Skip to playerSkip to main content
  • 10 hours ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ناظرین اکرام، آج ہم آپ کو لے چلتے ہیں بہادری، عدل، حلم اور ایمان سے بھرپور ایک ایسی داستان کی
00:07طرف جو دلوں کو بدل دینے والی ہے۔
00:10یہ قصہ ہے اس ہستی کا جن کی شجاعت میدان جنگ میں بھی نظر آتی ہے اور جن کا انصاف
00:16عدالت میں بھی بولتا ہے۔
00:18ایک طرف طاقت کا امتحان ہے تو دوسری طرف عدل کا میار جہاں دشمن دوست بن جاتا ہے اور حق
00:25کی روشنی دلوں کو منور کر دیتی ہے۔
00:28آئیے سنتے ہیں مولا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی سے جڑا ایک ایمان افروز واقعہ جو ہمیں سکھاتا ہے
00:36کہ اصل فتح تلوار سے نہیں کردار سے حاصل ہوتی ہے۔
00:40ناظرین عرب کے شہر تبوک میں ایک طبیلہ بستا تھا اس قبیلے کا ایک بادشاہ تھا جو مورتی پوجک تھا
00:48اور اسلام دین سے سخت نفرت کرتا تھا اس کے دربار میں ایک جوتشی بھی رہتا تھا۔
00:54ایک دن اس جوتشی نے بادشاہ سے کہا میں نے سنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت بڑے
01:00پہلوان اور نہایت طاقتور ہیں۔
01:03یہ بات سن کر بادشاہ نے کہا اگر علی پہلوان ہے تو انہیں پہلوان کے ذریعے ہی ہرایا جائے گا۔
01:09پھر بادشاہ نے اپنے لوگوں سے کہا جاؤ اور راج کے سب ہی بڑے بڑے پہلوانوں کو یہاں بلا لاؤ
01:16کیونکہ میں سب کو کشتی لڑواؤں گا اور جو آخری شخص کشتی میں جیتے گا اسی کی کشتی علی سے
01:22ہوگی۔
01:23اگلے دن راج کے تمام پہلوان ایک کھلے میدان میں جمع ہو گئے۔
01:27بادشاہ نے سب پہلوانوں سے کہا تم سب ایک دوسرے سے کشتی لڑو گے اور جو آخر میں جیتے گا
01:33میں اسے انعام دوں گا۔
01:35بادشاہ کی بات مان کر سب ہی پہلوانوں نے آپس میں کشتی شروع کر دی۔
01:40کافی دیر تک کشتی لڑنے کے بعد ایک پہلوان نے باقی سب ہی کو ہرا دیا۔
01:45اس کا نام تھا فتح پہلوان۔
01:48پھر بادشاہ نے فتح پہلوان سے کہا تم تھکے ہوئے ہو اس لیے کچھ دن یہیں آرام کرو پھر میں
01:55تمہیں تمہارا انعام دوں گا۔
01:56بادشاہ کی بات سن کر فتح پہلوان آرام کرنے چلا گیا۔
02:01کچھ دن بعد بادشاہ نے اسے بلائیا اور کہا اب میری بات دھیان سے سنو میں تم پر بہت پیسہ
02:07خرچ کر رہا ہوں۔
02:08اتنے سارے پہلوانوں کو بلائیا کیا تم جانتے ہو اس کا مقصد کیا تھا؟
02:12فتح پہلوان نے کہا جی نہیں میں اس مقصد کے بارے میں نہیں جانتا۔
02:18بادشاہ نے کہا میں اپنے لیے کوئی پہلوان نہیں رکھنا چاہتا بلکہ میں ایک انسان سے بہت نفرت کرتا ہوں۔
02:25لیکن اس کی کشتی بہت مشہور ہے اور اس کا نام ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
02:31حضرت علی رضی اللہ عنہ اس لیے تم اس سے لڑو اسے مار ڈالو اور اس کا سر میرے پاس
02:37لے کر آؤ
02:38کیونکہ تب مجھے فخر ہوگا کہ تم میرے داماد ہو جس نے علی رضی اللہ عنہ کو ہرا دیا۔
02:45اس کے بعد فتح پہلوان چار پانچ پہلوانوں کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
02:51کئی دنوں کی یاترہ کے بعد جب وہ مدینہ کی سرحد پر پہنچے تو شام ہو چکی تھی۔
02:57اس لیے رات گزارنے کے لیے وہیں اپنے خیمے لگا کر آرام کرنے لگے۔
03:01پھر اگلے دن صبح فجر کے وقت جب فتح پہلوان اور اس کے ساتھی خیموں سے باہر نکلے
03:07تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص سڑک کے اس پار سے آ رہا ہے۔
03:11اسے دیکھ کر فتح پہلوان کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا
03:15دیکھو ایک آدمی آ رہا ہے۔
03:18چلو اس سے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتے ہیں اور یہ پتا کرتے ہیں کہ وہ کہاں
