Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ایک قوم نعمتوں میں مالا مال مگر اللہ کی نافرمانی میں غرق
00:05ظلم اور بدکاریوں سے بھری ایک عبرت آموز داستان
00:09کون تھے یہ لوگ اور کیوں اللہ نے انہیں تباہ کر دیا؟
00:14ناظرین ہماری کہانی شروع ہوتی ہے تقریباً ہزار سال قبل
00:19یا بعض روایات کے مطابق چودہ سو سال قبل
00:22یمن کی سرزمین پر ایک عظیم قوم کی بنیاد سے
00:26جیسے مصر میں ہر بادشاہ کو فیرون کہا جاتا تھا
00:30ویسے ہی یمن میں ہر بادشاہ کو تباہ کہا جاتا تھا
00:34یہ قوم عوم تباہ ایک قدیم یمنی قوم تھی
00:39جو عرب کے جنوب میں واقع یمن کی زمین پر آباد تھی
00:42اور یہ ہمیر سلطنت کے عروج کا حصہ تھی
00:46ہمیر سلطنت کا دار الحکومت ابتدا میں زفار تھا
00:50اور اس سلطنت کا عروج تقریباً 110 سے 525 عیسوی تک رہا
00:56یمن کی ہمیر سلطنت کی حکمران
00:58اپنے علاقوں کو بڑھانے
01:00تجارتی راستوں پر کنٹرول قائم کرنے
01:03اور زراعت میں بے پناہ ترقی کے لیے مشہور تھے
01:07عوم تباہ کی تاریخ ان کے بادشاہوں کی کامیابیوں
01:10اور ان کے زیر حکومت
01:12علاقوں میں ثقافت و تمدن کے فروغ سے جانی جاتی ہے
01:15ہمیر کے بادشاہ طاقتور فوجی طاقت کے مالک تھے
01:20اور وہ دیگر علاقوں پر بھی حملے کرتے رہے
01:22لفظ تباہ دراصل ایک لقت تھا
01:25جو ہمیر سلطنت کے حکمرانوں کو دیا جاتا تھا
01:28اس کا مطلب ہے پیروی کرنے والا
01:31یا پیش آنے والا
01:33یہ لقب ایسے بادشاہوں کے لیے مخصوص تھا
01:36جو اپنے پیشروہ حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے
01:39اپنی حکومت قائم رکھتے
01:41اور اپنی طاقت برقرار رکھتے
01:43ہمیر کے بادشاہ خود کو تباہ کہلاتے تھے
01:47تاکہ ان کے حکمرانی کے تسلسل کی نمائندگی ہو
01:50یہ لقب ان کی عظمت اور زیر حکمرانی علاقوں میں
01:54یک جہتی کی علامت تھا
01:56ابتدا میں ہمیر سلطنت میں بدت اور بدپرستی عام تھی
02:00لیکن بعد میں کچھ بادشاہ
02:02یہودیت یا دیگر مذاہب کے ماننے والے بن گئے
02:05مثال کے طور پر بادشاہ
02:07زونواز
02:08یہودیت کے پیروکار تھے
02:10اور انہوں نے عیسائیوں پر ظلم ڈھایا
02:13جو اصحاب الاخدود کے واپے سے مشہور ہے
02:16عومِ طبا نے زرات
02:17تجارت
02:18اور تعمیرات میں شاندار ترقی کی
02:21ان کے بنائے گئے آبی زخائر
02:23اور نہری نظام
02:24جیسے مارب ڈیم
02:26ان کی انجنئرنگ مہارت کا ثبوت ہیں
02:28طبا کے بادشاہوں کی فوجیں بے حد مضبوط تھیں
02:32جنہوں نے کئی فتوحات حاصل کی
02:34اور اپنی سلطنت کو وسد دی
02:36عومِ طبا
02:37علم و فنون
02:39عدب
02:39اور فنِ تعمیر میں نمائی تھی
02:41اللہ تعالیٰ نے قومِ طبا کا ذکر
02:44ان اقوام کے ساتھ کیا ہے
02:46جنہوں نے اپنے رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا
02:48اور نتیجتاً
02:50اللہ کے عذاب کا سامنا کیا
02:52عومِ طبا
02:53جو یمن کی حمیر سلطنت سے تعلق رکھتی تھی
02:56اپنے زمانے کی ایک طاقتور
02:58اور ترقی آفتہ قوم تھی
03:00اور ان کے بادشاہوں کا لقب
03:02طبا
03:02ان کے اقتدار کے تسلسل کی علامت تھا
03:05پرانے مجید نے
03:07سورہ دخان میں
03:08ان کا ذکر ایسے اقوام کے تناظر میں آیا ہے
03:11جنہوں نے اللہ کی پیغام کو رد کیا
03:13اور اسی وجہ سے
