- 13 hours ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.
Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.
In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.
We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.
This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.
By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.
Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.
In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.
We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.
This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.
By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.
Category
📚
LearningTranscript
00:00محترم دوستو آج کی ویڈیو میں ہم ایک نہایت دلچسپ اور روحانی سفر پر آپ کو لے کر جائیں گے
00:06جہاں ہم جانیں گے روح زمین پر عبادت کے لیے سب سے پہلا اور پاک گھر یعنی خانہ کعبہ
00:13کب اور کس طرح تعمیر ہوا
00:15سب سے پہلے کس نے اس کی بنیاد رکھی اور پہلا تواف کس نے کیا
00:20کون کون سے عظیم انبیاء کرام علیہ السلام اس مقدس مکان کی تعمیر میں شامل ہوئے
00:26آج تک خانہ کعبہ کتنی مرتبہ تعمیر ہوا
00:29موجودہ تعمیر کس عظیم شخصیت کے دور میں مکمل ہوئی
00:33سب سے پہلے اس پر پردہ کس بادشاہ نے چڑھایا
00:37اور خانہ کعبہ کے پردوں کو آگ کس نے لگائی
00:40سونے کا پہلا دروازہ کس نے نسب کروایا
00:43اس ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیں
00:46تاکہ آپ ہر تاریخی اور مستند حقیقت سے مستفید ہو سکیں
00:50اور خانہ کعبہ کی عظمت، شان اور شاندار تاریخ کو پوری طرح سمجھ سکیں
00:57یقیناً یہ معلومات آپ کے لئے بہت دلچسپ اور روحانی فوائد کا باعث ہوں گی
01:02معزز ناظرین
01:03سب سے پہلے خانہ کعبہ کی تعمیر کی سعادت فرشتوں کو نصیب ہوئی
01:08ایک شخص نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے پوچھا
01:12کہ بیت اللہ کا تواف کب سے شروع ہوا
01:14آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
01:17کہ جب اللہ تعالی نے فرشتوں کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کرنے کا حکم دیا
01:22تو فرشتوں نے ارز کیا
01:24کہ کیا آپ ایسی مخلوق کو خلیفہ بنائیں گے
01:27جو زمین میں فساد پھیلا سکتی ہے
01:29اور خون بہا سکتی ہے
01:31جبکہ ہم تو ہمیشہ آپ کی تذبیح اور تقدیس کرتے ہیں
01:34اللہ تعالی نے فرمایا
01:36کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے
01:39اس پر فرشتوں کو شدید شرمندگی ہوئی
01:42اور انہوں نے حالت زاری میں
01:44عرش الہی کا تین مرتبہ تباف کیا
01:47اللہ تعالی نے ان پر رحمت فرماتے ہوئے
01:51عرش کے نیچے بیت المامور قائم کیا
01:53اور حکم دیا
01:54کہ تم اس کا روزانہ تواف کیا کرو
01:57جس میں ستر ہزار فرشتے شامل ہوتے ہیں
02:00اور جو ایک بار تواف کر لیتا ہے
02:02اسے دوبارہ کی باری نہیں ملتی
02:04اس کے بعد
02:06اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا
02:08کہ وہ زمین پر جائیں
02:10اور بیت اللہ کی مانند
02:12اور اسی پیمانے کے مطابق میرا گھر تعمیر کریں
02:15یوں سب سے پہلے بیت اللہ کی بنیادیں فرشتوں نے رکھی
02:19اور تعمیر بھی کی
02:20بعد ازاں حضرت آدم علیہ السلام نے
02:23انہی بنیادوں پر خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی
02:27حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
02:31کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر اتارا
02:36تو ان کا قد اتنا طویل تھا
02:38کہ سر آسمان سے لگ رہا تھا
02:40اور پاؤں زمین پر تھے
02:42اور وہ فرشتوں کی عبادت کی آوازیں سنتے تھے
02:45خوف خدا کے سبب
02:47حضرت آدم علیہ السلام لرزتے
