Skip to playerSkip to main content
  • 26 minutes ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00صدیوں پہلے عرب کے جنوبی کنارے پر یمن کے آس پاس ایک شاندار تہذیب سانس لیتی تھی جسے سبا کہا
00:07جاتا تھا اور اس کے باشندے تاریخ میں قوم سبا کے نام سے پہچانے گئے
00:12یہ وہ لوگ تھے جن کے لیے خوشحالی معمول تھی
00:16زمین سبزہ اگلتی تھی
00:18باغات پھلوں سے بھرے رہتے تھے
00:20اور آسائش ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی
00:24مگر اس سب کے باوجود ان کے عقیدے میں ایک بڑی لغزش تھی
00:28وہ سورج کو معبود مانتے اور اسی کے آگے جھکتے تھے
00:32وقت بدلا اور جب ان کے فرمان روا شراحیل بن مالک کا انتقال ہوا
00:37تو اقتدار اس کی بیٹی بلکیس کے ہاتھ آیا
00:40تاریخ کے باز اور آخ میں یہ بات بھی ملتی ہے
00:43کہ اس کی نسل کے بارے میں عجیب دعوے کیے گئے
00:46کسی نے اسے جنات سے جوڑا
00:48مگر ان باتوں کی مضبوط شہادت کبھی سامنے نہ آسکی
00:52جو بات واضح ہے
00:54وہ یہ کہ بلکیس ایک ذہین باوقار اور مدبر حکمران تھی
00:58جس نے لگ بھگ نو برس تک یمن پر مضبوط گرفت کے ساتھ حکومت کی
01:03اس دور میں مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت کا بڑا حصہ
01:07سبائی تاجروں کے قبضے میں تھا
01:09اور یہی وجہ تھی کہ دولت اور اثر و رسوخ اس قوم کے قدم چومتا تھا
01:14اسی زمانے میں دنیا کے افق پر ایک اور طاقت ابر رہی تھی
01:19ایک ایسا بادشاہ جس کی حکمرانی ایمان علم اور عظمت کا استارہ تھی
01:24جسے تاریخ حضرت سلیمان بن دعود علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے
01:29بلکیس کا ذکر محض تاریخ تک محدود نہیں
01:33بلکہ قرآن میں بھی ایک با اختیار
01:35صاحبِ عقل اور صاحبِ تدبیر حکمران کے طور پر سامنے آتا ہے
01:39لیکن اس کے ساتھ ہی
01:41اس کی ذات کے گرد
01:43صدیوں سے پھیلی کچھ کہانیاں ایسی ہیں
01:45جنہیں مکمل سچ کہنا مشکل ہے
01:47اور مکمل رد کرنا بھی آسان نہیں
01:50کہیں کہا گیا
01:51کہ وہ انسان اور جن کے درمیان کی مخلوق تھی
01:54کہیں یہ دعویٰ سامنے آیا
01:56کہ اس کے پاؤں عام انسانوں جیسے نہ تھے
01:58اصل توجہ مگر ان باتوں سے ہٹ کر
02:01اس حکمت پر جاتی ہے
02:03جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے
02:05اس کی حقیقت جانچنے کے لیے اختیار کی
02:08ایک ایسی تدبیر
02:09جو کسی عام بادشاہ کے بس کی بات نہ تھی
02:12بلکہ ایک نبی ہی سوچ سکتا تھا
02:14روایتوں میں یہاں تک کہا گیا
02:16کہ اس کے جسم میں کچھ ایسی نشانیاں تھیں
02:18جو عام انسانوں میں دکھائی نہیں دیتی
02:21اور یہی پہلو ہے
02:22جس نے صدیوں بعد بھی موررخین
02:25مفسرین
02:26بلکہ جدید محققین کو سوچنے پر
02:28مجبور کر رکھا ہے
02:30آج بھی مصر، یمن
02:32اور حبشہ کی سرزمین سے ملنے والے
02:34بعض قدیم مجسمیں
02:36ایسی نسوانی شکلیں دکھاتے ہیں