03:15اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں
03:17سورہ دخان کی آیت نمبر چھتیس میں
03:19سوالیہ انداز میں ذکر ہے
03:21کہ کیا یہ لوگ
03:23یعنی قریش
03:24یا کفار
03:25ان سے بہتر ہیں
03:26یا قومِ طبا
03:27اور ان سے پہلے کی اقوام
03:29اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو
03:32ان کے جرائم
03:33کفر
03:33اور سرکشی کی وجہ سے حلاک کیا
03:36اس آیت کا مقصد
03:37ماضی کی قوموں کے انجام کو
03:39آج کے انسانوں کے لئے عبرت
03:41اور سبق کے طور پر پیش کرنا ہے
03:44عومِ طبا
03:45باوجود اپنی طاقت اور عظمت کے
03:47اللہ کے احکامات کی نافرمانی
03:50اور سرکشی کے سبب
03:51نابود ہو گئی
03:52سورہ قاف کی آیت نمبر چودہ میں بھی
03:55عومِ طبا
03:56اور اصحابِ اخدود کا ذکر ہے
03:58جنہوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا
04:01اور اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے
04:03طبا کے بادشاہ
04:05اپنے دور کے بڑے دانشمند
04:07علم دوست
04:08اور حکومتی ماہر حکمران تھے
04:10وہ علمی ترقی
04:11انتظامی نظام
04:13اور تمدنی ترقی میں
04:14مہارت رکھتے
04:16اور اپنی سلطنت کی مضبوطی کے لیے
04:18بہترین حکماء
04:19اور دانشوروں کی رہنمائی حاصل کرتے
04:22حمیر سلطنت
04:23جس کی قیادت یہ بادشاہ کرتے تھے
04:26یمن سے لے کر شمالی عرب تک وسیع تھی
04:29اور اہم تجارتی راستوں پر واقع تھی
04:32جو افریقہ
04:33ہندوستان
04:34اور رومی سلطنت کے درمیان
04:36تجارت میں اہم کردار ادا کرتی تھی
04:38توبہ کے بادشاہوں نے
04:40زراعت
04:40اور آبی زخائر کے نظام کو ترقی دی
04:43خاص طور پر
04:44مارب ڈیم جیسا شاندار
04:46آبی زخیرہ تعمیر کیا
04:48ان میں سے بعض بادشاہوں نے
04:50توحید
04:50اور اللہ کی عبادت کی دعوت دی
04:53جو اس وقت کے شرک و بد پرستی کے
04:55ماحول کے خلاف تھی
04:56تاریخی روایات کے مطابق
04:59توبہ الاسد
05:00ابو قرب نے
05:01توحید کی تبلیغ کی
05:03اور خود اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے
05:05اور کہا جاتا ہے
05:07کہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کا سفر کیا
05:09اور وہاں کے پیغمبروں کی تعلیمات سے متاثر ہو کر
05:12توحید کو اپنایا
05:14اوران میں جس توبہ بادشاہ کا ذکر آیا
05:17وہ واحد بادشاہ تھا
05:19جس نے اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائیا
05:21لیکن اس کی قوم کفر
05:23اور شرک میں مبتلا رہی
05:25اور اسی وجہ سے
05:27اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی
05:29یہ بدشاہ بہادر اور طاقتور تھا
05:32اور اس کی قوم
05:33ایک جنگجو قوم تھی
05:34جس نے متعدد ممالک پر فتح حاصل کی
05:37قوم طبع
05:39بدت
05:40بدپرستی
05:41اور گناہوں میں مبتلا تھی
05:43تاریخی اور روایتی ذرائع کے مطابق
05:46یہ قوم بدکاری
05:47خواتین کے ساتھ بدفیلی
05:49اور دیگر انواہ کی برائیوں میں مبتلا تھی
05:52انہی گناہوں کی وجہ سے
05:54اللہ تعالیٰ نے قوم طبع کو ہلاک کر دیا
05:57اور ان کا نام و نشان
05:58صفحہِ ہستی سے مٹا دیا
06:00قرآن میں قوم طبع کو
06:02نافرمان قوموں کے تناظر میں ذکر کیا گیا
06:05تاکہ انسان عبرت حاصل کرے
06:07ناظرین
06:09جہاں قوم طبع اپنے گناہوں کی وجہ سے
06:11ہلاک کر دی گئی
