Skip to playerSkip to main content
  • 23 hours ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00:00محترم دوستو
00:00:01کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب مبارک
00:00:06بڑی بڑی اور جلیل اور قدر شخصیات پر مشتمل ہے؟
00:00:10حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کون تھے
00:00:14اور ان کا سلسلہ نسب کہاں جا کر ملتا ہے؟
00:00:19ادنان کون تھے اور ان کا تعلق کس نبی کی نسل سے تھا؟
00:00:23ادنان سے لے کر قصیح، حاشم اور عبد المطلب تک
00:00:27کون کون سی عظیم شخصیات نے عرب کی تاریخ میں نمائہ کردار ادا کیا؟
00:00:33نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد میں کون کون سے لوگوں کو عرب کی سرداری حاصل رہی؟
00:00:40کس کس کے ذریعے خانہ کعبہ کی خدمت، حاجیوں کی مہمان نوازی
00:00:44اور مکہ مکرمہ کی قیادت قائم رہی؟
00:00:48نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نسل در نسل کیسے منتقل ہوتا رہا؟
00:00:54اور وہ کون سی خصوصیات تھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتی تھی؟
00:01:03محترم ناظرین، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد سے متعلق
00:01:08یہ تمام مستند، تاریخی اور ایمان افروز معلومات آپ اس ویڈیو میں تفصیل کے ساتھ جان سکیں گے
00:01:15بس اتنی سی گزارش ہے کہ ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
00:01:20دوستو، ادنان بن عد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فرزند قیدار کی نسل سے تعلق رکھنے والے ایک جلیل القدر اور عظیم شخصیت تھے
00:01:31اور یہی اکیسمی پشت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد عالی شمار ہوتے ہیں
00:01:38آپ کی کنیت ابو مات تھی جبکہ آپ کے والد بزرگوار کا نام عد تھا
00:01:43ادنان کی لفظی معنی قائم رہنے اور باقی رہنے کے ہیں
00:01:48اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر فرما رکھے تھے
00:01:54تاکہ آپ کو جن اور انس کے شر سے محفوظ رکھا جا سکے
00:01:58جنات اور انسان حضرت ادنان کو نقصان پہنچانے کے در پہ رہتے تھے
00:02:03کیونکہ جنات اپنی نشانیوں کے ذریعے جان چکے تھے
00:02:07کہ یہی وہ نیک مرد ہیں جن کی نسل سے نبی آخر الزمان
00:02:11حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ظہور فرمائیں گے
00:02:16مگر اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر آپ کو دشمنوں کے مقر سے محفوظ رکھا
00:02:21ایک مرتبہ جناب ادنان اکیلے گھوڑے پر سوار کسی سمت جا رہے تھے
00:02:27کہ راستے میں اہل فارس کے اسی نوجوانوں نے آپ کا پیچھا کیا
00:02:30اور دو پہاڑوں کے درمیان واقعے ایک دررے میں آپ کو گھیر لیا
00:02:35آپ نے نہایت بہادری سے تنہا ان سب کا مقابلہ کیا
00:02:39یہاں تک کہ خود بھی زخمی ہو گئے اور آپ کا گھوڑا بھی لہو لہان ہو گیا
00:02:43آخر کار آپ گھوڑے سے اترے اور پہاڑ پر چڑھنے کے لیے دوڑ پڑے
00:02:48جبکہ دشمن مسلسل آپ کا تاکب کرتے رہے
00:02:51حضرت ادنان جب ناؤمیدی کی حالت میں رب العالمین کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں
00:02:57تو اسی لمحے ایک دست غیبی ظاہر ہوتا ہے
00:03:01جو آپ کو اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی تک پہنچا دیتا ہے
00:03:04اس کے بعد ایک نہایت حیبتناک چیخ سنائی دیتی ہے
00:03:08جس کے اثر سے تمام دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں
00:03:11دوستو ادنان ایک نہایت حسین اور جمیل شخصیت کے حامل تھے
00:03:16آپ کی پیشانی پر نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم صاف جھلکتا تھا
00:03:22آپ اہلِ عرب کے سردار مانے جاتے تھے
00:03:25اور یسرب کے قبائل کے سوا عرب کے تمام قبائل آپ کے محتاج سمجھے جاتے تھے
00:03:31ادنان وہ اولین شخصیت تھے
00:03:33جنہوں نے خانہِ کعبہ پر غلاف چرہانے کا انتظام کیا
00:03:36محترم دوستو
00:03:38بخت نصر البابلی سلطنت بابل کا بادشاہ بنا
00:03:42اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے
00:03:44کہ بخت نصر ان چار بادشاہوں میں شامل تھا
00:03:48جنہوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کی
00:03:50جب بادشاہ بننے کے بعد
00:03:52بخت نصر نے بیت المقدس پر چرہائی کی
00:03:55تو اس نے شہر کو مکمل طور پر ویران کر ڈالا
00:03:58حضرت سلیمان علیہ السلام کی نشانیوں اور آثار کو لوٹ لیا
00:04:03محلات کو منحدم کیا
00:04:05حیکل سلیمانی میں موجود تمام کتابیں
00:04:08جن میں تورات کے اصل نسخے بھی شامل تھے
00:04:11نظر آتش کر دی
00:04:12اور انبیاء کرام علیہ السلام کو شہید کیا
00:04:15چنانچہ رب تعالیٰ نے اس بدبخت پر
00:04:18اپنا عذاب نازل فرمایا
00:04:20اور اس کی صورت و شکل کو مسخ کر دیا
00:04:23حضرت وحب بن منبخ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں
00:04:27کہ بلا شبہ
00:04:28بخت نصر کے چہرے کا پہلا مسخ
00:04:30شیر کی صورت میں ہوا
00:04:32پس وہ درندوں کا بادشاہ بن گیا
00:04:34پھر اس کی شکل ایک پرندے میں بدل دی گئی
00:04:37اور وہ پرندوں کا بادشاہ بن گیا
00:04:39اسی طرح بخت نصر کا مسخ
00:04:42بیل کی صورت میں بھی کیا گیا
00:04:44چنانچہ وہ بیل
00:04:45چوپائیوں اور مویشیوں کا بادشاہ بن گیا
00:04:48بخت نصر کی شکل
00:04:50اس طرح پورے سات برس تک
00:04:51مسلسل بدلتی اور مسخ ہوتی رہی
00:04:54تاہم اس کا دل انسانی ہی رہا
00:04:56اسی سبب
00:04:58وہ ہر مسخ شدہ حالت میں بھی
00:05:00انسانی فکر اور انداز عمل
00:05:02کے مطابق زندگی گزارتا رہا
00:05:04اور اسی بادشاہت کے ساتھ
00:05:06حکومت کرتا رہا جو پہلے اس کے پاس تھی
00:05:09بعد ازاں
00:05:10اللہ تعالیٰ نے آخر کار
00:05:12بخت نصر کو دوبارہ انسانی صورت
00:05:14عطا فرما دی اور جب
00:05:16حق تعالیٰ نے اس کی انسانی شکل لٹا دی
00:05:18تو اس کی سلطنت بھی اسے
00:05:20واپس عطا کر دی گئی
00:05:21اس دور میں حضرت دانیال علیہ السلام
00:05:24اور ان کے ساتھی بخت نصر کے نزدیک
00:05:26سب سے زیادہ معزز
00:05:28اور قریبی سمجھے جاتے تھے
00:05:30چونکہ اہلِ عرب نے
00:05:32یمن اور عد کے نواہی علاقوں میں
00:05:34اپنے نبی حضرت شعب علیہ السلام
00:05:36کو شہید کر دیا تھا
00:05:38اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے
00:05:40اہلِ عرب اور بنی اسرائیل کی
00:05:42سرکشی اور نافرمانی کے بخت نصر
00:05:44کو ان پر مسلط فرما دیا
00:05:46جب بخت نصر نے
00:05:48عرب پر چرہائی کا ارادہ کیا
00:05:50تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نبی
00:05:52حضرت ارمیہ اور
00:05:54عبرقیہ علیہ السلام کی طرف
00:05:56وہی فرمائی
00:05:57کہ وہ بخت نصر کو حکم دی
00:05:59کہ وہ عرب پر حملہ کرے
00:06:00اور انہیں ان کے ظلم اور بغاوت کی سزا دے
00:06:03نیز اسے یہ یقین دلائیں
00:06:05کہ اللہ تعالیٰ کی مدد
00:06:07اس کے ساتھ ہوگی
00:06:08اور وہ غالب آئے گا
00:06:10ساتھ ہی اسے یہ حکم بھی دیا گیا
00:06:12کہ وہ عرب کے سردار حضرت ادنان پر حملہ نہ کرے
00:06:15کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے
00:06:17اسے اس کی اجازت نہیں دی گئی
00:06:19البتہ دیگر قبائل پر حملہ کرنے کی اجازت ہے
00:06:23اللہ تعالیٰ نے
00:06:24حضرت ادنان کو بخت نصر کے شر سے
00:06:27اس لیے محفوظ رکھا
00:06:28کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور
00:06:32آپ کی پشت میں بطور امانت موجود تھا
00:06:35دوستو
00:06:36بخت نصر
00:06:37عرب کے علاقوں میں پیش قدمی کرتا ہوا
00:06:40ذات الارق کے مقام تک جا پہنچا
00:06:42جبکہ حضرت ادنان بھی وہاں موجود تھے
00:06:46اور عرب کے چاروں طرف سے
00:06:47دلیر اور جانباز جنگجو
00:06:49حضرت ادنان کے پرچم تلے جمع ہو چکے تھے
00:06:52جب دونوں لشکروں کے درمیان
00:06:54باقاعدہ جنگ شروع ہوئی
00:06:56تو حضرت ادنان نے اپنے سپاہیوں کو
00:06:58یہ ہدایت دی
00:06:59کہ اگر بخت نصر ان کے قبضے میں آ جائے
00:07:01تو اسے قتل نہ کیا جائے
00:07:03اسی طرح بخت نصر نے بھی
00:07:06اپنے فوج کو حکم دے رکھا تھا
00:07:08کہ ادنان کو قتل کرنے سے اجتناب کریں
00:07:10ذات الارق کے مقام پر
00:07:12گھمسان کی جنگ ہوئی
00:07:14جس میں اہلِ عرب کو شکست کا سامنا کرنا پڑا
00:07:16اور بخت نصر
00:07:18بے شمار مالِ غنیمت
00:07:19اور کثیر تعداد میں جنگی قیدی
00:07:22ساتھ لے کر واپس لوٹ گیا
00:07:23اس نے ان قیدیوں کو ابنا کے شہر میں
00:07:26لاکر آباد کر دیا
00:07:27بخت نصر کے واپس چلے جانے کے بعد
00:07:29حضرت ادنان اپنی اولاد کو ہمراہ لے کر
00:07:32یمن کی طرف روانہ ہو گئے
00:07:34اور وہیں آپ کا وصال ہوا
00:07:36آپ کی قیادت میں تمام
00:07:38عرب قبائل متحد ہو چکے تھے
00:07:42یہ اتحاد رفتہ رفتہ ختم ہوتا چلا گیا
00:07:45دوستو
00:07:46حضرت ادنان کی اولاد کے بارے میں
00:07:49موررخین کے درمیان
00:07:50مختلف آرہ پائی جاتی ہیں
00:07:52بعض کے نزدیک