02:38جن کے خد و خال، پاؤں
02:40اور ساخت کسی اور ہی دنیا کی
02:42جھلک پیش کرتے محسوس ہوتے ہیں
02:44تو سوال یہی ہے
02:46کیا واقعی کبھی ایسے انسان
02:48موجود تھے جن میں غیر
02:50انسانی ساخت کے آثار پائے جاتے تھے
02:52اور کیا ملکہ بلقیس
02:54واقعی انسانوں اور جنوں کے
02:56درمیان کھڑی ایک انوکھی
02:58حقیقت تھی اور اسی
03:00سلسلے میں اس کے اس عظیم
03:02تخت کا راز بھی سامنے آتا ہے
03:04جو پلق جھپکنے سے پہلے
03:06حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار
03:08میں لا رکھا گیا
03:09کیا یہ صرف طاقت کا اظہار تھا
03:12یا اس تخت کے ساتھ کوئی اور
03:14کہیں زیادہ گہرا راز جڑا ہوا تھا
03:16کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں
03:19جو سامنے آتے ہی
03:20انسان کو سوچ میں ڈال دیتے ہیں
03:22نگاہیں رک جاتی ہیں
03:24اور دل یہی گواہی دیتا ہے
03:26کہ حقیقت ابھی مکمل ہے
03:28طور پر آشکار نہیں ہوئی
03:32ہٹا کر چند ہزار برس
03:34پیچھے چلتے ہیں
03:35یمن کی اس بستی کی طرف
03:37جہاں اس حیرت خیز سلسلے کی ابتدا ہوئی
03:40اس خطے میں
03:41ایک غیر معمولی طور پر خوشحال
03:43اور طاقتور حکومت قائم تھی
03:46ایسی ریاست
03:47جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی
03:49نہایت بامانی انداز میں ملتا ہے
03:51سورہ نمل کی مخصوص آیات
03:54اس سلطنت کی عظمت کی طرف
03:56اشارہ کرتی ہیں
03:57یہی وہ زمانہ تھا
03:59جب اللہ تعالیٰ نے
04:00حضرت سلیمان علیہ السلام کو
04:02ایک ایسی بادشاہت عطا فرمائی
04:04جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی
04:07جہاں انسان
04:08جانور
04:09پرندے
04:10ہوائیں
04:11اور حتیٰ کے جنات بھی
04:12ان کے حکم کے تابے تھے
04:14ان کی حکمرانی کی سرحدیں
04:16مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تھی
04:18اور وہ محض نبی ہی نہیں
04:20بلکہ دانائی
04:22اور علم سے مزین
04:23ایک عظیم حکمران بھی تھے
04:25ایک موقع پر
04:27جب وہ اپنے لشکر کا معاینہ کر رہے تھے
04:30انہوں کی صف میں ایک کمی محسوس ہوئی
04:32ہدھد موجود نہیں تھا
04:35بظاہر ایک معمولی پرندہ
04:36مگر حقیقت میں وہ لشکر کا ایک اہم حصہ تھا
04:40جو دور دراز علاقوں کی خبریں لانے
04:42اور زمین کے چھپے ہوئے راز
04:44خصوصاً پانی کے زخائر کی نشاندہی کرنے کی
04:48فطری صلاحیت رکھتا تھا
04:50روایات میں
04:51اس کی اسی غیر معمولی پہچان کا ذکر ملتا ہے
04:54روایات کے مطابق
04:56ہدھد زمین کی گہرائیوں میں چھپے پانی کو پہچاننے کی
04:59خاص صلاحیت رکھتا تھا
05:01اسی لیے
05:02وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر میں
05:05غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا
05:07مگر اس دن
05:09اس کی غیر موجودگی نے صورتحال بدل دی
05:12حضرت سلیمان علیہ السلام کو سخت ناغواری ہوئی
