00:00ناظرین آج ہم ایک نہائیت دلچسپ اور معلوماتی موضوع پر روشنی ڈالیں گے
00:05اور جانیں گے شب برات کے حقیقی معانی، فضائل، تقدیری فیصلوں کا عمل اور اس بابرکت رات کی اہمیت
00:14کس طرح ہر مسلمان کے ایمان وہ عمل پر اثر انداز ہوتی ہے
00:18شب برات وہ عظیم رات ہے جس میں انسانوں کی زندگیوں سے متعلق نہائیت اہم فیصلے کیے جاتے ہیں
00:27اسی رات تیہ ہوتا ہے کہ کون زندہ رہے گا، کون دنیا سے رخصت ہوگا
00:33کس کے رزق میں کشادگی ہوگی اور کس پر آزمائشیں آئیں گی
00:36کون غریبی سے امیری کی طرف بڑھے گا اور کن لوگوں کے نام مردوں کی فیرست میں لکھ دیے جائیں
00:43گے
00:43اسی لیے رات عام نہیں بلکہ غور و فکر اور تیاری کی رات ہے
00:49اس ویڈیو میں جانیں گے کہ اگر خدا نخواستہ کسی کا نام مردوں کی فیرست میں شامل ہو چکا ہو
00:55تو اسے کیا کرنا چاہیے
00:56اس رات کن لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے اور وہ کون بدقسمت لوگ ہیں جن کی مغفرت نہیں ہوتی
01:03ساتھ ہی یہ بھی جانیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب برات میں کن عامال کی
01:10تاقید فرمائی
01:11اور مسلمانوں کو اس بابرکت رات کو کس طرح گزارنا چاہیے
01:16شب برات
01:18اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شابان کی پندھرمی رات ہے
01:22وہ بابرکت رات جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو خبردار فرمایا
01:29یہ رمضان سے پہلے آنے والی آخری بڑی رات ہے
01:33لفظے شب کے معنی رات اور برات کے معنی نجات ہیں
01:37کیونکہ اس رات سچی توبہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے
01:45اور بے شمار گناہگاروں کو معاف فرما دیتا ہے
01:48ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیں
01:54کہ ایک رات میں جنت البقی پہنچی تو وہاں ایک عجیب منظر دیکھا
01:59نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں تشریف فرما تھے
02:04سر جھکا ہوا تھا
02:06ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوئے تھے
02:08اور دل میں امت کا درد تھا
02:10آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبروں میں موجود لوگوں اور زندہ
02:15مگر غفلت میں مقتلہ افراد
02:17دونوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگ رہے تھے
02:21جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی
02:24تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:27کہ آج شابان کی پندرمی رات ہے
02:30یہی شب برات ہے
02:31اس رات اللہ تعالیٰ بے شمار بندوں کی مغفرت فرماتا ہے
02:36میں چاہتا ہوں کہ میری امت موت کو یاد رکھے
02:40قبروں کے انجام کو سمجھے
02:42اور اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توبہ کے ساتھ پلٹائے
02:46شب برات
02:47وہ بابرکت رات ہے
02:49جس میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے
02:53اور قبیلہ بنو قلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ
02:56گناہگاروں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے
03:00بنو قلب
03:01عرب کا ایک بہت بڑا قبیلہ تھا
03:04جس کے پاس لاکھوں کی تعداد میں بکریوں اور بھیڑوں کے ریور تھے
03:08اسی مثال سے اس رات ہونے والی بے شمار مغفرت کو بیان کیا گیا ہے