00:07:53آپ کے بیٹوں کی تعداد دو تھی
00:07:56بعض کے مطابق چار یا پانچ
00:07:58بلکہ کچھ نے دس تک بھی ذکر کیا ہے
00:08:01تاہم کتب تاریخ میں
00:08:03حضرت ادنان کے چھ بیٹوں کے نام
00:08:05محفوظ ملتے ہیں
00:08:06ان میں
00:08:07ماد بن ادنان بن اسماعیل علیہ السلام
00:08:10وہ معزز ہستی ہیں
00:08:12جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
00:08:15بیسویں پشت میں
00:08:16جدہ امجد قرار پاتے ہیں
00:08:18حضرت ماد کی کنیت
00:08:21ابو قضاء اور ابو نظار بیان کی جاتی ہے
00:08:24آپ کے والد کا نام ادنان
00:08:26اور والدہ کا نام
00:08:27معاہد بنت اللہم تھا
00:08:29آپ کے نام
00:08:30ماد کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے
00:08:33کہ آپ ہر وقت
00:08:34جنگ و قتال کے لیے آمادہ رہتے تھے
00:08:37اور جس سے بھی مقابلہ کرتے
00:08:39اللہ تعالی کی مدد سے کامیابی حاصل کرتے
00:08:42اسی بنا پر
00:08:43آپ کو ابو الحرب
00:08:45یعنی میدان جنگ کا باپ
00:08:47کہا جاتا تھا
00:08:48حالانکہ
00:08:49اس وقت آپ کی عمر محض بارہ برس تھی
00:08:51جب حضرت ارمیہ علیہ السلام
00:08:54جناب ماد کو اپنے ساتھ حوران لے گئے
00:08:57تو نہائیت ذمہ داری
00:08:58اور توجہ کے ساتھ
00:09:00ان کی پرورش فرماتے رہے
00:09:01بعد ازاں
00:09:03جب بخت نصر حجاز سے واپس آ کر
00:09:05اس دنیا سے رخصت ہو گیا
00:09:07تو ماد بن ادنان
00:09:09دوبارہ مکہ مکرمہ لوٹ آئے
00:09:11جناب ماد بھی
00:09:12اپنے والد بزرگوار کی طرح
00:09:15نہایت دلیر
00:09:16بے خوف
00:09:17اور فنون جنگ میں
00:09:18کامل مہارت رکھنے والے تھے
00:09:20اور ہمیشہ فتح کے ساتھ ہی
00:09:22میدان سے واپس آیا کرتے تھے
00:09:24انہوں نے بنو جرہم کے ایک خاندان کی تلاش کی
00:09:27تو معلوم ہوا
00:09:28کہ اس خاندان میں
00:09:29صرف جوشم بن جلہمہ باقی ہیں
00:09:32چنانچہ ماد نے
00:09:33جوشم کی صاحبزادی مانا سے نکاح کیا
00:09:36جن سے آپ کی اولاد ہوئی
00:09:38بنی اسماعیل میں
00:09:40ماد وہ پہلے فرد تھے
00:09:41جنہوں نے قلعہ تعمیر کروایا
00:09:43آپ نے تہامہ کو بھی فتح کیا
00:09:45اور ماد ہی وہ شخصیت تھے
00:09:48جنہوں نے سب سے پہلے
00:09:49خانہ کعبہ کے پتھروں کو نسب کر کے
00:09:51اس کی حد بندی قائم فرمائی
00:09:53اسی طرح
00:09:55سب سے پہلے
00:09:56اونٹ کی کوہان پر پالان
00:09:57یعنی کجاوہ
00:09:59رکھنے کا عمل بھی
00:10:00آپ ہی سے منصوب ہے
00:10:03اوزا، نزار، کرنس اور آیاز
00:10:07چونکہ قضا سب سے بڑے تھے
00:10:10اسی بنا پر
00:10:10آپ کی کنیت ابو قضا مشہور ہو گئی
00:10:13نزار بن ماد کی کنیت
00:10:15ابو آیاد اور ابو ربیہ
00:10:18بیان کی جاتی ہے
00:10:19جبکہ آپ کی والدہ کا نام
00:10:21مانہ بنت جوشم تھا
00:10:22جب نزار کی ولادت ہوئی
00:10:25تو ان کی آنکھوں کے درمیان
00:10:26وہ نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
00:10:29نمائی تھا
00:10:31جو پشت در پشت منتقل ہوتا
00:10:33چلا آ رہا تھا
00:10:34یہ منظر دیکھ کر
00:10:35ان کے والد کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی
00:10:38اس عظیم نعمت پر شکرِ الٰہی
00:10:40ادا کرتے ہوئے
00:10:42انہوں نے بکسرت اونٹ زباہ کیے
00:10:44اور ایک شاندار دعوت کا احتمام کیا
00:10:46جس میں امیر و غریب
00:10:48اپنے اور پرائے سب کو مددو کیا گیا
00:10:50اور کثیر مال و ازباب خرچ کیا گیا
00:10:53اتنا خرچ کرنے کے بعد
00:10:55انہوں نے فرمایا
00:10:56کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کے شکرانے میں
00:10:59جو کچھ میں نے خرچ کیا ہے
00:11:01وہ اس نونحال کی برکت کے مقابلے میں
00:11:03نہایت ہی معمولی اور کم ہے
00:11:06اسی وجہ سے آپ کا نام نزار مشہور ہو گیا
00:11:10نزار اپنے زمانے کے تمام لوگوں میں
00:11:12سب سے زیادہ حسین و جمیل تھے
00:11:15اور اقل و دانائی میں بھی
00:11:17ان کا کوئی سانی نہ تھا
00:11:19عربی رسم الخط کا آغاز
00:11:21سب سے پہلے انہی سے منصوب کیا جاتا ہے
00:11:23نزار بن مات کی دو ازواج تھی
00:11:26پہلی شادی سودہ بنت عج سے ہوئی
00:11:29جن سے مزر اور آیات پیدا ہوئے
00:11:32جبکہ دوسری شادی
00:11:34اپنے مامو کی بیٹی
00:11:35خزالہ بنت والان سے کی
00:11:38جن سے ربیہ اور انمار پیدا ہوئے
00:11:41مات بن عدنان کی وفات کے بعد
00:11:43نزار کو عرب کی سرداری عطا ہوئی
00:11:46اور آپ جب بھی کسی شاہی دربار میں تشریف لے جاتے
00:11:49تو بادشاہ خود آپ کا احترام کرتا
00:11:52اور نہایت محبت اور عزت سے پیش آتا
00:11:55دوستو
00:11:56نزار نے اپنی زندگی کے آخری ایام
00:11:59ذات الجیش نامی مقام پر گزارے
00:12:02اور آپ کا وسال بھی
00:12:03مدینہ طیبہ کے قریب
00:12:05ذات الجیش ہی کے مقام پر ہوا
00:12:07جہاں آپ کی تتفین عمل میں آئی
00:12:10جب نزار کا انتقال ہوا
00:12:12تو ان کے چار بیٹے تھے
00:12:14جن میں مزر بن نزار بن عدنان
00:12:16وہ معزز اور برگزیدہ ہستی ہیں
00:12:19جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اٹھارویں پشت میں
00:12:23جدہ امجد شمار ہوتے ہیں
00:12:26مزر بن نزار کا اصل نام عمر تھا
00:12:29اور کنیت ابو علیہ تھی
00:12:32آپ کی والدہ کا نام سودہ بنت عد تھا
00:12:35اور آپ ملت ابراہیمی سے وابستہ دین حنیف کے سچے پیروکار تھے
00:12:40نیز دوسروں کو بھی دین حنیف کی پیروی کی تلقین فرمایا کرتے تھے
00:12:45مزر جود و سخا
00:12:47اقل و فہم
00:12:48اور دانائی میں اپنے زمانے میں بے مثال تھے
00:12:51اور ہر پہلو سے
00:12:53اپنے بھائیوں پر فوقیت رکھتے تھے
00:12:55مزر بن نزار
00:12:57اپنے حسن و جمال کی بدولت
00:12:59دلوں کو مسخر کر لیتے تھے
00:13:01جو بھی انہیں ایک نظر دیکھتا
00:13:03ان پر فریفتہ ہو جاتا
00:13:05کیونکہ ان کے چہرے پر بھی
00:13:07نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلک
00:13:10نمائع رہتی تھی
00:13:11اللہ تعالی نے آپ کو حسن سورت کے ساتھ ساتھ
00:13:15لہنے دعو دی
00:13:16یعنی نہایت شیری
00:13:17اور دل نشے آواز بھی عطا فرمائی تھی
00:13:20یہاں تک کہ جانور بھی
00:13:22آپ کی خوش آوازی سے متاثر ہوئے
00:13:24بغیر نہ رہتے تھے
00:13:25ایک مرتبہ آپ اونٹ سے گر پڑے
00:13:28جس سے آپ کے ہاتھ کو شدید چوٹ لگی
00:13:30اور درد کی شدت میں
00:13:32آپ کی زبان سے نکلا
00:13:33ہائے میرا ہاتھ
00:13:35ہائے میرا ہاتھ
00:13:37آپ کی آواز میں ایسی تاثیر تھی
00:13:39کہ دور دور چراغاہوں میں چرنے والے
00:13:42اونٹ بھی کھنچے چلے آئے
00:13:43اور آپ کے گرد جمع ہو گئے
00:13:45جب آپ کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا
00:13:47تو آپ انہی اونٹوں پر سوار ہوتے
00:13:50اور اپنی زبان کو نغمگی میں رکھتے
00:13:52جس سے اونٹ جھومنے لگتے
00:13:54اور ان کی رفتار میں تیزی آ جاتی
00:13:56اسی طرح حدی خانی کی ابتدا
00:13:59آپ ہی سے ہوئی
00:14:00جسے بعد میں رجز کا نام دیا گیا
00:14:03یہ چاروں بھائی تھے
00:14:05مزر، ربیہ، آیاد اور انمار
00:14:08جب ان کے والد نظار کا
00:14:10وقت وصال قریب آیا
00:14:11تو انہوں نے وسیعت کرتے ہوئے فرمایا
00:14:14اے میرے بیٹو
00:14:15سرخ رنگ کا قباہ اور اس سے متعلق
00:14:18اشیاء آیاد کے حصے میں ہوں گی
00:14:20ندوہ، مجلس
00:14:22اور اس سے وابستہ امور
00:14:24انمار کے سپرد ہوں گے
00:14:26اور اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان
00:14:28اختلاف پیدا ہو جائے
00:14:29تو فیصلے اور انصاف کے لیے
00:14:31نجران کے جرہمی بادشاہ کے پاس چلے جانا
00:14:34اور وہیں اپنا جھگرہ تے کروا
00:14:36لینا
00:14:37دوستو اتفاق سے جائدات کی تقسیم کے
00:14:40معاملے میں بھائیوں کے درمیان
00:14:42اختلاف پیدا ہو گیا
00:14:44چنانچہ والد کی وسیعت کے مطابق
00:14:46وہ نجران کی طرف روانہ ہوئے
00:14:48تاکہ جرہمی سردار سے
00:14:50اس تنازع کا فیصلہ کروایا جائے
00:14:52نظار کے چاروں بیٹے
00:14:54اقل و دانائی اور فہم و فراست
00:14:57میں اپنی مثال آپ تھے
00:14:58محترم دوستو ان کی ذہانت
00:15:01کے حوالے سے پیر محمد
00:15:02کرمشاہ الازہری رحمہ اللہ لکھتے ہیں
00:15:05کہ اس سفر کے دوران
00:15:06مزر کی نظر ایک ایسی
00:15:09گھاس پر پڑی جسے کسی
00:15:10اونٹ نے چر رکھا تھا
00:15:12مزر نے کہا کہ جس اونٹ نے
00:15:14یہ گھاس کھائی ہے وہ ایک آنکھ
00:15:16سے محروم یعنی کانہ ہے
00:15:18ربیہ نے نشانات کا بغور
00:15:20مشاہدہ کر کے کہا کہ وہ
00:15:22لنگڑا بھی ہے جب آیاد نے
00:15:24زمین پر غور کیا تو بولا
00:15:26کہ اس اونٹ کی دم کٹی ہوئی ہے
00:15:28جبکہ انمار نے کہا
00:15:30کہ وہ اونٹ بھاگا ہوا معلوم ہوتا ہے
00:15:32دوستو اس گفتگو
00:15:34کے بعد وہ ابھی کچھ ہی آگے
00:15:36بڑھے تھے کہ ایک شخص ملا
00:15:38جس نے کجاوہ اپنے سر پر اٹھا
00:15:40رکھا تھا اس نے ان چاروں
00:15:42سے اپنے اونٹ کے بارے میں دریافت کیا
00:15:44مزر نے اس سے کہا