05:15اور قرآن مجید کی صورہ نمل کی آیات میں
05:18ان کے یہ الفاظ محفوظ ہیں
05:20کہ ہدھد دکھائی کیوں نہیں دے رہا
05:23کیا وہ جان بوچ کر غائب ہے؟
05:25اگر وہ کوئی مضبوط وجہ پیش نہ کر سکا
05:28تو اسے سخت انجام کا سامنا کرنا ہوگا
05:31یہ الفاظ محض غصے کا اظہار نہیں تھے
05:34بلکہ ایک عظیم سلطنت کے نظم و ضبط کا اعلان تھے
05:38جہاں انسان، جن اور پرندہ
05:40کوئی بھی بغیر اجازت
05:42صف سے ہٹ نہیں سکتا تھا
05:44ابھی یہ فضا قائم ہی تھی
05:46کہ آسمان میں پروں کی آواز گونجی
05:49اور ہدھد واپس لوٹ آیا
05:51وہی پرندہ جسے لمحوں پہلے
05:53سخت سزا کے وعید سنائی گئی تھی
05:55اب حیران کن پیغام کے ساتھ حاضر تھا
05:58اس نے عدب سے عرض کیا
06:00کہ اس نے ایسی بات دیکھی ہے
06:02جو اب تک حضرت سلیمان علیہ السلام کے علم میں نہیں تھی
06:05اور وہ سبا کی سرزمین سے
06:08ایک یقینی خبر لے کر آیا ہے
06:10یہ عام اطلاع نہیں تھی
06:12بلکہ ایک چونکہ دینے والا انکشاف تھا
06:15جو تاریخ اور عقل دونوں کو جھنجھوڑنے والا تھا
06:18ہدھد نے بتایا
06:20کہ اس نے ایک ایسی قوم کو پایا
06:22جو سورج کو سجدہ کرتی ہے
06:24اور اس قوم کی حکمران ایک عورت ہے
06:26اس قوم کے پاس طاقت بھی تھی
06:29خزانے بھی
06:30اور ایک نہایت شاندار تخت بھی
06:32مگر سب سے چونکہ دینے والی بات یہ تھی
06:35کہ وہ اللہ واحد کو نہیں مانتے تھے
06:38بلکہ سورج کے سامنے جھکتے تھے
06:41یہی وہ لمحہ تھا
06:42جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی نگاہ
06:44پہلی مرتبہ اس عورت پر جا ٹھیری
06:47جسے تاریخ ملکہ بلقیس کے نام سے جانتی ہے
06:50ایک ایسی شخصیت
06:52جس کے بارے میں آگے چل کر
06:54ایسے اسرار سامنے آنے والے تھے
06:56کہ انسان اور جن کی سرحدیں
06:59دندلی ہوتی چلی گئیں
07:00یہ محض ایک گمراہ قوم کی خبر نہ تھی
07:03بلکہ بلقیس کے وجود سے جڑا
07:06ایک عجیب راز بھی منظر پر آ چکا تھا
07:09بعض تفسیری روایات میں یہ ذکر ملتا ہے
07:12کہ ملکہ کے جسم کے نچلے حصے پر غیر معمولی گھنے بال تھے
07:17ایسی علامت جو عام انسانوں میں نہیں پائی جاتی
07:20بلکہ جنات یا مافوق الفطرت مخلوقات سے منصوب کی جاتی ہے
07:25اس اطلاع نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دل میں
07:29ایک گہرہ تجسس پیدا کر دیا
07:31کہ آیا یہ عورت مکمل طور پر انسان ہے
07:34یا اس کی حقیقت کچھ اور ہے
07:36اسی سوچ بچار کے عالم میں
07:38انہوں نے فیصلہ کیا
07:40کہ ملکہ بلقیس کو اپنے دربار میں طلب کیا جائے
07:43یہ پیغام صرف دعوتِ ہدایت نہ تھا
07:46بلکہ ایک حکمت بھری چال
07:48ایک سیاسی آزمائش
07:50اور شاید ایک پوشیدہ حقیقت کو بے نقاب کرنے کی تیاری بھی تھی
07:55ملکہ کے پہنچنے سے پہلے
07:57حضرت سلیمان علیہ السلام نے
07:59اپنے دربار میں موجود لوگوں سے سوال کیا
08:07اس سے پہلے کہ وہ خود اطاعت کے ساتھ یہاں پہنچیں