06:12وہیں اس قوم کا بادشاہ
06:14طوبع
06:15اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی وجہ سے
06:18اس ہلاکت سے محفوظ رہا
06:20بادشاہ طوبع کے ایمان لانے کا واقعہ
06:23نہایت حیرت انگیز
06:24اور ایمان افروز ہے
06:26یمن کے اس بادشاہ
06:28طوبع کی سلطنت وسیع و شاندار تھی
06:30اور جب بھی وہ کسی ملک سے گزرتا
06:33اس کی شان و شوقت
06:34اور پروٹوکول کو دیکھنے کے لیے
06:36ہر ملک کے لوگ جمع ہو جاتے
06:38لیکن جب یہ بادشاہ
06:40طوبع اپنے لشکر کے ساتھ
06:42مکہ مکرمہ پہنچا
06:44تو اس کے ساتھ تقریباً
06:45بارہ ہزار علماء و حکمہ
06:47ایک لاکھ پینتیس ہزار گھر سوار
06:50ایک لاکھ پینتیس ہزار پیادے
06:52اور بہت سارے جنگجو موجود تھے
06:54اس کے باوجود
06:56مکہ کے لوگ اسے دیکھنے کے لیے جمع نہ ہوئے
06:59بادشاہ یہ منظر دیکھ کر شدید حیران ہوا
07:02اور اپنے وزیر سے پوچھا
07:04کہ یہ کون سا شہر ہے
07:06اور یہاں کے لوگ میری تعظیم کے لیے کیوں نہیں آئے
07:09وزیر نے جواب دیا
07:10کہ یہ اہلِ عرب کا علاقہ ہے
07:13اور یہاں ایک گھر ہے
07:14جسے کعبہ کہا جاتا ہے
07:16جس کی تعظیم اہلِ عرب کرتے ہیں
07:19وہ لوگ اس لیے آپ کو دیکھنے نہیں آئے
07:21کیونکہ کعبہ کی زیارت کے لیے
07:23اتنے لوگ جمع ہوتے ہیں
07:25کہ آپ کے لشکر کے مقابلے میں
07:27یہ تعداد کہیں زیادہ ہے
07:29یہ سن کر بادشاہ طبا
07:31غصے میں آ گیا
07:32اور دل ہی دل میں نیت کر لی
07:35کہ وہ اللہ کے گھر کعبہ کو گرا دے گا
07:37اور اس کے باشندوں کو ہلاک کرے گا
07:40ایسے ہی بادشاہ کی یہ نیت ہوئی
07:42اللہ تعالیٰ کے حکم سے
07:44اسے شدید درد ہوا
07:46ناک، مو اور آنکھوں سے خون بہنے لگا
07:49اور ایک بدبودار مادہ خارج ہونے لگا
07:52جس کی وجہ سے تمام لوگ بادشاہ سے دور ہو گئے
07:56بادشاہ نے بڑے بڑے طبیب بلائے
07:58اور علاج کروانے کی کوشش کی
08:00لیکن ہر طرح کے دنیاوی علاج کے باوجود
08:03اسے چھٹکارہ نہ ملا
08:05آخر کار شام کے وقت
08:07بادشاہ کے علماء میں سے ایک عالم
08:09جو سردار علماء میں سے تھا
08:11آیا اور اس مرد کو دیکھ کر کہا
08:14کہ یہ دنیاوی مرض نہیں
08:15بلکہ آسمانی ہے
08:17اور اسے دنیاوی علاج سے ختم نہیں کیا جا سکتا
08:20اس کے بعد وہ عالم بادشاہ سے کہنے لگے
08:23اے بادشاہ
08:24اگر تمہارے دل میں کوئی بری نیت ہے
08:27تو فوراً اس سے توبہ کر لو
08:29ناظرین
08:30جیسے ہی بادشاہ طوبہ نے عالم کی نصیحت سنی
08:33اسے فوراً سمجھ آ گیا
08:35کہ وہ جس ناپاک نیت کے سبب بیماری میں مبتلا ہوا تھا
08:39وہ کعبہ کو گرانے کی نیت تھی
08:41دل ہی دل میں
08:43بادشاہ نے اس برے ارادے سے توبہ کر لی
08:45اور اللہ تعالیٰ نے فوراً اس کی توبہ قبول فرمائی
08:49توبہ کرتے ہی بادشاہ کی صحت بحال ہو گئی
08:52خون اور بدبودار مادہ کا سلسلہ ختم ہو گیا
08:55اور وہ اپنی صحتیابی پر
08:57نہایت خوش ہوا
08:59بادشاہ نے مکہ مکرمہ کے لوگوں کو
09:01قیمتی کپرے انعیت کیے
09:03جو خانہ کعبہ پر غلاف کے طور پر چڑھائے گئے
09:06اس طرح بادشاہ توبہ
09:08وہ پہلا بادشاہ بن گیا
09:10جس نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا
09:12اور یہ روایت آج تک جاری ہے
09:15اس ایمان افروز واقعے کے بعد
09:17بادشاہ توبہ اپنا سفر جاری کرتا ہوا