00:15:46کیا تمہارا اونٹ ایک آنکھ سے
00:15:48محروم ہے اس شخص نے جواب دیا
00:15:50جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے
00:15:52ربیہ نے کہا
00:15:54کیا وہ اونٹ لنگرا بھی تھا
00:15:56اس شخص نے جواب دیا
00:15:57جی ہاں پھر آیاد نے پوچھا
00:16:00کیا اس کی دم کٹی ہوئی تھی
00:16:02اس نے کہا جی بالکل
00:16:04اس کے بعد انمار نے کہا
00:16:06کیا وہ اونٹ بھاگا ہوا تھا
00:16:09اس نے کہا جی ہاں بالکل ایسا ہی تھا
00:16:11دوستو جب ان چاروں بھائیوں نے
00:16:14اونٹ کی تمام نشانیاں درست طور پر بیان کر دی
00:16:17تو وہ شخص نہایت خوش ہوا
00:16:19اور یہ سمجھ بیٹھا
00:16:20کہ شاید اس کا اونٹ انہیں مل گیا ہے
00:16:23اس نے تجسس بھرے انداز میں کہا
00:16:25خدارہ مجھے بتائیں میرا اونٹ کہاں ہے
00:16:29انہوں نے جواب دیا
00:16:30وہ خدا ہم نے اسے دیکھا ہی نہیں
00:16:32جب اس شخص نے یہ بات سنی
00:16:35تو حیرت سے کہنے لگا
00:16:36یہ کیسے ممکن ہے
00:16:38کہ تم نے بغیر دیکھے اس کی ساری نشانیاں بیان کر دی
00:16:41چنانچہ وہ بھی ان کے ساتھ بادشاہ کے پاس چل پڑا
00:16:44تاکہ اپنے اونٹ کا فیصلہ کروایا جا سکے
00:16:47دوستو جب سب بادشاہ کے حضور پہنچے
00:16:50تو سب سے پہلے اونٹ کے مالک نے دعویٰ پیش کیا
00:16:53کہ ان لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے
00:16:56مگر مجھے بتاتے نہیں
00:16:57اور یہ کہتے ہیں
00:16:59کہ ہم نے اسے دیکھا ہی نہیں
00:17:00بادشاہ نے ان سے سوال کیا
00:17:02اگر تم نے اونٹ نہیں دیکھا
00:17:05تو پھر اس کی تمام نشانیاں کیسے بتائیں
00:17:07دوستو جب یہ معاملہ بادشاہ کے سامنے آیا
00:17:10تو ہر شخص ان کی غیر معمولی ذہانت
00:17:13اور فہم و فراست پر حیران رہ گیا
00:17:16مزر نے عرض کیا
00:17:17میں نے جب وہ گھاس دیکھی
00:17:19جسے اونٹ نے چر رکھا تھا
00:17:22تو وہ ایک طرف سے کٹی ہوئی تھی
00:17:23اور دوسری طرف جون کی تون لہلہا رہی تھی
00:17:26میں سمجھ گیا کہ اونٹ کانا ہے
00:17:29اس نے جس آنکھ سے دیکھا
00:17:31وہ گھاس کھالی
00:17:32اور جس آنکھ سے نہ دیکھا
00:17:34اسے چھوڑ دیا
00:17:35پھر ربیہ نے کہا
00:17:37میں نے اس کے پاؤں کے نشانات دیکھے
00:17:40تو ایک پاؤں کا نشان واضح تھا
00:17:42جبکہ دوسرا گھسیٹا ہوا تھا
00:17:44اس سے میں نے جان لیا
00:17:46کہ وہ لنگراہ ہے
00:17:47اور دوسرے پاؤں کے نشانات ادھورے تھے
00:17:49جس سے اس کی لنگراہت مزید واضح ہو گئی
00:17:52آیاد نے کہا
00:17:54میں نے دیکھا کہ اس کی مینگنیا صحیح سالم تھی
00:17:56تو میں نے سمجھ لیا
00:17:58کہ اس کی دم کٹی ہوئی ہے
00:18:00کیونکہ اگر دم سلامت ہوتی
00:18:02تو مینگنیا ٹوٹی پھوٹی ہوتی
00:18:04انمار نے کہا
00:18:06میں نے دیکھا کہ اس نے گھنی اور سرسبز گھاس کی طرف تو رخ کیا
00:18:10مگر اسے ادھورہ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا
00:18:12اس سے میں نے اندازہ لگایا
00:18:14کہ وہ ضرور بھاگا ہوا ہے
00:18:16ورنہ اتمنان سے وہیں گھاس چر لیتا
00:18:19دوستو
00:18:20یہ سب باتیں سن کر جرحمی سردار نے
00:18:23اونٹ کے مالک سے کہا
00:18:24تم جاؤ اور اپنا اونٹ تلاش کرو
00:18:27ان لوگوں کے پاس تمہارا اونٹ نہیں ہے
00:18:30اس کے بعد اس نے ان بھائیوں سے پوچھا
00:18:32تم لوگ کون ہو
00:18:34اور کس غرس سے آئے ہو
00:18:35دوستو
00:18:36چاروں بھائیوں نے بتایا کہ ہم نظار بن مائد کے بیٹے ہیں
00:18:40اور اپنے باہمی اختلاف کے فیصلے کے لیے
00:18:43آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں
00:18:45سردار نے کہا
00:18:47یہ تو بڑی حیرت کی بات ہے
00:18:49کہ اس قدر عقل و دانائی رکھنے کے باوجود
00:18:52تم فیصلہ کروانے کے لیے میرے پاس آئے ہو
00:18:54اس کے بعد اس نے ان سب کی ایک پرتکلف دعوت کی
00:18:58اور آخر میں شراب پیش کی گئی
00:19:01جب کھانے پینے سے فراغت ہوئی
00:19:03تو مزر نے کہا
00:19:04ایسی آلہ شراب میں نے زندگی میں کبھی نہیں پی
00:19:07کاش اس کے انگور کی بیل کسی قبر پر نہ ہوگی ہوتی
00:19:11ربیہ نے کہا
00:19:12ایسا لذیذ گوشت آج تک نہیں کھایا
00:19:15کاش اس بکری کی پرورش
00:19:18کسی کتیا کے دودھ پر نہ ہوئی ہوتی
00:19:20آیاد نے کہا
00:19:22میں نے آج تک ایسا شخص نہیں دیکھا
00:19:24کاش اس کی نسبت غیر باپ کی طرف نہ کی گئی ہوتی
00:19:28انمار نے کہا
00:19:30میں نے آج تک ایسی گفتگو نہیں سنی
00:19:33جو ہمارے مقصد کے لیے اس قدر مفید ثابت ہوئی ہو
00:19:36دوستو
00:19:37جو رحمی بادشاہ نے یہ سب باتیں سنی
00:19:40تو حیرت میں ڈوب گیا
00:19:41وہ فوراں اپنی والدہ کے پاس گیا
00:19:44اور کہا
00:19:44ماں سچ سچ بتاؤ
00:19:47میں کس کا بیٹا ہوں
00:19:48اس نے جواب دیا
00:19:50کہ میں ایک سردار کے نکاح میں تھی
00:19:52اور وہ اولاد سے محروم تھا
00:19:54میں نے یہ مناسب نہ سمجھا
00:19:56کہ وہ بغیر وارث کے دنیا سے چلا جائے
00:19:58چنانچہ میں کسی اور کی طرف مائل ہو گئی
00:20:01اور اسی سے تم پیدا ہوئے
00:20:03اس کے بعد بادشاہ نے اپنے ناظر مطبخ
00:20:06یعنی کھانے پینے کے امور سمحلنے والے سے
00:20:09شراب کے متعلق دریافت کیا
00:20:11تو اس نے بتایا
00:20:13کہ میں نے آپ کے والد کی قبر پر
00:20:15انگور کی ایک بیل لگا دی تھی
00:20:17اور اسی بیل کے انگوروں سے
00:20:19یہ شراب تیار کی گئی ہے
00:20:21جب یہ بات بھی درست ثابت ہو گئی
00:20:24تو اس نے اپنے چرواہے سے گوست کے بارے میں سوال کیا
00:20:27اس نے بتایا
00:20:28کہ ایک بکری نے بچہ جنہ اور مر گئی
00:20:31تو میں نے اس میمنے کی پرورش
00:20:33ایک کتیا کے دودھ سے کی تھی
00:20:35جرحمی سردار ان چاروں بھائیوں کی غیر معمولی ذہانت
00:20:39اور فتانت دیکھ کر دنگ رہ گیا
00:20:41اس کے بعد اس نے ان کا دعویٰ سنا
00:20:44اور ان کے باہمی جھگرے کا فیصلہ سادر کر دیا
00:20:47محترم دوستو
00:20:48اس واقعے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے
00:20:51کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے
00:20:53اپنے رعوف و رحیم نبی
00:20:55صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد کو
00:20:57حسن سورت اور جمال آواز کے ساتھ ساتھ
00:21:01فہم و فراست کی وہ بے مثال صلاحیت
00:21:03اتا فرمائی تھی
00:21:04کہ جسے دیکھ کر زمانے کے بڑے بڑے دانشور
00:21:07بھی حیران رہ جاتے تھے
00:21:09حدیث شریف میں آتا ہے
00:21:11کہ ربیہ اور مذر کو برا بھلا مت کہو
00:21:14کیونکہ وہ دونوں مومن تھے
00:21:16ایک اور روایت میں ہے
00:21:18کہ مذر کو برا مت کہو
00:21:19کیونکہ وہ ہو
00:21:20حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دین پر قائم تھے
00:21:24دوستو بنو ادنان میں مذر سب سے زیادہ صاحب سروت شمار ہوتے تھے
00:21:29آپ کا نکاح رباب بنت حیزہ بن مات سے ہوا
00:21:33آپ کی اولاد میں دو بیٹے تھے
00:21:35الیاس اور ایلا
00:21:37الیاس بن مذر
00:21:39جن کا اصل نام حبیب اور کنیت ابو عمر تھی
00:21:42قبائل عرب کے بڑے سردار اور عظیم رہنما تھے
00:21:46اہل عرب انہیں سید الاشیرہ کے لقب سے یاد کرتے تھے
00:21:51تمام اہم معاملات جن کے فیصلے درکار ہوتے
00:21:54آپ ہی کی خدمت میں پیش کیے جاتے
00:21:56اور آپ نہایت حکمت اور دانائی کے ساتھ ان کا فیصلہ فرمایا کرتے تھے
00:22:01سب سے پہلے قربانی کا جانور لے کر
00:22:04بیت اللہ شریف جانے والے بھی یہی تھے
00:22:06حدیث شریف میں آتا ہے
00:22:08کہ الیاس کو برا بھلا مت کہو
00:22:10وہ مومن تھے
00:22:12اہل عرب میں آپ کی مثال ایسی تھی
00:22:14جیسے حضرت لقمان حکیم علیہ السلام کی اپنی قوم میں تھی
00:22:18آپ اپنے والد کے سچے وارث اور جانشین تھے
00:22:22اور نہایت حسین و جمیل بھی تھے
00:22:24مشہور ماہر انصاب ابن زبیر بیان کرتے ہیں
00:22:28کہ جب الیاس جوان ہوئے
00:22:30تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں جو خرابیاں پیدا ہو چکی تھی
00:22:34آپ نے ان پر سخت تمبیح اور نصیحت کا آغاز کیا
00:22:38اور فرمایا
00:22:39کہ اپنے جلیل القدر باپ کی طرح اطاعت اور تقوی اختیار کرو
00:22:43چنانچہ آپ کی قوم نے دوبارہ راہ راست اختیار کر لی
00:22:47وہی راستہ جسے ان کے نیک اسلاف نے پسند کیا تھا
00:22:51قبیلے کے مرد و زن دل سے آپ کی تعظیم کرتے
00:22:54اور آپ کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتے تھے
00:22:57دوستو
00:22:59الیاس وہ پہلے شخص تھے
00:23:01جنہوں نے حج کے موقع پر اونٹوں کی قربانی کا آغاز فرمایا
00:23:04مقام ابراہیم
00:23:06کسی شدید توفان کے باعث
00:23:08اپنی اصل جگہ سے ہٹ گیا تھا
00:23:10تو آپ ہی نے اسے تلاش کر کے
00:23:12دوبارہ اس کی اصل جگہ پر نسب کروایا
00:23:15الیاس
00:23:16مرز سل یعنی تپے دق
00:23:19میں مبتلا ہو گئے تھے
00:23:20آپ کی زوجہ لیلہ بنت حلوان
00:23:23نے یہ نظر مان رکھی تھی
00:23:24کہ اگر الیاس اس بیماری سے شفاہ نہ پا سکے
00:23:27اور وفات پا جائیں