02:49اور کانپتے رہتے
02:50چنانچہ اللہ تعالی نے ان کا قد کم کر کے
02:53ساٹھ ہاتھ کر دیا
02:56حضرت آدم علیہ السلام نے
02:57اللہ تعالی سے عرض کیا
02:59یا اللہ
03:00اب مجھے فرشتوں کی عبادت کی آوازیں کیوں سنائی نہیں دیتی
03:04اللہ تعالی نے فرمایا
03:06اے آدم
03:08تم اپنے آمال کی وجہ سے
03:10اس نعمت سے محروم ہو گئے ہو
03:12پھر اللہ تعالی نے حکم دیا
03:14کہ زمین پر میرا ایک گھر تعمیر کرو
03:17اس کے گرد تواف کرو
03:19اور مجھے یاد رکھو
03:20بلکل اسی طرح
03:22جیسے تم نے فرشتوں کو میرے عرش کے گرد تواف کرتے دیکھا تھا
03:26حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا
03:29اے میرے رب
03:30میں یہ کام کیسے انجام دوں
03:32نہ میں اس جگہ سے واقف ہوں
03:35اور نہ ہی میرے پاس اتنی قوت ہے
03:38اللہ تعالی نے پھر ایک فرشتہ مقرر فرمایا
03:41جو انہیں مغرب کی سمت لے گیا
03:43حضرت آدم علیہ السلام
03:45جس باغ کے پاس سے گزرتے
03:47اور جو انہیں پسند آتا
03:49وہ فرماتے
03:50یہیں مجھے روک دو
03:52مگر فرشتہ کہتا
03:54آپ کی منزل آگے ہے
03:56یوں وہ سلسلہ وار آگے بڑھتے رہے
03:59یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے
04:02راستے میں جن مقامات پر حضرت آدم علیہ السلام رکے
04:05وہ بعد میں آبادیاں بن گئیں
04:07اور جن مقامات کو چھوڑ دیا گیا
04:10وہ جنگلات اور بیابان بن گئے
04:12حضرت آدم علیہ السلام نے
04:15خانہ کعبہ کی تعمیر کے لیے
04:17پانچ مختلف پہاڑوں کے پتھر استعمال کیے
04:20کوہ تور سینہ
04:22تور زیتون
04:23کوہ لبنان
04:25کوہ جودی
04:26اور بنیاد میں جبل حرا کا پتھر شامل کیا
04:29جب تعمیر مکمل ہو گئی
04:32تو وہ فرشتہ حضرت آدم علیہ السلام کو
04:35میدان عرفات کی طرف لے گیا
04:37اور انہیں حج کے تمام مقامات دکھائے
04:40جہاں آج بھی لوگ
04:42مناسقِ حج ادا کرتے ہیں
04:44اور قیامت تک کرتے رہیں گے
04:46اس کے بعد انہیں واپس مکہ مکرمہ لائیا گیا
04:49پھر حضرت آدم علیہ السلام نے
04:52ایک ہفتہ تک بیت اللہ کا تواف کیا
04:54اور اس کے بعد
04:55سرزمینِ ہند کی طرف روانہ ہو گئے
04:58جہاں بوز نامی پہاڑی پر
05:00آپ علیہ السلام کی وفات ہوئی
05:03ناظرینِ محترم
05:04وقت گزرتا گیا
05:06پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو
05:09مبوز فرمایا
05:09مگر قومِ نوح علیہ السلام نے
05:12پیغمبرِ خدا کی بات نہ مانی
05:14تو اللہ تعالیٰ نے
05:15انہیں ایک عظیم طوفان میں غرق کر دیا
05:18حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں
05:21طوفانِ عظیم کے سبب
05:23خانہِ کعبہ ایک مرتبہ منحدم ہو کر مٹ گیا
05:26مگر حجرِ اسوت کو
05:28حضرت جبرائیل علیہ السلام نے
05:30حفاظت کے ساتھ
05:31جبلِ ابو قبیس میں رکھ دیا
05:33جو خانہِ کعبہ کے قریب باقے ہے
05:36طوفان کے ختم ہونے کے بعد
05:38این خانہِ کعبہ کے مقام پر
05:40سرخ رنگ کا ایک ٹیلہ نمائی ہو گیا
05:43جس پر سیلاب کا پانی نہیں چڑھا تھا
05:46اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے
05:47حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی
05:50اس کے گرد تواف کرنے لگی
05:51اسی وجہ سے لوگوں کو معلوم ہو گیا
05:54کہ یہی بیت اللہ کی جگہ ہے
05:56اگرچہ اس کی بنیادیں سے
05:58ظاہر نہ تھی
05:59مگر جو بھی شخص وہاں کھڑے ہو کر دعا کرتا
06:02اس کی دعا قبول ہوتی تھی
06:04اور اسی سبب
06:06لوگوں کا یقین کامل ہو گیا
06:08کہ یہی خانہِ کعبہ کا
06:10اصل مقام ہے
06:12جہاں اللہ تعالیٰ کا مقدس گھر موجود تھا
06:15یہ مقام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
06:17زمانے تک
06:18اسی حالت میں رہا
06:20ناظرینِ محترم
06:21تیسری مرتبہ خانہِ کعبہ کی تعمیر
06:24حضرت ابراہیم علیہ السلام