03:23ملیں گے۔
03:24پھر انہوں نے اس شخص سے کہا
03:26اے شخص ادھر آؤ
03:27ان کی بات سن کر اس شخص نے کہا
03:30کام آپ کا ہے تو آپ کو ہی ادھر آنا چاہیے
03:33پھر فتح پہلوان اور اس کے ساتھی اس کے پاس پہنچے اور بولے
03:37اے شخص ہم اس شہر میں نئے ہیں
03:40ہم ایک آدمی کو ڈھون رہے ہیں
03:42اور اس کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں
03:44ہم جس سے ملنا چاہتے ہیں
03:46اس کا نام ہے
03:47علی ابن عبی طالب رضی اللہ عنہ
03:49تب اس شخص نے پوچھا
03:51کیا تم پہلے کبھی ان سے ملے؟
03:53انہوں نے کہا نہیں
03:54پھر اس نے پوچھا کیا تم نے کبھی انہیں دیکھا ہے؟
03:58انہوں نے کہا نہیں
03:59پھر اس نے پوچھا کیا کبھی ان کی آواز سنی ہے؟
04:03انہوں نے کہا نہیں
04:04پھر اس نے کہا
04:05علی رضی اللہ عنہ سے تمہیں کیا کام ہے؟
04:09فتح پہلوان نے کہا
04:10ہم ان سے کشتی لڑنا چاہتے ہیں
04:12تب اس شخص نے کہا
04:14تم کیوں ان سے کشتی لڑوگے؟
04:16فتح پہلوان نے کہا
04:17ہم نے اس کام کا سودا کیا ہے
04:20اگر میں ان سے لڑوں گا
04:21تو مجھے بہت بڑا انام ملے گا
04:23اور ایک لڑکی بھی ملے گی
04:25جسے میں پسند کرتا ہوں
04:27تب اس شخص نے کہا
04:28ٹھیک ہے پہلے تم مجھ سے ہی کشتی لڑو
04:32اگر جیت گئے
04:33تو علی رضی اللہ عنہ سے لڑ سکتے ہو
04:36کیونکہ اس وقت
04:37علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے
04:39یہ صرف میں ہی جانتا ہوں
04:41اصل میں وہ شخص خود
04:42امیر المومنین
04:44امام علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے
04:47یہ بات سن کر
04:49فتح پہلوان نے کہا
04:50ٹھیک ہے لیکن تم کس ہتھیار سے لڑو گے
04:53اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
04:56جو تمہیں اچھا لگے
04:58فتح پہلوان نے کہا
05:00ٹھیک ہے لیکن تمہارے پاس تو تلوار نہیں ہے
05:03حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
05:06تمہارے پاس تلوار ہے
05:07اور میرے پاس بیلچا
05:09تو تم تلوار سے لڑو
05:11اور میں بیلچے سے لڑوں گا
05:13میری طرف سے یہی بیلچا
05:14تمہاری تلوار کا مقابلہ کرے گا
05:16علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر فتح پہلوان بولا
05:21تم بہت بہادر ہو
05:22اگر تم اتنے بہادر ہو
05:24تو سوچو کہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کتنے بہادر ہوں گے
05:29فتح پہلوان تیار ہو گیا
05:31پہلے اس نے حملہ کیا
05:33پھر دوسرا وار کیا
05:34اور پھر تیسرا وار بھی کیا
05:36فتح پہلوان لگاتار وار کرتا رہا
05:39لیکن امام علی رضی اللہ عنہ ہر وار کو روکتے گئے
05:43تلوار سے وار کرتے کرتے
05:45فتح رک گیا
05:46اور وہاں سے پیچھے ہٹ گیا
05:48تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
05:51فتح اب کیا تمہارا کوئی اور ہتھیار باقی ہے
05:54فتح پہلوان بولا
05:56اے انجان جوان
05:58تم نے مجھے نراش کر دیا
05:59تلوار اور بیلچے کی لڑائی ختم کرو
06:02آؤ اب ہاتھوں سے کشتی کریں
06:04تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
06:07ٹھیک ہے
06:08لیکن کشتی میں بھی
06:10حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
06:12ہر وار کو روک دیا
06:13اس طرح لڑتے لڑتے فتح پہلوان تھک گیا
06:16پھر فتح پہلوان بولا
06:18اب میں تیسرے طریقے سے لڑائی کروں گا
06:21جس میں میں سب سے زیادہ ماہر ہوں
06:23اور جسے میں سب سے آخر میں استعمال کرتا ہوں
06:26اب میں بھالا برچی سے لڑائی کروں گا
06:29حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
06:31ٹھیک ہے
06:32تم بھالے سے لڑو
06:33اور میں اپنے پھاوڑے سے لڑوں گا
