Skip to playerSkip to main content
  • 45 minutes ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00سوچو ایک ایسی دنیا جہاں ایک انسان اپنی سانس لینے کو بھی اپنی طاقت سمجھنے لگ جائے
00:05جہاں تاج سر پر ہو اور غرور دل میں
00:09اور جہاں ایک حکمران خود کو صرف بادشاہ نہیں بلکہ خدا کہلوانے لگے
00:14یہ کہانی کسی افسانے کی نہیں
00:17یہ کہانی حقیقت کی ہے
00:19یہ کہانی اس شخص کی ہے جس نے کہا
00:24میں تمہارا سب سے بدا راب ہوں
00:28اور پھر اسی شخص کو پانی کی ایک لہر نے
00:32تاریخ کا سب سے بڑا عبرتناک نشان بنا دیا
00:36یہ کہانی ہے فیرون کی اور اس سچ کی جو آخر کار ظلم کو ڈبا دیتا ہے
00:43یہ کہانیاں نہیں ہیں
00:45یہ سچائیاں ہیں
00:51مصر اس دور کا سب سے طاقتور ملک
00:54نیل کے کنارے بسی ہوئی ایک ایسی سلطنت جہاں زمین سے سونا اکتا تھا
01:00فصلیں لا محدود ہوتی تھی
01:02بازار روشنی سے بھرے رہتے تھے
01:05اور محل ایسے تھے جیسے پتھر کے نہیں غرور کے بنے ہوں
01:09مصر کے لوگ فیرون کو صرف حکمران نہیں مانتے تھے
01:12وہ اسے عقیدہ سمجھتے تھے
01:15اس کا حکم قانون سے اوپر تھا
01:17اس کا کہنا سچ سے زیادہ طاقتور تھا
01:20فیرون کا ایک جملہ لوگوں کی نسلوں کی سوچ بدل دیتا تھا
01:25وہ کہتا تھا میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں
01:28اور مصر خاموش رہتا تھا
01:31لیکن اسی مصر کے اندھیروں میں ایک ایسی قوم زندہ تھی
01:35جو روشنی سے محروم رکھی گئی
01:37بنی اسرائیل
01:39ان کا رہنا الگ
01:41ان کا پہناوہ الگ
01:42ان کا معاشرہ الگ
01:44اور ان کی زندگی صرف ایک چیز کے لیے تھی
01:46غلامی
01:47ان کے مرد صبح سے شام تک پتھر اٹھاتے
01:51محل بناتے
01:52دیواریں کھڑی کرتے
01:54اور رات کو تھکے ہوئے زمین پر گر جاتے
01:57اور ان کی عورتیں صرف اس لیے زندہ رکھی جاتی تھی
02:00تاکہ غلامی کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو
02:03فیرون بہت اچھی طرح جانتا تھا
02:06جو قوم کمزور ہو
02:08وہ کبھی تخت نہیں ہلا سکتی
02:10پھر ایک رات آئی
02:11جس رات فیرون نے ایک ایسا خواب دیکھا
02:14جس نے اس کے دل میں پہلی دفعہ
02:16ڈر پیدا کر دیا
02:17اس نے دیکھا بیت المقدس کی طرف سے
02:20ایک آگ نکلی
02:21جو مصر کے گھروں کو جلا رہی تھی
02:23لیکن بنی اسرائیل کے گھر
02:25محفوظ تھے
02:27فیرون گھبرا کر اٹھ بیٹھا
02:29یہ پہلی دفعہ تھا جب اس نے خود کو کمزور محسوس کیا
02:33اسی رات
02:34نجومی اور علم غیب کا دعویٰ کرنے والے
02:37دربار میں بلائے گئے
02:39خواب سنایا گیا
02:40اور پھر وہ جملہ کہا گیا
02:42جو تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے
02:44بنی اسرائیل میں ایک بیٹا پیدا ہوگا
02:47جو تیری سلطنت کے زوال کا سبب بنے گا
02:51یہ ممکن نہیں
02:54یہ سنتے ہی
02:55فیرون کے اندر کا ڈر
