- 1 day ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.
Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.
In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.
We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.
This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.
By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.
Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.
In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.
We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.
This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.
By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.
Category
📚
LearningTranscript
00:00محترم ناظرین
00:01اوران کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کو
00:05احسن القصص
00:06یعنی سب سے بہترین قصہ قرار دیا گیا ہے
00:10حضرت یوسف علیہ السلام کی پیدائش
00:12سرزمین حاران میں ہوئی
00:14آپ کی والدہ کا نام حضرت راہیل تھا
00:18اور والد حضرت یعقوب علیہ السلام تھے
00:21حضرت یعقوب علیہ السلام بعد میں حاران سے ہجرت کر کے
00:25کنان تشریف لے گئے
00:27جہاں آپ کی زندگی کا ایک طویل عرصہ گزرا
00:30اس سفر کے دوران
00:32حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ
00:34حضرت راہیل
00:35اپنے دوسرے بیٹے
00:37حضرت بنیامین کی ولادت کے وقت
00:39اس دنیا سے رخصت ہو گئیں
00:41کنان پہنچنے کے بعد ان کی خالہ
00:44اور سوتیلی والدہ لیا نے
00:46دونوں بچوں کی پرورش کی
00:48اور انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر محبت دی
00:51تاکہ ان دونوں بھائیوں کو
00:53ماں کی کمی محسوس نہ ہو
00:54جب حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر
00:57سات برس ہوئی
00:58تو ایک صبح آپنین سے بیدار ہوئے
01:00چہرے پر مسکراہت تھی
01:02خوشی سے اپنے والد کے پاس آئے
01:05اور عرض کیا
01:07ابباجان آج رات میں نے ایک بہت ہی اچھا خواب دیکھا ہے
01:10جس سے میں بہت زیادہ خوش ہوا ہوں
01:12میں نے خواب میں دیکھا کہ
01:14گیارہ ستارے
01:15چاند اور سورج
01:17مجھے سجدہ کر رہے ہیں
01:19حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ خواب سنا
01:21تو بے حد مسرور ہوئے
01:23اور فرمایا
01:24پیارے بیٹے
01:25تمہارا یہ خواب سچا ہے
01:27اور تمہارے روشن مستقبل کی خبر دے رہا ہے
01:30جس کی مجھے ہمیشہ امید رہی ہے
01:33تمہارا رب تمہیں منتخب فرمائے گا
01:35تمہیں خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کرے گا
01:39اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت
01:41اسی طرح مکمل کرے گا
01:43جیسے اس نے پہلے تمہارے آبا
01:45حضرت ابراہیم علیہ السلام
01:47اور حضرت اسحاق علیہ السلام پر
01:49اپنی نعمت تمام فرمائی تھی
01:51بے شک تمہارا پروردگار
01:53سب کچھ جاننے والا
01:55اور بڑی حکمت والا ہے
01:56پھر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا
01:59مگر بیٹے
02:00یہ خواب اپنے بھائیوں کو ہرگز نہ بتانا
02:03کہیں وہ حسد میں آ کر
02:05تمہارے خلاف کوئی چال نہ چلیں
02:06چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام
02:09اور حضرت بنیامین کی والدہ
02:11اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی
02:13اور وہ ماں کی شفقت سے محروم تھے
02:16اسی وجہ سے حضرت یعقوب علیہ السلام کو
02:19حضرت یوسف علیہ السلام سے خاص محبت تھی
02:22اور والد کی اسی محبت نے
02:24بھائیوں کے دلوں میں حسد پیدا کر دیا
02:27یہاں تک کہ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
02:30والد سے جدا کرنے کا منصوبہ بنایا
02:33تاکہ باپ کی توجہ صرف انہیں ملے
02:35ایک دن وہ کہنے لگے
02:38ابباجان آپ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں
02:41ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے
02:43حالنکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں
02:44ہمیں اجازت دیجئے
02:46کہ کل ہم اسے اپنے ساتھ جنگل کی سیر کو لے جائیں
02:49اور وہاں گھومیں پھریں گے
02:51ہم بادہ کرتے ہیں
02:53کہ دل و جان سے اس کی حفاظت کریں گے
02:55حضرت یعقوب علیہ السلام
02:57اپنے بیٹوں کی نیتوں سے آگاہ تھے
02:59اور ان کے خطرناک ارادوں کا بھی اندازہ رکھتے تھے
03:03مگر وہ کھل کر یہ نہ کہہ سکے
03:04کہ مجھے تمہاری طرف سے اندیشہ ہے
03:07لہذا فرمایا
03:08یوسف علیہ السلام سے جدائی
03:10مجھے بیچین اور غمگین کر دیتی ہے
03:13اور مجھے یہ خوف بھی لاحق ہے
03:15کہ کہیں تم اس سے غافل ہو جاؤ
03:17اور کوئی بھیڑیا اسے کھا جائے
03:19مگر بھائی خاموش نہ رہے
03:21انہوں نے جواب دیا
03:23اگر ہماری قوت اور شجاعت کے باوجود
03:26کوئی ایسا حادثہ پیش آ جائے
03:28تو یہ ہماری بدقسمتی ہوگی
03:30ورنہ ایسا ہرگز ممکن نہیں
03:32یوں بڑی مشکل سے انہوں نے
03:35حضرت یوسف علیہ السلام کو
03:37اپنے ساتھ لے جانے کے لیے
03:39اپنے والد کو رازی کر لیا
03:40اگلی صبح
03:42حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی
03:44انہیں ہمراہ لے کر کنان کے باہر نکلے
03:47ابھی وہ زیادہ دور نہیں پہنچے تھے
03:49کہ ان کے چہروں سے غصہ
03:51اور دشمنی کے آثار نمائع ہونے لگے
03:54انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
03:56مارنا شروع کر دیا
03:57حتیٰ کہ قتل کرنے کا ارادہ کر لیا
04:00حضرت یوسف علیہ السلام نے
04:02بڑی آجزی سے فریاد کی
04:04کہ وہ ان کے بھائی ہیں
04:05انہیں قتل نہ کریں
04:07مگر حسد کی آگ نے
04:09ان کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا
04:11پھر ان میں سے ایک نے کہا
04:13یوسف علیہ السلام کو قتل نہ کرو
04:15بہتر یہ ہے
04:17کہ اسے کسی کونے میں ڈال دیتے ہیں
04:19چلتے چلتے حضرت یوسف علیہ السلام
04:22بہت روتے رہے
04:23مگر ان کی آہو فریاد
04:25بھائیوں کے دلوں میں بھڑکتی
04:27حسد کی آگ کو بجھا نہ سکی
04:28اور نہیں انہیں اس ظلم سے روک سکی
04:31وہاں انہوں نے
04:33حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیس اتار لی
04:35اور انہیں بے لباس کر کے
04:37کونے میں ڈال دیا
04:38پھر وہ یہ سوچنے لگے
04:40کہ اب ہمارے والد کا دل
04:42یوسف علیہ السلام کی محبت سے خالی ہو جائے گا
04:45اور اب ساری توجہ اور محبت
04:47ہمارے حصے میں آ جائے گی
04:49لیکن تقدیر ان کی نادانی پر
04:52مسکرا رہی تھی
04:53جب سورج حروب ہوا
04:54اور اندھیرہ پھیل گیا
04:56تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی
04:58روتے دھوتے
04:59اپنے والد کے پاس پہنچے
05:01حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیس
05:04جس پر انہوں نے بکری کا خون لگا رکھا تھا
05:07والد کے سامنے پیش کی
05:08اور کہا
05:09اب باجان
05:10جس بات کا آپ کو اندیشہ تھا
05:13وہی ہو گیا
05:14ہم آپس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے
05:17کہ ہماری توجہ
05:18یوسف علیہ السلام سے ہٹ گئی
05:20اسی دوران
05:22ایک بھیڑیا اس پر جھپٹ پڑا
05:24اور اسے کھا گیا
05:25یہ رہی اس کی خون
05:27آلوت کمیس
05:28اور ہماری آنسو بھری آنکھیں
05:29اس بات کی گواں ہیں
05:31لیکن اگر ہم سچ بھی کہیں
05:33تو آپ ہماری بات پر یقین نہیں کریں گے
05:36اگرچہ حضرت یعقوب علیہ السلام
05:38اپنے بیٹوں کے جرم کو بھاپ چکے تھے
05:41مگر آپ جانتے تھے
05:42کہ اللہ تعالیٰ نے
05:43حضرت یوسف علیہ السلام کی تقدیر میں جو لکھ دیا ہے
05:47اسے کوئی ٹال نہیں سکتا
05:52تمہیں ایک بڑے ظلم پر آمادہ کر دیا ہے
05:54اب میرے لئے بہتر یہی ہے
05:56کہ میں سبر اختیار کروں
05:58اور اپنے پروردگار سے مدد مانگوں
06:00ادھر حضرت یوسف علیہ السلام
06:03کوئیں کی تہہ میں بیٹھے ہوئے تھے
06:05گہری تاریکی نے انہیں گھیر رکھا تھا
06:09وہ اپنے آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر
06:11اور اپنے والد کی حالت کا خیال کر کے
06:14بے چین تھے
06:15اپنی بے گناہی انہیں بار بار یاد آ رہی تھی
06:18اور ترہ ترہ کے خیالات دل و دماغ میں گردش کر رہے تھے
06:22اسی دوران ایک قافلہ جو مصر کی طرف جا رہا تھا
06:27اس علاقے میں آ کر تھیرا
06:29قافلے والوں نے پڑاؤ ڈالا
06:31اور اپنے ایک خادم کو پانی لانے کے لیے
06:34کونہ کی طرف بھیجا
06:35خادم نے ڈول نیچے ڈالا
06:37اور جب اسے اوپر کھینچا
06:39تو پانی کے بجائے
06:40ایک خوبصورت لرکا اس کے ساتھ باہر آیا
06:43جس کا چہرہ چاند کے ٹکڑے کی مانند چمک رہا تھا
06:47خادم حیرت اور خوشی سے پکار اٹھا
06:49آؤ دیکھو
06:50یہ تو ایک لڑکا ہے جو کونہ سے نکل آیا ہے
06:53یہ سن کر قافلے کے سب لوگ
06:55کونہ کے کنارے جمع ہو گئے
06:57اور تاجب و پریشانی کے عالم میں
06:59حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھنے لگے
07:02آخر انہوں نے تیہ کیا
07:04کہ اس لڑکے کو مصر لے جا کر
07:06غلام بنا کر فروخت کیا جائے
07:08اسی لمحے
07:09حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی
07:11وہاں پہنچ گئے
07:12جو یہ جاننا چاہتے تھے
07:14کہ یوسف علیہ السلام کا کیا انجام ہوا
07:17جب انہوں نے دیکھا
07:18کہ حضرت یوسف علیہ السلام
07:20کافلے والوں کے پاس ہیں
07:22تو فوراں کہنے لگے
07:24کہ یہ ہمارا غلام ہے جو گم ہو گیا تھا
07:26پھر انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دھمکی دی
07:30کہ اگر تم نے کچھ کہا
07:31تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے
07:33مجبوراں حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
07:36کہ ہاں میں انہی کا غلام ہوں
07:39کافلے والوں نے بھائیوں سے کہا
07:41کہ اگر تم اسے بیچنا چاہتے ہو
07:43تو ہم اسے خریدنے کے لیے تیار ہیں
07:45روایت میں آتا ہے
07:47حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے
07:50انہیں محض بیس دینار کے عوض فروخت کر کے
07:53کافلے والوں کے حوالے کر دیا
07:55یوں کافلہ روانہ ہوا
07:57اور مختلف منزلیں تیہ کرتا ہوا
07:59مصر جا پہنچا
08:00وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو
08:03مصر کے بازار میں نہایت کم قیمت پر بیچ دیا گیا
08:06اور عزیز مصر
08:08جن کا نام اوتی فار تھا
08:10اس نے انہیں خرید لیا
08:12عزیز مصر نے اپنی اہلیہ سے کہا
08:14مجھے یہ کنانی نوجوان
08:17نہایت قابل اور بااخلاق دکھائی دیتا ہے
08:19تم اس کا پورا خیال رکھنا
08:21اور اس کے آرام و سکون کا مکمل انتظام کرنا
08:24مجھے امید ہے
08:26کہ یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا
08:28یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے
08:31حضرت یوسف علیہ السلام کو
08:33عزیز مصر اور اس کے گھر والوں کی نظر میں
08:36بلند مقام حاصل ہو گیا
08:37گھر کے تمام امور
08:39غلاموں اور خدمتگاروں کی نگرانی بھی
08:42انہی کے سپرد کر دی گئی
08:44اور ہر کام ان کی مرضی کے مطابق انجام پانے لگا
08:48حضرت یوسف علیہ السلام
08:50عزیز مصر کے محل میں پروان چڑھے
08:52اور جوان ہوئے
08:53آپ نہایت خوبصورت نوجوان تھے
08:56جو بھی آپ کو دیکھتا
08:58متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا
08:59عزیز مصر کی بیوی
09:01جس کا نام زلیخہ تھا
09:03جب حضرت یوسف علیہ السلام کے غیر معمولی
09:06حسن سے متاثر ہوئی
09:07تو آہستہ آہستہ ان کی محبت
09:10نے مبتلا ہو گئی
09:11چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام
09:13اسی گھر میں رہتے تھے
09:15اس لیے جب بھی اس کی نگاہ ان پر پڑتی
09:18اس کے دل میں جذبات کی آگ
09:20اور بھڑک اٹھتی
09:21وہ بار بار کوشش کرتی
09:23کہ اس خیال کو اپنے دل و دماغ سے نکال دے
09:25مگر کامیاب نہ ہو سکی
09:27اور ہر لمحہ حضرت یوسف علیہ السلام کی
09:31یاد میں ڈوبی رہتی
09:32آخر کار اس نے اپنے دل کے بوجھ
09:35کو ہلکہ کرنے کے لیے
09:36حضرت یوسف علیہ السلام سے اپنی خواہش
09:38ظاہر کرنے کا فیصلہ کر لیا
09:40ایک مناسب موقع پر
09:42جب تنہائی میسر آئی
09:44اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی
09:46مگر حضرت یوسف علیہ السلام
09:48جو خاندان نبوت سے تعلق رکھتے تھے
09:51اور پاکیزگی میں پرورش پائے تھے
09:56اگرچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے
09:58سخت بے رغبتی دکھائی
10:00مگر ظلیخہ باز نہ آئی
10:02بلکہ اس بے توجہی نے
10:04کہ جذبے کو اور بھرکا دیا
10:05یہاں تک کہ اس نے اپنا مقصد حاصل کرنے کا
10:08پختہ ارادہ کر لیا
10:10پھر ایک دن جب حضرت یوسف علیہ السلام
10:12محل میں موجود تھے
10:14ظلیخہ بھی وہاں آ پہنچی
10:16اس نے محل کے تمام دروازے بند کر دیے
10:18اور باہر نکلنے کے راستے روک دیے
10:21پھر اپنی خواہش کا اظہار کیا
10:23جب حضرت یوسف علیہ السلام نے
10:25خود کو اس صورتحال میں گھرا ہوا دیکھا
10:28تو وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف دوڑنے لگے
10:31تاکہ کسی طرح باہر نکل سکیں
10:33ظلیخہ پیچھے لپکی
10:35اور ان کی کمیز کا دامن پکڑ لیا
10:38جس سے تمیز پیچھے سے پھٹ گئی
10:40اسی لمحے عزیز محل میں داخل ہو گیا
10:43اس نے یہ منظر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا
10:46اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
10:48پھٹی ہوئی کمیز کے ساتھ آگے
10:50اور اپنی بیوی کو پیچھے عجیب حالت میں دیکھا
10:53مگر ظلیخہ نے گھبراہٹ کے بجائے
10:56بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی
10:58اور حضرت یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا
11:01اس نے کہا
11:02اس کنانی نوجوان نے تمہاری غیر موجودگی میں
11:05بے وفائی کا ارادہ کیا ہے
11:07اب بتاؤ ایسے شخص کی سزا
11:09اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے
11:11کہ اسے قید کر دیا جائے
11:13یا سخت سزا دی جائے
11:14حضرت یوسف علیہ السلام
11:16جو ہمیشہ سچائی پر قائم رہتے تھے