09:20مدینہ کی وادیوں تک پہنچا
09:22اس کے لشکر کے ساتھ موجود
09:24علماء اکرام نے
09:25مدینہ کی وادیوں
09:27مٹی اور کنکریوں کو دیکھا
09:29اور وہ تمام نشانیاں دریافت کی
09:31جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:34کی ہجرتگاہ کے بارے میں بیان کی گئی تھی
09:36ان علماء نے دل ہی دل میں اہد کیا
09:39کہ جب تک زندہ ہیں
09:40وہ اس بستی سے نہیں جائیں گے
09:42اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:45کی آمد کا انتظار کریں گے
09:47اگر وہ مر بھی جائیں
09:48تو اپنی قبروں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:51کے جوتے کی خاک ضرور ہوگی
09:53اور یہ ان کی نجات کیلئے
09:55کافی ہوگی
09:57بادشاہ نے تمام علماء کے لیے
09:59اسی مقام پر عالی شان
10:01دو منزلہ مکان تعمیر کروایا
10:02تاکہ یہ مقام
10:04حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آرامگاہ بن سکے
10:08اس کے بعد بادشاہ نے
10:10حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام
10:12ایک خط لکھا
10:13اور علماء کے سردار کے سپورٹ کر دیا
10:16وسیعت کی
10:17کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم
10:20اس دنیا میں تشریف لائیں
10:21یہ خط امانت کے طور پر
10:23ان کی خدمت میں پیش کیا جائے
10:25اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
10:28ان کے وقت میں تشریف نہ لائیں
10:30تو یہ خط نسل در نسل
10:32منتقل کیا جائے
10:33تاکہ آخر کار
10:34حضور صلی اللہ علیہ وسلم
10:37کے سامنے پیش کیا جا سکے
10:38اس خط اور وسیعت کے بعد
10:40بادشاہ طوبہ وہاں سے روانہ ہو گیا
10:43اور وقت گزرتا گیا
10:44ایک ہزار سال بعد
10:46حضور صلی اللہ علیہ وسلم
10:48آخری نبی کے طور پر دنیا میں تشریف لائے
10:51جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم
10:54مکہ سے ہجرت کر کے
10:55مدینہ تشریف لائے
10:57تو مدینہ کے لوگ
10:58آپ صلی اللہ علیہ وسلم
11:00کے استقبال کے لئے کھڑے تھے
11:02ہر شخص خواہش کر رہا تھا
11:04کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
11:06ہمارے گھر میں ٹھہریں
11:07تاکہ اللہ کے نبی کے قدمت
11:09کا سعادت حاصل ہو سکے
11:11ناظرین
11:12جس اونٹنی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
11:15سوار تھے
11:16اسے کھلا چھوڑ دیا گیا
11:17اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
11:20نے فرمایا
11:20کہ یہ اونٹنی جس گھر کے سامنے
11:23ٹھہری گی
11:23میں اسی کے مہمان بنوں گا
11:25اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھیں
11:27کہ ایک طرف وہ صحابہ موجود تھے
11:30جو مالی لحاظ سے مضبوط تھے
11:32اور دل میں یہ خواہش رکھتے تھے
11:34کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
11:36ہمارے گھر قیام کریں
11:38تاکہ ہم خدمت کر سکیں
11:39اور دوسری طرف وہ صحابہ بھی تھے
11:42جو مالی طور پر کمزور تھے
11:44لیکن ان کے دلوں میں جذبہ اور محبت کسی سے کم نہ تھی
11:47اللہ تعالیٰ کے حکم سے
11:49اونٹنی اسی صحابی کے گھر ٹھہری
11:52جو اس وقت حضور کے قریب تھے
11:54حضرت ابو عیوب انساری رضی اللہ عنہ
11:58حضرت ابو عیوب انساری رضی اللہ عنہ
12:00وہ صحابی تھے جن کے پاس بادشاہ طوبہ نے اپنا خط سپرد کیا تھا