02:57ظلم میں بدلنے لگا
02:59جب ڈر دل میں آ جائے
03:01تو اقل اندھی ہو جاتی ہے
03:02اور جب اقل اندھی ہو جائے
03:04تو ظلم پیدا ہوتا ہے
03:06فیرون نے فیصلہ کر لیا
03:08مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے ختم کر دیا جائے
03:11اور پھر وہ حکم لکھا گیا
03:13جو قانون نہیں
03:14قتل ناما تھا
03:16بنی اسرائیل کے ہر نئے پیدا ہونے والے بیٹے کو قتل کر دو
03:21ہماری قوات کے سمنے
03:23کوئی نہیں تھیر سکتا
03:25بر کر دشمان کو دباہ کر دو
03:29شہر شہر تلوار چلی
03:31ماں کی گود اجڑی
03:32لاکھوں آنسو گرے
03:34ہزاروں ماسوم قتل ہوئے
03:36اور اسی ظلم کے اندھیرے میں
03:38ایک بچہ پیدا ہوا
03:40موسیٰ علیہ السلام
03:42ان کی والدہ کا دل ہر لمحہ خوف سے بھرا رہتا
03:45ہر آواز پر وہ کانپ چاہتی تھی
03:48ہر قدم پر موت محسوس ہوتی تھی
03:50پھر اللہ نے ان کے دل میں وحی ڈالی
03:53اس بچے کو دودھ پلاؤ
03:55اور جب خطرہ محسوس ہو
03:56تو اسے دریا میں ڈال دینا
03:58اور ڈرنا مت
03:59ہم اسے تمہیں واپس لوٹا دیں گے
04:01یہ حکم انسانی عقل سے باہر تھا
04:04لیکن ماں کا یقین اللہ پر مکمل تھا
04:07انہوں نے ایک چھوٹا سا صندوق منایا
04:09اور اپنے لال کو اس میں رکھ کر
04:11دریا کے حوالے کر دیا
04:13پانی بہ رہا تھا
04:14اور ایک ماں کا دل بھی
04:16بہنے والی لہروں پہ ساتھ
04:18تقدیر بھی بہ رہی تھی
04:19موسیٰ علیہ السلام کی بہن
04:22دور سے اس صندوق کو دیکھتی رہی
04:24نہ قریب آئی
04:25نہ نظر ہٹائی
04:26اور پھر وہ صندوق اس جگہ پہنچ گیا
04:29جہاں کسی نے سوچا بھی نہ تھا
04:31فیرون کا محل
04:32جب فیرون کی بیوی
04:34آسیا نے اس صندوق کو دیکھا
04:36اور اسے کھلوایا
04:38تو جیسے ہی اس بچے پر نظر پڑی
04:40اللہ نے ان کے دل میں رحمت ڈال دی
04:42انہوں نے فوراں کہا
04:45یہ میری اور تمہری آنکھوں کی تھندک ہے
04:49اس بچے کو قتل مت کرو
04:52شاید یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو
04:54یا ہم اسے بیٹا بنا لیں
04:56فیرون نے بچے کو دیکھا
04:59اور غرور سے کہا
05:01زندہ رہنا تو
05:05یہ بچہ میرا کیا بگاڑ لے گا
05:08وہ نہیں جانتا تھا
05:10کہ یہی بچہ اس کے زوال کی ابتدا بن چکا ہے
05:13وقت گزرتا گیا
05:15موسیٰ علیہ السلام محلوں میں پلنے لگے
05:18لیکن دل بنی اسرائیل کے ساتھ رہا
05:21جوانی میں اللہ نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا
05:25ایک دن شہر میں گئے
05:26وہاں دو آدمی لڑ رہے تھے
05:29ایک بنی اسرائیل کا اور ایک مصری
05:31بنی اسرائیل کے آدمی نے مدد مانگی اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے
05:36ایک مکہ لگا اور وہ مصری گر گیا اور پھر کبھی نہ اٹھا
05:41موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ قتل ہو چکا ہے
05:45انہوں نے فوراً اللہ سے معافی مانگی اور اللہ نے معاف کر دیا