11:19اس موقع پر بھی حق بات کہنے سے پیچھے نہ ہٹے
11:22اور حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
11:25اے عزیز مصر
11:26اس عورت نے مجھے ناجائز فیل پر آمادہ کرنے کی کوشش کی
11:30اور مجھے اپنی طرف کھینچا
11:32مگر میں نے اس سے مو موڑ لیا
11:34اور گناہ پر رازی نہ ہوا
11:36پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
11:39اسی جھولے میں لیٹا ہوا
11:41یہ کم سن بچہ میری سچائی کی گواہی دے گا
11:44اللہ تعالیٰ نے
11:46اس بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی
11:48اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں شہادت دیتے ہوئے کہا
11:52یوسف علیہ السلام کی قمیز کو دیکھو
11:55اگر وہ سامنے سے پھٹی ہو
11:57تو یوسف گناہگار ہیں
11:59اور اگر پیچھے سے پھٹی ہو
12:01تو یوسف علیہ السلام سچے ہیں
12:03اور عزیز کی بیوی نے
12:05ان پر ناحق الزام لگایا ہے
12:07جب عزیز مصر نے دیکھا
12:09کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیز پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے
12:13تو وہ سمجھ گیا
12:14کہ اس معاملے میں یوسف علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں
12:18چنانچہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا
12:21اے یوسف
12:22اس بات کو یہیں ختم کر دو
12:24اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا
12:26تاکہ لوگ ہمارے بارے میں باتیں نہ پھیلائیں
12:29پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا
12:31یہ تم عورتوں کے مکر کا نتیجہ ہے
12:34بے شک تمہارا فرے بہت بڑا ہے
12:36اللہ کے حضور توبہ اور استغفار کرو
12:39تم خطاکاروں میں سے ہو
12:42اگرچہ عزیز مصر نے کوشش کی
12:44کہ یہ معاملہ پوشیدہ ہی رہے
12:46مگر مصر کے معززین کی بیویوں تک یہ بات پہنچ گئی
12:49اور وہ اپنی محفلوں میں اس کا چرچہ کرنے لگیں
12:52بعض عورتیں تو کھلم کھلا
12:54عزیز مصر کی بیوی پر تنقید اور ملامت کرنے لگیں
12:58جب اسے اس تان و تشنی کی خبر ملی
13:01تو وہ دل گرفتہ اور پریشان ہو گئی
13:04پھر اس نے سوچا
13:06کہ کوئی ایسی تدبیر کی جائے
13:08کہ وہ عورتیں خود حقیقت دیکھ لیں
13:10اور اس کی ہم نوا بن جائیں
13:12کافی غور و فکر کے بعد
13:14اس نے ایک خاص دن پر زیافت کا احتمام کیا
13:17اور مصر کی تمام معزز خواتین کو دعوت دے دی
13:20جب وہ آئیں اور تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں
13:24تو ان کے سامنے ایسے پھل رکھے گئے
13:27جنہیں کاٹنے کے لیے چھوڑیاں درکار تھیں
13:29ہر خاتون کو ایک ایک چھوڑی دے دی گئی
13:32اسی لمحے
13:33زلیخہ کے اشارے پر
13:35حضرت یوسف علیہ السلام اس مجلس میں داخل ہوئے
13:38جیسے ہی حضرت یوسف علیہ السلام نظر آئے
13:41ان عورتوں کے ہوش و حواظ جاتے رہے
13:44وہ آپ کے بے مثال حسن میں کھو گئیں
13:46اور بے خبری میں
13:48پھل کے بجائے اپنے ہاتھ کارٹ بیٹھیں
13:50اور بے اختیار پکار اٹھیں
13:52یہ انسان نہیں
13:54بلکہ ایک نہایت باعظمت فرشتہ ہے
13:56عزیز مصر کی بیوی
13:58اپنی اس کامیابی پر مسرور ہو گئی
14:01اس کے چھے پر فاتحانہ مسکراہت پھیل گئی
14:04اور اس نے کہا
14:05یہی وہ یوسف ہے
14:07جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھی
14:09تم نے اسے صرف ایک نظر دیکھا
14:12اور اپنے ہاتھ کٹ لیے
14:14جبکہ میں اسے ہر وقت دیکھتی ہوں
14:16کیونکہ وہ میرے ہی گھر میں رہتا ہے
14:17اسی لیے میں اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی
14:20اور اس سے قربت کی خواہش کی
14:22مگر اس نے پاک دامنی کو
14:25اپنا شعار بنا رکھا ہے
14:26اور مجھ سے ہمیشہ مو مور لیتا ہے
14:28وہ اپنی بلند روح کے ساتھ
14:31صرف اپنے کام سے کام رکھتا ہے
14:33اور حدود پاکیزگی سے
14:35آگے قدم نہیں بڑھاتا
14:36اس کے باوجود میں اس کے ساتھ
14:39اچھا سلوک کرتی ہوں
14:40لیکن اگر اس نے میری بات نہ مانی
14:42تو اسے قید میں ڈال دیا جائے گا
14:44یوں وہ دن گزر گیا
14:46تو عزیز مصر کی بیوی
14:48پھر سے حضرت یوسف علیہ السلام کو
14:50رام کرنے کی کوشش کرنے لگی
14:52لیکن اس کی تمام کوششیں
14:54بیکار ثابت ہوئیں
14:56اور وہ بالکل مایوس ہو گئی
14:58حضرت یوسف علیہ السلام بھی
15:00اس مسیبت کے ہاتھوں سخت پریشان تھے
15:03اور ہر حال میں
15:04خدا کی پناہ مانتے تھے
15:06بلا شبہ ایک مومن
15:08ہر حالت میں خدا کی پناہ مانگتا ہے
15:10اور اسی سے مدد طلب کرتا ہے
15:13چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے
15:15بارگاہِ الہی میں اپنے ہاتھ پھیلائے
15:18اور کہا
15:19اے پروردگار
15:20قید خانے کا اندھیرہ
15:22اور تکلیف برداشت کرنا
15:24میرے لئے اس مسیبت سے آسان ہے
15:26اور اگر تو مصر کی عورتوں
15:28اور عزیزِ مصر کی بیوی کا شر
15:30مجھ سے دور نہ کرے
15:31تو خطرہ میرے نزدیک پہنچ جائے گا
15:33پھر یہ بھی ممکن ہے
15:35کہ میں گناہ کے گرہ میں جا گروں
15:37اور میرا نام
15:38جاہلوں کی تحس میں شامل ہو جائے
15:40اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا
15:44قبول فرمائی
15:45اور انہیں اس بہت بڑے فتنے سے نجات بخشی
15:48جب عزیزِ مصر کی بیوی
15:50حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف سے
15:52مایوس ہو گئی
15:53تو وہ اپنے شوہر سے شکایت کرنے لگی
15:55اور کہنے لگی
15:57حضرت یوسف علیہ السلام نے
15:59مجھے مصر کی عورتوں میں بدنام کر دیا ہے
16:01اور میری آبرو اور وقار کو بٹا لگا دیا ہے
16:04اگر تم میری کھوئی ہوئی عزت مجھے واپس دلانا چاہتے ہو
16:08تو اسے قید کر دو
16:09اور میرے دامن پر لگا ہوا داغ دھو ڈالے
16:12اگرچہ عزیزِ مصر نے
16:14حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکیزگی
16:16اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تھی
16:18اور ان کی کمین کے بارے میں گواہی بھی سن لی تھی
16:21لیکن اس کے باوجود
16:23وہ اپنی بیوی کے بہکاوے میں آ گیا
16:25اور بے گناہ
16:26حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا
16:29یوں اللہ تعالی نے
16:31حضرت یوسف علیہ السلام کو شیطان کے شر سے بچایا
16:35اور وہ قید بند ہو گئے
16:37جس دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں لے جایا گیا
16:40اسی دن بادشاہ کے دو نوجوان درباری بھی قید میں ڈالے گئے
16:45ان میں سے ایک بادشاہ کا ساکھی اور دوسرا باورچی تھا
16:49ان پر الزام یہ تھا
16:50کہ وہ بادشاہ کو زہر دے دینا چاہتے تھے
16:53دوسرے دن وہ قیدی ساکھی حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آیا
16:58اور کہنے لگا
16:59میں نے خواب میں دیکھا ہے
17:01کہ میں بادشاہ کے لیے انگور کا رس نچوڑ رہا ہوں
17:04پھر اس کے ساتھی نے کہا
17:06میں نے بھی خواب میں دیکھا ہے
17:08کہ میں نے کچھ روٹیاں سر پر اٹھا رکھی ہیں
17:10اور پرندے انہیں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں
17:13تب انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے
17:16اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی
17:18اور کہا
17:19تم ہمیں نیک آدمی نظر آتے ہو
17:21اور تمہارے چہرے پر بزرگی کے آثار نمودار ہیں
17:25جب حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا
17:28کہ یہ دونوں آدمی ان کی باتیں سننے کے لیے آمادہ ہیں
17:31تو انہوں نے وقت کو غنیمت جانا
17:33اور قید خانے کے اندر ہی
17:35دین حق کی تبلیغ شروع کر دی
17:37انہوں نے فرمایا
17:38میں تمہارے خوابوں کی تعبیر
17:40تمہارے کھانے آنے سے پہلے بتا دوں گا
17:43یہ علم بھی ان علوم میں سے ہے
17:45جن کی تعلیم خدا نے مجھے دی ہے
17:47اور مجھے خوابوں کی تعبیر سے آگاہ کر دیا ہے
17:50کیونکہ میں نے ان لوگوں کے دین سے مو نہیں موڑا
17:54جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے
17:56اور قیامت کے منکر ہیں
17:57میں اپنے آباؤ اجداد
17:59یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام
18:02حضرت اسحاق علیہ السلام
18:03اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے دین کا پیرو ہوں
18:07اور ہمارے لیے یہ درست نہیں
18:09کہ ہم کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیں
18:12اے میرے ساتھیوں
18:13تم ہی انصاف کرو
18:15کیا یہ مختلف معبود
18:17اور بے قیمت بت بہتر ہیں
18:18یا خدا واحد خالق کائنات بہتر ہے
18:22یہ بت جن کی پرستش تم کرتے ہو
18:25صرف نام کے خدا ہے
18:27کہ تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے
18:29ان کا نام خدا رکھ دیا ہے
18:31لیکن خدا کی طرف سے
18:33ان کی حقانیت کی کوئی دلیل نازل نہیں ہوئی
18:36یہ چند جملے کہنے کے بعد
18:38حضرت یوسف علیہ السلام نے
18:40اپنی گفتگو جاری رکھی
18:42اور ان دونوں کے خوابوں کی تعبیر
18:44بیان کرتے ہوئے کہا
18:45اے میرے ساتھیوں
18:47تم میں سے جس نے یہ خواب دیکھا ہے
18:49کہ وہ انگوروں کو نچوڑ رہا ہے
18:52اس کے کی تعبیر یہ ہے
18:53کہ جلد ہی اس کی آزادی کا حکم سادر ہوگا
18:56اور وہ اپنے عہدے پر فحال ہو جائے گا
18:59اور جس نے خواب میں دیکھا ہے
19:01کہ وہ سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہیں
19:03اس کے خواب کی تعبیر یہ ہے
19:05کہ جلد ہی اسے سزائے موت دے دی جائے گی
19:08وہ سولی پر لٹکا دیا جائے گا
19:10اور پرندے اس کا مغز نوچ نوچ کر کھائیں گے
19:13یہی ہے ان خوابوں کی تعبیر
19:16جو تم نے مجھ سے بیان کیے ہیں
19:17پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو خیال آیا
19:20تھی یہ ساکھی
19:21جو جلد ہی رہا ہو کر
19:23شاہی دربار میں جانے والا ہے
19:25کیوں نہ اس کے ذریعے
19:26اپنی رہائی کی صورت پیدا کرے
19:28لہٰذا انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا
19:30جب تم شاہی دربار میں پہنچو
19:33تو بادشاہ کو میرے بارے میں بتانا
19:35اور میری بے گناہی کا ذکر کرنا
19:37شاید وہ مجھے قید سے رہا کر دے
19:39ان دونوں اشخاص کے خوابوں کی تعبیر
19:42جو حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائی تھی
19:45وہ اسی طرح پوری ہوئی
19:47یعنی ان میں سے ایک کو قید سے رہائی ملی
19:50اور دوسرا سولی پر لٹکا دیا گیا
19:52لیکن افسوس ہے
19:54کہ وہ ساکھی حضرت یوسف علیہ السلام کو بھول گیا
19:57اور انہیں مزید کئی سال قید خانے میں گزارنے پڑے
20:00ایک صبح جب بادشاہ نین سے بیدار ہوا
20:03تو ایک خواب جو اس نے دیکھا تھا
20:06اس سے وہ سخت پریشان نظر آ رہا تھا
20:08قوم کے علماء اور رعایہ کو دربار میں طلب کیا گیا
20:11اور اس نے اپنا خواب یوں بیان کیا
20:14میں نے خواب میں دیکھا
20:16کہ ساتھ موٹی، تازی اور خوبصورت گائیں ندی سے نکلی
20:20اور ایک سبزہ زار میں چڑھنے لگی
20:22کچھ دیر کے بعد ساتھ کمزور اور بچک لگائیں پانی سے باہر آئیں
20:27اور وہ پہلی ساتھ گائیوں کو کھا گئیں
20:29پھر میں نے گندم کی ساتھ ہری اور ساتھ سوکھی بالیاں دیکھی
20:33خواب بیان کرنے کے بعد
20:35بادشاہ نے حاضرین کو مخاطب کر کے کہا
20:37اب تم لوگ مجھے بتاؤ
20:39کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے
20:41علماء نے بہت غور و خوص کیا
20:43لیکن انہوں نے خود کو اس خواب کی تعبیر سے آجز پایا
20:47اور کہنے لگے
20:48جو کچھ آپ نے دیکھا ہے
20:50وہ آپ کی دماغی پریشانی کا نتیجہ ہے
20:52اور ہم اس قسم کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے
20:55تام بادشاہ کا خواب ایک وسیلہ تھا
20:58جو خدا نے حضرت یوسف علیہ السلام کی رہائی کیلئے فراہم کیا تھا
21:02چنانچہ اس خواب نے اس ساقی کو حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد دلا دی
21:06اور اسے برسوں پہلے کا واقعہ یاد آگیا
21:09وہ فوراں بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا
21:12اور کہنے لگا
21:13بادشاہ سلامت
21:14آپ کے قید خانے میں ایک عالی ظرف
21:17روشن خیال اور دانشمند شخص موجود ہے
21:20جو خواب کی تعبیر بتانے میں ماہر ہے
21:23آپ مجھے قید خانے تک جانے دیں
21:25تاکہ میں اس سے آپ کے خواب کی تعبیر پوچھاؤں
21:28وہ ساقی بادشاہ سے اجازت لے کر قید خانے میں آیا
21:31حضرت یوسف علیہ السلام سے ملا
21:33اور کہنے لگا
21:35اے راستگو یوسف علیہ السلام
21:37آپ مجھے بتائیں
21:39کہ اگر خواب میں یوں دیکھا جائے
21:41کہ ساتھ کمزور گائیں
21:42ساتھ موٹی تازی گائیوں کو کھا گئیں
21:45اور پھر گندم کی ساتھ ہری
21:47اور ساتھ خشک بالیاں نظر آئیں
21:49تو اس خواب کی تعبیر کیا ہے
21:51تم مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ
21:53تاکہ میں قوم کی طرف لوٹ جاؤں
21:55اور انہیں اس سے باخبر کروں
21:57حضرت یوسف علیہ السلام
21:59خدا کے ایک برگزیدہ پیغمبر تھے
22:01اور انہیں لوگوں کے دین
22:03اور دنیا کے معاملات کی اصلاح کیلئے
22:05بھیجا گیا تھا
22:06پس انہوں نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بیان کرنے کے علاوہ
22:10لوگوں کے لیے نجات اور خوشبختی کے راستے کی طرف رہنمائی بھی کر دی
22:14انہوں نے فرمایا
22:16مصر میں سات سال تک فصلیں بہت اچھی ہوں گی
22:19اور لوگوں کو بہت سا غلہ حاصل ہوگا
22:22اس کے بعد سات سال سخت اور خوشک سالی کے ہوں گے
22:26جن میں پہلے سالوں کا بچایا ہوا غلہ کام آئے گا
22:29اور لوگ بے حد پریشانی کا شکار ہوں گے
22:32اس کے پیش نظر تمہیں چاہیے
22:34کہ پہلے سات سالوں میں کھیتی باڑی کو درست طریقے سے کرو
22:37اور زیادہ سے زیادہ غلہ اگانے کی کوشش کرو
22:41اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق صرف کرو
22:43اور بقایا کو بالیوں کی شکل میں زخیرہ کر لو
22:46تاکہ خوشک سالی کے دنوں میں اسے کام ملا سکو
22:50ساقی فوراں بادشاہ کے پاس گیا
22:52اور حضرت یوسف علیہ السلام کی تعبیر سنائی
22:55اپنے خواب کی یہ تعبیر سن کر
22:57بادشاہ کا چہرہ کھل اٹھا
22:59اور اس کا رنج و غم زائل ہو گیا
23:01وہ سمجھ رہا تھا
23:03کہ یہ تعبیر اس کے خواب کے مطابق ہے