00:23:29تو میں اپنی بیوگی کی پوری زندگی
00:23:31جنگلوں اور بیابانوں میں گزاروں گی
00:23:34اور کبھی کسی چھت یا سائے کے نیچے نہ بیٹھوں گی
00:23:37چنانچہ
00:23:38جب جنابِ الیاس کا وصال ہو گیا
00:23:41تو لیلہ بنت حلوان
00:23:43جنگلوں اور ویرانوں میں نکل گئیں
00:23:45اور عمر بھر
00:23:46اسی غم میں روتے ہوئے زندگی بسر کرتی رہیں
00:23:49الیاس کے تین بیٹے تھے
00:23:51عمر
00:23:52عامر
00:23:53اور امبر
00:23:54جو بل ترتیب
00:23:55مدرکہ
00:23:56تابخہ
00:23:57اور کما کے ناموں سے مشہور ہوئے
00:23:59مدرکہ کا اصل نام عمر
00:24:01اور کنیت ابو حزیل تھی
00:24:03جبکہ ان کی والدہ
00:24:05لیلہ بنت حلوان تھی
00:24:07جو خندف کے لقب سے معروف ہوئیں
00:24:09وہ یمن کے ایک معزز قبیلے سے تعلق رکھتی تھی
00:24:13اور اپنے آلہ اوصاف و خسائل کے باعث
00:24:16بڑی عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی
00:24:19یہاں تک کہ ان کی اولاد کو باپ کے بجائے
00:24:21ماں کی طرف منصوب کیا جانے لگا
00:24:24دوستو
00:24:25مدرکہ کے نام سے مشہور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے
00:24:29کہ ایک دن عمر
00:24:30یعنی مدرکہ
00:24:32اپنے بھائی آمیر کے ساتھ
00:24:34جنگل میں اونٹ چرا رہے تھے
00:24:36کہ انہیں شکار ہاتھ آ گیا
00:24:37وہ اسے پکانے میں مشہول ہو گئے
00:24:40اچانک ایک خرگوش اچھلتا ہوا وہاں سے گزرا
00:24:43جس سے اونٹ بدک گئے اور بھاگ نکلے
00:24:46عمر نے آمیر سے کہا
00:24:47تم اونٹوں کے پیچھے جاؤ گے
00:24:50یا شکار پکاؤ گے
00:24:51عمر نے شکار پکانے کی ذمہ داری سنبھال لی
00:24:54اور عمر اونٹوں کے تاقب میں دور پڑے
00:24:57وہ انہیں جا کر پکڑ لائے
00:24:59اور ہاک کر واپس لے آئے
00:25:00شام کو جب دونوں بھائی گھر لوٹے
00:25:03تو اپنے والد کو پورا واقعہ سنایا
00:25:05والد نے عمر سے فرمایا
00:25:08انتہ مدرکہ
00:25:09یعنی تم پانے والے ہو
00:25:11اور عمر سے کہا
00:25:12انتہ تابخہ
00:25:13یعنی تم پکانے والے ہو
00:25:15اسی طرح یہ دونوں انہی ناموں سے مشہول ہو گئے
00:25:18مدرکہ کی اہلیہ کا نام
00:25:20سلمی بنت اسلم
00:25:22بن الہاب بن قضا
00:25:24بتایا جاتا ہے
00:25:25جبکہ ایک روایت کے مطابق
00:25:27آپ کی زوجہ
00:25:29سلمی بنت اسد
00:25:30بن ربیہ تھی
00:25:31آپ کی اولاد میں دو بیٹے شامل تھے
00:25:34خزیمہ اور خزیر
00:25:36خزیمہ بن مدرکہ کی والدہ
00:25:39سلمی بنت اسلم تھی
00:25:41اور خزیمہ کی کنیت
00:25:43ابو الاسد تھی
00:25:44ان کے سگے بھائی کا نام
00:25:46اسد تھا
00:25:47جبکہ والدہ کی طرف سے بھی
00:25:49ان کا ایک بھائی تھا
00:25:51جس کا نام تغلب تھا
00:25:52خزیمہ بھی اپنے اجداد کی طرح
00:25:54ملت ابراہیمی کے سچے پیروکار تھے
00:25:57اور اسی دین پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے
00:26:00عرب کے حکمران
00:26:02آپ کی بے حد تازیم و تقریم کرتے تھے
00:26:04اور والد کی وفات کے بعد
00:26:06ابیلے کی سرداری اور عزت و وقار
00:26:09آپ ہی کو حاصل ہوا
00:26:11امام محمد بن یوسف صالحی
00:26:13رحمہ اللہ
00:26:15آپ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں
00:26:17کہ لوگوں پر آپ کے احسانات اور انعامات
00:26:19اس قدر زیادہ تھے
00:26:21کہ ان کا شمار ممکن نہ تھا
00:26:23اور والد کے تمام فضائل و مکارم
00:26:26تیزی کے ساتھ
00:26:27خزیمہ کی ذات میں جمع ہو گئے تھے
00:26:29حضرت ابن عباس
00:26:31رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
00:26:33کہ خزیمہ کی وفات
00:26:35ملت ابراہیمی ہی پر ہوئی
00:26:37آپ کی دو ازواج تھیں
00:26:39ایک کا نام برہ بنت مر بن اتھا
00:26:42اور دوسری
00:26:44اوانہ بنت سعاد بن قیس تھیں
00:26:46اوانہ کے بطن سے
00:26:48آپ کے صاحبزادے
00:26:49کنانہ پیدا ہوئے
00:26:51جبکہ دوسری زوجہ سے آپ کے چار بیٹے ہوئے
00:26:54اس طرح آپ کی اولاد میں
00:26:56مجموعی طور پر پانچ بیٹے تھے
00:26:58کنانہ بن خزیمہ
00:27:00آپ کا نام کنانہ
00:27:01اور کنیت
00:27:02ابو نظر بیان کی جاتی ہے
00:27:04جبکہ آپ کی والدہ کا نام
00:27:06اوانہ بنت سعاد تھا
00:27:09اگرچہ بعض روایات میں
00:27:10اس حوالے سے اختلاف بھی ملتا ہے
00:27:12امام محمد بن یوسف صالحی رحمہ اللہ
00:27:16لکھتے ہیں کہ کنانہ کے نام کا معنی ترکش ہے
00:27:19جس طرح ترکش اپنے اندر تیروں کو محفوظ رکھتا ہے
00:27:22اسی طرح کنانہ نے بھی
00:27:24اپنی پوری قوم کو
00:27:26اپنے جود و سخا کے دامن میں پناہ دے رکھی تھی
00:27:29اسی سبب یہ نام آپ کے لیے مشہور ہو گیا
00:27:32کنانہ نہایت صاحب علم و فضل تھے
00:27:36اسی وجہ سے
00:27:37عرب کے قبائل میں آپ کی بڑی قدر و منزلت تھی
00:27:40آپ حد درجہ مہمان نواز تھے
00:27:43کبھی تنہا کھانا تناول نہیں فرماتے تھے
00:27:46بلکہ ہر وقت کوئی نہ کوئی مہمان
00:27:48آپ کے پاس ضرور موجود رہتا تھا
00:27:50آمیر ادوائی
00:27:52اپنے بیٹے کو وسیعت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
00:27:54کہ اے میرے فرزند
00:27:56میں نے کنانہ بن خزیمہ کو
00:27:58اس حالت میں دیکھا
00:27:59کہ وہ نہایت ضعیف العمر ہو چکے تھے
00:28:02اور ان کے علم و فضل کے باعث
00:28:04اہل عرب دور دراز علاقوں سے
00:28:07ان کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے
00:28:08کنانہ فرمایا کرتے تھے
00:28:11کہ مکہ مکرمہ سے
00:28:12ایک نبی کے ظہور کا زمانہ قریب آ چکا ہے
00:28:15ان کا نام احمد ہوگا
00:28:18وہ اللہ تبارک و تعالی پر
00:28:20ایمان کی دعوت دیں گے
00:28:22نیکی احسان اور مکارم اخلاق کی تعلیم دیں گے
00:28:26پس اے اہل عرب
00:28:27اس نبی مکرم کی پیروی کرنا
00:28:30اس میں تمہاری عزت اور شرف کا سامان ہے
00:28:33ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے
00:28:35کہ ایک دن کنانہ حتیم میں سو رہے تھے
00:28:38کہ خواب میں ان سے کہا گیا
00:28:40کہ ان چار چیزوں میں سے ایک کو اختیار کر لو
00:28:43گھوڑے
00:28:44دولت
00:28:45امارتیں
00:28:46یا دائمی عزت
00:28:47آپ نے ارز کیا
00:28:49اے میرے رب
00:28:50مجھے یہ سب عطا فرما دے
00:28:52چنانچہ اللہ تعالی نے
00:28:54آپ کی اس دعا کے صدقے
00:28:56قریش کو یہ تمام نعمتیں عطا فرما دی
00:28:58محترم دوستو
00:29:00یہاں ایک نہایت اہم بات کی وضاحت ضروری ہے
00:29:03جو بغیر تحقیق کے عوام میں مشہور کر دی گئی ہے
00:29:06حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
00:29:09وہ یہ کہ کنانہ کے والد
00:29:11خزیمہ کے انتقال کے بعد
00:29:13جاہلیت کے رواج کے مطابق
00:29:16کنانہ نے اپنے والد کی بیوہ سے نکاح کیا تھا
00:29:19مگر وہ خاتون جلد ہی وفات پا گئیں
00:29:22اور ان کے بطن سے نہ کوئی بیٹا پیدا ہوا
00:29:24اور نہ کوئی بیٹی
00:29:25اس کے بعد کنانہ نے
00:29:27اپنی پہلی زوجہ کے بھائی کی بیٹی سے نکاح کیا
00:29:31جن کا نام برہ بنت مربن عد بن تابخہ تھا
00:29:35اور انہی کے بطن سے
00:29:37کنانہ کے صاحبزاد نظر پیدا ہوئے
00:29:39جب بعض لوگوں نے یہ بات سنی
00:29:42کہ کنانہ نے اپنے والد کی بیوہ سے نکاح کیا تھا
00:29:45تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے
00:29:48کہ نظر بھی اسی بیوی کے بطن سے پیدا ہوئے
00:29:51حالانکہ یہ بات درست نہیں
00:29:53اور تاریخی طور پر ثابت نہیں ہوتی
00:29:55حالانکہ یہ بات سرہ سر غلط ہے
00:29:57اس غلط فہمی کی بنیادی وجہ یہ تھی
00:30:00کہ دونوں ازواج کے نام ایک جیسے تھے
00:30:03اور رشتداری بھی قریبی تھی
00:30:05لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانتے ہیں
00:30:07کہ ایسی کسی غلط سوچ میں مقتلا ہوں
00:30:10کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نصب اتھر پر
00:30:14کسی ناپسندیدہ یا عیبدار نکاح کا الزام لگانا
00:30:18نہایت ہی نامناسب ہے
00:30:20خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے
00:30:24کہ میں ابتدا سے انتہا تک
00:30:27ایک پاکیزہ اور اسلامی نکاح کے مطابق
00:30:30ایک پشت سے دوسری پشت میں منتقل ہوتا رہا ہوں
00:30:34نظر بن کنانا
00:30:35نظر بن کنانا کا اصل نام قیس تھا
00:30:38اور کنیت ابو یخلط بیان کی جاتی ہے
00:30:42نظر آپ کا لقب تھا
00:30:44جو حسن و جمال کی بنا پر رکھا گیا
00:30:46جس کے معنی شاداب اور خوبصورت کے ہیں
00:30:50آپ کی والدہ کا نام برہ بنت مرتھا
00:30:53بعض اہل علم کی رائے یہ ہے
00:30:56کہ نظر کا اصل نام ہی قریش تھا
00:30:58اور اسی نسبت سے ان کی اولاد قریش کہلائی
00:31:01بعض مورخین کا کہنا ہے
00:31:04کہ نظر اور ان کی اولاد میں
00:31:05غریب پروری اور مسافر نوازی کی نمائع صفات پائی جاتی تھی
00:31:10اسی وجہ سے انہیں بنو نظر کہا جاتا تھا
00:31:13مورخین نے لکھا ہے
00:31:15کہ نظر بن کنانا کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے
00:31:19اور اس کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں
00:31:21ایک وجہ یہ ذکر کی جاتی ہے
00:31:24کہ ایک مرتبہ نظر بن کنانا
00:31:26اپنی قوم کی مجلس میں تشریف لائے
00:31:28جب اہل مجلس نے ان کے پرہیبت چہرے
00:31:32وجاہت اور تمکنت کو دیکھا
00:31:34تو آپس میں کہنے لگے
00:31:35کہ نظر کی طرف دیکھو
00:31:37یوں معلوم ہوتا ہے
00:31:39جیسے کوئی طاقتور سانڈ ہو
00:31:41دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے
00:31:43کہ قریش ایک سمندری جانور کا نام ہے
00:31:46جو چھوٹے چھوٹے سمندری جانوروں کو نگل جاتا ہے
00:31:49ایک مرتبہ نظر بن کنانا کشتی کے ذریعے سفر کر رہے تھے
00:31:54کہ ان کے ساتھیوں نے اس قریش نامی سمندری جانور کو پکڑ لیا
00:31:58جناب نظر نے اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیا
00:32:01بعد ازاں ساتھیوں نے اس مردہ جانور کو
00:32:05جبل ابو قبیس پر رکھ دیا
00:32:07اور جو بھی اسے دیکھتا یہی کہتا
00:32:10کہ نظر نے قریش کو قتل کر دیا
00:32:12چونکہ بنو نظر قوت اور حیبت میں
00:32:15دیگر قبائل پر غالب تھے
00:32:17اسی بنا پر وہ قریش کے لقب سے مشہور ہو گئے
00:32:20دوستو
00:32:21تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے
00:32:24کہ نظر لوگوں کی ضروریات کے بارے میں
00:32:26ان سے پوچھ گچھ کرتے
00:32:27اور انہیں پورا بھی کرتے تھے
00:32:29اس لیے انہیں قریش کہا گیا
00:32:31کیونکہ قریش کے معنی
00:32:33تفتیش اور خبرگیری کے ہیں
00:32:35اپنے نامبر والد کی طرح
00:32:38نظر کی اولاد بھی
00:32:39موسم حج میں حجاج کرام کے پاس جاتی
00:32:42ان کی خیریت دریافت کرتی
00:32:44اور اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی
00:32:47تو اسے پورا کرتی
00:32:48اسی سبب انہیں قریش کے لقب سے نوازا گیا
00:32:51مالک بن نظر کی کنیت
00:32:54ابو حارس بیان کی جاتی ہے
00:32:56مورخین بیان کرتے ہیں
00:32:58کہ آپ کا نام مالک
00:32:59اس لیے رکھا گیا
00:33:01کہ اہلِ عرب کے نزدیک
00:33:02آپ ہر شہ کے مالک
00:33:04اور صاحبِ اختیار سمجھے جاتے تھے
00:33:06آپ کی والدہ کا نام
00:33:08آتکہ بنتِ ادوان بن عمر تھا
00:33:11بعض روایات میں
00:33:12اکرشہ کو آپ کی والدہ بتایا گیا ہے
00:33:15جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے
00:33:17کہ یہ کوئی دوسری خاتون تھی
00:33:19حالانکہ حقیقت یہ ہے
00:33:21کہ آتکہ ان کا اصل نام تھا
00:33:23اور اکرشہ ان کا لقب تھا
00:33:26آپ بھی اپنے قبیلے کے نہایت
00:33:28باوقار سردار تھے
00:33:29اور ملتِ ابراہیمی پر
00:33:31پوری مضبوطی کے ساتھ قائم تھے
00:33:33مالک بن نظر نے
00:33:35جندلہ بنتِ آمیر بن حارس سے نکاح کیا
00:33:38اور آپ کی اولاد میں تین بیٹے ہوئے
00:33:41فحر، حارس اور شہبان
00:33:43فحر بن مالک
00:33:45جن کا لقب جامعہ قریش
00:33:47اور کنیت ابو غالب تھی
00:33:49اپنے کمالات کی بدولت
00:33:51والد کی زندگی ہی میں مشہور ہو چکے تھے
00:33:54جب مالک بن نظر کا وصال ہوا
00:33:56تو فحر سرداری اور خانہِ کعبہ کی
00:33:59امارت کی نگرانی کے منصب پر فائز ہوئے
00:34:01اپنے اہد میں آپ اہلِ مکہ
00:34:04اور اطراف میں آباد قبائل کے سربڑا
00:34:07اور رئیس سمجھے جاتے تھے
00:34:08انہی کے زمانے میں
00:34:10یمن کے حکمران
00:34:11حسان بن عبدالکلال الحمیری نے
00:34:13ہمیریوں اور یمنیوں کے مختلف قبائل پر
00:34:16مشتمل ایک عظیم لشکر کے ساتھ
00:34:19مکہ پر حملہ کرنے کی تیاری کی
00:34:21اس کا مقصد یہ تھا
00:34:23کہ وہ ان پتھروں کو
00:34:24جن سے حضرتِ ابراہیم
00:34:26اور حضرتِ اسماعیل
00:34:27علیہ السلام نے
00:34:29خانہِ کعبہ تعمیر فرمایا تھا
00:34:31وہاں سے اکھار کر یمن لے جائے
00:34:33ان پتھروں سے وہاں
00:34:35ایک نیا کعبہ تعمیر کرے
00:34:36اور لوگوں کو حکم دے
00:34:38کہ وہ حج کے لیے
00:34:39مکہ آنے کے بجائے
00:34:40یمن آئے
00:34:41اس کے بنائے ہوئے کعبہ کا تواف کریں
00:34:44اور دیگر مناسقِ حج ادا کریں
00:34:46تاکہ مذہبی سیادت بھی
00:34:48اسی کے پاس آ جائے
00:34:49اور تجارتی فوائد بھی
00:34:51اسے حاصل ہوں
00:34:52دوستو
00:34:53جب فہرر کو
00:34:54اس خفیہ سازش کی خبر ہوئی
00:34:56تو انہوں نے
00:34:57تمام عرب قبائل کو
00:34:58ایک بڑے اجتماع کے لیے جمع کیا
00:35:01اور انہیں حالات سے آگاہ کیا
00:35:03دوسری جانب
00:35:04یمنی لشکر مکہ کے قریب پہنچ کر
00:35:07لوگوں کے مویشی لوٹنے
00:35:09اور راہ گیروں پر حملے کرنے لگا
00:35:11تاہم اس لشکر کو
00:35:13مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی جرت نہ ہو سکی
00:35:16جب قریش اور دیگر قبائل نے یہ صورتحال دیکھی
00:35:19تو انہوں نے فیصلہ کن مارکے کی تیاری کر لی
00:35:22اور ایک مضبوط لشکر جررار ترتیب دیا گیا
00:35:25جس کے سپہ سالار
00:35:27فہر بن مالک تھے
00:35:28فہر کی قیادت میں
00:35:30جنگ غنسان برپا ہوئی
00:35:32جس میں اگرچہ
00:35:33اہلِ عرب کو بھی خاصا جانی نقصان اٹھانا پڑا
00:35:36مگر انہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا
00:35:39اس جنگ میں فہر کے پوتے غالب بن فہر کے صاحبزادے
00:35:44قیس شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے
00:35:46بلاخر ہم میریوں اور یمنی لشکر کو
00:35:49بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا
00:35:52اور فہر کو عظیم فتح نصیب ہوئی
00:35:54یمنیوں کے سردار
00:35:56حسان بن عبدو کلال کو گرفتار کر لیا گیا
00:35:59اور یہ قید فہر کے بیٹے
00:36:01حارس کے ہاتھوں عمل میں آئی
00:36:03اس کامیابی کے بعد
00:36:05پورے عرب میں فہر بن مالک کے عوت
00:36:07حیبت اور شان و شوکت
00:36:10کا چرچہ ہو گیا
00:36:10حسان تین برس تک مکہ میں قیدی رہا
00:36:14پھر اس نے فدیہ ادا کر کے
00:36:16رہائی حاصل کی
00:36:17مگر وطن واپسی کے سفر ہی میں
00:36:19اس کی موت واقع ہو گئی
00:36:21یوں اللہ تعالی نے دشمن کعبہ
00:36:24کو نشان عبرت بنا دیا
00:36:25فہر بن مالک کی اولاد میں
00:36:27سات بیٹے اور ایک بیٹی شامل تھے
00:36:30غالب، حارس، اسد، عوف، رئیس، جون، مہارس اور جندلہ
00:36:37غالب بن فہر کی کنیت ابو تمیم تھی
00:36:40والد فہر بن مالک کے وسال کے بعد
00:36:44غالب کو عرب قبائل کی سرداری حاصل ہوئی
00:36:47اور آپ کہانت بھی کیا کرتے تھے
00:36:49غالب بن فہر کی زوجہ
00:36:51آتکا بنت یخلط سے تین بیٹے پیدا ہوئے
00:36:54لوی، تمیم اور قیس
00:36:57لوی بن غالب کی کنیت ابو کعب تھی
00:37:00اور لوی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جدے امجد ہیں
00:37:05لوی بن غالب نہایت بردبار، صاحب فہم اور دانا شخصیت کے حامل تھے
00:37:11اللہ تعالی نے آپ کو حلم اور حکمت جیسی عظیم صفات سے نوازا تھا
00:37:16بچپن ہی سے آپ کی زبان سے ایسے حکیمانہ جملے نکلتے
00:37:20جو ضرب المسل بن جایا کرتے تھے
00:37:22جیسا کہ آپ فرمایا کرتے تھے
00:37:25کہ جب کوئی چیز گمنام ہو جائے
00:37:27تو اس کا ذکر باقی نہیں رہتا
00:37:29والد کی وفات کے بعد
00:37:31لوی عرب کے سردار منتخب ہوئے
00:37:33آپ نے خانہ کعبہ کے قریب
00:37:36ایک کمہ کھدوایا
00:37:37جس کا نام عصرہ رکھا گیا
00:37:39جس سے خاص طور پر
00:37:41حجاجِ کرام اور عام طور پر
00:37:43مسافر اور اہلِ علاقہ سہراب ہوا کرتے تھے
00:37:46اگرچہ لوی کے دیگر بیٹے بھی تھے
00:37:49لیکن اللہ تعالیٰ نے
00:37:50ماویہ بنتِ تکاب بن قیس سے
00:37:52آپ کو تین بیٹے عطا فرمائے
00:37:54کعب، آمیر اور سامما
00:37:57کعب بن لوی
00:37:59رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
00:38:01آٹھمیں پشت میں جدے امجد ہیں
00:38:03کعب کی کنیت
00:38:05ابو حسیس تھی
00:38:06اہلِ عرب میں کعب کو غیر معمولی مقام حاصل تھا
00:38:09آپ صفاتِ سیادت سے آراستہ
00:38:12معروف اور محبوب شخصیت تھے
00:38:14عرب اپنے سال کا آغاز
00:38:17کعب کے یومِ پیدائش سے کیا کرتے تھے
00:38:19اور یہ روایت واقع فیل تک
00:38:22یعنی تقریباً پانچ سو بیس برس تک جاری رہی
00:38:25آپ نہایت بلند پایا خطیب تھے
00:38:28اور آپ کے خطبات کی شہرت
00:38:29دور دراز علاقوں تک پھیل چکی تھی
00:38:32سب سے پہلے
00:38:33امہ باد کے اسلوب کو آپ ہی نے رائج فرمایا
00:38:36آپ ایامِ حج
00:38:38اور دیگر اہم مواقع پر خطبات ارشاد فرماتے
00:38:41جن میں صلحِ رحمی
00:38:43وعدوں کی پاسداری
00:38:45فقراء و مساکین کو صدقہ دینے
00:38:47معرفتِ الٰہی کی اہمیت
00:38:49بزشتہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنے
00:38:52موت اور اس کی ہولناکیوں کی یاد دہانی
00:38:55خانہِ کعبہ کی حرمت
00:38:57اور اس کی حفاظت
00:38:59اور بالخصوص
00:39:00رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی خوشخبری بیان فرمایا کرتے تھے
00:39:06آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے
00:39:08کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
00:39:11انہی کی اولاد میں سے تشریف لائیں گے
00:39:13آپ اپنی قوم کو بار بار تاقید فرمایا کرتے تھے