05:50لیکن مصر نے معاف نہ کیا
05:52دربار میں شور مچ گیا
05:54فیرون کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا
05:57حکم دیا گیا موسیٰ کو قتل کر دو
06:00شہر کے دوسرے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا
06:04تمہارا قتل کا مشورہ ہو رہا ہے
06:07یہاں سے نکل جاؤ
06:08موسیٰ علیہ السلام نہ پیچھے مڑے نہ رکے
06:12نہ مال نہ سامان صرف یقین
06:15وہ خوف اور امید کے درمیان مصر سے نکل گئے
06:19ریگستان، بھوک، پیاس اور ایک دعا
06:22اے میرے رب مجھے ظالموں سے بچا لے
06:26آخر وہ مدین پہنچے
06:28وہاں ایک کواں تھا اور دو لڑکیاں دور کھڑی تھیں
06:32موسیٰ علیہ السلام نے مدد کی
06:34اور پھر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر کہا
06:36اے میرے رب جو بھی بھلائی تو مجھ پر نازل کرے
06:40میں اس کا مختاج ہوں
06:42یہ لفظ صرف دعا نہیں تھے
06:44یہ یقین تھے
06:46تھوڑی دیر بعد ایک لڑکی آئی اور کہا
06:49میرے والد تمہیں بلاتے ہیں
06:51وہ بزرگ حضرت شوائب علیہ السلام تھے
06:54انہوں نے کہا
06:55اب تم محفوظ ہو
06:57یہی سے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نیا مرحلہ شروع ہوا
07:01سال گزرے
07:02تنہائی
07:03سبر
07:04محنت
07:05اور پھر وہ رات آئی
07:06جب پہاڑ پر روشنی نظر آئی
07:08جو آگ نہیں تھی
07:10بلکہ وہی تھی
07:11اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں
07:14اور یہی سے ظلم کے خلاف حق کی جنگ شروع ہوئی
07:18اور جو آخر تک سنتا ہے
07:20وہ جانتا ہے
07:21کہ پانی کی ایک لہر
07:23غرور کے ہر تاج کو ڈوبو دیتی ہے
07:25رات گہری تھی
07:27سہرہ خاموش تھا
07:29اور ہوا تھنڈی ہو چکی تھی
07:31موسیٰ علیہ السلام اپنی بیوی کے ساتھ سفر میں تھے
07:34جب اچانک ان کی نظر دور ایک روشنی پر پڑی
07:38انہوں نے کہا
07:39تم یہی رکو
07:41شاید میں آگ لے آؤں
07:43یا راستے کا کوئی پتہ مل جائے
07:45لیکن وہ روشنی آگ نہیں تھی
07:47جب موسیٰ علیہ السلام قریب پہنچے
07:50تو ایک آواز نے پورے وجود کو ہلا دیا
07:53اے موسیٰ
07:55یہ آواز نہ ہوا تھی نہ انسانی
07:58میں ہی تیرا رب ہوں
08:00اپنے جوتے اتار دو
08:01تم مقدس وادی میں ہو
08:03اس لمحے
08:04موسیٰ علیہ السلام پر یہ حقیقت کھل چکی تھی
08:07کہ اللہ نے انہیں چن لیا ہے
08:09اللہ نے فرمایا
08:11میں نے تمہیں اپنا پیغمبر بنایا ہے
08:13اب تم فیرون کے پاس جاؤ
08:15وہ حد سے زیادہ سرکش ہو چکا ہے
08:18تمہاری لاتھی ایک نشانی ہوگی
08:21اور تمہارا ہاتھ ایک دلیل
08:23موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی
08:25اے میرے رب
08:26میری زبان میں گرا ہے
08:28میرا بھائی حارون میری مدد کے لیے مقرر فرما دے
08:31اللہ نے فرمایا
08:33تمہاری دعا قبول کی گئی
08:35اب دو بھائی حق کے ساتھ
08:38ظلم کے خلاف روانہ تھے