23:05جو کسی بہت ہی آقل اور دانشمند شخص نے بیان کی ہے
23:09چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا
23:11کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو میرے پاس لے آؤ
23:14تاکہ میں زندگی کی پریشانیوں اور مشکلات میں
23:17اس سے مدد لے سکوں
23:19اور اس کے نظریات سے فائدہ اٹھاتا رہوں
23:21شاہی نمائندے حضرت یوسف علیہ السلام کو
23:24رہائی دلانے کے لیے قید خانے پہنچے
23:26لیکن انہوں نے رہائی حاصل کرنے سے انکار کر دیا
23:30حالانکہ اس وقت ان کے لیے آزادی کی بڑی اہمیت تھی
23:34کیونکہ وہ سال ہا سال سے قید خانے کی تنگ فضاہوں میں
23:37زندگی بسر کر رہے تھے
23:38ایک عرصے سے انہوں نے کھلے آسمان میں سورج
23:41چاند اور ستارے نہیں دیکھے تھے
23:44کبھی آرام سے نہ سوئے
23:45اور کبھی برپور کھانا نہیں کھایا
23:47لیکن ان تمام باتوں کے باوجود
23:50وہ آمادہ نہ ہوئے
23:51کہ انہیں معافی کے طور پر قید خانے سے رہا کر دیا جائے
23:54انہوں نے کہا
23:55میں اس وقت تک قید خانے سے باہر نہیں آؤں گا
23:59جب تک بادشاہ میرے بارے میں تحتیقات نہ کر لے
24:02میری بات نہ سن لے
24:03اور میری بے گناہی اس پر ثابت نہ ہو جائے
24:06بادشاہ سے کہہ دو
24:07کہ وہ مصری عورتوں سے یہ دریافت کرے
24:10کہ انہوں نے اپنے ہاتھ کیوں کاٹے
24:12اور مجھے کیوں تنگ کیا تھا
24:14شاہی نمائندے دوبارہ بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے
24:18اور صورتحال سے متطلع کیا
24:20بادشاہ نے مصر کی عورتوں
24:22جن کے نام حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائے تھے
24:25اپنے پاس بلایا
24:26اور ان سے ہاتھ کٹنے کے بارے میں پوچھا
24:29اعتراف کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا
24:32اور انہوں نے متفقہ طور پر گواہی دی
24:35کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ہیں
24:38عزیز مصر کی بیوی نے بھی
24:41اپنے گناہ اور حضرت یوسف علیہ السلام کی
24:44بے گناہی کا اقرار کر لیا
24:45اور یوں حضرت یوسف علیہ السلام
24:48عزت و عبرو کے ساتھ پیت خانے سے باہر آئے
24:52قید سے آزاد ہونے کے بعد
24:54حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہ کے محل میں لائے گیا
24:58بادشاہ بڑے اشتیاغ کے ساتھ
25:01حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کا منتظر تھا
25:04جب کچھ دیر گزری
25:06تو آپ دربار میں پہنچے
25:07بادشاہ نے آپ سے بڑی دیر تک باتیں کی
25:11اور انہیں اکل مند روشن دماغ اور قابل پایا
25:15تب اس نے کہا
25:17اے یوسف علیہ السلام
25:19ہمارے دل میں آپ کی بڑی عزت ہے
25:21اور ہم آپ پر پورا پورا بھروسہ کرتے ہیں
25:25آپ جو عہدہ بھی پسند کریں
25:27ہم آپ کو اس پر مقرر کر دیں گے
25:30حضرت یوسف علیہ السلام نے جواب دیا
25:33آپ مجھے امور خوراک
25:35اور محکمہ مال کا ناظر مقرر کر دیں
25:38بادشاہ نے فرمان جاری کیا
25:40کہ یہ عہدہ
25:41حضرت یوسف علیہ السلام کے سپرد کر دیا جائے
25:44اور درباریوں
25:46اور اہلکاروں کو حکم دیا
25:47کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے احکام کی تعمیل کریں
25:51اور ان کے حکم کو
25:53شاہی حکم سمجھیں
25:54اب حضرت یوسف علیہ السلام
25:57اپنے فرائض منصبی کو انجام دینے کیلئے
26:00مصروف ہو گئے
26:01وہ جانتے تھے
26:02کہ دریائے نیل
26:03چند سال تک لوگوں کی زمینیں
26:06اچھی طرح سراب کرتا ہے
26:07لیکن پھر اچانک ہی
26:09اس کے پانی میں کمی واقع ہو جاتی ہے
26:11اور خوشحالی کے آثار پیدا ہو گئے
26:15لہٰذا
26:15حضرت یوسف علیہ السلام نے فیصلہ کیا
26:18کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے
26:21اور لوگوں کو
26:22آئندہ سالوں میں رونما ہونے والے قہر
26:25اور مشکلات سے نجات دلائی جائے
26:27چنانچہ آپ نے مملکت مصر کے مختلف علاقوں کا
26:31ایک جامع دورہ کیا
26:32تاکہ حالات کا جائزہ لیں
26:34اور کام کاج کے لیے
26:36ضروری وسائل فراہم کریں
26:37اس دورے میں انہوں نے
26:39جو ذرخیز علاقے دیکھے
26:41وہاں کے کاشتکاروں کو
26:43معقول رقم فراہم کی
26:45تاکہ وہ اپنی زمینوں کو سواریں
26:47ترقی دیں
26:48اور پیداوار میں اضافہ کریں
26:50اس کے ساتھ ساتھ
26:51حضرت یوسف علیہ السلام نے
26:53بڑے بڑے گدام تعمیر کروائے
26:56جن میں ہر ایک میں
26:57سیکن و من غلہ زخیرہ کرنے کی صلاحیت تھی
27:00پہلے سات سالوں میں
27:02حضرت یوسف علیہ السلام نے
27:04لوگوں کی ضرورت کے مطابق
27:06انہیں غلہ فراہم کیا
27:08اور جو باقی بچا
27:09اسے گداموں میں ڈال دیا
27:11اس طرح گدام غلے سے بھر گئے
27:13اور جب قہد کے سال آ پہنچے
27:15اور دریائے نیل میں پانی کی کمی واقع ہوئی
27:18تو کھیتیاں سوک گئیں
27:19لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی
27:22اقل مندانہ پیش بینی کی بدولت
27:24لوگوں کو خوشک سالی میں
27:25کوئی مشکل پیش نہ آئی
27:27کیونکہ سرکاری گداموں میں
27:28ان کی ضرورت کے مطابق
27:30بلکہ اس سے بھی زیادہ غلہ موجود تھا
27:32اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام نے
27:35اپنے فرائض منصبی انجام دینے کے ساتھ ساتھ
27:38اپنی ازدواجی زندگی بھی شروع کی
27:40اور ان کی شادی ہو گئی
27:42آپ کی بیوی کا نام آزناب تھا
27:44اور ان سے دو بچے پیدا ہوئے
27:46جن کے نام مانیسہ اور افراہیم رکھے گئے
27:50کہت کے زمانے میں
27:51عزیز مصر پوتی فار کا انتقال ہو گیا
27:54اور اس کی بیوی زلیخہ محتاج ہو گئی
27:56اس حد تک
27:57کہ لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہو گئی
27:59جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام
28:01اس وقت عزیز مصر کے رتبے پر فائض ہو چکے تھے
28:05ایک بار لوگوں نے زلیخہ سے کہا
28:07کہ عزیز مصر کے راستے پر بیٹھ جاؤ
28:09شاید یہاں سے گزرتے ہوئے
28:11ان کی تم پر نظر پڑ جائے
28:13اور وہ تم پر رحم کریں
28:15زلیخہ نے کہا
28:16میں ان سے شرمندہ ہوں
28:18لوگوں نے اسرار کیا
28:19تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے راستے پر بیٹھ گئی
28:23جب آن حضرت شاہی دستے کے ساتھ
28:25ادھر سے گزرے
28:26تو زلیخہ اٹھی اور کہا
28:28پاک ہے وہ خدا
28:30جو بادشاہوں کو اپنی معاصیت کے سبب غلام بناتا ہے
28:33اور غلاموں کو اطاعت کی وجہ سے
28:35بادشاہ بنا دیتا ہے
28:37حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
28:39تم زلیخہ ہو
28:41اس نے کہا
28:42بلکل میں زلیخہ ہی ہوں
28:44پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے حکم کے مطابق
28:48اسے شاہی محل میں لائیا گیا
28:49اس وقت زلیخہ بہت ضعیف ہو گئی تھی
28:52حضرت یوسف علیہ السلام نے اس سے کہا
28:55کیا تم نے میرے ساتھ یہ زیادتی نہیں کی
28:58اس نے کہا
28:59اے پیغمبر خدا
29:01مجھ پر ملامت نہ کیجئے
29:03کیونکہ میں اس وقت تین بلاؤں میں مبتلا تھی
29:05جن میں کوئی اور مبتلا نہیں ہوا تھا
29:07میں آپ کی محبت میں مبتلا تھی