00:39:17کہ اگر تمہیں اس نبی مکرم کا زمانہ نصیب ہو
00:39:20تو بلا تاخیر ان پر ایمان لے آنا
00:39:23چنانچہ ایک خطبے میں آپ نے ارشاد فرمایا
00:39:26انسان جوڑوں میں ہوں یا تنہا
00:39:29سب فنا کی طرف بر رہے ہیں
00:39:31سلائے رحمی اختیار کرو
00:39:33وعدے پورے کرو
00:39:35اپنے سسرالی رشتوں کی حفاظت کرو
00:39:37اپنے مال میں اضافہ کرو
00:39:39کیونکہ انہی اموال پر تمہاری مروت اور احسان کا دار و مدار ہے
00:39:44کیا تم نے کسی مرنے والے کو واپس آتے دیکھا ہے
00:39:47یا کسی میت کو قبر سے نکلتے دیکھا ہے
00:39:50دار آخرت تمہارے سامنے ہیں
00:39:53اپنے حرم کو سوارو
00:39:54اس کی تعظیم بجالاؤ
00:39:56اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھو
00:39:58اسی حرم سے ایک کریم نبی ظاہر ہوں گے
00:40:02جن کی بشارت حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
00:40:07اپنی امتوں کو دی ہے
00:40:08انقریب وہ نبی تشریف لائیں گے
00:40:11جن کا نام محمد ہوگا
00:40:13وہ خدا
00:40:14کاش اس وقت میرے کان
00:40:16میری آنکھیں
00:40:17میرے ہاتھ
00:40:18اور میرے پاؤں درست ہوتے
00:40:20کاش میں اس دعوت کو پھیلانے کے لیے
00:40:22اسی طرح سینہ تان کر کھڑا ہوتا
00:40:25جیسے اونٹ کھڑا ہوتا ہے
00:40:27اور اسی شان سے چلتا
00:40:29جیسے نرسانڈ چلتا ہے
00:40:31دوستو کعب کی وفات
00:40:33اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بیست کے درمیان
00:40:37پانچ سو ساٹھ برس کا فاصلہ ہے
00:40:40کعب بن لوئی کی دو ازواج تھیں
00:40:42مخشیہ بنت شیبان بن محارب
00:40:45اور رکاش بنت رکبہ
00:40:47مخشیہ سے مرہ اور حسیس پیدا ہوئے
00:40:50جبکہ رکاش سے عدی پیدا ہوئے
00:40:53عدی بن کعب کی نسل سے خلیفہ ثانی
00:40:55حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
00:40:58اور حسیس کی نسل سے
00:41:00حضرت عمر بن آس رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے
00:41:04مرہ بن کعب کی کنیت
00:41:06ابو یقزہ تھی
00:41:07کعب بن لوئی کی وفات کے بعد
00:41:10مرہ تمام عرب قبائل کے سردار منتخب ہوئے
00:41:13آپ نے عرفات کے قریب
00:41:15ایک کنواں کھدوایا
00:41:16جس سے اہل مکہ اور مسافر سیراب ہوتے تھے
00:41:20یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نصب میں چھٹے دادا ہیں
00:41:24اور اسی مقام پر
00:41:26حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا نصب بھی
00:41:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نصب سے جا ملتا ہے
00:41:33کیونکہ حضرت ابو بکر
00:41:35رضی اللہ تعالی عنہ کے بھی چھٹے دادا یہی ہیں
00:41:38مرہ بن کعب کی دو بیویاں تھی
00:41:41ہند بنت تشریف بن سالبہ
00:41:44اور اسما بنت سعاد بن عدی
00:41:46ہند بنت تشریف سے کلاب پیدا ہوئے
00:41:49جبکہ اسما بنت سعاد سے تمیم اور یقضہ پیدا ہوئے
00:41:53کلاب بن مرہ کا اصل نام حکیم
00:41:56کنیت ابو زہرہ اور لقب کلاب تھا
00:41:59لقب کلاب کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے
00:42:02کہ آپ کتوں کے ذریعے شکار کرنے کے شوقین تھے
00:42:05مرہ بن کعب کی اولاد میں
00:42:07کلاب کو خاص عزت اور امتیاز حاصل تھا
00:42:11آپ جاہو جلال اور عظمت کے حامل سردار تھے
00:42:14کلاب کے سسر سعاد بن سیل
00:42:17وہ پہلے شخص تھے
00:42:19جنہوں نے تلواروں پر سونا اور چاندی چرھائی
00:42:22انہوں نے دو تلواریں توفے میں دی
00:42:24جنہیں کلاب نے خانہ کعبہ کے خزانے میں جمع کرا دیا
00:42:28اس طرح سب سے پہلے
00:42:30بیت اللہ شریف کے لیے تلواریں وقف کرنے والے بھی
00:42:33آپ ہی بنے
00:42:34دوستو یہ بھی روایت کی جاتی ہے
00:42:37کہ عربی مہینوں کے موجودہ نام
00:42:40سب سے پہلے کلاب بن مرہ ہی نے تجویز کیے تھے
00:42:43جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ
00:42:47ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہ بھی
00:42:51کلاب بن مرہ کی بیٹی زہرہ کی نسل سے تھی
00:42:54اور اسی طرح
00:42:55جناب عبداللہ اور والدہ محترمہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہ
00:43:04دونوں کا سلسلہ نصب جا کر
00:43:07کلاب بن مرہ پر مل جاتا ہے
00:43:09کلاب بن مرہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی
00:43:12قصی بن کلاب جن کا اصل نام زید تھا
00:43:16اور کنیت ابو مغیرہ تھی
00:43:18آپ کو قصی اس وجہ سے کہا گیا
00:43:21کہ جب آپ کے والد کا انتقال ہوا
00:43:23تو وہ اپنی اہلیہ فاطمہ بن تیساد
00:43:26اور دو کم سن بچوں کو چھوڑ گئے
00:43:28بڑے بچے کا نام زہرہ تھا
00:43:31اور چھوٹے بیٹے کا نام زید تھا
00:43:33جو اس وقت بہت کم عمر تھے
00:43:35بعد ازہ ربیہ بن حرام نے
00:43:37آپ کی والدہ فاطمہ بن تیساد سے نکاح کر لیا
00:43:41جب ربیہ اپنی زوجہ کو لے کر
00:43:43اپنے وطن واپس روانہ ہوا
00:43:45تو بڑے بھائی زہرہ کو مکہ میں ہی چھوڑ دیا
00:43:48کیونکہ وہ جوان ہو چکے تھے
00:43:50لیکن زید کم سن تھے
00:43:52اس لیے انہیں ساتھ لے جانا مناسب سمجھا
00:43:54یوں زید کو اپنے وطن عزرہ لے گئے
00:43:57جو شام کی سرحد کے قریب باقے تھا
00:43:59زید نے اپنی ابتدائی زندگی وہیں گزاری
00:44:02اور چونکہ آپ کا بچپن اپنے اصل وطن سے دور گزرا تھا
00:44:06اسی بنا پر آپ کسی یعنی دور رہنے والے کے لقب سے مشہور ہو گئے
00:44:11دوستو ایک مرتبہ بنی قضا کے ایک شخص نے
00:44:15انہیں غریب الوطنی کا تانہ دیا
00:44:17جسے سن کر آپ کو سخت رنج پہنچا
00:44:19آپ افسردہ ہو کر اپنی والدہ کے پاس آئے
00:44:22اور حقیقت حال دریافت کی
00:44:24والدہ نے فرمایا
00:44:26بیٹا افسردہ ہونے کی کوئی بات نہیں
00:44:29تم ایسے خاندان کا چشم و چراغ ہو
00:44:31جسے پورے عرب میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
00:44:36تم حسب و نسب کے اعتبار سے
00:44:38یہاں کے تمام لوگوں سے افضل ہو
00:44:40تم قریش کے عظیم سردار کلاب بن مرہ کے بیٹے ہو
00:44:44اور تمہارا قبیلہ مکہ مکرمہ میں آباد ہے
00:44:47یہ سن کر آپ نے کہا
00:44:48اب میں یہاں نہیں رہ سکتا
00:44:50مجھے اجازت دیجئے
00:44:52کہ میں اپنے قبیلے کے پاس چلا جاؤں
00:44:54کیونکہ مجھ سے یہ غریب الوطنی کے تانے برداشت نہیں ہوتے
00:44:57ماں نے کہا
00:44:59بیٹا کچھ سبر کرو
00:45:01جب حج کے قافلے یہاں سے مکہ کی طرف روانہ ہوں گے
00:45:04تو میں تمہیں ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دوں گی
00:45:08تاکہ تم بخیریت اپنے وطن پہنچ سکو
00:45:10چنانچہ جب موسم حج آیا
00:45:12تو آپ یہاں کے حاجیوں کے ہمراہ
00:45:15مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے
00:45:17دوستو
00:45:18مکہ پہنچ کر آپ کچھ عرصہ
00:45:20اپنے بڑے بھائی زہرہ کے ساتھ مقیم رہے
00:45:22جب آپ جوان ہوئے
00:45:24تو بنو خزاہ کے سردار
00:45:26حلیل بن حبشیہ کی بیٹی
00:45:28حبہ بنت حلیل کا رشتہ طلب کیا
00:45:30اس وقت حلیل
00:45:32خانہ کعبہ کا متولی تھا
00:45:34اس نے آپ کے خاندان کی شرافت
00:45:36اور عزت کو پیش نظر رکھتے ہوئے
00:45:38خوشدلی سے اپنی بیٹی کا نکاح
00:45:40پسی سے کر دیا
00:45:41اس نکاح سے آپ کے چار بیٹے پیدا ہوئے
00:45:45عبد الدار
00:45:45عبد المناف
00:45:47عبدالعزہ
00:45:48اور عبد بن قسی
00:45:49حلیل بڑھاپے کے باعث کمزور ہو چکا تھا
00:45:53اور اسے یہ احساس ہونے لگا تھا
00:45:55کہ اب وہ خانہ کعبہ کی تولیت کے فرائض
00:45:57پوری طرح ادا نہیں کر سکتا
00:46:00چنانچہ اس نے اپنی بیٹی حبہ کو
00:46:02اپنی جگہ متولی مقرر کر دیا
00:46:04مگر اس نے عرض کیا
00:46:05کہ میں نہ کعبہ کا دروازہ کھول سکتی ہوں
00:46:08اور نہ بند کر سکتی ہوں
00:46:09اس پر حلیل نے
00:46:11دروازہ کھولنے اور بند کرنے کی ذمہ داری
00:46:14اپنے بیٹے ابو غبشان کے سپورت کر دی
00:46:16ایک دن قسی نے شراب کی ایک مشک
00:46:19اور ساز کے بدلے
00:46:21ابو غبشان سے خانہ کعبہ کی تولیت کا حق خرید لیا
00:46:24اسی واقعے کی بنا پر
00:46:26عربوں میں یہ ضرب المثل مشہور ہو گئی
00:46:29کہ جب کوئی شخص انتہائی گھاٹے کا سودا کرے
00:46:32تو کہا جاتا ہے
00:46:33کہ یہ تو ابو غبشان کے سودے سے بھی زیادہ خسارے کا ہے
00:46:36دوستو
00:46:38بنو خزا قسی کے متولی بننے پر شدید رنجیدہ ہو گئے
00:46:42کیونکہ ان کے نزدیک
00:46:43خانہ کعبہ کی تولیت انہی کا حق تھی
00:46:46چنانچہ انہوں نے زور شمشیر سے یہ حق واپس لینے کا ارادہ کیا
00:46:51اور جنگ کی تیاریاں شروع کر دی
00:46:53دوسری طرف قسی نے بھی اپنے بھائیوں اور آوان و انسار کو مدد کے لیے پکارا
00:46:59ربیہ بن ربیہ
00:47:00اپنے تیم بھائیوں
00:47:02ہمدردوں
00:47:03اور قبیلہ قضاء کے نوجوانوں کے ساتھ مکہ پہنچا
00:47:06دونوں فریقوں کے درمیان سخت جنگ چھر گئی
00:47:09خون بہا
00:47:11بہت سے لوگ مارے گئے
00:47:13مگر فتح و شکست کا فیصلہ نہ ہو سکا
00:47:16آخر کار یہ تیپ آیا
00:47:18کہ دونوں فریق