06:35اس کے بعد لڑائی پھر سے شروع ہوئی
06:38اس بار بھی فتح پہلوان لگاتار وار کرتا رہا
06:41لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا
06:45کہ اس شخص کا ہتھیار تو چل رہا ہے
06:47مگر اس کا دل صاف ہے
06:48کچھ دیر لڑنے کے بعد فتح پہلوان بولا
06:51میں تھک گیا
06:53تم نے تو ایک بار بھی مجھ پر وار نہیں کیا
06:56اب تم وار کرو
06:57تب امام علی رضی اللہ عنہ نے
07:00اپنے پاس موجود پھاولہ اٹھایا
07:02اور فتح کی طرف بڑھایا
07:04اور اشارہ کیا
07:06جیسے جیسے علی رضی اللہ عنہ
07:08اپنا پھاولہ اوپر اٹھاتے گئے
07:10فتح بھی اس کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھنے لگا
07:13یہ منظر دیکھ کر فتح پہلوان گھبرا گیا
07:16اور اس کے باقی ساتھی بھی فکر میں پر گئے
07:19دوسرے پہلوان بھی یہ دیکھ کر ڈر گئے
07:22کہ اگر اس شخص میں اتنی طاقت ہے
07:24تو حضرت علی رضی اللہ عنہ میں کتنی طاقت ہوگی
07:28فتح بولا
07:29اے انجان جوان
07:31میں ہار چکا ہوں
07:32میں اپنی ہار قبول کرتا ہوں
07:34تم جیت گئے
07:36تم فاتح ہو
07:37بس اب مجھے نیچے اتار دو
07:39پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
07:42اب بتاؤ فتح
07:43کیا کہنا چاہتے ہو
07:45فتح پہلوان بولا
07:46اے انجان جوان
07:48جس مقصد کے لئے میں آیا تھا
07:50وہ تو پورا ہونے والا نہیں ہے
07:52اب تم مجھے بتاؤ
07:54تم کون ہو
07:55مولا علی رضی اللہ عنہ نے کہا
07:58جس علی رضی اللہ عنہ کو تم ڈھون رہے تھے
08:01میں وہی علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہوں
08:04فتح پہلوان نے یہ سنا
08:07تو وہ ڈر سے کانپنے لگا
08:09اور رونے لگا
08:10امام علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا
08:13اے فتح
08:14تم کیوں رو رہے ہو
08:15فتح بولا
08:17اے مولا
08:18میں بڑی امید لے کر آیا تھا
08:20کہ مجھے بہت بڑا انام ملے گا
08:22اور میں اس عورت کو پالوں گا
08:24جس سے میں محبت کرتا ہوں
08:26یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
08:29اے فتح
08:30کیا تم جانتے ہو
08:31کہ تم کس کے در پر آئے ہو
08:33علی رضی اللہ عنہ کے در سے
08:35آج تک کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا
08:38فتح بولا
08:39اگر بات صرف انام کی ہوتی
08:41تو میں آپ سے مانگ لیتا
08:43لیکن اصل بات یہ ہے
08:45کہ میں تو آپ کا سر لینے آیا تھا
08:47حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
08:50اگر سر کی بات ہے تو کیا ہوا
08:52گردن تو علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہے
08:55اسے لے لو
08:56اپنی تلوار نکالو
08:58اور علی رضی اللہ عنہ کا سر لے کر جاؤ
09:01اور اپنا مقصد پورا کرو
09:02فتح بولا
09:04اتنے دنوں بعد مجھے کوئی سچا انسان ملا ہے
09:07اتنے دنوں بعد
09:09مجھے کوئی راہ دکھانے والا ملا ہے
09:11اور میں اس کی گردن
09:12ایک عورت کے لیے کار دوں
09:14یہ کبھی نہیں ہو سکتا
09:16اے علی رضی اللہ عنہ
09:18میں آپ کو مارنے اور ہرانے آیا تھا
09:21لیکن میں خود شکست کھا گیا ہوں
09:23میں خود ہار گیا ہوں
09:24آپ مجھے کلمہ پڑھائیں
09:26میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں
09:28اس کے بعد
09:30حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
09:32اسے کلمہ پڑھایا
09:33اور فرمایا
09:34پہلے تمہارا نام فتح تھا
09:37اب تمہارا نام کیا رکھا جائے
09:39فتح بولا
09:40اے علی رضی اللہ عنہ
09:42جو آپ کا دل چاہے
09:44وہی نام رکھ دیجئے
09:46تب امام علی رضی اللہ عنہ
09:48مسکرا دئیے
09:49اور تاریخ گواہ ہے
09:50کہ تب سے لے کر