03:13یہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی رات ہے
03:16مگر اس سے وہ بدقسمت لوگ محروم رہتے ہیں
03:19جو شرک میں مبتلا ہوں
03:21دلوں میں شدید کینا رکھتے ہوں
03:23رشتے ناتے توڑنے والے ہوں
03:25قاتل ہوں
03:27آدھی شرابی ہوں
03:28یا کھلے گناہوں میں مبتلا ہوں
03:30ان کے سوا اس رات اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ
03:34سب کے لئے کھلا ہوتا ہے
03:37حضرت عطا بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہو فرماتے ہیں
03:41کہ لیلت القدر کے بعد شابان کی پندرمی رات
03:44سب سے افضل رات ہے
03:46شب برات کو اللہ تعالیٰ نے
03:49فرشتوں کے لئے عید کا دن مقرر فرمایا ہے
03:52آسمان والوں کے لئے دو عیدیں ہیں
03:54ایک شب برات اور دوسری شب قدر
03:59انسان یہ عیدیں دن میں مناتے ہیں
04:01جبکہ فرشتے انہیں رات میں مناتے ہیں
04:03کیونکہ انسان رات کو سو جاتا ہے
04:06اور فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں
04:10شب برات کے بارے میں
04:12اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں
04:15قسم ہے اس روشن کتاب کی
04:18بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا
04:22اور اسی رات میں
04:23ہر حکمت والا فیصلہ تیہ کر دیا جاتا ہے
04:26حضرت اکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:29اور دیگر مفسرین بیان کرتے ہیں
04:31کہ اس بابرکت رات سے مراد
04:33شب برات ہے
04:34اسی رات زندگی
04:37موت
04:37رزق
04:38اور تقدیروں سے متعلق فیصلے لکھ دیا جاتے ہیں
04:41اور ان احکامات میں
04:43ذرہ برابر بھی کمی بیشی نہیں کی جاتی
04:46نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:49توبہ کی اہمیت سمجھانے کے لیے
04:51ایک مثال بیان فرمائی
04:53ایک شخص سہرہ میں سفر کے دوران سو گیا
04:56آنکھ کھلی
04:57تو اس کا اونٹ سامان سمیت غائب تھا
05:00سہرہ میں یہ حالت
05:02یقینی موت کے برابر تھی
05:03تلاش کے بعد جب مایوس ہو کر بیٹھ گیا
05:06تو اچانک آنکھ کھلی
05:08اور اونٹ اپنے تمام سامان کے ساتھ
05:11سامنے کھڑا تھا
05:12خوشی کی شدت میں
05:13اس کے مو سے الٹے الفاظ نکل گئے
05:16حالانکہ دل میں شکر ہی شکر تھا
05:19حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
05:22کہ جس طرح اس شخص کو گم شدہ اونٹ ملنے پر
05:25انتہا کی خوشی ہوئی
05:27اس سے کہیں زیادہ
05:28اللہ تعالی خوش ہوتا ہے
05:30جب کوئی بندہ
05:31سچی توبہ کے ساتھ
05:33اس کی طرف پلٹ آتا ہے
05:34اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے
05:37ایک اور واقعہ میں
05:38بادشاہ نے دربار میں سب وزراء کو
05:41تالاب سے موٹی نکالنے کا حکم دیا
05:43شرط یہ رکھی
05:45کہ لباس اور جسم گیلا نہ ہو
05:47سب وزراء نے کہا
05:49یہ ناممکن ہے
05:50مگر ایاز نے چھلانگ لگائی
05:52موٹی نکالے اور پیش کیے
05:54جسم اور لباس دونوں بھیگ گئے
05:57تو بادشاہ نے غصے میں کہا
05:59تم نے شرط پوری نہیں کی
06:01ایاز نے عدب سے جواب دیا
06:03کہ دو حکم تھے
06:04ایک پورا کر دیا
06:06دوسرے کی معافی چاہتا ہوں
06:08یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے
06:10کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے بھی