06:26اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمائی
06:29یہ اس طرح
06:30کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر
06:33نوے برس ہوئی
06:34تو اللہ تعالیٰ نے انہیں
06:36ایک فرزندِ ارجمند عطا فرمایا
06:38جن کا نام
06:39اسماعیل علیہ السلام رکھا گیا
06:41یہی وہ فرزند ہیں
06:42جنہوں نے بڑے ہو کر
06:44اپنے والد
06:45حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مل کر
06:48بیت اللہ شریف کی تعمیر کی
06:50حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
06:52تعمیرِ کعبہ سے پہلے
06:54حکمِ الٰہی کے مطابق
06:56حضرت اسماعیل علیہ السلام
06:57اور حضرت حاضرہ علیہ السلام کو
07:00بیت اللہ کے قریب چھوڑا تھا
07:02جہاں اس وقت
07:03صرف ایک ٹیلا سا نظر آتا تھا
07:06جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
07:08بیت اللہ کی تعمیر کا حکم ملا
07:10تو آپ مکہ مکرمہ آئے
07:12اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے
07:15ملاقات کی اور انہیں بتایا
07:17کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے
07:19کہ اس کے گھر کو تعمیر کرو
07:21حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
07:23عرض کیا کہ آپ کو جو حکم
07:25ملا ہے اس کی تعمیر کیجئے
07:27اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ
07:29نے قرآن مجید میں فرمایا ہے
07:31کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام
07:33اور اسماعیل علیہ السلام کو
07:35تعقید فرمائی کہ دونوں مل کر
07:37میرے گھر کو تواف کرنے والوں
07:39اعتقاف کرنے والوں
07:40رکو اور سجدہ کرنے والوں کے لیے
07:43پاک و صاف رکھو
07:44چنانچہ یہ باپ بیٹا
07:46اس مقام پر پہنچے
07:48جہاں حضرت حاجرہ علیہ السلام نے
07:50حضرت جبرائیل علیہ السلام کے بتانے پر
07:53ایک جھوپری بنائی ہوئی تھی
07:54اس وقت دونوں کو
07:56بیت اللہ کی بنیادوں کا علم نہ تھا
07:58پھر اللہ تعالیٰ نے
08:00ایک خاص ہوا بھیجی
08:01جسے ریہن نفخوچ کہا جاتا ہے
08:04اس نے اس مقام کو جھاڑوں کی طرح
08:07صاف کر دیا
08:07یہاں تک کہ بیت اللہ کی بنیادیں ظاہر ہو گئیں
08:13کہ بیٹا بنیادیں کھوڑنے میں مصروف ہو گئے
08:15اور اسی پہلی بنیاد پر
08:17خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی
08:19جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے
08:21قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے
08:23اور اس وقت کو یاد کرو
08:25جب ابراہیم علیہ السلام
08:27اور اسماعیل علیہ السلام
08:29خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے
08:31حضرت ابراہیم علیہ السلام
08:34اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
08:36نے مل کر بیت اللہ کی دیواروں
08:38کو بلند کیا
08:38حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر کا کام کرتے
08:42اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لا کر دیتے تھے
08:46اور دونوں کی زبان پر یہ دعا جاری رہتی تھی
08:48اے ہمارے پروردگار ہم سے یہ خدمت قبول فرما
08:52ناظرین محترم جب دیواریں بلند ہو گئیں
08:56اور حضرت ابراہیم علیہ السلام زمین پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے سے قاسر ہو گئے
09:01تو ایک پتھر رکھ کر اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے
09:05اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ اطاعت اور محنت
09:10اس قدر پسند آئی
09:11کہ اللہ کے حکم سے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اوپر اٹھنے کی ضرورت ہوتی
09:17تو وہ پتھر خود بخود بلند ہو جاتا
09:19اور جب نیچے اترنے کی ضرورت محسوس ہوتی
09:22تو وہی پتھر اللہ کے حکم سے نیچے ہو جاتا