08:40فیرون کا دربار
08:42پہلے سے زیادہ شان و شوقت سے بھرا ہوا تھا
08:45جب موسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے
08:47تو فیرون نے تکبر بھری
08:49مسکراہت کے ساتھ پوچھا
08:50تم کون ہو
08:52موسیٰ علیہ السلام نے کہا
08:54میں اللہ کا رسول ہوں
08:56اور تمہیں حق کی طرف بلاتا ہوں
08:58فیرون ہنس پڑا
09:04تمہارا رب کون ہے
09:07موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا
09:09میرا رب وہ ہے جو زندگی دیتا ہے
09:12اور موت دیتا ہے
09:14فیرون غصے سے بھر گیا
09:17اور کہا
09:21کوئی دلیل دکھاؤ
09:26موسیٰ علیہ السلام نے لاتھی زمین پر ڈالی
09:29اور وہ ایک زندہ ازدہہ بن گئی
09:32دربار میں خاموشی چھا گئی
09:35فیرون نے اپنی زلت چھپانے کے لیے
09:38سب سے بڑے جادو کر بلالیے
09:40رسیاں پھینکی گئیں
09:42لوگوں کو سانپ نظر آنے لگے
09:44لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے لاتھی ڈالی
09:47تو وہ حقیقی ازدہہ بن کر
09:50جادو کو نگل گیا
09:51جادوگر سمجھ گئے
09:53یہ جادو نہیں
09:55یہ اللہ کی قدرت ہے
09:57وہ فوراں سجدے میں گر گئے
09:59فیرون کا غرور اور بڑھ گیا
10:02اس نے دھمکیاں دیں
10:04تم میرے اجازات کے بغیر ایمان لائے
10:10میں تمہیں قاتل کر دوں گا
10:13سزاؤں کا اعلان کیا
10:15لیکن حق کا سفر رکتا نہیں
10:18اللہ نے مصر پر نشانیاں بھیجنی شروع کی
10:21توفان آیا
10:23فصلیں برباد ہو گئیں
10:25ٹڈیاں آئیں
10:26کھیت صاف ہو گئے
10:36جون اور مینڈک ہر جگہ پھیل گئے
10:39پانی خون جیسا ہو گیا
10:41ہر عذاب کے بعد فیرون وعدہ کرتا
10:44اور پھر پلٹ جاتا
10:46آخر اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا
10:49رات کے وقت اپنی قوم کو نکال لو
10:52بنی اسرائیل خاموشی سے روانہ ہوئے
10:55نہ تلوار
10:56نہ لشکر
10:57صرف یقین
10:59صبح ہوئی
11:00تو فیرون کا غرور پھر جا گتا
11:03یہ سب انہیں پکٹ لاؤ
11:04ابھی کے ابھی
11:09لشکر روانہ ہوا
11:19سمندہ سامنے تھا
11:20اور پیچھے موت
11:22بنی اسرائیل گھبرا گئے
11:24اور کہا
11:25ہم پھس گئے
11:26موسیٰ علیہ السلام نے کہا
11:28ہرگز نہیں
11:29میرا رب میرے ساتھ ہے
11:32اللہ کا حکم ہوا
11:34لاتھی سمندر پر مارو
11:36پانی دو حصوں میں بٹ گیا
11:38اور بیچ میں سوخا راستہ بن گیا
11:41بنی اسرائیل اس راستے سے گزر گئے
11:44فیرون نے دیکھا
11:46اور غرور میں بولا
11:47یہ ہم بھی کر سکتے ہیں
11:49وہ اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں اترا
11:52جب آخری مومن بھی نکل گیا
11:55تو اللہ کا حکم ہوا
11:57پانی واپس مل گیا
11:58لہرے ٹوٹ پڑی
12:00گھوڑے
12:01سپاہی
12:02سب ڈوب گئے
12:04جب موت بلکل قریب آئی
12:06تو فیرون بولا
12:08میں اس رب پر ایمان لیا
12:10جس میں موسیٰ ایمان لیا
12:14لیکن دیر ہو چکی تھی