06:12مکمل اور بے مثال ہوتے ہیں
06:14ہر حکم اپنی جگہ
06:16اور وقت پر پورا ہوتا ہے
06:18حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ
06:21انہاں بیان کرتی ہیں
06:22کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:24نے فرمایا
06:25کہ شابان کی پندرمی شب
06:27یعنی شب برات میں آنے والے سال کے لیے
06:30تمام فیصلے لگ دیے جاتے ہیں
06:32جن لوگوں کو اس سال پیدا ہونا ہے
06:35جن کی موت ہونے والی ہے
06:37اور لوگوں کا رزق بھی
06:39اسی رات مقرر کیا جاتا ہے
06:41حضرت عطا بن سائب رضی اللہ تعالیٰ
06:44انہو بیان فرماتے ہیں
06:45کہ شب برات کو
06:46اللہ تعالیٰ
06:47ملک الموت کو
06:48ایک فہرست عطا فرماتا ہے
06:50جس میں جن لوگوں کے نام لکھے ہیں
06:52ان کی روحیں مقررہ وقت پر
06:55قبض کر لینی ہیں
06:55اس رات ہی لوگوں کی زندگی
06:58اور موت کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے
07:00جبکہ دنیا میں لوگ
07:02اپنی مصروفیات میں مگن ہوتے ہیں
07:04کسی کا دھیان بینک بیلنس پر ہوتا ہے
07:07کسی کی کوٹھی
07:08اور بنگلہ بنانے میں
07:10حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ تعالیٰ
07:13انہو سے مروی ہے
07:14کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:16نے فرمایا
07:17کہ ایک شابان سے دوسرے شابان تک
07:20لوگوں کی زندگی ختم ہونے کا وقت
07:22اسی رات میں لکھ دیا جاتا ہے
07:24حضرت عبو بکر صدیق
07:26رضی اللہ تعالیٰ انہو روایت کرتے ہیں
07:29کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
07:31نے فرمایا
07:31کہ شب برات میں
07:33اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوتے ہیں
07:36اور سب کی مغفرت فرماتے ہیں
07:39سوائے ان لوگوں کے
07:41جو شرک کرتے ہیں
07:42یا دل میں بغز رکھتے ہیں
07:44ایک دوسری روایت میں آتا ہے
07:46کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے
07:49تمام مخلوق کی مغفرت فرماتے ہیں
07:52مگر مشرق
07:53اور کینا پرور افراد
07:55اس سے مستثنہ ہیں
07:56شب برات وہ بابرکت رات ہے
07:59جس میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کو خاص کام سوپتا ہے
08:02اور مسلمانوں کی مغفرت فرماتا ہے
08:05دعاوں کو قبول کرتا ہے
08:07حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ انہو سے روایت ہے
08:10کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
08:13کہ اللہ تعالیٰ اس رات پوچھتا ہے
08:16کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے
08:18کہ اس کے گناہ بخش دیے جائیں
08:20کیا کوئی معافی مانگنے والا ہے
08:23کہ میں اسے عطا کروں
08:24اور اس وقت
08:25اللہ تعالیٰ سے مانگا گیا
08:27ہر حق مانگ
08:28اللہ کے فضل سے عطا ہو جاتا ہے
08:31لفظ شب
08:33فارسی اور عربی میں رات کے لیے استعمال ہوتا ہے
08:36یعنی دن کے شور کے بعد آنے والی
08:38وہ خاموش رات
08:40اور برات کے معنی ہیں
08:42بری ہونا
08:43نجات پانا
08:44قید یا سزا سے آزاد ہونا
08:46اس رات
08:48ہر بندہ اپنے گناہوں کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا موقع پاتا ہے
08:52چاہے وہ جھوٹ
08:53دل ٹوٹنے
08:55نماز چھوڑنے
08:56یا گناہ کے بوجھ میں گرفتار ہو