09:25اللہ تعالیٰ نے اپنے اس برگزیدہ بندے کے پاؤں کے نشانات
09:30اسی پتھر پر محفوظ فرما دیئے
09:33تاکہ یہ بعد میں آنے والے اہل ایمان کے لیے ایک یادگار بن جائیں
09:37اسی پتھر کو مقام ابراہیم کہا جاتا ہے
09:40جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا
09:44اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لو
09:47محترم دوستو
09:49حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
09:53بیت اللہ شریف کی تعمیر پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے کی
09:56تور سینہ، تور زیتون، جبل لبنان، جبل جودی اور جبل ہرا
10:03یہی وہ پانچ پہاڑ ہیں
10:05جن کے پتھروں سے حضرت آدم علیہ السلام نے بھی خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی
10:10تعمیر کے دوران جب حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:13حجر اسوت کے مقام پر پہنچے
10:15تو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا
10:18جاؤ، ایک پتھر تلاش کر کے لاؤ
10:21جسے یہاں نسب کیا جائے
10:22تاکہ لوگوں کے لئے تواف شروع کرنے کی علامت بن جائے
10:26لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام
10:28تلاش کے باوجود ایسا پتھر نہ لاسکے
10:31جب واپس آئے
10:33تو دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس
10:36ایک ایسا پتھر موجود ہے
10:37جس کی روشنی چاروں طرف پھیل رہی تھی
10:40حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ارز کیا
10:43ابباجان یہ پتھر کہاں سے آیا
10:46حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
10:48اسے وہ لایا ہے جس نے مجھے
10:51تجھ پر بھروسہ کرنے سے بے نیاز کر دیا
10:53یعنی حضرت جبراہیل علیہ السلام
10:56یہ پتھر لے کر آئے ہیں
10:58محترم دوستو
10:59یہ بات یاد رکھئے
11:01کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
11:03خانہ کعبہ کی جو تعمیر کی تھی
11:05اس میں چھت نہیں تھی
11:06اور اس کا دروازہ زمین کی سطح کے برابر تھا
11:09حضر اسود اس قدر سفید تھا
11:12کہ اس کی روشنی مشرق سے مغرب
11:14اور شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی تھی
11:16بعد نے اس کے سیاہ ہونے کی وجہ یہ بنی
11:20کہ دور جاہلیت اور دور اسلام میں
11:22یہ بارہاں ناپاک ہاتھوں سے چھوا گیا
11:25محترم دوستو
11:26حضر اسود کے بارے میں آتا ہے
11:29کہ یہ جنت سے لایا گیا پتھر ہے
11:31اس کی فضیلت ابتدا ہی سے تھی
11:33لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:37نے اسے بوسا دیا
11:38تو اس کی عظمت اور قدر
11:40چاروں طرف نمائی ہو گئی
11:41بلکہ ایک مرتبہ امیر المومنین
11:44حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
11:46تواف کر رہے تھے
11:48آپ رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسا دیا
11:51اور فرمایا
11:52اے حجر اسود
11:54عمر نے تجھے اس لیے نہیں چوما
11:56کہ تُو جنت سے آیا ہوا پتھر ہے
11:58بلکہ عمر نے تجھے اس لیے بوسا دیا ہے
12:01کہ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
12:03نے تجھے بوسا دیا ہے
12:05محترم دوستو
12:06چوتھی مرتبہ خانہ کعبہ کی تعمیر
12:09پرائش مکہ نے اس وجہ سے کی
12:11کہ ایک عورت نے خانہ کعبہ کو دھونی دینا چاہی
12:14تو ایک چنگاری غلاف کعبہ پر گر گئی
12:17جس سے ہر طرف آگ لگ گئی
12:19دیواریں پھٹ گئیں
12:21اور کمزور ہو گئیں
12:22کچھ ہی عرصے بعد مکہ مکرمہ میں شدید سیلاب آیا
12:26اہل مکہ نے حفاظت کے لیے بند بنا رکھا تھا
12:29مگر سیلاب اس قدر طاقتور تھا
12:32کہ وہ بند بھی ٹوٹ گیا
12:33اور سیلاب کا پانی
12:35حرم کعبہ میں داخل ہو گیا
12:37جس کے باعث خانہ کعبہ کی دیواروں میں شگاف پڑ گئے
12:40اور دیواریں منحدم ہونے لگیں