09:52جنگ سفین
09:53جنگ جمل
09:54اور آخری سانس تک
09:56کنبر رضی اللہ عنہ
09:57مولا علی رضی اللہ عنہ
10:00کا ہاتھ نہیں چھوڑتے تھے
10:01ناظرین کرام
10:03آئیے اب مولا علی رضی اللہ عنہ
10:05کی زندگی کا
10:06ایک اور روشن باب سنتے ہیں
10:08جہاں طاقت نہیں
10:10بلکہ حلم
10:11اور اختیار نہیں
10:12بلکہ صبر بولتا ہے
10:14ایک مرتبہ کا ذکر ہے
10:16کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
10:18ایک راستے سے گزر رہے تھے
10:19گرمی کا موسم تھا
10:21دھوپ تیز تھی
10:23اسی دوران
10:24ایک بتتمیز شخص
10:25راستے کے کنارے
10:26کھڑا ہو کر
10:27امیر المومنین
10:28رضی اللہ عنہ
10:29کو دیکھتے ہی
10:30گالیاں دینے لگا
10:31وہ بلند آواز میں
10:33حضرت علی رضی اللہ عنہ
10:35کو برا بھلا کہہ رہا تھا
10:36مگر مولا علی رضی اللہ عنہ
10:39خاموشی سے آگے بڑھتے رہے
10:41وہ شخص پیچھے پیچھے چلتا رہا
10:43اور مسلسل توہین کرتا رہا
10:45صحابہ رضی اللہ عنہ
10:47میں سے بعض کو سخت غصہ آیا
10:49انہوں نے عرض کیا
10:51یا امیر المومنین
10:52رضی اللہ عنہ
10:53اجازت دیں
10:55تو ہم اسے سبق سکھائیں
10:56حضرت علی رضی اللہ عنہ
10:58نے فرمایا
10:59نہیں
11:00اسے چھوڑ دو
11:01کچھ آگے جا کر
11:02حضرت علی رضی اللہ عنہ
11:04رک گئے
11:04مڑے
11:05اور اس شخص کی طرف دیکھ کر
11:07نہایت نرمی سے فرمایا
11:09بھائی
11:10شاید تم مسافر ہو
11:11یا بھوکے ہو
11:12یا کسی پریشانی میں مبتلا ہو
11:14اگر تمہیں رہنے کی جگہ چاہیے
11:17تو ہم مہیا کر دیتے ہیں
11:18اگر کھانے کو کچھ نہیں
11:20تو ہمارے گھر آ جاؤ
11:22اور اگر تم پر کوئی کرز ہے
11:24تو وہ بھی ادا کر دیا جائے گا
11:26بس اتنا بتا دو
11:27کہ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے
11:29یہ سن کر وہ شخص حیران رہ گیا
11:32جسے وہ گالیاں دے رہا تھا
11:34وہ ہی اس کے لیے دعا اور مدد کی پیشکش کر رہا تھا
11:37اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
11:39وہ زمین پر بیٹھ گیا
11:41اور روتے ہوئے بولا
11:43اے علی رضی اللہ عنہ
11:45میں آپ کے بارے میں غلط باتیں سنتا آیا تھا
11:48اسی لیے دل میں نفرت بھر لی تھی
11:51آج آپ کے اخلاق نے میرا دل بدل دیا
11:53میں گواہی دیتا ہوں
11:55کہ آپ حق پر ہیں
11:56حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے اٹھایا
11:59سینے سے لگایا
12:00اور فرمایا
12:01بھائی انسان غلطی کرتا ہے
12:04مگر بہترین وہ ہے
12:06جو سچ کو پہچان لے
12:08ناظرین یہ ہے علی رضی اللہ عنہ کا کردار
12:11جو دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے
12:14جو گالی کے جواب میں دعا دیتا ہے
12:16اور نفرت کے بدلے محبت باٹتا ہے
12:20ناظرین کرام
12:21ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ بازار گئے
12:24اور دیکھا کہ ایک عیسائی شخص
12:26ایک ذرہ بیچ رہا تھا
12:28حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
12:30اس ذرہ کو پہچان لیا
12:32اور فوراں اس کے پاس جا کر بولے
12:34یہ تو میری ذرہ ہے
12:36یہ سن کر وہ شخص بولا
12:38اے امیر المومنین
12:39یہ ذرہ میری ہے
12:41اور میرے قبضے میں ہے
12:42اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
12:45تو پھر چلو
12:47ہم قاضی کے پاس چلتے ہیں
12:48وہیں اس کا فیصلہ ہوگا
12:50اس وقت عدالت کے قاضی شریعت تھے
12:53جب انہوں نے امیر المومنین کو آتے دیکھا
12:56تو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے
12:58اور انہیں اپنی نشست پر بٹھانے لگے
13:00لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ
13:02ان کے برابر میں بیٹھ گئے
13:04اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
13:07قاضی شریعت سے کہا
13:09اس شخص کے ساتھ میرے اس معاملے کا فیصلہ کریں
13:12حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر
13:15قاضی شریعت نے پوچھا
13:17معاملہ کیا ہے
13:19حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے
13:21یہ ذرہ بہت پہلے کھو گئی تھی
13:23نہ تو میں نے اسے بیچا ہے
13:25اور نہ ہی کسی کو حبہ کیا ہے
13:27علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر
13:30قاضی شریعت بولے
13:31میں امیر المومنین کو جھوٹا نہیں کہہ رہا
13:34اور نہ ہی ان کے دعوے کو غلط ٹھہرہ رہا ہوں
13:37لیکن ذرہ اس شخص کے قبضے میں ہے
13:41بغیر کسی ثبوت کے
13:42اسے واپس نہیں دیا جا سکتا
13:44کیا آپ کے پاس کوئی گواہ یا ثبوت ہے
13:47قاضی شریعت کی یہ بات سن کر
13:49علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیے
13:51اور بولے
13:52قاضی نے درست کہا
13:54میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے
13:56تب قاضی شریع نے
13:58عیسائی کے حق میں فیصلہ سنا دیا
14:00اور وہ ذرہ لے کر چل پڑا
14:02لیکن وہ عیسائی
14:04کچھ دور جا کر باپس لوٹ آیا
14:06اور وہ بولا
14:07میں گواہی دیتا ہوں
14:09کہ یہی انبیاء کی تعلیم اور شریعت ہے
14:11امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے
14:14عدالت کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا
14:17اور قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا
14:19اللہ کی قسم
14:24اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ
14:27یہ ذرہ واقعی آپ ہی کی ہے
14:29میں نے اسے آپ کی اونٹنی سے گرتے دیکھا تھا
14:32ذرہ نیچے گر گئی تھی
14:34اور میں نے اسے اٹھا لیا تھا
14:36میں گواہی دیتا ہوں
14:37کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
14:40اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
14:43اللہ کے رسول ہیں
14:44علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا
14:47اب جب تم اسلام قبول کر چکے ہو
14:50تو یہ ذرہ اب تمہاری ہوئی
14:52اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
14:55اسے ایک اچھا گھوڑا بھی توفے میں دیا
14:57اور اسے عزت کے ساتھ رخصت کیا
14:59اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے
15:02کہ اسلام عدل کا دین ہے
15:04عدل ہی انسانیت کو بلند کرتا ہے
15:06اللہ کی شریعت کے سامنے
15:08بادشاہ اور رعایہ سب برابر ہوتے ہیں
15:11انصاف وہی کر سکتا ہے جو بہادر
15:14متقی اور ایماندار ہو
15:16اسلامی خلافت میں
15:18مسلمان اور غیر مسلم
15:20سب شہریوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں
15:22اللہ تعالیٰ امت مسلمہ
15:25صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زندگیوں سے
15:28سبق لینے کی توفیر پتا فرمائے
15:30ان تمام واقعات سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے
15:33کہ علی رضی اللہ عنہ کی بہادرین
15:36صرف تلوار میں نہیں
15:37اخلاق میں بھی تھے
15:39علی رضی اللہ عنہ کا عدل
15:41عدالت تک محدود نہیں
15:43روز مرہ زندگی میں بھی تھا
15:45علی رضی اللہ عنہ کا حلم ایسا تھا
15:48کہ سخت دل بھی نرم ہو جاتے تھے
15:50اور علی رضی اللہ عنہ کا ایمان ایسا تھا
15:54کہ دشمن بھی ہدایت پا لیتے تھے
15:56اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا کردار اتا فرمائے
15:59کہ ہمارے عمل سے لوگ دین کے قریب آئیں
16:02دور نہ ہوں
16:03آمین یارب العالمین
Comments

Recommended