی گئی
01:37بنی اسرائیل
01:39ان کا رہنا الگ
01:41ان کا پہناوہ الگ
01:42ان کا معاشرہ الگ
01:44اور ان کی زندگی صرف ایک چیز کے لیے تھی
01:46غلامی
01:47ان کے مرد صبح سے شام تک پتھر اٹھاتے
01:51محل بناتے
01:52دیواریں کھڑی کرتے
01:54اور رات کو تھکے ہوئے زمین پر گر جاتے
01:57اور ان کی عورتیں صرف اس لیے زندہ رکھی جاتی تھی
02:00تاکہ غلامی کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو
02:03فیرون بہت اچھی طرح جانتا تھا
02:06جو قوم کمزور ہو
02:08وہ کبھی تخت نہیں ہلا سکتی
02:10پھر ایک رات آئی
02:11جس رات فیرون نے ایک ایسا خواب دیکھا
02:14جس نے اس کے دل میں پہلی دفعہ
02:16ڈر پیدا کر دیا
02:17اس نے دیکھا بیت المقدس کی طرف سے
02:20ایک آگ نکلی
02:21جو مصر کے گھروں کو جلا رہی تھی
02:23لیکن بنی اسرائیل کے گھر
02:25محفوظ تھے
02:27فیرون گھبرا کر اٹھ بیٹھا
02:29یہ پہلی دفعہ تھا جب اس نے خود کو کمزور محسوس کیا
02:33اسی رات
02:34نجومی اور علم غیب کا دعویٰ کرنے والے
02:37دربار میں بلائے گئے
02:39خواب سنایا گیا
02:40اور پھر وہ جملہ کہا گیا
02:42جو تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے
02:44بنی اسرائیل میں ایک بیٹا پیدا ہوگا
02:47جو تیری سلطنت کے زوال کا سبب بنے گا
02:51یہ ممکن نہیں
02:54یہ سنتے ہی
02:55فیرون کے اندر کا ڈر
02:57ظلم میں بدلنے لگا
02:59جب ڈر دل میں آ جائے
03:01تو اقل اندھی ہو جاتی ہے
03:02اور جب اقل اندھی ہو جائے
03:04تو ظلم پیدا ہوتا ہے
03:06فیرون نے فیصلہ کر لیا
03:08مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے ختم کر دیا جائے
03:11اور پھر وہ حکم لکھا گیا
03:13جو قانون نہیں
03:14قتل ناما تھا
03:16بنی اسرائیل کے ہر نئے پیدا ہونے والے بیٹے کو قتل کر دو
03:21ہماری قوات کے سمنے
03:23کوئی نہیں تھیر سکتا
03:25بر کر دشمان کو دباہ کر دو
03:29شہر شہر تلوار چلی
03:31ماں کی گود اجڑی
03:32لاکھوں آنسو گرے
03:34ہزاروں ماسوم قتل ہوئے
03:36اور اسی ظلم کے اندھیرے میں
03:38ایک بچہ پیدا ہوا
03:40موسیٰ علیہ السلام
03:42ان کی والدہ کا دل ہر لمحہ خوف سے بھرا رہتا
03:45ہر آواز پر وہ کانپ چاہتی تھی
03:48ہر قدم پر موت محسوس ہوتی تھی
03:50پھر اللہ نے ان کے دل میں وحی ڈالی
03:53اس بچے کو دودھ پلاؤ
03:55اور جب خطرہ محسوس ہو
03:56تو اسے دریا میں ڈال دینا
03:58اور ڈرنا مت
03:59ہم اسے تمہیں واپس لوٹا دیں گے
04:01یہ حکم انسانی عقل سے باہر تھا
04:04لیکن ماں کا یقین اللہ پر مکمل تھا
04:07انہوں نے ایک چھوٹا سا صندوق منایا
04:09اور اپنے لال کو اس میں رکھ کر
04:11دریا کے حوالے کر دیا
04:13پانی بہ رہا تھا
04:14اور ایک ماں کا دل بھی
04:16بہنے والی لہروں پہ ساتھ
04:18تقدیر بھی بہ رہی تھی
04:19موسیٰ علیہ السلام کی بہن
04:22دور سے اس صندوق کو دیکھتی رہی
04:24نہ قریب آئی
04:25نہ نظر ہٹائی
04:26اور پھر وہ صندوق اس جگہ پہنچ گیا
04:29جہاں کسی نے سوچا بھی نہ تھا
04:31فیرون کا محل
04:32جب فیرون کی بیوی
04:34آسیا نے اس صندوق کو دیکھا
04:36اور اسے کھلوایا
04:38تو جیسے ہی اس بچے پر نظر پڑی
04:40اللہ نے ان کے دل میں رحمت ڈال دی
04:42انہوں نے فوراں کہا