00:47:19آمیر بن عوف بن کعب کو سالس مقرر کریں گے
00:47:22اور وہ
00:47:23جو بھی فیصلہ کریں گے
00:47:25سب اسے تسلیم کریں گے
00:47:27چنانچہ دونوں فریق اس کے پاس حاضر ہوئے
00:47:29اور اپنا مقدمہ پیش کیا
00:47:31آمیر بن عوف نے فیصلہ دیا
00:47:34کہ بیت اللہ شریف
00:47:35اور مکہ مکرمہ کی تولیت کا حق
00:47:38قسی بن کلاب کو حاصل ہوگا
00:47:40بنو خزاہ اور ان کے حلیف
00:47:42ابیلہ بنی بکر کے جو افراد
00:47:45اس جنگ میں مارے گئے
00:47:46ان کا کوئی معافضہ نہیں دیا جائے گا
00:47:48جبکہ قسی کے لرشکر کے مقتولین کی دیت
00:47:51بنو خزاہ کے ذمہ ہوگی
00:47:53اس فیصلے کے نتیجے میں
00:47:55بیت اللہ شریف
00:47:56اور مکہ مکرمہ کی تولیت
00:47:59قسی کے ہاتھ میں آگئی
00:48:00اور یہ عظیم تبدیلی
00:48:02چار سو چالیس عیسوی میں رونما ہوئی
00:48:04دوستو
00:48:06اس کے بعد قسی بن کلاب
00:48:07خانہ کعبہ کے متولی اور مکہ مکرمہ کے حاکم بن گئے
00:48:12قسی وہ پہلے شخص تھے
00:48:14جنہیں کعبہ کی قلیداری
00:48:15حاجیوں کو کھانا کھلانے
00:48:17پانی پلانے
00:48:18ان کی مہمان نوازی کرنے
00:48:20مجلس کی سرداری
00:48:22اور حالت جنگ میں
00:48:23علم برداری کا شرف حاصل ہوا
00:48:25الغرض مکہ مکرمہ کے وہ تمام مناسب آپ کو حاصل ہو گئے
00:48:30جو عزت وقار
00:48:32اور عظمت کے حامل سمجھے جاتے تھے
00:48:34محترم دوستو
00:48:36حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات کے بعد
00:48:39ان کے صاحبزاد نابت نے
00:48:41خانہ کعبہ کی تولیت سمالی
00:48:43ان کے عہد میں
00:48:44ان کے بارہ بھائیوں
00:48:46اور ان کی اولاد نے مل کر
00:48:48ایک بڑا قبیلہ تشکیل دے لیا تھا
00:48:50جب نابت کا وصال ہوا
00:48:52تو مزاز بن عمر جرہمی نے
00:48:54بیت اللہ شریف کی تولیت پر قبضہ کر لیا
00:48:57حضرت اسماعیل علیہ السلام کے خاندان نے
00:49:00جنگ کو مناسب نہ سمجھا
00:49:02ایک تو بنو جرہم ان کے ننحالی رشتے دار تھے
00:49:05مامو اور مامو ذات بھائیوں سے جنگ
00:49:08انہیں گبارہ نہ تھی
00:49:09اور دوسرے یہ
00:49:10کہے کہ وہ حرم کی مقدس سرزمین میں
00:49:13خون ریزی اور قتل و غارت
00:49:15کو بھی جائز نہیں سمجھتے تھے
00:49:17چنانچہ انہوں نے شرافت کے ساتھ
00:49:20مزاز بن عمر کے اقتدار
00:49:22کو تسلیم کر لیا
00:49:23ابتدا میں بنو جرہم کچھ عرصہ
00:49:25سرات مستقیم پر قائم رہے
00:49:27اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی
00:49:30ملت کے احکام پر عمل کرتے رہے
00:49:32لیکن وقت گزرنے کے ساتھ
00:49:34اقتدار کے نشے
00:49:36اور دولت کی فراوانی نے
00:49:37ان کے کردار کو آہستہ آہستہ داغدار کر دیا
00:49:41ان کی اخلاقی حالت
00:49:43اس حد تک زوال پذیر ہو چکی تھی
00:49:45کہ دور دراز علاقوں سے
00:49:47بیت اللہ شریف کی زیارت
00:49:49اور تواف کے لیے آنے والوں کے مال لوٹ لینا
00:49:51دھوکہ دے کر ہتھیا لینا
00:49:53ان کا معمول بن گیا تھا
00:49:55زائرین کعبہ جو نظرانے پیش کرتے
00:49:58وہ بھی چرا لیتے
00:50:00اور جو امانتیں ان کے پاس رکھی جاتیں
00:50:02ان میں خیانت کرنے لگے
00:50:04بنو خزا کو ان کی یہ سرکشی
00:50:07اور بیراہ روی
00:50:08مزید برداشت نہ ہو سکی
00:50:10سبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا
00:50:12اور انہوں نے پوری تیاری کے ساتھ
00:50:15بنو جرہم کے خلاف اعلانیں جنگ کر دیا
00:50:17عیش و عشرت
00:50:19اور دولت کے نشے نے
00:50:20بنو جرہم سے حمت اور جرعت چھین لی تھی
00:50:23اور ان کی بدعمالیوں کے باعث
00:50:26نسرتِ الٰہی بھی ان سے رخصت ہو چکی تھی
00:50:28بنو جرہم اور بنو خزا کے درمیان
00:50:32جنگِ غمزان برپا ہوئی
00:50:34بنو جرہم زیادہ دیر میدان میں جم نہ سکے
00:50:37اور بالآخر ہتھیار ڈال دیئے
00:50:39بنو خزا نے انہیں مکہ مکرمہ چھوڑنے کا حکم دیا
00:50:44چنانچہ وہ مکہ سے نکل کر
00:50:46اپنے قدیم آبائی وطن
00:50:48یمن کی طرف روانہ ہونے پر مجبور ہو گئے
00:50:51مکہ چھوڑنے سے قبل انہوں نے حجرِ اسود کو
00:50:54خانہِ کعبہ کی دیوار سے اکھار کر
00:50:57کمہ زمزم میں ڈال دیا
00:50:58اسی طرح سونے کے دو ہرن
00:51:01قیمتی تلواریں اور زرہیں
00:51:03جو بیت اللہ شریف میں موجود تھیں
00:51:05وہ بھی اٹھا کر زمزم میں ڈال دی
00:51:08پھر زمزم کے کمہ کو مٹی سے بھر دیا
00:51:11اور اس کے نشانات مٹا دیئے
00:51:13تاکہ فاتح قبائل اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے
00:51:16دوستو جب تولیت بنو خضا سے منتقل ہو کر
00:51:19پسائی کے ہاتھ میں آئی
00:51:21تو انہوں نے بے شمار رفاہی اداروں کی بنیاد رکھی
00:51:24جن سے خاص طور پر
00:51:26خجاجِ کرام اور عام طور پر
00:51:29اہلِ مکہ کو بے پناہ فائدہ پہنچا
00:51:31الغرض
00:51:32خانہِ کعبہ اور دیگر مشاعر کی تعمیر
00:51:35اولادِ فحر کی آبادکاری
00:51:37اور ان کی فلاح و بیبوت کے لیے
00:51:39جو نمائی خدمات انجام دی گئیں
00:51:41وہ قسائی کی عظمت و شان کی روشن مثال ہیں
00:51:44چونکہ قسائی کے چار بیٹے تھے
00:51:46اس لیے
00:51:47امام محمد بن یوسف صالحی رحمہ اللہ
00:51:50سبلو الہدا میں لکھتے ہیں
00:51:52کہ قسائی نے تمام مناسب
00:51:54اپنے چاروں بیٹوں میں تقسیم کر دیئے
00:51:56سقایا اور دارالندوہ
00:51:59عبدِ مناف کے سپورت کیے
00:52:01اور انہی کی اولاد میں سے
00:52:03سرورِ عالم
00:52:04صلی اللہ علیہ وسلم مبوس ہوئے
00:52:06حجابت اور لواء عبد الدار کو دیئے
00:52:09یعنی خانہِ کعبہ کی خدمت
00:52:11اور علم برداری
00:52:13ایامِ منا میں
00:52:14حاجیوں کی میزبانی کا فریضہ
00:52:16عبدالعزہ کے حوالے کیا گیا
00:52:19جن کی اجازت کے بغیر
00:52:20کوئی اپنا چولہ نہیں جلا سکتا تھا
00:52:23جبکہ وادی کی حفاظت کی ذمہ داری
00:52:25عبدِ قسائی کو سونپی گئی
00:52:27یوں ایک زیرک اور عظیم انسان نے
00:52:30تمام اختیارات
00:52:31ایک ہی بیٹے کو دینے کے بجائے
00:52:33سب میں تقسیم کر کے
00:52:35ایک بہترین مثال قائم کی
00:52:37قسائی نے چار سو اسی عیسوی میں
00:52:40مکہ مکرمہ میں وفات پائی
00:52:42اور آپ کی تدفین
00:52:43کوہِ حجون کے دامن میں کی گئی
00:52:45اس کے بعد اہلِ مکہ نے
00:52:47اپنے امواد کو
00:52:49حجون میں دفن کرنا شروع کر دیا
00:52:51جو مکہ مکرمہ کا باقاعدہ
00:52:53پہلا قبرستان قرار پایا
00:52:55عبدِ مناف
00:52:56جن کا اصل نام مغیرہ تھا
00:52:59مگر عبدِ مناف کے نام سے
00:53:00زیادہ معروف ہوئے
00:53:02آپ کا لقب کمر البتحا
00:53:04یعنی بتحا کا چاند تھا
00:53:06اور ایک لقب فیاض بھی بیان کیا جاتا ہے
00:53:09آپ حضرت حاشم کے والد تھے
00:53:12جن سے قبیلہِ بنو حاشم کا آغاز ہوا
00:53:15اپنے والد
00:53:16اسی بن کلاب کی وفات کے بعد
00:53:18آپ نے مکہ کی سرداری سمحا لی
00:53:20آپ سخاوت اور عدل و انصاف کی بدولت
00:53:24نہایت مشہور تھے
00:53:25اور مجموعی طور پر
00:53:27آپ کی اولاد
00:53:28بنو عبدِ مناف کہلاتی تھی
00:53:30آپ کے پاس
00:53:31نظار کا جھنڈا
00:53:33اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی
00:53:35کمان ہوا کرتی تھی
00:53:36علامہ آلوسی
00:53:38حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے
00:53:40ایک روایت نقل کرتے ہیں
00:53:42کہ انہیں ایک پتھر ملا
00:53:43جس پر یہ عبارت کندہ تھی
00:53:45میں مغیرہ بن قصی ہوں
00:53:48میں قریش کو وسیعت کرتا ہوں
00:53:50کہ اللہ تعالی سے ڈرتے رہ کریں
00:53:52اور اپنے قریبی رشتداروں کے ساتھ
00:53:55حسن سلوک کریں
00:53:56آپ بتوں سے سخت نفرت رکھتے تھے
00:53:59اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور
00:54:02آپ کے چہرے پر نمائی طور پر جھلگتا تھا
00:54:05آپ اپنے نامور والد ہی کی طرح
00:54:08ملت ابراہیمی پر مضبوطی سے قائم رہے
00:54:11اور تمام رفاہی و فلاہی کاموں کو
00:54:14پوری ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا
00:54:16آپ کے چار صاحب زادے تھے
00:54:19حاشم، مطلب، عبد شمس اور نوفل
00:54:22حاشم بن عبد مناف
00:54:24دوستو
00:54:26حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پر دادہ تھے
00:54:29آپ کا اصل نام عمر تھا
00:54:32اور حاشم اور عبد شمس جرواں بھائی تھے
00:54:35آپ کو حاشم اس لیے کہا جاتا تھا
00:54:38کہ آپ مکہ آنے والے زائرین کی زیافت
00:54:40ایک خاص عربی شوربے سے کیا کرتے تھے
00:54:43جسے حاشم کہا جاتا تھا
00:54:46ایک مرتبہ سخت کہت سالی کے باعث
00:54:48لوگوں پر شدید فاقہ کشی تاری ہو گئی
00:54:51یہاں تک کہ کئی کئی دن
00:54:53لوگ کھانے سے محروم رہتے تھے
00:54:55اس موقع پر حاشم مکہ سے شام تشریف لے گئے
00:54:59وہاں سے آٹا اور گندم خریدی
00:55:02اور حج کے ایام میں لدے ہوئے اونٹوں کے ساتھ مکہ واپس آئے
00:55:06روٹیاں پکائی گئیں
00:55:08اونٹ کتار در کتار زباہ کیے گئے
00:55:10گوشت پکایا گیا
00:55:12شوربے میں روٹیاں توڑ توڑ کر ڈال دی گئیں
00:55:15اور سریت تیار کیا گیا