08:10یہ سوال
08:11دربار میں موجود سب کے لیے ایک کھلا ہوا چیلنج تھا
08:15ایک جن آگے بڑھا
08:16اور بولا
08:17کہ میں اسے اتنی مدت میں لے آؤں گا
08:20جتنی دیر میں آپ اپنی مجلس ختم کریں
08:22بات غیر معمولی تھی
08:24مگر ابھی فضاء میں اس کا اثر قائم ہی تھا
08:27کہ ایک اور آواز سنائی دی
08:29اور یہ آواز ایک انسان کی تھی
08:32وہ شخص جس کے پاس کتاب کا خاص علم تھا
08:35جسے مفسرین
08:37آصف بن برخیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں
08:40اور جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے قریبی مشیر تھے
08:44اس نے نہایت سکون سے عرض کیا
08:46کہ میں اس تخت کو
08:47آپ کے سامنے اس سے پہلے لے آؤں گا
08:50کہ آپ کی پلک جھپکے
08:51پلک جھپکنے سے پہلے
08:53یعنی ایک لمحہ
08:55ایک سانس
08:56شاید اس سے بھی کم وقت میں
08:58اور پھر وہ منظر ظاہر ہوا
09:00جس نے عقل کو حیرت میں ڈال دیا
09:02سبا کے محل میں موجود ملکہ بلقیس کا تخت
09:06اچانک حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں رکھا تھا
09:10یہ محض طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا
09:13بلکہ ایک واضح پیغام تھا
09:15کہ اصل قوت
09:16نہ جنات کے پاس ہے
09:18نہ کسی فوق الفطرت مخلوق کے اختیار میں
09:20بلکہ وہ علم ہے
09:22جو اللہ
09:23اپنے منتخب بندوں کو عطا فرماتا ہے
09:27آصف بن برخیہ کے پاس
09:28اسم آزم کا علم تھا
09:30وہ خاص کلمات
09:31جن کے ذریعے مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی
09:34اور جن کے ذریعے کائنات کے نظام کو
09:37اللہ کے حکم سے حرکت دی جا سکتی ہے
09:39اس واقعے کے ذریعے ایک بار
09:42پھر یہ حقیقت سامنے آئی
09:43کہ جب انسان اللہ کے نور سے جڑ جاتا ہے
09:46تو ناممکن بھی اس کے لیے
09:48ممکن بنا دیا جاتا ہے
09:49یوں انسان اللہ کے علم سے جڑ کر
09:52جنات سے بھی آگے نکل جاتا ہے
09:55جب ملکہ بلقیس
09:57حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئی
10:00تو اس کے سامنے ایک ایسا محل تھا
10:02جو عقل کو حیران کر دیتا تھا
10:04اس نے ایک شفاف فرش دیکھا
10:07ایسا فرش
10:08جو دیکھنے میں پانی معلوم ہوتا تھا
10:11قرآن کریم بیان کرتا ہے
10:13کہ اس سے کہا گیا
10:14محل میں داخل ہو جاؤ
10:16جب اس نے نیچے نگاہ ڈالی
10:18تو اسے گمان ہوا کہ گہرا پانی ہے
10:21چنانچہ اس نے بھیگنے کے خوف سے
10:23اپنا لباس سمیٹا اور پندلیاں
10:26ظاہر ہو گئیں
10:26حضرت سلیمان علیہ السلام نے فوراً
10:29بضاحت فرمائی کہ یہ پانی نہیں
10:31بلکہ شیشے سے بنا ہوا
10:33صاف فرش ہے
10:34یہی وہ لمحہ تھا جب ملکہ کو احساس ہوا
10:38کہ وہ کسی تالاب کے
10:39کنارے نہیں بلکہ ایک غیر
10:41معمولی حکمت کے سامنے کھڑی ہے
10:43اسی موقع پر حضرت سلیمان
10:45علیہ السلام نے
10:46نہایت دانائی سے اس حقیقت کو جانچ لیا