12:05حضرت ابو عیوب نے یہ خط
12:07اپنے خاص غلام ابو لیلہ کے حوالے کیا
12:10جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم
12:12حضرت ابو عیوب کے گھر مہمان بنے
12:14تو حضرت ابو لیلہ خط لے کا خدمت میں حاضر ہوئے
12:18اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا
12:21کہ تمہارا نام ابو لیلہ ہے
12:24اور جو شاہی امن کا خط تمہارے پاس ہے
12:27وہ مجھے دو
12:28ابو لیلہ یہ فرمان سن کر حیران رہ گئے
12:31حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ طوبہ کا خط پڑھا
12:35اور فرمایا
12:36سالے بھائی
12:38طوبہ کو آفرین اور شاباش
12:40ناظرین
12:41بادشاہ طوبہ کا یہ خط کچھ یوں تھا
12:44کم ترین مخلوق
12:46بادشاہ طوبہ کی طرف سے
12:47سید المرسلین
12:48حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام
12:51اما بعد
12:53اے اللہ کے حبیب
12:55میں آپ پر ایمان لاتا ہوں
12:57اور جو کتاب آپ پر نازل ہوگی
12:59اس پر بھی ایمان لاتا ہوں
13:01میں آپ کے دین پر ہوں
13:03اور اگر مجھے آپ کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا
13:06تو یہ میرے لئے بڑا فخر ہوگا
13:08اور اگر نہ ہو سکا
13:10تو آپ میری شفاعت فرمائیں
13:11اور قیامت کے دن مجھے فراموش نہ کریں
13:14میں آپ کی پہلی امت میں سے ہوں
13:16اور آپ کے ہاتھ پر
13:18آپ کی آمت سے پہلے بیعت کرتا ہوں
13:20میں گواہی دیتا ہوں
13:22کہ اللہ ایک ہے
13:23اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں
13:26ناظرین
13:27یہ وہ خوشنصیب بادشاہ تھا
13:29جس نے ایک ہزار سال قبل ہی
13:31حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لیا
13:34لیکن اس کی قوم
13:36اللہ کی وعدانیت قبول نہ کر سکی
13:39اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئی
13:41بادشاہوں نے توہید کی دعوت دی
13:44لیکن ان کی قوم نے سرکشی اور کفر کا راستہ اپنایا
13:47جس کے سبب وہ ہلاک ہو گئی
13:50قرآن مجید میں قومِ طبع کے انجام کا ذکر
13:53اسی اصول کی تصدیق کرتا ہے
13:55قومِ طبع ایک عظیم
13:57طاقتور اور ترقی یافتہ قوم تھی
14:00لیکن ان کے دلوں میں شنبر
14:02دنیا پرستی
14:03اور اللہ کے احکام سے نافرمانی کے ربحانات
14:07پروان چردے
14:08شرک و بدپرستی نے
14:10انہیں اللہ کی وعدانیت سے دور کر دیا
14:12اور انبیاء کی تعلیمات کو رد کیا
14:15ظلم و زیادتی
14:17ان کے حکمرانوں اور اشرافیہ نے
14:19عدل و انصاف کا دامن چھوڑ دیا
14:21اور آخرکار اللہ کے احکام سے انحراف
14:25ان کی ہلاکت کا سبب بنا
14:27ناظرین
14:28قومِ طبع کے افراد
14:29زمین پر فساد پھیلانے لگے
14:31معاشرتی برائیاں عام ہو گئیں
14:34اور اخلاق و اقدار پامال ہونے لگی
14:36اپنی ترقی اور عیش و عشرت میں مست ہو کر
14:40انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی
14:42اور ان کا غلط استعمال کیا
14:45ان کے عمال کی وجہ سے
14:47اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا
14:49قرآنِ مجید نے قومِ طبع کا ذکر
14:52ان اقوام کے ساتھ آیا ہے
14:54جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا
14:56جیسے قومِ آد
14:58قومِ سمود
14:59اور قومِ لوت
15:00قومِ طبع کی نافرمانی