00:55:17پھر عام لوگوں کے لیے دسترخان بچھایا گیا
00:55:20اور سب کو کھانے کی دعوت دی گئی
00:55:22دوستو سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا
00:55:25اسی وجہ سے آپ حاشم کے نام سے مشہور ہو گئے
00:55:30کیونکہ حاشم کے معنی ہیں
00:55:31روٹیاں توڑ کر شوربے میں ملانے والا
00:55:34آپ کو ابو البتہ اور سید البتہ بھی کہا جاتا تھا
00:55:39تنگی ہو یا خوشحالی
00:55:40ہر حال میں آپ کا دسترخان مہمانوں کے لیے بچھا رہتا تھا
00:55:44آپ ہی نے قریش کے تجارتی قافلوں کا باقاعدہ آغاز کروایا
00:55:49اور بازنتینی سلطنت کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے
00:55:52جن کی بدولت قریش ان علاقوں میں بغیر کسی محصول کے تجارت کرنے لگے
00:55:58آزادانہ خرید و فروخت ہوئی
00:56:00اور انہیں کثیر منافع حاصل ہونے لگا
00:56:02حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے
00:56:06کہ قبیلہ قریش میں زمانہ جاہلیت میں
00:56:09احتفاد نامی ایک رسم رائج تھی
00:56:11اس رسم کے مطابق
00:56:13جب کوئی خاندان مفلس اور نادار ہو جاتا
00:56:16تو وہ شہر سے باہر سہرہ میں جا کر خیمے لگا لیتا
00:56:19اور وہیں فاقہ کشی کے عالم میں مر جاتا
00:56:22کسی کو یہ خبر نہ ہونے دیتا
00:56:25کہ وہ تنگ دست ہو چکا ہے
00:56:27جب حاشم جوان ہوئے
00:56:29تو انہیں اس ہولناک رسم کا علم ہوا
00:56:31انہوں نے اپنی قوم کو جمع کر کے خدبہ دیا
00:56:34اور فرمایا
00:56:35اے گروہ قریش
00:56:37اہلِ عرب میں تمہیں مال اور افراد کی کسرت کے اعتبار سے بڑتری حاصل ہے
00:56:42مگر اس ظالمانہ رسم نے
00:56:44تمہارے بہت سے خاندانوں کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے
00:56:47میری ایک تجویز ہے
00:56:49قوم نے ارز کیا
00:56:51ہمیں حکم دیجئے
00:56:52ہم اس پر ضرور عمل کریں گے
00:56:54حاشم نے فرمایا
00:56:55میری رائے یہ ہے
00:56:57کہ جو خاندان مفلس ہیں
00:56:59انہیں مالدار خاندانوں کے ساتھ ملا دیا جائے
00:57:02ہر غنی کے ساتھ ایک فقیر خاندان
00:57:05اس کے اہل و ایال سمیت شامل کر دیا جائے
00:57:08جب تم اپنے تجارتی قافلوں کے ساتھ
00:57:11گرمی اور سردی میں شام اور یمن جاؤ
00:57:13تو یہ نادار لوگ بھی تمہارے ساتھ ہوں
00:57:16اور جب تمہیں نفع حاصل ہو
00:57:18تو اس میں انہیں شریک کیا جائے
00:57:20تاکہ وہ تمہارے سائے میں
00:57:22عزت اور خوشحالی کی زندگی گزار سکیں
00:57:25اور فاقہ کشی سے نہ مریں
00:57:26اس طرح احتفاد کی یہ ظالمانہ رسم
00:57:30ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی
00:57:32سب نے اس رائے کو پسند کیا
00:57:34چنانچہ حاشم نے
00:57:36ہر مالدار خاندان کے ساتھ
00:57:38ایک نادار خاندان کو شامل کر دیا
00:57:40اس حکمت بھرے اقدام کے نتیجے میں
00:57:43پوری قوم آپس میں مضبوطی سے جر گئی
00:57:46ناظرین اسی عظیم کارنامے کی بدولت
00:57:49حاشم اور ان کے بھائی الجیرون
00:57:52یعنی پناہ دینے والے کہلائے
00:57:54کیونکہ اپنی سخاوت اور سیادت کے سبب
00:57:57وہ پورے عرب کے لیے
00:57:58ایک مضبوط پناہگاہ سمجھے جاتے تھے
00:58:01حضرت حاشم جیسے ہی ذلہجہ کا چاند دیکھتے
00:58:04تو اللہ صبح حرم شریف میں تشریف لاتے
00:58:07خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ
00:58:09تیک لگا کر کھڑے ہوتے
00:58:11اور یوں خدبہ ارشاد فرماتے
00:58:13اے گروہِ قریش
00:58:15تم اہلِ اقل و دانائی ہو
00:58:17اور عرب کے سردار ہو
00:58:19تم اللہ کے گھر کے پلوسی
00:58:21اور اس کے متبلی ہو
00:58:23اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ عظیم شرف
00:58:26اتا فرمایا ہے
00:58:27اور انقریب اللہ کے گھر کی زیارت
00:58:30کے لیے آنے والے مہمان
00:58:31تمہارے پاس پہنچیں گے
00:58:33وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے
00:58:36اور اللہ کے مہمانوں کی عزت
00:58:38و تکریم لازم ہے
00:58:39اس مقدس فریضے کے لیے
00:58:41میں بھی اپنے حلال مال میں سے حصہ ڈالوں گا
00:58:45پس تم بھی اللہ کے مہمانوں
00:58:46اور اس کے گھر کے زائرین کی عزت کرو
00:58:49اور حلال و پاکیزہ مال سے
00:58:51ان کی خدمت کا احتمام کرو
00:58:53اہلِ مکہ نے آپ کی اس دعوت کو
00:58:55دل و جان سے قبول کیا
00:58:57اور بڑھ چر کر مالی تعاون پیش کیا
00:59:00یہ تمام رقوم دار الندھوہ میں جمع کی جاتی
00:59:03اور حجاجِ کرام کی خدمت کے تمام انتظامات
00:59:06نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاتے
00:59:09دوستو
00:59:10علامہ علوسی لکھتے ہیں
00:59:12کہ حضرت حاشم لوگوں کے مالی حقوق
00:59:15اپنی جیب سے ادا فرمایا کرتے تھے
00:59:17نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور
00:59:20آپ کے چہرے پر جلوہ گر رہتا تھا
00:59:22جو شخص بھی آپ کی زیارت کرتا
00:59:25وہ عدب و عقیدت سے آپ کے ہاتھ چوم لیتا
00:59:28اور روایت ہے
00:59:29کہ آپ جس چیز کے قریب سے گزرتے
00:59:31وہ سجدے میں گر جاتی
00:59:33آپ کی سخاوت
00:59:34ضرب المسل بن چکی تھی
00:59:36نہ صرف حجاز
00:59:37بلکہ حجاز سے باہر بھی
00:59:39آپ اپنے جود و سخاہ
00:59:41اور رفاہی کاموں کی وجہ سے مشہور تھے
00:59:43عوام تو عوام
00:59:45زمانے کے بادشاہ بھی
00:59:46آپ کو غیر معمولی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے
00:59:50یہاں تک کہ شاہِ روم
00:59:52اور نجاشی حبشا بھی
00:59:54اپنی بیٹیوں کے رشتے دینے کے خواہش مند تھے
00:59:56لیکن آپ نے حجاز سے باہر
00:59:58رشتہ کرنا پسند نہ کیا
01:00:00اور عرب قبائل ہی میں
01:00:02مختلف اوقات میں نکاح فرمائے
01:00:04ان شادیوں میں
01:00:05بقائے نور نبوت کے اعتبار سے
01:00:08سب سے اہم نکاح
01:00:09قبیلہ خزرج کی ایک معزز خاتون
01:00:11سلمہ بنت عمر نجاریہ سے تھا
01:00:14حضرت حاشم
01:00:15ایک عرصے سے یہ محسوس کر رہے تھے
01:00:18کہ قدرت نے جس نور رسالت کا
01:00:20انہیں امین بنایا ہے
01:00:21وہ ابھی ان سے منتقل نہیں ہوا
01:00:23اسی فکر میں مبتلا تھے
01:00:25کہ خواب میں سلمہ بنت عمر سے
01:00:27اقت کی بشارت ملی
01:00:29جو مدینہ منورہ میں مقیم
01:00:31پاکیزہ سیرت
01:00:32نجابت
01:00:33اور شرافت میں
01:00:34عالی مقام رکھنے والی خاتون تھی
01:00:36اس خواب کے بعد
01:00:37حضرت حاشم چند قریبی عزیزوں کے ساتھ
01:00:40مدینہ منورہ روانہ ہوئے
01:00:42اور عمر بن لبید الخزرجی کے ہاں
01:00:45قیام فرمایا
01:00:45انہوں نے مہمان نوازی کا پورا حق ادا کیا
01:00:49جب آمد کی غرض و غایت پوچھی گئی
01:00:51اور حقیقت معلوم ہوئی
01:00:53تو انہوں نے فرمایا
01:00:54کہ مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں
01:00:57البتہ میری ایک شرط ہے
01:00:58کہ اگر سلمہ کے ہاں اولاد ہوئی
01:01:01تو وہ مدینہ ہی میں قیام کرے گی
01:01:03دوستو
01:01:04حضرت حاشم نے اس شرط کو بخشی قبول فرمایا
01:01:07اور تمام مراحل تیہ ہونے کے بعد
01:01:09نکاح انجام پایا
01:01:11اس کے بعد
01:01:12حضرت حاشم تجارت کے سلسلے میں شام تشریف لے گئے
01:01:15پھر واپس آ کر
01:01:17سلمہ بنت عمر کو
01:01:18مدینہ سے مکہ لے آئے
01:01:20لیکن جب ولادت کا وقت قریب آیا
01:01:22تو اپنے وعدے کے مطابق
01:01:24اپنی اہلیہ کو ان کے والد کے پاس
01:01:26یسرب چھوڑائے
01:01:27اور خود تجارت کی غرض سے دوبارہ شام روانہ ہو گئے
01:01:30دوستو
01:01:32حضرت حاشم کا یہ سفر
01:01:33آخری سفر ثابت ہوا
01:01:35ابھی آپ کی عمر مبارک پچیز برس ہی تھی
01:01:38کہ چند روز علیل رہنے کے بعد
01:01:40اسی بیماری میں آپ کا وصال ہو گیا
01:01:43اور فلسطین میں غزہ کے مقام پر
01:01:45آپ کو سپرد خاک کیا گیا
01:01:47جب حضرت حاشم کے ہمسفر
01:01:49یہ خبر وفات لے کر واپس لوٹے
01:01:52تو مکہ اور یسرب کے گھروں میں
01:01:54صفے ماتم بیچ گئی
01:01:55ہر زبان پر آپ کی مہمان نوازی
01:01:58صلح رحمی اور ہمدردی کے واقعات کا ذکر تھا
01:02:01جب جناب سلمہ نے یہ اندوہناک خبر سنی
01:02:04تو دل غم سے بھر گیا
01:02:06مگر اسی غمزدہ دل کو
01:02:08اس وقت ایک نورانی تسکین نصیب ہوئی
01:02:10جب ان کی گود ایک نو مولود سے بھر گئی
01:02:13اس بچے کا نام شیبہ رکھا گیا
01:02:15جو بعد میں عبد المطلب کے نام سے مشہور ہوئے
01:02:19حضرت حاشم کے کئی صاحب زادے تھے
01:02:21مگر ان میں سے صرف دو کی نسل آگے بڑھی
01:02:24ایک اسد اور دوسرے مطلب
01:02:26اسد کے ہاں ایک بیٹا نائل پیدا ہوا
01:02:29مگر اس کی نسل آگے نہ چل سکی
01:02:31اور ایک بیٹی فاطمہ بنت اصد رضی اللہ عنہ پیدا ہوئی
01:02:36جو حضرت ابو طالب کے نکاح میں آئیں
01:02:38اور انہی کے بپتن سے
01:02:40حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ
01:02:43اور ان کے بھائی پیدا ہوئے
01:02:44البتہ حضرت مطلب کی نسل آگے بڑھی
01:02:47اور انہی سے حاشمی نسل کا سلسلہ دنیا میں قائم
01:02:50جو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ
Comments

Recommended