10:49جو عرصے سے راز سمجھی جا رہی تھی
10:52اس دور میں
10:53عورتوں کے لیے جسم کے نچلے حصے
10:56کے بال ہٹانا معمول نہیں تھا
10:57اور پندلیوں تک بال ہونا
10:59عام بات سمجھی جاتی تھی
11:01مگر بلقیس کے بارے میں یہی بات
11:04ایک خاص علامت کے طور پر
11:06زیر بحث تھی
11:07حضرت سلیمان علیہ السلام نے
11:09اس معاملے کو وقار، حلم
11:11اور اصلاح کے انداز میں سامنے رکھا
11:13نہ تنس تھا
11:15نہ تزہیق بلکہ حکمت
11:17اور تربیت
11:19مفسرین جیسے ابن کسیر
11:21اور دیگر علماء کے مطابق
11:23اسی موقع پر بلقیس کو پاکیزگی
11:26حیاء اور درست
11:27اتوار کی طرف رہنمائی دی گئی
11:29یہی وہ لمحات تھے
11:31جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے
11:33محض طاقت سے نہیں
11:35بلکہ عقل، علم
11:37اور نبوت کی بصیرت سے حقیقت
11:39کو پہچانا
11:40یوں واضح ہو گیا
11:42کہ اس عورت کے جسمانی آثار
11:44کسی مافوق الفطرت مخلوق کی نہیں
11:47بلکہ اسی دور کی انسانی روایات کا حصہ تھے
11:50اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے
11:52نہایت حکمت اور نرمی کے ساتھ
11:55اسے اپنے رب کی پہچان کروائی
11:57حق کی دعوت دی
11:59اور ایمان کی طرف رہنمائی فرمائی
12:01یہاں تک کہ بلقیس نے خود اعتراف کیا
12:04کہ اس نے اپنی جان پر زن کیا تھا
12:06اور اب وہ سلیمان علیہ السلام کے ساتھ
12:09اللہ رب العالمین پر ایمان لاتی ہے
12:12مگر ذرا ٹھہر کر سنیں
12:14کیونکہ تاریخ کا ایک اور رخ بھی ہے
12:16یہ وہی ملکہ تھی
12:18جو اپنے زمانے کی طاقتور ترین عورت سمجھی جاتی تھی
12:22مگر اہل کتاب کی بعض قدیم مذہبی تحریروں میں
12:25اس کے بارے میں حیران کن اور عجیب دعوے ملتے ہیں
12:29یہودی روایات خاص طور پر تلموت جیسی تحریف شدہ کتابوں میں
12:34بلقیس کو غیر معمولی مخلوق کے طور پر پیش کیا گیا
12:37کہیں اسے آدھی انسان اور آدھی جن کہا گیا
12:41کہیں دیو یا جنات کی نسل سے جوڑا گیا
12:44اور بعض روایات میں تو یہ دعویٰ بھی ملتا ہے
12:47کہ اس کا نچلا دھڑ جانوروں جیسا تھا
12:50کسی نے اسے شیر سے منصوب کیا
12:52کسی نے اجدے کی اولاد قرار دیا
12:55حتیٰ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے
12:58اس کی ملاقات کے بارے میں بھی
13:00اسرائیلی روایات میں من گھرت قصے شامل کیے گئے
13:03جیسے یہ دعویٰ کہ شیشے کا فرش اس لیے بنوایا گیا تھا
13:07تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ وہ انسان ہے
13:10یا کوئی اور مخلوق
13:12یہ تمام کہانیاں اہل کتاب کی تحریروں میں
13:15مقدس روایت کے طور پر درج کی گئیں
13:18اور افسوس یہ ہے
13:19کہ ان میں حقیقت سے زیادہ افسانہ غالب نظر آتا ہے
13:23کہ کچھ لوگوں نے انہی من گھرت باتوں کو
13:26اسلامی روایت کا حصہ بنانے کی کوشش کی
13:29حالانکہ قرآن مجید نے ایسی تمام کہانیوں کی جڑکار دی
13:33اور ملکہ بلقیس کی عقل، بصیرت اور ایمان کو نمائی طور پر سراہا
