00:00ناظرین اکرام، آج ہم آپ کو لے چلتے ہیں بہادری، عدل، حلم اور ایمان سے بھرپور ایک ایسی داستان کی
00:07طرف جو دلوں کو بدل دینے والی ہے۔
00:10یہ قصہ ہے اس ہستی کا جن کی شجاعت میدان جنگ میں بھی نظر آتی ہے اور جن کا انصاف
00:16عدالت میں بھی بولتا ہے۔
00:18ایک طرف طاقت کا امتحان ہے تو دوسری طرف عدل کا میار جہاں دشمن دوست بن جاتا ہے اور حق
00:25کی روشنی دلوں کو منور کر دیتی ہے۔
00:28آئیے سنتے ہیں مولا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی سے جڑا ایک ایمان افروز واقعہ جو ہمیں سکھاتا ہے
00:36کہ اصل فتح تلوار سے نہیں کردار سے حاصل ہوتی ہے۔
00:40ناظرین عرب کے شہر تبوک میں ایک طبیلہ بستا تھا اس قبیلے کا ایک بادشاہ تھا جو مورتی پوجک تھا
00:48اور اسلام دین سے سخت نفرت کرتا تھا اس کے دربار میں ایک جوتشی بھی رہتا تھا۔
00:54ایک دن اس جوتشی نے بادشاہ سے کہا میں نے سنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت بڑے
01:00پہلوان اور نہایت طاقتور ہیں۔
01:03یہ بات سن کر بادشاہ نے کہا اگر علی پہلوان ہے تو انہیں پہلوان کے ذریعے ہی ہرایا جائے گا۔
01:09پھر بادشاہ نے اپنے لوگوں سے کہا جاؤ اور راج کے سب ہی بڑے بڑے پہلوانوں کو یہاں بلا لاؤ
01:16کیونکہ میں سب کو کشتی لڑواؤں گا اور جو آخری شخص کشتی میں جیتے گا اسی کی کشتی علی سے
01:22ہوگی۔
01:23اگلے دن راج کے تمام پہلوان ایک کھلے میدان میں جمع ہو گئے۔
01:27بادشاہ نے سب پہلوانوں سے کہا تم سب ایک دوسرے سے کشتی لڑو گے اور جو آخر میں جیتے گا
01:33میں اسے انعام دوں گا۔
01:35بادشاہ کی بات مان کر سب ہی پہلوانوں نے آپس میں کشتی شروع کر دی۔
01:40کافی دیر تک کشتی لڑنے کے بعد ایک پہلوان نے باقی سب ہی کو ہرا دیا۔
01:45اس کا نام تھا فتح پہلوان۔
01:48پھر بادشاہ نے فتح پہلوان سے کہا تم تھکے ہوئے ہو اس لیے کچھ دن یہیں آرام کرو پھر میں
01:55تمہیں تمہارا انعام دوں گا۔
01:56بادشاہ کی بات سن کر فتح پہلوان آرام کرنے چلا گیا۔
02:01کچھ دن بعد بادشاہ نے اسے بلائیا اور کہا اب میری بات دھیان سے سنو میں تم پر بہت پیسہ
02:07خرچ کر رہا ہوں۔
02:08اتنے سارے پہلوانوں کو بلائیا کیا تم جانتے ہو اس کا مقصد کیا تھا؟
02:12فتح پہلوان نے کہا جی نہیں میں اس مقصد کے بارے میں نہیں جانتا۔
02:18بادشاہ نے کہا میں اپنے لیے کوئی پہلوان نہیں رکھنا چاہتا بلکہ میں ایک انسان سے بہت نفرت کرتا ہوں۔
02:25لیکن اس کی کشتی بہت مشہور ہے اور اس کا نام ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
02:31حضرت علی رضی اللہ عنہ اس لیے تم اس سے لڑو اسے مار ڈالو اور اس کا سر میرے پاس
02:37لے کر آؤ
02:38کیونکہ تب مجھے فخر ہوگا کہ تم میرے داماد ہو جس نے علی رضی اللہ عنہ کو ہرا دیا۔
02:45اس کے بعد فتح پہلوان چار پانچ پہلوانوں کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
02:51کئی دنوں کی یاترہ کے بعد جب وہ مدینہ کی سرحد پر پہنچے تو شام ہو چکی تھی۔
02:57اس لیے رات گزارنے کے لیے وہیں اپنے خیمے لگا کر آرام کرنے لگے۔
03:01پھر اگلے دن صبح فجر کے وقت جب فتح پہلوان اور اس کے ساتھی خیموں سے باہر نکلے
03:07تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص سڑک کے اس پار سے آ رہا ہے۔
03:11اسے دیکھ کر فتح پہلوان کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا
03:15دیکھو ایک آدمی آ رہا ہے۔
03:18چلو اس سے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتے ہیں اور یہ پتا کرتے ہیں کہ وہ کہاں
03:23ملیں گے۔
03:24پھر انہوں نے اس شخص سے کہا
03:26اے شخص ادھر آؤ