12:16اللہ نے فرمایا
12:18آج ہم تیرا جسم بچا لیں گے
12:21تاکہ تو عبارت بن جائے
12:23اور آج بھی
12:24جب دنیا اس جسم کو دیکھتی ہے
12:27تو یہ سمجھ ہاتا ہے
12:28غرور چاہے جتنا بڑا ہو
12:31پانی کی ایک لہر
12:33اسے مٹا سکتی ہے
12:34سمندر کے دوسری طرف
12:36جب بنی اسرائیل نے قدم رکھا
12:38تو پہلی دفعہ
12:40انہوں نے آزادی کی ہوا محسوس کی
12:43پیچھے مڑ کر دیکھا
12:45تو فیرون کا لشکر کہیں نظر نہ آیا
12:47صرف پانی تھا
12:49اور پانی پر خاموشی
12:51یہ صرف دشمن کی ہار نہیں تھی
12:54یہ غرور کے ایک دور کا خاتمہ تھا
12:57بنی اسرائیل کے دلوں میں شکر تھا
13:00لیکن ذہن ابھی بھی صدیوں کی غلامی سے آزاد نہیں ہوا تھا
13:04اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا
13:07اپنی قوم کو آگے لے جاؤ
13:10سفر جاری رہا
13:11سہرہ لمبا تھا
13:13راستے سخت تھے
13:15پھر وہ لمحہ آیا
13:17جب موسیٰ علیہ السلام کو کوہ تور پر بلایا گیا
13:20قوم سے کہا
13:22میں اپنے رب سے بات کرنے جا رہا ہوں
13:25تم یہیں انتظار کرو
13:27موسیٰ علیہ السلام چلے گئے
13:29اور پیچھے انسانی کمزوری رہ گئی
13:32سامری نے فتنہ پیدا کیا
13:34سونے کا بچڑا بنایا
13:36اور کہا
13:37یہ تمہارا خدا ہے
13:39اور وہ قوم
13:40جس نے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا
13:43جس نے فیرون کو ڈوپتے دیکھا تھا
13:45پھر بھی بھٹک گئی
13:47جب موسیٰ علیہ السلام واپس آئے
13:49تو ان کا دل بوجھل ہو گیا
13:51انہوں نے کہا
13:53تم اتنی جلدی کیسے بھول گئے
13:55توبہ کا دروازہ کھولا گیا
13:57اور اللہ نے رحم فرمایا
13:59یہ کہانی یہی ختم نہیں ہوتی
14:02مصر میں
14:03فیرون کے محل اب بھی کھڑے تھے
14:05لیکن ان میں روح نہیں تھی
14:08اور فیرون کی بیوی
14:09آسیا
14:10جو سچ پہلے ہی پہچان چکی تھی
14:13اس نے اپنے رب سے کہا
14:14اے میرے رب
14:16میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا
14:19اور مجھے فیرون اور اس کے آمال سے بچا
14:22اس کا جسم قید تھا
14:24لیکن روح آزاد تھی
14:26اللہ نے اسے مثال بنا دیا
14:29کہ سچ صرف طاقت سے نہیں
14:31یقین سے زندہ رہتا ہے
14:33اور فیرون جس نے کہا تھا
14:35میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں
14:38آج صرف ایک جسم رہ گیا
14:40جو دنیا کو یہ یاد دلاتا ہے
14:42کہ جب بندہ حد سے گزرتا ہے
14:44تو اللہ اسے اس کی اوقات دکھا دیتا ہے
14:47یہ کہانی صرف موسیٰ علیہ السلام کی نہیں
14:51یہ کہانی ہر دور کے فیرون کی ہے
14:53اور ہر دور کے موسیٰ کی
14:55فرق صرف اتنا ہے
14:57کہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے
14:59اور ظلم ہمیشہ ڈوب جاتا ہے
15:02جو سمجھ گیا
15:03اس کے لیے یہ کہانی کافی ہے
15:05اور جو نہیں سمجھا
15:07اس کے لیے فیرون کا انجام بھی کم ہے
15:10موسیقی
Comments

Recommended