29:10اور اللہ تعالی نے
29:11دنیا میں آپ کی مثال پیدا نہیں کی
29:13میں آپ کے حسن و جمال پر فدا تھی
29:16مصر میں مجھ سے زیادہ کوئی مقبول عورت نہیں تھی
29:19اور کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں تھی
29:22لیکن میرا شوہر ناتما تھا
29:24پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
29:27کیا حاجت رکھتی ہو
29:29اس نے کہا
29:30چاہتی ہوں کہ آپ دعا کریں
29:32کہ خدا میری جوانی واپس کر دے
29:34حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کی
29:37اور اللہ تعالی نے اسے دوبارہ جوان کر دیا
29:40وہ بلکل کمواری لڑکی بن گئی
29:42پھر اللہ کے حکم کے مطابق
29:45حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے نکاح کیا
29:47اور انہیں محترم مقام عطا کیا
29:49مصر کے کہت نے رفتہ رفتہ
29:52ہمسایہ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا
29:54اور اس کا دائرہ فلسطین اور کنان تک وسیح ہو گیا
29:58جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام
30:00اور ان کے فرزند رہائش پذیر تھے
30:02اس وقت ہر جگہ حضرت یوسف علیہ السلام کا نام
30:06زبان زد عام تھا
30:07اور ان کے خدمات کی تعریف کی جا رہی تھی
30:10مصر کے ہمسایہ مالک کے لوگ بھی یہی کہتے تھے
30:13کہ مصر کا نظام حکومت
30:15ایک قابل وزیر کے ہاتھ میں ہے
30:17اور اس کی خوش تدبیری کی بدولت
30:19مصر ایک سخت قہد سے بچ گیا ہے
30:21وہ ایک بلند فطرت اور کریم النفس انسان تھے
30:25جو سب کے ساتھ نیک سلوک کرتے
30:27اور سب کو غلہ مہیا کرتے
30:29یہ باتیں سن کر
30:31حضرت یعقوب علیہ السلام نے
30:32اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا
30:34میرے بیٹوں
30:35اب ہم کہتو اور تکلیف سے دوچار ہیں
30:37تم سفر کی تیاری کرو
30:39اور عزیز مصر کے پاس جاؤ
30:41جس کی کریم النفس کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے
30:45لیکن بینیامین کو میرے پاس چھوڑ کر جاؤ
30:47تاکہ تمہاری جدائی مجھ پر بھاری نہ گزرے
30:50اور تنہائی کی وجہ سے میں اداس نہ ہو جاؤں
30:53حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی
30:56اپنے اونٹ لے کر مصر روانہ ہو گئے
30:58تاکہ وہاں سے غلہ خرید کر کنان لے آئیں
31:01حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے
31:04کنان اور مصر کے درمیان کی مسافق تیہ کی
31:07اور مصر پہنچ گئے
31:08جب وہ غلہ خریدنے کے لیے
31:10حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے
31:13تو حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا
31:16لیکن وہ انہیں نہ پہچان سکے
31:18کیونکہ انہیں یقین نہ تھا
31:20کہ یوسف علیہ السلام اب زندہ ہیں
31:23اس کے علاوہ حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرے میں بھی کچھ تبدیلیاں آ چکی تھی
31:29حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے
31:32لیکن جب انہوں نے دیکھا
31:34کہ ان کا سگا بھائی بینی امین ان کے ساتھ نہیں ہے
31:37تو وہ افسردہ ہو گئے
31:39انہوں نے دل کی گہرائی سے بھائیوں کا استقبال کیا
31:42اور انہیں مہمان کے طور پر اپنے پاس ٹھہرایا
31:45اسی موقع پر آپ نے ان سے کہا
31:47کہ تم لوگ ہمیں اپنا تعرف کرواؤ
31:49تب انہوں نے بتایا
31:51ہم بارہ بھائی ہیں
31:52جو پیغمبر علی مقام حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں
31:57اس وقت ہم دس آپ کے سامنے مووڈ ہیں
31:59اور آپ کی انعیت کی امیدوار ہیں
32:02ہمارا ایک بھائی
32:03ہمارے والد بزرگوار کی خدمت کے لیے ان کے پاس رہ گیا ہے
32:07اب وہ بہت عرصہ پہلے گم ہو گیا تھا
32:10اور سال ہا سال سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں
32:13کہ وہ کہاں ہے
32:15بہرحال حضرت یوسف علیہ السلام کو
32:17اپنے والد بزرگوار اور پیارے بھائی کی خیر خبر سن کر
32:21بڑا اتمنان ہوا
32:22پھر انہوں نے حکم دیا
32:24کہ ان کے بھائیوں کو گندم دے دی جائے
32:26اور جو رقم ان کے بھائی لائے تھے
32:28وہ بھی خفیہ طور پر ان کی بوریوں میں رکھتی گئی
32:31حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ عمل اس مقصد کے لیے کیا
32:35تاکہ ان کے بھائی جلدی مسر آ جائیں
32:37اور رقم کا انتظام کرنے میں اپنا وقت زائع نہ کریں
32:40پھر بوریاں اونٹوں پر لاد دی گئیں
32:43اور بھائی واپس جانے کے لیے تیار ہو گئے
32:46اس موقع پر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے کہا
32:49جب تم دوبارہ مسر آؤ
32:51تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لاؤ
32:53تاکہ مجھے اتمنان ہو جائے
32:55کہ جو کچھ تم نے بتایا وہ واقعی درست ہے
32:58لیکن اگر تم اسے ساتھ نہ لائے
33:01تو تمہیں غلہ نہیں ملے گا
33:02اور پھر تم کبھی بھی میرے پاس آنے کا ارادہ نہ کرنا
33:06انہوں نے جواب دیا
33:07اس بارے میں ہم اپنے والد بزرگوار سے بات کریں گے
33:11ہمیں امید ہے
33:12کہ وہ اس بات کو مان لیں گے
33:14اور ہم اس چھوٹے بھائی کو ساتھ لا سکیں گے
33:17حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو الودا کہا
33:21اور وہ خوشی خوشی کنان لوٹ گئے
33:23جب وہ اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے
33:27تو کہنے لگے
33:28بابا جان
33:30جیسا کہ عزیز مصر کے بارے میں مشہور تھا
33:32ہم نے اسے بڑا عالی ظرف اور شریف انسان پایا ہے
33:36اس نے ہماری بڑی عزت کی
33:39ہمارا ہر طرح خیال رکھا
33:41اور ہمیں بہت سا غلہ دیا ہے
33:43لیکن اس کے ساتھ ہی
33:44اس نے ہم سے یہ وعدہ بھی لیا ہے
33:46کہ اب کہ ہم اپنے چھوٹے بھائی
33:48بنیامین کو بھی اپنے ساتھ لے کر آئیں
33:51تاکہ وہ اس بات کو جان لے
33:52کہ ہم نے جو کچھ کہا ہے
33:54وہ درست ہے
33:56تاہم ہمارا مصر کا سفر
33:58غلہ حاصل کرنے کے علاوہ
34:00کسی اور مقصد کے لیے نہیں تھا
34:02حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا
34:05میں تمہیں بنیامین کو ساتھ لے جانے کی اجازت
34:08ہرگز نہیں دودوں گا
34:09کیا تم چاہتے ہو
34:10کہ جو کچھ تم نے یوسف کے ساتھ کیا تھا
34:13اس کے ساتھ بھی وہی ہو
34:15نہیں
34:15بس مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو
34:17اور مجھے مجبور نہ کرو
34:19پھر انہوں نے غلے کی بوریاں کھولی
34:21اور دیکھا
34:22کہ جو رقم وہ گھر سے لے کر گئے تھے
34:24وہ بھی غلے میں رکھ دی گئی ہے
34:26وہ خوش ہو کر باپ کے پاس آئے
34:28اور کہنے لگے
34:30بابا جان
34:31ہم نے غلط نہیں کہا تھا
34:33ذرا عزیز مصر کی عالی ذرفی تو دیکھیں
34:36اس نے ہماری ادا کی ہوئی رقم بھی
34:38اپنے پاس نہیں رکھی
34:39اور مکمل طور پر ہمیں واپس کر دی ہے
34:42لہٰذا آپ خوف زدامت ہوں
34:44اور ہم
34:45دل و جان سے اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے
34:48اور اسے صحیح و سلامت
34:50آپ کے پاس واپس لے آئیں گے
34:52حضرت یعقوب علیہ السلام نے دیکھا
34:54کہ ان کے بیٹوں کو غلے کی ضرورت ہے