08:58شب برات اس لیے خاص ہے
09:00کہ اس رات بندہ
09:02اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توبہ کے ساتھ پلٹتا ہے
09:05اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
09:07جا
09:08میں نے تجھے بری کر دیا
09:10یہی شب برات کی عظیم فضیلت ہے
09:13وہ رات جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور بخشش کے دروازے
09:18ہر مومن کے لیے کھول دیتے ہیں
09:20پیارے دوستو
09:21شب برات کی ایک مثال سوچیں
09:23برسوں سے جیل میں قیدی بند ہے
09:26ہر رات لوہے کی سلاخوں کے درمیان گزارتا ہے
09:29اچانک دروازہ کھلتا ہے
09:31اور کہا جاتا ہے
09:32کہ تیری سزا معاف ہو گئی
09:34تو آزاد ہے
09:35بلکل ایسا ہی احساس
09:38اس گناہگار بندے کے دل میں شب برات کی رات پیدا ہوتا ہے
09:41جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے گناہوں کی سزا معاف کر دیتے ہیں
09:46اس رات کی ایک خاص بات یہ ہے
09:48کہ جیسے حکومت پورے سال کا بجٹ تیار کرتی ہے
09:51کہ کہاں خرچ ہوگا
09:53کہاں بچت ہوگی
09:54کہاں کٹ لگے گا
09:56اور کہاں اضافہ ہوگا
09:57بلکل ویسے ہی شب برات میں
10:00اللہ تعالیٰ کائنات کا سالانہ بجٹ تیار فرماتے ہیں
10:03لوہ محفوظ سے اگلے ایک سال کے فیصلے نکال کر
10:07فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں
10:09لوہ محفوظ میں سب کچھ پہلے سے لکھا ہے
10:12مگر فرشتوں کے حوالے کرنا
10:14اس بات کی علامت ہے
10:16کہ یہ فیصلے اب نافذ ہونے والے ہیں
10:18اور ہر انسان کی زندگی
10:20رزق
10:21آزمائش
10:22اور تقدیر
10:23اسی رات تیہ ہو جاتی ہے
10:24پیارے دوستو
10:26شب برات کی ایک حقیقت یہ ہے
10:28کہ یہ رات خوشیوں یا تفریح کے لیے نہیں
10:31بلکہ انسان کو حقیقت کا ادراک دلاتی ہے
10:34مثال کے طور پر
10:35ایک نوجوان اگلے مہینے شادی کرنے والا ہے
10:39گھر میں خوشیاں ہیں
10:40دعوت کی تیاری ہو رہی ہے
10:42مگر شب برات کی رات
10:44اس کا نام مرنے والوں کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے
10:47یہ رات ہمیں جھنجوڑتی ہے
10:49کہ ہماری زندگی ہمارے اختیار میں نہیں
10:52اور فیصلے
10:53اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں
10:54حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ
10:57انہا سے روایت ہے
10:58کہ شب برات کی رات
11:00لوگوں کے آمال اور رزق اٹھا لیے جاتے ہیں
11:03اور آنے والے سال کے قدرتی اور اہم فیصلے
11:06جیسے زندگی اور موت فرشتوں کے سپرد کر دیے جاتے ہیں
11:10شب برات میں کوئی خاص سنت عبادت ثابت نہیں
11:14لیکن نفلی عبادت کی جا سکتی ہے
11:16جیسے نفل نماز پڑھنا
11:18قرآن کی تلاوت کرنا
11:20اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا
11:22اور دعا کرنا
11:23یہ رات بخشش کی رات ہے
11:25اس لیے اپنے گناہوں کی معافی ضرور مانگے
11:28صلاة التصبیح بھی پڑھنا اختیاری ہے
11:31ضروری نہیں
11:32اور یہ نفل نماز
11:34گھر یا کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں
11:36جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی
11:38شب برات کی عبادت
11:40گھر میں کرنا بہتتر ہے
11:41کیونکہ نفلی عبادت کیلئے
11:43لوگوں کو جمع کرنا درست نہیں
11:45آدمی کو چاہیے
11:46کہ جتنا ہو سکے