04:45یہ میری اور تمہری آنکھوں کی تھندک ہے
04:49اس بچے کو قتل مت کرو
04:52شاید یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو
04:54یا ہم اسے بیٹا بنا لیں
04:56فیرون نے بچے کو دیکھا
04:59اور غرور سے کہا
05:01زندہ رہنا تو
05:05یہ بچہ میرا کیا بگاڑ لے گا
05:08وہ نہیں جانتا تھا
05:10کہ یہی بچہ اس کے زوال کی ابتدا بن چکا ہے
05:13وقت گزرتا گیا
05:15موسیٰ علیہ السلام محلوں میں پلنے لگے
05:18لیکن دل بنی اسرائیل کے ساتھ رہا
05:21جوانی میں اللہ نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا
05:25ایک دن شہر میں گئے
05:26وہاں دو آدمی لڑ رہے تھے
05:29ایک بنی اسرائیل کا اور ایک مصری
05:31بنی اسرائیل کے آدمی نے مدد مانگی اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے
05:36ایک مکہ لگا اور وہ مصری گر گیا اور پھر کبھی نہ اٹھا
05:41موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ قتل ہو چکا ہے
05:45انہوں نے فوراً اللہ سے معافی مانگی اور اللہ نے معاف کر دیا
05:50لیکن مصر نے معاف نہ کیا
05:52دربار میں شور مچ گیا
05:54فیرون کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا
05:57حکم دیا گیا موسیٰ کو قتل کر دو
06:00شہر کے دوسرے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا
06:04تمہارا قتل کا مشورہ ہو رہا ہے
06:07یہاں سے نکل جاؤ
06:08موسیٰ علیہ السلام نہ پیچھے مڑے نہ رکے
06:12نہ مال نہ سامان صرف یقین
06:15وہ خوف اور امید کے درمیان مصر سے نکل گئے
06:19ریگستان، بھوک، پیاس اور ایک دعا
06:22اے میرے رب مجھے ظالموں سے بچا لے
06:26آخر وہ مدین پہنچے
06:28وہاں ایک کواں تھا اور دو لڑکیاں دور کھڑی تھیں
06:32موسیٰ علیہ السلام نے مدد کی
06:34اور پھر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر کہا
06:36اے میرے رب جو بھی بھلائی تو مجھ پر نازل کرے
06:40میں اس کا مختاج ہوں
06:42یہ لفظ صرف دعا نہیں تھے
06:44یہ یقین تھے
06:46تھوڑی دیر بعد ایک لڑکی آئی اور کہا
06:49میرے والد تمہیں بلاتے ہیں
06:51وہ بزرگ حضرت شوائب علیہ السلام تھے
06:54انہوں نے کہا
06:55اب تم محفوظ ہو
06:57یہی سے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نیا مرحلہ شروع ہوا
07:01سال گزرے
07:02تنہائی
07:03سبر
07:04محنت
07:05اور پھر وہ رات آئی
07:06جب پہاڑ پر روشنی نظر آئی
07:08جو آگ نہیں تھی
07:10بلکہ وہی تھی
07:11اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں
07:14اور یہی سے ظلم کے خلاف حق کی جنگ شروع ہوئی
07:18اور جو آخر تک سنتا ہے
07:20وہ جانتا ہے
07:21کہ پانی کی ایک لہر
07:23غرور کے ہر تاج کو ڈوبو دیتی ہے
07:25رات گہری تھی
07:27سہرہ خاموش تھا
07:29اور ہوا تھنڈی ہو چکی تھی
07:31موسیٰ علیہ السلام اپنی بیوی کے ساتھ سفر میں تھے
07:34جب اچانک ان کی نظر دور ایک روشنی پر پڑی
07:38انہوں نے کہا
07:39تم یہی رکو
07:41شاید میں آگ لے آؤں
07:43یا راستے کا کوئی پتہ مل جائے
07:45لیکن وہ روشنی آگ نہیں تھی
07:47جب موسیٰ علیہ السلام قریب پہنچے
07:50تو ایک آواز نے پورے وجود کو ہلا دیا
07:53اے موسیٰ
07:55یہ آواز نہ ہوا تھی نہ انسانی
07:58میں ہی تیرا رب ہوں