34:57اور وہ مصر جانے کے لیے بیچین ہیں
34:59علاوہ عزیز مصر سے وعدہ بھی کر چکے ہیں
35:03کہ اپنے بھائی کو اپنے ساتھ لائیں گے
35:06ان حالات کے پیش نظر
35:07انہوں نے ان کو اجازت دے دی
35:09کہ وہ بنیامین کو اپنے ساتھ مصر لے جائیں
35:12تاہم انہوں نے وعدہ لیا
35:14کہ بنیامین کو بحفاظت واپس لے آئیں گے
35:17سوائے اس کے کہ کوئی ایسا ناغہانی حادثہ پیش آ جائے
35:22جس سے ان کے لیے بنیامین کی حفاظت ممکن نہ ہو
35:25سب بھائیوں نے اس اہد پر خدا کو گواہ ٹھہرایا
35:28اور بنیامین کو ہمراہ لے کر مصر روانہ ہو گئے
35:32حضرت یعقوب علیہ السلام نے انہیں ہدایت کی
35:35کہ مصر پہنچنے پر وہ سب ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہوں
35:39بلکہ تقسیم ہو کر مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوں
35:43یہ ہدایت دینے کا مقصد شاید یہ تھا
35:46کہ ان کے بیٹے لوگوں کی نظر بط سے محفوظ رہیں
35:49اور حفاظت کے ساتھ شہر میں داخل ہوں
35:52یہ ہدایت کرنے سے شاید حضرت یعقوب علیہ السلام کا مقصد یہ تھا
35:57کہ ان کے بیٹے لوگوں کی نظر بط سے محفوظ رہیں
36:00اور وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہ بنیں
36:03تاکہ ان کے بارے میں اس قسم کی غلط رائے قائم نہ ہو
36:07کہ یہ جاسوس ہیں
36:09یا چوری کرنے
36:10یا ڈاکہ ڈالنے کی غرص سے مصر آئے ہیں
36:12بہرحال حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی مصر پہنچے
36:17ان سے دوسری بار ملاقات ہوئی
36:19اور انہوں نے اپنے بھائی بنیامین کو
36:22حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے پیش کیا
36:25حضرت یوسف علیہ السلام
36:26اپنے اس بھائی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے
36:29اور غلاموں کو حکم دیا
36:31کہ دوپہر کے لیے نسبتاً زیادہ کھانا تیار کیا جائے
36:35تاکہ سب مل کر کھائیں
36:36دوپہر کے وقت
36:38حضرت یوسف علیہ السلام نے
36:40اپنے بھائیوں کو گھر لے گئے
36:42اور انہیں دو دو کر کے دسترخوان پر بٹھایا
36:45بنیامین اکیلا رہ گیا
36:47تو بے اختیار رو دیا
36:49اور کہا
36:50اگر آج میرا بھائی یوسف زندہ ہوتا
36:53تو میں اکیلا نہ رہتا
36:55حضرت یوسف علیہ السلام نے
36:57اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا
36:59اور دونوں نے مل کر کھانا کھایا
37:01جب رات ہو گئی
37:03تو حضرت یوسف علیہ السلام نے
37:05دو دو بھائیوں کو ایک ایک کمرے میں سلایا
37:07اور بنیامین کو اپنے پاس رکھا
37:10اور کہا
37:11کیا تم اس بات کو پسند کروگے
37:13کہ یوسف کی جگہ میں تمہارا بھائی بن جاؤں
37:16بنیامین نے جباب دیا
37:17آپ جیسا بھائی کہاں مل سکتا ہے
37:20لیکن افسوس اس بات کا ہے
37:22کہ آپ یعقوب علیہ السلام
37:24اور ہمارے آباؤ اجداد کے بیٹے نہیں ہیں
37:26تب حضرت یوسف علیہ السلام کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
37:31اور انہوں نے بنیامین کو سینے سے لگا لیا
37:33اور کہا
37:34میں ہی تمہارا گمشدہ بھائی یوسف ہوں
37:37جس کی جدائی میں تم گمگین رہے
37:39وہ میں ہی ہوں
37:41جس نے بھائیوں کے ہاتھوں دکھ اٹھائے
37:43اور کئی ناکامیوں کا سامنا کیا
37:45لیکن اللہ تعالی کی مہربانی سے میری تکلیفیں دور ہوئیں
37:49اور مجھے اس رتبے پر پہنچایا
37:51تاہم فی الحال
37:52تمہیں یہ بات ان بھائیوں سے چھپانی چاہیے
37:56مہمانداری کے دن ختم ہو گئے
37:57اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی
38:00غلہ خریدنے کے بعد واپس جانے کو تیار ہو گئے
38:03حضرت یوسف علیہ السلام نے
38:05بنیامین کو اپنے پاس رکھنے کے لیے
38:07ایک تدبیر سوچی
38:08اور غلاموں کو حکم دیا
38:10کہ پانی پینے کا ایک پیالہ
38:12بنیامین کی بوری میں ڈال دیں
38:14جب کافلہ کچھ دور نکلا
38:16تو حضرت یوسف علیہ السلام کے ایک اہلکار
38:19نے آواز دی
38:20اے کنان والو رک جاؤ
38:22تم کتنے برے لوگ ہو
38:24جنہوں نے نیکی کا بدلہ بدی سے دیا
38:26اور عزیز کا احسان فراموش کر کے
38:29اس کا پیالہ چُرالیا
38:30حضرت یعقوب علیہ السلام کے غیور
38:33بیٹے یہ آواز سن کر جہاں تھے
38:35وہیں جم کر رہ گئے
38:36اور کہنے لگے
38:37خدا کی قسم
38:39تمہیں معلوم ہونا چاہیے
38:41کہ ہم شرارت کی نیت سے یہاں نہیں آئے تھے
38:43اور ہم چور نہیں ہیں
38:45اہلکار نے پوچھا
38:46اگر تم میں سے کسی نے پیالہ چوری کیا ہے
38:49تو اس کی سزا کیا ہوگی
38:51انہوں نے دواب دیا
38:52ہمیں اپنی بے گناہی کا یپین ہے
38:54اور ہم ایک ایسے دین اور قانون کے پیروں ہیں
38:57جس کے مطابق تم لوگ چور کو گرفتار کر کے
39:00اپنا غلام دے سکتے ہو
39:02بوریاں اتاری گئیں
39:03اور ان کی جانچ پرتال شروع ہوئی
39:06پہلے بھائیوں کی
39:07اور پھر بنیامین کی
39:09تب وہ سونے کا پیالہ بنیامین کی بوری سے نکل آیا
39:12وہ سب بھائی شہر کو لوٹ آئے
39:14اور انتہائی رنج و غم کے عالم میں
39:16حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے پیش ہوئے
39:19پہلے حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں ڈانٹا
39:23اور پھر کہا
39:24تمہارے ہی کول کے مطابق
39:26ہم بنیامین کو اپنے پاس رکھیں گے
39:28اس پر سارے بھائی منت سماجت کرتے ہوئے کہنے لگے
39:31اے عزیز مصر
39:33اس کا باپ بوڑھا اور کمزور ہے
39:35آپ ہم میں سے کسی ایک کو اپنے پاس رکھ لیں
39:38اور اسے آزاد کر دیں
39:40حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
39:42یہ ناممکن ہے
39:43کہ ہم ایک چور کی بجائے کسی بے گناہ شخص کو پکڑ لیں
39:47کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے
39:49تو ایک مدنوں پر ظلم روا رکھیں گے
39:51اب بھائیوں نے بنیامین کو
39:53جس نے انہیں اس مصیبت میں پھسا دیا تھا
39:56نگاہوں سے دیکھا اور کہا
39:57اگر اس نے چوری کی ہے
39:59تو یہ کوئی تاجب کی بات نہیں
40:01اس کا ایک بھائی تھا
40:02اس سے پہلے بھی وہ چوری کر چکا تھا
40:05ان کا مقصد
40:06حضرت یوسف علیہ السلام کی چوری کے معاملے کی طرف اشارہ کرنا تھا
40:10اور وہ قصہ کچھ یوں تھا
40:12کہ حضرت یوسف علیہ السلام ابھی چھوٹے ہی تھے
40:16کہ ان کی والدہ انتقال کر گئی
40:17ان کی پپی انہیں اپنے گھر لے گئی
40:20اور ان کی پرورش کرنے لگی
40:21جب وہ ذرا بڑے ہو گئے
40:24تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے
40:26انہیں پپی کے گھر سے اپنے گھر لے آنے کا فیصلہ کیا
40:29لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی پپی
40:31جو انہیں بے حد چاہتی تھی
40:33ان کی جدائی برداشت نہ کر سکی
40:35اس نے ایک کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر میں بان دیا
40:39اور انہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کے گھر بھیج دیا
40:43بعض میں آ کر کہنے لگے
40:45کہ یوسف نے میرے گھر سے کمر بند چورایا ہے
40:48چنانچہ تلاشی لی گئی
40:49اور کمر بند برامت کر لیا گیا
40:51پھر اپنے مذہبی قوانین کے مطابق
40:54حضرت یوسف علیہ السلام کو سزا کے لیے قید کرنے کی بات کی گئی