15:02اور ان پر آنے والے عذاب کا واقعہ
15:05تمام انسانوں کے لیے عبرت کا سبب ہے
15:07قومِ طبع کی سب سے بڑی غلطی
15:10توہید سے انحراف تھا
15:12اور یہ سبق ہمیں دیتا ہے
15:14کہ اللہ کی عبادت اور اطاعت ہی نجات کا راستہ ہے
15:17ظلم و زیادتی
15:19کسی بھی قوم کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے
15:23ناظرین
15:23قومِ طبع کی داستان
15:25ایک اور واضح پیغام بھی دیتی ہے
15:27کہ دنیاوی ترقی
15:29علم اور حکمت
15:30انسان کو تب تک فائدہ پہنچا سکتے ہیں
15:33جب تک وہ اللہ کے احکام پر عمل کرے
15:35ایک قوم
15:37اپنے وقت کی سب سے شاندار سلطنتوں میں سے تھی
15:39لیکن اللہ کے دین سے انحراف نے
15:42انہیں ہلاکت کے دہانے پر پہنچا دیا
15:45یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے
15:47کہ اللہ کی نافرمانی کا انجام
15:49ہمیشہ تباہی ہے
15:51چاہے قوم کتنی ہی طاقتور
15:53اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو
15:55آج امت مسلمہ کے لیے یہ سبق ہے
15:58کہ وہ اپنے آمال کا محاسبہ کرے
16:00اور اللہ کی اطاعت کرے
16:02اللہ کے احکامات کی پیروی
16:04اور دین اسلام پر عمل ہی وہ راستہ ہے
16:07جو ہمیں دنیا اور آخرت میں
16:09کامیابی عطا کر سکتا ہے
16:10تاریخِ عالم پر نظر ڈالیں
16:13تو معلوم ہوتا ہے
16:14کہ قوموں کے زوال کا بنیادی سبب
16:16اللہ کی نافرمانی
16:18اور پیغمبروں کی دعوت کو جھٹلانا تھا
16:21اللہ کسی قوم کو
16:23یک دم زوال پذیر نہیں کرتا
16:25بلکہ پہلے ان کے پاس
16:26اپنے بندوں کو بھیجتا
16:27تاکہ وہ نصیحت کریں
16:29لیکن جب قوم نے نصیحت کو رد کر دیا
16:32اور اپنی من چاہی زندگی بسر کی
16:34تو اللہ نے ان کو
16:36مختلف طریقوں سے ہلاک کیا
16:38ان اقوام پر جتنے بھی عذاب آئے
16:41وہ سب ان کی نافرمانی کی وجہ سے آئے
16:43چاہے وہ نافرمانی کاروباری معاملات میں ہوں
16:46آپس کے تعلقات میں
16:48یا عبادت میں
16:49اللہ تعالیٰ نے
16:51ان کی نافرمانی کو قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے
16:55عبرت بنا دیا
16:56آج بھی دنیا میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں
16:59جہاں ان کے آثار نمائع ہیں
17:01اور جدید سائنس بھی
17:03ان عذابات کو تصدیق کر چکی ہے
17:05جن باتوں کی وجہ سے
17:07وہ عذاب خداوندی کی لپیٹ میں آئے
17:10وہی چیزیں آج ہمارے معاشرے میں بھی
17:13دو ہزار تئیس نظر آتی ہیں
17:15جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
17:18اللہ سے دعا فرمائی
17:20اے اللہ
17:21میری قوم کو ہدایت دے
17:23اور ان کو پچھلی قوموں کے عذاب سے محفوظ رکھ
17:26حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا سے
17:30آج ہم پچھلی قوموں کے عذاب سے محفوظ ہیں
17:33اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
17:35کہ وہ ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے
17:38بے پناہ محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے
17:41ان کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کی توفیق دے
17:45اور بروز قیامت
17:47حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
17:50ہمیں جنت میں داخل کرے
17:51آمین
17:52موسیقی
17:53موسیقی
Comments

Recommended