11:48اکیلے اپنے طور پر
11:49اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے
11:51عبادت کیلئے قبرستان جانا ضروری نہیں
11:54اور اللہ تعالیٰ کی یاد
11:56ہر جگہ ممکن ہے
11:57قبرستان کا اصل مقصد
11:59قبروں کی دیکھ بھال
12:01صفائی
12:02بے عدبی سے بچاؤ
12:03اور اہلِ قبور کے لئے دعا کرنا ہے
12:05جب انسان قبروں کے پاس کھڑا ہوتا ہے
12:08تو دل خود کہتا ہے
12:10میرا انجام بھی یہی ہے
12:11یہی لمحہ
12:13انسان کو موت
12:14اور اپنے آمال کی یاد دلاتا ہے
12:16اگر کوئی بندہ
12:18اس رات واقعی
12:19اللہ تعالیٰ کی طرف
12:20سچے دل سے لوٹ آئے
12:21تو اللہ تعالیٰ کی خوشی
12:23اس سے کہیں زیادہ ہے
12:24جس کی مثال
12:25حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:28سہرہ میں گمشدہ اونٹ کے واقعے سے دی
12:30شب برات کا پیغام یہی ہے
12:33کہ موت کو یاد رکھیں
12:34دل نرم کریں
12:36گناہوں سے توبہ کریں
12:37اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دہلیز پر آ جائیں
12:40عبادت قبرستان سے مشروط نہیں
12:43بلکہ اسے گھر
12:44یا جہاں بھی ممکن ہو
12:46انجام دیا جا سکتا ہے
12:47اور سب سے اہم بات یہ ہے
12:49کہ شب برات کی رات
12:51کوئی ایسا عمل نہ کریں
12:53جس سے آپ کے نامہ اعمال میں گناہ لکھے جائیں
12:56جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوں
12:58یا کوئی فیصلہ آپ کے حق میں نقصان دے ہو
13:01شب برات
13:02اللہ کی رحمت
13:04اور مغفرت کی رات ہے
13:05اس میں اپنے گناہوں کی سچی توبہ کریں
13:08یہ رات یاد دلاتی ہے
13:10کہ زندگی
13:11موت
13:12اور رزق
13:13اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے
13:14اور ہمیں اپنی تقدیر کے لیے دعا کرنی چاہیے
13:17دل صاف رکھیں
13:19بغز
13:20شرک
13:21یا کینا سے بچیں
13:22کیونکہ یہ رحمت کے دروازے بند کر دیتا ہے
13:25عبادت گھر میں
13:26یا تنہا کریں
13:27نفل نماز
13:29قرآن تلاوت
13:30اور دعا سے اپنے آمال کو بڑھائیں
13:32شب برات ہمیں یاد دلاتی ہے
13:35کہ موت قریب ہے
13:36اپنے آمال درست کریں
13:38اور اللہ کی طرف لوٹیں
13:40یہ رات
13:41اپنی زندگی کا جائزہ لینے
13:43اور اصلاح کرنے کا موقع ہے
13:45اپنے گناہوں سے چھٹکارہ پائیں
13:47اور اللہ کی رضا حاصل کریں
13:49اپنے اور دوسروں کے لئے دعا کریں
13:52خصوصاً اہلِ ایمان
13:54اور مرہومین کے لئے مغفرت طلب کریں
13:56اے اللہ
13:57ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل فرما
14:00ہمارے گناہوں کو معاف کر دے
14:02ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرما
14:05اور ہمارے دلوں کو نور سے منور کر دے
14:08اے رب العالمین
14:10ہماری زندگیوں میں رزق میں برکت عطا فرما
14:13ہمارے درجات بلند فرما
14:15ہمیں ہر قسم کے شر
14:17دشمنی اور آزمائشوں سے محفوظ رکھ
14:20اور ہمیں اپنے راستے پر ثابت قدم رکھ
14:24اے اللہ
14:24ہمیں شب برات کی برکات نصیب فرما
14:27ہمارے لئے
14:29اور ہمارے والدین
14:30اہلِ خانہ
14:31دوستوں
14:32اور امتِ مسلمہ کے لئے
14:34مغفرت اور رحمت کا سبب بنا
14:36ہمیں دنیا وہ آخرت میں نیک
14:39اور کامیاب بندے بنا
14:41اور ہماری آخری منزل
14:43جنت کی آلہ خوشیوں سے سجا دے
14:45آمین
Comments