03:27ان کی بات سن کر اس شخص نے کہا
03:30کام آپ کا ہے تو آپ کو ہی ادھر آنا چاہیے
03:33پھر فتح پہلوان اور اس کے ساتھی اس کے پاس پہنچے اور بولے
03:37اے شخص ہم اس شہر میں نئے ہیں
03:40ہم ایک آدمی کو ڈھون رہے ہیں
03:42اور اس کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں
03:44ہم جس سے ملنا چاہتے ہیں
03:46اس کا نام ہے
03:47علی ابن عبی طالب رضی اللہ عنہ
03:49تب اس شخص نے پوچھا
03:51کیا تم پہلے کبھی ان سے ملے؟
03:53انہوں نے کہا نہیں
03:54پھر اس نے پوچھا کیا تم نے کبھی انہیں دیکھا ہے؟
03:58انہوں نے کہا نہیں
03:59پھر اس نے پوچھا کیا کبھی ان کی آواز سنی ہے؟
04:03انہوں نے کہا نہیں
04:04پھر اس نے کہا
04:05علی رضی اللہ عنہ سے تمہیں کیا کام ہے؟
04:09فتح پہلوان نے کہا
04:10ہم ان سے کشتی لڑنا چاہتے ہیں
04:12تب اس شخص نے کہا
04:14تم کیوں ان سے کشتی لڑوگے؟
04:16فتح پہلوان نے کہا
04:17ہم نے اس کام کا سودا کیا ہے
04:20اگر میں ان سے لڑوں گا
04:21تو مجھے بہت بڑا انام ملے گا
04:23اور ایک لڑکی بھی ملے گی
04:25جسے میں پسند کرتا ہوں
04:27تب اس شخص نے کہا
04:28ٹھیک ہے پہلے تم مجھ سے ہی کشتی لڑو
04:32اگر جیت گئے
04:33تو علی رضی اللہ عنہ سے لڑ سکتے ہو
04:36کیونکہ اس وقت
04:37علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے
04:39یہ صرف میں ہی جانتا ہوں
04:41اصل میں وہ شخص خود
04:42امیر المومنین
04:44امام علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے
04:47یہ بات سن کر
04:49فتح پہلوان نے کہا
04:50ٹھیک ہے لیکن تم کس ہتھیار سے لڑو گے
04:53اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
04:56جو تمہیں اچھا لگے
04:58فتح پہلوان نے کہا
05:00ٹھیک ہے لیکن تمہارے پاس تو تلوار نہیں ہے
05:03حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
05:06تمہارے پاس تلوار ہے
05:07اور میرے پاس بیلچا
05:09تو تم تلوار سے لڑو
05:11اور میں بیلچے سے لڑوں گا
05:13میری طرف سے یہی بیلچا
05:14تمہاری تلوار کا مقابلہ کرے گا
05:16علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر فتح پہلوان بولا
05:21تم بہت بہادر ہو
05:22اگر تم اتنے بہادر ہو
05:24تو سوچو کہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کتنے بہادر ہوں گے
05:29فتح پہلوان تیار ہو گیا
05:31پہلے اس نے حملہ کیا
05:33پھر دوسرا وار کیا
05:34اور پھر تیسرا وار بھی کیا
05:36فتح پہلوان لگاتار وار کرتا رہا
05:39لیکن امام علی رضی اللہ عنہ ہر وار کو روکتے گئے
05:43تلوار سے وار کرتے کرتے
05:45فتح رک گیا
05:46اور وہاں سے پیچھے ہٹ گیا
05:48تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
05:51فتح اب کیا تمہارا کوئی اور ہتھیار باقی ہے
05:54فتح پہلوان بولا
05:56اے انجان جوان
05:58تم نے مجھے نراش کر دیا
05:59تلوار اور بیلچے کی لڑائی ختم کرو
06:02آؤ اب ہاتھوں سے کشتی کریں
06:04تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
06:07ٹھیک ہے
06:08لیکن کشتی میں بھی
06:10حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
06:12ہر وار کو روک دیا
06:13اس طرح لڑتے لڑتے فتح پہلوان تھک گیا
06:16پھر فتح پہلوان بولا
06:18اب میں تیسرے طریقے سے لڑائی کروں گا
06:21جس میں میں سب سے زیادہ ماہر ہوں
06:23اور جسے میں سب سے آخر میں استعمال کرتا ہوں
06:26اب میں بھالا برچی سے لڑائی کروں گا
06:29حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
06:31ٹھیک ہے
06:32تم بھالے سے لڑو
06:33اور میں اپنے پھاوڑے سے لڑوں گا
06:35اس کے بعد لڑائی پھر سے شروع ہوئی