08:00اپنے جوتے اتار دو
08:01تم مقدس وادی میں ہو
08:03اس لمحے
08:04موسیٰ علیہ السلام پر یہ حقیقت کھل چکی تھی
08:07کہ اللہ نے انہیں چن لیا ہے
08:09اللہ نے فرمایا
08:11میں نے تمہیں اپنا پیغمبر بنایا ہے
08:13اب تم فیرون کے پاس جاؤ
08:15وہ حد سے زیادہ سرکش ہو چکا ہے
08:18تمہاری لاتھی ایک نشانی ہوگی
08:21اور تمہارا ہاتھ ایک دلیل
08:23موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی
08:25اے میرے رب
08:26میری زبان میں گرا ہے
08:28میرا بھائی حارون میری مدد کے لیے مقرر فرما دے
08:31اللہ نے فرمایا
08:33تمہاری دعا قبول کی گئی
08:35اب دو بھائی حق کے ساتھ
08:38ظلم کے خلاف روانہ تھے
08:40فیرون کا دربار
08:42پہلے سے زیادہ شان و شوقت سے بھرا ہوا تھا
08:45جب موسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے
08:47تو فیرون نے تکبر بھری
08:49مسکراہت کے ساتھ پوچھا
08:50تم کون ہو
08:52موسیٰ علیہ السلام نے کہا
08:54میں اللہ کا رسول ہوں
08:56اور تمہیں حق کی طرف بلاتا ہوں
08:58فیرون ہنس پڑا
09:04تمہارا رب کون ہے
09:07موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا
09:09میرا رب وہ ہے جو زندگی دیتا ہے
09:12اور موت دیتا ہے
09:14فیرون غصے سے بھر گیا
09:17اور کہا
09:21کوئی دلیل دکھاؤ
09:26موسیٰ علیہ السلام نے لاتھی زمین پر ڈالی
09:29اور وہ ایک زندہ ازدہہ بن گئی
09:32دربار میں خاموشی چھا گئی
09:35فیرون نے اپنی زلت چھپانے کے لیے
09:38سب سے بڑے جادو کر بلالیے
09:40رسیاں پھینکی گئیں
09:42لوگوں کو سانپ نظر آنے لگے
09:44لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے لاتھی ڈالی
09:47تو وہ حقیقی ازدہہ بن کر
09:50جادو کو نگل گیا
09:51جادوگر سمجھ گئے
09:53یہ جادو نہیں
09:55یہ اللہ کی قدرت ہے
09:57وہ فوراں سجدے میں گر گئے
09:59فیرون کا غرور اور بڑھ گیا
10:02اس نے دھمکیاں دیں
10:04تم میرے اجازات کے بغیر ایمان لائے
10:10میں تمہیں قاتل کر دوں گا
10:13سزاؤں کا اعلان کیا
10:15لیکن حق کا سفر رکتا نہیں
10:18اللہ نے مصر پر نشانیاں بھیجنی شروع کی
10:21توفان آیا
10:23فصلیں برباد ہو گئیں
10:25ٹڈیاں آئیں
10:26کھیت صاف ہو گئے
10:36جون اور مینڈک ہر جگہ پھیل گئے
10:39پانی خون جیسا ہو گیا
10:41ہر عذاب کے بعد فیرون وعدہ کرتا
10:44اور پھر پلٹ جاتا
10:46آخر اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا
10:49رات کے وقت اپنی قوم کو نکال لو
10:52بنی اسرائیل خاموشی سے روانہ ہوئے
10:55نہ تلوار
10:56نہ لشکر
10:57صرف یقین
10:59صبح ہوئی
11:00تو فیرون کا غرور پھر جا گتا
11:03یہ سب انہیں پکٹ لاؤ
11:04ابھی کے ابھی
11:09لشکر روانہ ہوا
11:19سمندہ سامنے تھا
11:20اور پیچھے موت
11:22بنی اسرائیل گھبرا گئے
11:24اور کہا
11:25ہم پھس گئے
11:26موسیٰ علیہ السلام نے کہا
11:28ہرگز نہیں
11:29میرا رب میرے ساتھ ہے
11:32اللہ کا حکم ہوا
11:34لاتھی سمندر پر مارو
11:36پانی دو حصوں میں بٹ گیا
11:38اور بیچ میں سوخا راستہ بن گیا
11:41بنی اسرائیل اس راستے سے گزر گئے
11:44فیرون نے دیکھا
11:46اور غرور میں بولا
11:47یہ ہم بھی کر سکتے ہیں
11:49وہ اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں اترا