13:38قرآن میں صرف یہ واقعہ بیان ہوتا ہے
13:41کہ جب اس نے شفاف فرش دیکھا
13:43تو اسے پانی سمجھ بیٹھی
13:45اور سادگی میں اپنا لباس سمیٹ لیا
13:47یہ منظر کسی غیر انسانی حقیقت کی دلیل نہیں
13:50بلکہ انسانی فہم کی ایک فطری لگزش تھا
13:54اور اسی کے فوراں بعد
13:55وہ حق کو پہچان کر ایمان لے آتی ہے
13:58اور اللہ رب العالمین کے سامنے جھک جاتی ہے
14:01قرآن اسے ایک دانشمند
14:04با اختیار اور حق قبول کرنے والی
14:06انسان عورت کے طور پر پیش کرتا ہے
14:09نہ کہ کسی پرسرار مخلوق کے طور پر
14:12اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
14:14کہ پھر اہل کتاب میں ایسی عجیب داستانیں کیوں پھیلیں
14:17قدیم تہذیبوں میں طاقتور شخصیات
14:20یا دیوی دیوتاؤں کو اکثر غیر معمولی
14:23ماورائی یا ہائبرٹ شکلوں میں پیش کیا جاتا تھا
14:27تاکہ عوام میں خوف و عقیدت پیدا ہو
14:30اور انہیں انسان سے بلند سمجھا جائے
14:32ممکن ہے
14:34ملکہ بلقیس کے ساتھ بھی یہی کیا گیا
14:36اور بعض تحریف شدہ اہل کتاب کی روایات نے
14:39اسے آدھی انسان
14:41آدھی جن
14:42یا جانور کی نسل قرار دیا
14:44مگر قرآن اسے ایک عقل مند
14:47با اختیار
14:48اور حق پہچاننے والی انسان عورت کے طور پر پیش کرتا ہے
14:52دنیا کے مختلف آثار قدیمہ
14:55جیسے مصر
14:56بابل
14:57یونان
14:57وادی سندھ
14:59اور میکسیکو میں
15:00نیم انسان
15:01نیم جانور مورتیاں ملتی ہیں
15:03جو انسانی تصور اور خوف کا آئینہ ہے
15:06قرآن اور حدیث کے مطابق
15:09جنات ایک ناری مخلوق ہیں
15:11آزمائش میں ہیں
15:12بعض نیک
15:13اور بعض گمراہ
15:15اور انسانوں پر اثر ڈال سکتے ہیں
15:17مگر انسان اور جن کی نسل کے ملنے
15:20یا اولاد کے امکان کی کوئی حقیقی سند نہیں
15:23تاریخی اور سوفیانہ پس سے
15:26بعض جناتی تعلقات کا ذکر کرتے ہیں
15:29مگر یہ حقائق نہیں
15:30قرآن اور حدیث سے یہ واضح ہے
15:33کہ انسان زمین پر خلیفہ ہے
15:35علم
15:36اختیار
15:37اور فیصلہ اس کے پاس ہے
15:39اور یہی اسے جنات سے برتر بناتا ہے
15:42ملکہ بلقیس کے واقعہ سے سبق ملتا ہے
15:45کہ عقل، حکمت اور حق کی پہچان کی بنیاد پر
15:48طاقتور ترین افراد بھی
15:50اللہ کے سامنے آجز ہو جاتے ہیں
15:52سوال یہ باقی رہتا ہے
15:55کہ کیا واقعی کچھ انسان ایسے ہیں
15:57جن میں جنات کا اثر موجود ہے
15:59یا دو ہزار تئیس یہ صرف افسانہ ہے
16:02اور اگر حقیقت ہے
16:04تو کیا آج بھی وہ ہمارے درمیان موجود ہیں
16:06اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہو
16:08تو چینل کو لائک اور سبسکرائب کرنا نہ بھولیں
16:12آپ کے سبسکرائب کرنے سے
16:14ہمیں مزید دلچسپ ویڈیوز بنانے کی حوصلہ افضائی ملتی ہے
16:18شکریہ
16:24موسیقی
16:26موسیقی
16:55موسیقی
17:26موسیقی
17:56موسیقی
18:26موسیقی
18:56موسیقی
19:00موسیقی
Comments

Recommended