06:38اس بار بھی فتح پہلوان لگاتار وار کرتا رہا
06:41لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا
06:45کہ اس شخص کا ہتھیار تو چل رہا ہے
06:47مگر اس کا دل صاف ہے
06:48کچھ دیر لڑنے کے بعد فتح پہلوان بولا
06:51میں تھک گیا
06:53تم نے تو ایک بار بھی مجھ پر وار نہیں کیا
06:56اب تم وار کرو
06:57تب امام علی رضی اللہ عنہ نے
07:00اپنے پاس موجود پھاولہ اٹھایا
07:02اور فتح کی طرف بڑھایا
07:04اور اشارہ کیا
07:06جیسے جیسے علی رضی اللہ عنہ
07:08اپنا پھاولہ اوپر اٹھاتے گئے
07:10فتح بھی اس کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھنے لگا
07:13یہ منظر دیکھ کر فتح پہلوان گھبرا گیا
07:16اور اس کے باقی ساتھی بھی فکر میں پر گئے
07:19دوسرے پہلوان بھی یہ دیکھ کر ڈر گئے
07:22کہ اگر اس شخص میں اتنی طاقت ہے
07:24تو حضرت علی رضی اللہ عنہ میں کتنی طاقت ہوگی
07:28فتح بولا
07:29اے انجان جوان
07:31میں ہار چکا ہوں
07:32میں اپنی ہار قبول کرتا ہوں
07:34تم جیت گئے
07:36تم فاتح ہو
07:37بس اب مجھے نیچے اتار دو
07:39پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
07:42اب بتاؤ فتح
07:43کیا کہنا چاہتے ہو
07:45فتح پہلوان بولا
07:46اے انجان جوان
07:48جس مقصد کے لئے میں آیا تھا
07:50وہ تو پورا ہونے والا نہیں ہے
07:52اب تم مجھے بتاؤ
07:54تم کون ہو
07:55مولا علی رضی اللہ عنہ نے کہا
07:58جس علی رضی اللہ عنہ کو تم ڈھون رہے تھے
08:01میں وہی علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہوں
08:04فتح پہلوان نے یہ سنا
08:07تو وہ ڈر سے کانپنے لگا
08:09اور رونے لگا
08:10امام علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا
08:13اے فتح
08:14تم کیوں رو رہے ہو
08:15فتح بولا
08:17اے مولا
08:18میں بڑی امید لے کر آیا تھا
08:20کہ مجھے بہت بڑا انام ملے گا
08:22اور میں اس عورت کو پالوں گا
08:24جس سے میں محبت کرتا ہوں
08:26یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
08:29اے فتح
08:30کیا تم جانتے ہو
08:31کہ تم کس کے در پر آئے ہو
08:33علی رضی اللہ عنہ کے در سے
08:35آج تک کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا
08:38فتح بولا
08:39اگر بات صرف انام کی ہوتی
08:41تو میں آپ سے مانگ لیتا
08:43لیکن اصل بات یہ ہے
08:45کہ میں تو آپ کا سر لینے آیا تھا
08:47حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
08:50اگر سر کی بات ہے تو کیا ہوا
08:52گردن تو علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہے
08:55اسے لے لو
08:56اپنی تلوار نکالو
08:58اور علی رضی اللہ عنہ کا سر لے کر جاؤ
09:01اور اپنا مقصد پورا کرو
09:02فتح بولا
09:04اتنے دنوں بعد مجھے کوئی سچا انسان ملا ہے
09:07اتنے دنوں بعد
09:09مجھے کوئی راہ دکھانے والا ملا ہے
09:11اور میں اس کی گردن
09:12ایک عورت کے لیے کار دوں
09:14یہ کبھی نہیں ہو سکتا
09:16اے علی رضی اللہ عنہ
09:18میں آپ کو مارنے اور ہرانے آیا تھا
09:21لیکن میں خود شکست کھا گیا ہوں
09:23میں خود ہار گیا ہوں
09:24آپ مجھے کلمہ پڑھائیں
09:26میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں
09:28اس کے بعد
09:30حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
09:32اسے کلمہ پڑھایا
09:33اور فرمایا
09:34پہلے تمہارا نام فتح تھا
09:37اب تمہارا نام کیا رکھا جائے
09:39فتح بولا
09:40اے علی رضی اللہ عنہ
09:42جو آپ کا دل چاہے
09:44وہی نام رکھ دیجئے
09:46تب امام علی رضی اللہ عنہ
09:48مسکرا دئیے
09:49اور تاریخ گواہ ہے
09:50کہ تب سے لے کر
09:52جنگ سفین
09:53جنگ جمل