11:52جب آخری مومن بھی نکل گیا
11:55تو اللہ کا حکم ہوا
11:57پانی واپس مل گیا
11:58لہرے ٹوٹ پڑی
12:00گھوڑے
12:01سپاہی
12:02سب ڈوب گئے
12:04جب موت بلکل قریب آئی
12:06تو فیرون بولا
12:08میں اس رب پر ایمان لیا
12:10جس میں موسیٰ ایمان لیا
12:14لیکن دیر ہو چکی تھی
12:16اللہ نے فرمایا
12:18آج ہم تیرا جسم بچا لیں گے
12:21تاکہ تو عبارت بن جائے
12:23اور آج بھی
12:24جب دنیا اس جسم کو دیکھتی ہے
12:27تو یہ سمجھ ہاتا ہے
12:28غرور چاہے جتنا بڑا ہو
12:31پانی کی ایک لہر
12:33اسے مٹا سکتی ہے
12:34سمندر کے دوسری طرف
12:36جب بنی اسرائیل نے قدم رکھا
12:38تو پہلی دفعہ
12:40انہوں نے آزادی کی ہوا محسوس کی
12:43پیچھے مڑ کر دیکھا
12:45تو فیرون کا لشکر کہیں نظر نہ آیا
12:47صرف پانی تھا
12:49اور پانی پر خاموشی
12:51یہ صرف دشمن کی ہار نہیں تھی
12:54یہ غرور کے ایک دور کا خاتمہ تھا
12:57بنی اسرائیل کے دلوں میں شکر تھا
13:00لیکن ذہن ابھی بھی صدیوں کی غلامی سے آزاد نہیں ہوا تھا
13:04اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا
13:07اپنی قوم کو آگے لے جاؤ
13:10سفر جاری رہا
13:11سہرہ لمبا تھا
13:13راستے سخت تھے
13:15پھر وہ لمحہ آیا
13:17جب موسیٰ علیہ السلام کو کوہ تور پر بلایا گیا
13:20قوم سے کہا
13:22میں اپنے رب سے بات کرنے جا رہا ہوں
13:25تم یہیں انتظار کرو
13:27موسیٰ علیہ السلام چلے گئے
13:29اور پیچھے انسانی کمزوری رہ گئی
13:32سامری نے فتنہ پیدا کیا
13:34سونے کا بچڑا بنایا
13:36اور کہا
13:37یہ تمہارا خدا ہے
13:39اور وہ قوم
13:40جس نے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا
13:43جس نے فیرون کو ڈوپتے دیکھا تھا
13:45پھر بھی بھٹک گئی
13:47جب موسیٰ علیہ السلام واپس آئے
13:49تو ان کا دل بوجھل ہو گیا
13:51انہوں نے کہا
13:53تم اتنی جلدی کیسے بھول گئے
13:55توبہ کا دروازہ کھولا گیا
13:57اور اللہ نے رحم فرمایا
13:59یہ کہانی یہی ختم نہیں ہوتی
14:02مصر میں
14:03فیرون کے محل اب بھی کھڑے تھے
14:05لیکن ان میں روح نہیں تھی
14:08اور فیرون کی بیوی
14:09آسیا
14:10جو سچ پہلے ہی پہچان چکی تھی
14:13اس نے اپنے رب سے کہا
14:14اے میرے رب
14:16میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا
14:19اور مجھے فیرون اور اس کے آمال سے بچا
14:22اس کا جسم قید تھا
14:24لیکن روح آزاد تھی
14:26اللہ نے اسے مثال بنا دیا
14:29کہ سچ صرف طاقت سے نہیں
14:31یقین سے زندہ رہتا ہے
14:33اور فیرون جس نے کہا تھا
14:35میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں
14:38آج صرف ایک جسم رہ گیا
14:40جو دنیا کو یہ یاد دلاتا ہے
14:42کہ جب بندہ حد سے گزرتا ہے
14:44تو اللہ اسے اس کی اوقات دکھا دیتا ہے
14:47یہ کہانی صرف موسیٰ علیہ السلام کی نہیں
14:51یہ کہانی ہر دور کے فیرون کی ہے
14:53اور ہر دور کے موسیٰ کی
14:55فرق صرف اتنا ہے
14:57کہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے
14:59اور ظلم ہمیشہ ڈوب جاتا ہے
15:02جو سمجھ گیا
15:03اس کے لیے یہ کہانی کافی ہے
15:05اور جو نہیں سمجھا
15:07اس کے لیے فیرون کا انجام بھی کم ہے
15:10موسیقی
Comments