40:59بھائیوں نے غصے میں اس بات کی طرف اشارہ کیا
41:01تو حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی سنا
41:04لیکن انہوں نے اپنے چہرے پر رد عمل ظاہر نہ کیا
41:07دل ہی دل میں کہا
41:09تم اس سے بتر ہو
41:10اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو
41:12خدا اس سے واقف ہے
41:15بلاخر بھائی بنیامین کی رہائی سے ناومید ہو گئے
41:17اور واپس جانے کا فیصلہ کر لیا
41:20لیکن بڑے بھائی یہودہ نے کہا
41:22کیا تم بھول گئے ہو
41:23کہ تمہارے باپ نے تم سے وعدہ لیا تھا
41:26کہ تم بنیامین کو واپس لاؤ گے
41:28خدا کی قسم
41:29جب تک میرا باپ اجازت نہ دے
41:31یا خدا میرے حق میں حکم نہ دے
41:33میں مصر سے باہر قدم نہیں رکھوں گا
41:36پھر دوسرے بھائی واپس کنان چلے گئے
41:38لیکن یہودہ اور بنیامین
41:40مصر ہی میں رہ گئے
41:42حضرت یعقوب علیہ السلام
41:44اپنے بیٹوں سے مل کر بہت خوش ہوئے
41:46لیکن یہ خوشی آدھی تھی
41:48کیونکہ بنیامین انہیں نظر نہیں آئے
41:50انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا
41:53تو بھائیوں نے سارا ماجرہ بیان کیا
41:55یہ قصہ سن کر
41:56حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہوش ار گئے
41:59اور یوں محسوس ہوا
42:01جیسے ان کی روح بدن سے نکل رہی ہے
42:03انہوں نے بیٹوں کی بات کا یقین نہ کیا
42:06اور سمجھا
42:07کہ انہوں نے بنیامین کے ساتھ بھی
42:09کوئی ایسی ہی چال چلی ہے
42:10جیسی یوسف علیہ السلام کے بارے میں تھی
42:13جس کے غم میں ان کی بسارت جاتی رہی
42:16تب حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد میں
42:19ان کے دکھی دل سے
42:20ایک دردناک آہ نکلی
42:22جب کچھ سکون ہوا
42:24تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے
42:26اپنے بیٹوں کو مصر جا کر
42:27حضرت یوسف علیہ السلام
42:29اور ان کے بھائی کو تلاش کرنے کی ترغیب دی
42:32اور فرمایا
42:32خدا کی رحمت سے مایوس مت ہو
42:35اور اپنے کھوئے ہوئے بھائیوں کے پیچھے جاؤ
42:38بات کے حکم کے مطابق
42:40حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی
42:42مصر روانہ ہو گئے
42:44اور پھر تیسری مرتبہ
42:46عزیز مصر کے سامنے حاضر ہوئے
42:48انہوں نے عزیز مصر کو مخاطب کرتے ہوئے
42:54اے عزیز مصر
42:55ہم اور ہمارا خاندان شدید تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہیں
43:00ہم تھوڑی سی رقم لے کر آپ کے پاس آئے ہیں
43:03آپ ہمیں زیادہ غلہ دے کر
43:05ہم پر احسان کیجئے
43:06اور ہمارے بھائی کو رہا کر دیجئے
43:09کہ خدا نیکوکاروں کو بے حساب بدلہ دیتا ہے
43:12عزیز یوسف علیہ السلام نے
43:14انہیں وہ بدسلوح کی یاد دلائی
43:16جو انہوں نے خود ان کے ساتھ کی تھی
43:18اور کہا
43:20کیا تمہیں یاد ہے کہ اس سے پہلے
43:22تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کتنی زیادتی کی
43:25تم نے ان کے درمیان جدائی ڈال دی
43:27اور انہیں فراہ کی آگ میں جلایا
43:30حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ الفاظ
43:32شاید کنانیوں اور خود اپنے بھائیوں کی زبان میں کہے تھے
43:36اس لئے انہوں نے پہچان لیا اور کہا
43:39کیا تم یوسف ہو
43:41حضرت یوسف علیہ السلام نے جواب دیا
43:44ہاں میں یوسف ہوں
43:46اور یہ میرا بھائی ہے
43:47دیکھ لو کہ خدا نے ہم پر احسان کیا ہے
43:50بے شک جو شخص بھی پرہزگاری کو اپنا شعار بنائے
43:54اور زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور تکالیف کے مقابلے میں
43:57سبر اختیار کرے
43:58تو خدا ایسے نیک و کاروں کا عجر ضائع نہیں کرتا
44:03بھائیوں نے شرم کے مارے سر جھکا لیے
44:05اور اپنے کیے پر معافی مانگنے لگے
44:07حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
44:10تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں
44:12امید ہے کہ خدا تمہارا یہ گناہ بخش دے گا
44:16پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے
44:18اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا
44:22تو بھائیوں نے بتایا
44:23کہ وہ آپ کے غم میں رو رو کر اپنے بینائی کھو چکے ہیں
44:27اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے کہا
44:30تم میری یہ کمیز لے کر والد بزرگوار کے پاس جاؤ
44:34اور ان کے چہرے سے مسکراہت لو
44:36تاکہ ان کی آنکھیں بھی روشن ہو جائیں
44:38پھر تم سب میرے پاس آ جاؤ
44:41کنانی بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی کمیز لی
44:44اور بڑی تیز رفتاری سے کنان کی جانب روانہ ہو گئے
44:48ان کا کافلہ ابھی مصر کے دروازے سے نکلا ہی تھا
44:51کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے
44:53کنان میں اپنے پاس موجود لوگوں سے کہا
44:57میں یوسف کی بو سونگ رہا ہوں
44:59جس باپ نے اپنے بیٹے کے فراق میں سال ہا سال آنسو بہائے تھے
45:03اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بو سونگ لی
45:06اور اپنے پاس موجود لوگوں کو بتایا
45:09وہ کہنے لگے
45:11خدا کی قسم
45:12آپ ابھی تک اس مغالطے میں ہیں کہ یوسف زندہ ہے
45:15حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں
45:18ابھی کچھ زیادہ دن نہیں گزے تھے
45:20کہ بشیر آ پہنچا
45:21اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی کمیز
45:25حضرت یعقوب علیہ السلام کے سر پر ڈال دی
45:27جس کے اثر سے ان کی آنکھیں روشن ہو گئیں
45:30اور ان کے بدن میں تازہ قوت آ گئی
45:33پھر حضرت یعقوب علیہ السلام
45:35اور ان کے اہل خاندان نے
45:37مصر جانے کا ارادہ کیا
45:39اور یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کے شوق میں
45:41اس سرزمین پر پہنچ گئے
45:43جب حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں دیکھا
45:46تو اپنے والد اور والدہ سے گلے ملے
45:49اور انہیں اپنے خاص تخب پر بٹھایا
45:51تب ان کے والد والدہ اور بھائی
45:54ان کے مل جانے پر بطور شکرانہ
45:57اپنے سرخاق پر رکھ کر جھکے
45:59اور سجدہ شکر بجالائے
46:01یہاں والدہ سے مراد
46:03حضرت یوسف علیہ السلام کی خالہ ہیں
46:05کیونکہ ان کی والدہ
46:06حضرت راہیل ان کے بچپن میں ہی
46:09وفات پا گئی تھی
46:10حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
46:12بابا جان یہ ہے اس خواب کی تعبیر
46:15جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا
46:17خدا تعالیٰ نے میرے خواب کو حقیقت
46:19نے بدل دیا اور اس نے مجھ پر
46:21بڑے احسان فرمائے
46:23اس نے مجھے قید سے رہائی بخشی
46:24اور ملک مصر کے خزانوں کی کنجیاں
46:27میرے سپورٹ کر دی
46:28نیز اس نے ایک طویل جدائی کے بعد
46:31ہمیں ایک دوسرے سے ملا دیا
46:33یہ سب کچھ مجھ پر اور آپ پر
46:35اس خدا واحد کا احسان و کرم ہے
46:38یہ سب کچھ مجھ پر اور آپ پر
46:40اس خدا واحد کا احسان و کرم ہے
46:43بے شک سبر اور ایمان رکھنے والوں کے لیے
46:46اللہ کے کرم کی کوئی حد نہیں
Comments