09:54اور آخری سانس تک
09:56کنبر رضی اللہ عنہ
09:57مولا علی رضی اللہ عنہ
10:00کا ہاتھ نہیں چھوڑتے تھے
10:01ناظرین کرام
10:03آئیے اب مولا علی رضی اللہ عنہ
10:05کی زندگی کا
10:06ایک اور روشن باب سنتے ہیں
10:08جہاں طاقت نہیں
10:10بلکہ حلم
10:11اور اختیار نہیں
10:12بلکہ صبر بولتا ہے
10:14ایک مرتبہ کا ذکر ہے
10:16کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
10:18ایک راستے سے گزر رہے تھے
10:19گرمی کا موسم تھا
10:21دھوپ تیز تھی
10:23اسی دوران
10:24ایک بتتمیز شخص
10:25راستے کے کنارے
10:26کھڑا ہو کر
10:27امیر المومنین
10:28رضی اللہ عنہ
10:29کو دیکھتے ہی
10:30گالیاں دینے لگا
10:31وہ بلند آواز میں
10:33حضرت علی رضی اللہ عنہ
10:35کو برا بھلا کہہ رہا تھا
10:36مگر مولا علی رضی اللہ عنہ
10:39خاموشی سے آگے بڑھتے رہے
10:41وہ شخص پیچھے پیچھے چلتا رہا
10:43اور مسلسل توہین کرتا رہا
10:45صحابہ رضی اللہ عنہ
10:47میں سے بعض کو سخت غصہ آیا
10:49انہوں نے عرض کیا
10:51یا امیر المومنین
10:52رضی اللہ عنہ
10:53اجازت دیں
10:55تو ہم اسے سبق سکھائیں
10:56حضرت علی رضی اللہ عنہ
10:58نے فرمایا
10:59نہیں
11:00اسے چھوڑ دو
11:01کچھ آگے جا کر
11:02حضرت علی رضی اللہ عنہ
11:04رک گئے
11:04مڑے
11:05اور اس شخص کی طرف دیکھ کر
11:07نہایت نرمی سے فرمایا
11:09بھائی
11:10شاید تم مسافر ہو
11:11یا بھوکے ہو
11:12یا کسی پریشانی میں مبتلا ہو
11:14اگر تمہیں رہنے کی جگہ چاہیے
11:17تو ہم مہیا کر دیتے ہیں
11:18اگر کھانے کو کچھ نہیں
11:20تو ہمارے گھر آ جاؤ
11:22اور اگر تم پر کوئی کرز ہے
11:24تو وہ بھی ادا کر دیا جائے گا
11:26بس اتنا بتا دو
11:27کہ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے
11:29یہ سن کر وہ شخص حیران رہ گیا
11:32جسے وہ گالیاں دے رہا تھا
11:34وہ ہی اس کے لیے دعا اور مدد کی پیشکش کر رہا تھا
11:37اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
11:39وہ زمین پر بیٹھ گیا
11:41اور روتے ہوئے بولا
11:43اے علی رضی اللہ عنہ
11:45میں آپ کے بارے میں غلط باتیں سنتا آیا تھا
11:48اسی لیے دل میں نفرت بھر لی تھی
11:51آج آپ کے اخلاق نے میرا دل بدل دیا
11:53میں گواہی دیتا ہوں
11:55کہ آپ حق پر ہیں
11:56حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے اٹھایا
11:59سینے سے لگایا
12:00اور فرمایا
12:01بھائی انسان غلطی کرتا ہے
12:04مگر بہترین وہ ہے
12:06جو سچ کو پہچان لے
12:08ناظرین یہ ہے علی رضی اللہ عنہ کا کردار
12:11جو دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے
12:14جو گالی کے جواب میں دعا دیتا ہے
12:16اور نفرت کے بدلے محبت باٹتا ہے
12:20ناظرین کرام
12:21ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ بازار گئے
12:24اور دیکھا کہ ایک عیسائی شخص
12:26ایک ذرہ بیچ رہا تھا
12:28حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
12:30اس ذرہ کو پہچان لیا
12:32اور فوراں اس کے پاس جا کر بولے
12:34یہ تو میری ذرہ ہے
12:36یہ سن کر وہ شخص بولا
12:38اے امیر المومنین
12:39یہ ذرہ میری ہے
12:41اور میرے قبضے میں ہے
12:42اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
12:45تو پھر چلو
12:47ہم قاضی کے پاس چلتے ہیں
12:48وہیں اس کا فیصلہ ہوگا
12:50اس وقت عدالت کے قاضی شریعت تھے
12:53جب انہوں نے امیر المومنین کو آتے دیکھا
12:56تو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے
12:58اور انہیں اپنی نشست پر بٹھانے لگے
13:00لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ
13:02ان کے برابر میں بیٹھ گئے
13:04اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
13:07قاضی شریعت سے کہا
13:09اس شخص کے ساتھ میرے اس معاملے کا فیصلہ کریں
13:12حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر
13:15قاضی شریعت نے پوچھا
13:17معاملہ کیا ہے
13:19حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
13:21یہ ذرہ بہت پہلے کھو گئی تھی
13:23نہ تو میں نے اسے بیچا ہے
13:25اور نہ ہی کسی کو حبہ کیا ہے
13:27علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر
13:30قاضی شریعت بولے
13:31میں امیر المومنین کو جھوٹا نہیں کہہ رہا
13:34اور نہ ہی ان کے دعوے کو غلط ٹھہرہ رہا ہوں
13:37لیکن ذرہ اس شخص کے قبضے میں ہے
13:41بغیر کسی ثبوت کے
13:42اسے واپس نہیں دیا جا سکتا
13:44کیا آپ کے پاس کوئی گواہ یا ثبوت ہے
13:47قاضی شریعت کی یہ بات سن کر
13:49علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیے
13:51اور بولے
13:52قاضی نے درست کہا
13:54میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے
13:56تب قاضی شریع نے
13:58عیسائی کے حق میں فیصلہ سنا دیا
14:00اور وہ ذرہ لے کر چل پڑا
14:02لیکن وہ عیسائی
14:04کچھ دور جا کر باپس لوٹ آیا
14:06اور وہ بولا
14:07میں گواہی دیتا ہوں
14:09کہ یہی انبیاء کی تعلیم اور شریعت ہے
14:11امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے
14:14عدالت کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا
14:17اور قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا
14:19اللہ کی قسم
14:24اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ
14:27یہ ذرہ واقعی آپ ہی کی ہے
14:29میں نے اسے آپ کی اونٹنی سے گرتے دیکھا تھا
14:32ذرہ نیچے گر گئی تھی
14:34اور میں نے اسے اٹھا لیا تھا
14:36میں گواہی دیتا ہوں
14:37کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
14:40اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
14:43اللہ کے رسول ہیں
14:44علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا
14:47اب جب تم اسلام قبول کر چکے ہو
14:50تو یہ ذرہ اب تمہاری ہوئی
14:52اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
14:55اسے ایک اچھا گھوڑا بھی توفے میں دیا
14:57اور اسے عزت کے ساتھ رخصت کیا
14:59اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے
15:02کہ اسلام عدل کا دین ہے
15:04عدل ہی انسانیت کو بلند کرتا ہے
15:06اللہ کی شریعت کے سامنے
15:08بادشاہ اور رعایہ سب برابر ہوتے ہیں
15:11انصاف وہی کر سکتا ہے جو بہادر
15:14متقی اور ایماندار ہو
15:16اسلامی خلافت میں
15:18مسلمان اور غیر مسلم
15:20سب شہریوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں
15:22اللہ تعالیٰ امت مسلمہ
15:25صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زندگیوں سے
15:28سبق لینے کی توفیر پتا فرمائے
15:30ان تمام واقعات سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے
15:33کہ علی رضی اللہ عنہ کی بہادرین
15:36صرف تلوار میں نہیں
15:37اخلاق میں بھی تھے
15:39علی رضی اللہ عنہ کا عدل
15:41عدالت تک محدود نہیں
15:43روز مرہ زندگی میں بھی تھا
15:45علی رضی اللہ عنہ کا حلم ایسا تھا
15:48کہ سخت دل بھی نرم ہو جاتے تھے
15:50اور علی رضی اللہ عنہ کا ایمان ایسا تھا
15:54کہ دشمن بھی ہدایت پا لیتے تھے
15:56اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا کردار اتا فرمائے
15:59کہ ہمارے عمل سے لوگ دین کے قریب آئیں
16:02دور نہ ہوں
16:03آمین یارب العالمین
Comments