12:42چنانچہ کعبہ شریف کی
12:44اسرنو تعمیر کا ارادہ کیا گیا
12:46مگر ایک مسئلہ درپیش تھا
12:49کیونکہ کعبہ کے اندر ایک کونہ تھا
12:51جس میں لوگ نظرانے ڈالتے تھے
12:53اسے کعبہ کا خزانہ کہا جاتا تھا
12:56ایک مرتبہ ایک چور نے اس خزانے کو چورانے کی کوشش کی
13:00مگر وہ اسی کونے میں مر گیا
13:02اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خزانے کی حفاظت کے لیے
13:06ایک عظیم سامپ مقرر کر دیا
13:08جو ہر وقت اس کونے کی منیر پر بیٹھا رہتا تھا
13:11لوگ اس کے خوف سے تریب نہ جاتے تھے
13:15پھر اللہ تعالیٰ نے ایک پرندہ بھیجا
13:17جس نے اس سامپ کو اٹھا کر دور لے جا ڈالا
13:20اب قریش مکہ خوش ہو گئے
13:22اور انہوں نے سمجھا کہ اس کام میں اللہ کی رضا شامل ہے
13:25چنانچہ فیصلہ کیا گیا
13:27کہ کعبہ کی دیواریں پہلے سے بلند کی جائیں
13:30اور دروازہ بھی اونچہ رکھا جائیں
13:32تاکہ ہر شخص آسانی سے اندر داخل نہ ہو سکے
13:36تعمیر کعبہ میں تمام قریشی قبائل نے حصہ لیا
13:39اور ہر قبیلے نے الگ الگ پتھر جمع کیے
13:42حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی
13:45اپنی مبارک گردن پر پتھر اٹھا کر لاتے رہے
13:49جب عمارت حجر اسود تک بلند ہو گئی
13:52تو حجر اسود کو نصب کرنے پر
13:54قبائل کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو گیا
13:57یہاں تک کہ تلواریں کھینچ لی گئیں
14:03اس وقت قریش کے سب سے بزرگ شخص
14:05مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھے
14:08انہوں نے تجویز دی
14:10کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے مسجد حرام میں داخل
14:14اسی کو فیصلہ مان لیا جائے
14:15سب اس پر متفق ہو گئے
14:17اگلے دن سب سے پہلے مسجد حرام میں داخل ہونے والے
14:20رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے
14:23سب پکار اٹھے کہ یہ امین ہیں
14:26ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں
14:28نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صورتحال دیکھی
14:32اور فرمایا
14:33میرے پاس ایک کپرہ لاؤ
14:35کپرہ لائے گیا
14:36تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے
14:40حجرِ اسود اس میں رکھا
14:42اور فرمایا
14:43ہر قبیلہ اس کپرے کا ایک کنارہ پکڑ لے
14:46پھر سب نے مل کر اسے اٹھایا
14:48جب حجرِ اسود اپنی جگہ کے قریب پہنچ گیا
14:51تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:54اپنے دست مبارک سے اسے
14:56اس کی جگہ نسب فرما دیا
14:58یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
15:01ایک بڑے فتنے کو
15:03حکمت، امن اور محبت کے ساتھ ختم فرما دیا
15:07پھر کئی سال گزرنے کے بعد
15:09ایک مرتبہ دوبارہ خانہِ کعبہ کو گرانے کا ارادہ کیا گیا
15:13کچھ یوں تھا
15:14کہ واقعہ کربلا کے بعد اہلِ حجاز نے
15:17حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو
15:20اپنا خلیفہ نامزت کر لیا
15:22مگر یزید ملعون نے
15:24انہیں متی بنانے کے لیے
15:26حسین بن نمیر کو سپہ سالار مقرر کر کے
15:29ایک بھاری لشکر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا
15:33اور یوں جنگ و جدال کا سلسلہ شروع ہو گیا
15:36اس نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
15:39کوہِ ابو قبیس پر منجنیق نسب کی
15:42اور بیتاللہ پر گندک
15:44اور دیگر آتشگیر مادے پھیکنے شروع کر دیئے
15:47جس کے نتیجے میں
15:49آتش زدگی سے بیتاللہ شریف کا غلاف
15:51اور رکنِ یمانی متاثر ہوا
15:54حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے
15:57تین دن استخارہ کرنے کے بعد
15:59خانہِ کعبہ کو زمین کے برابر گرا دیا
16:02اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک
16:05خدائی کروائی
16:06پھر انہی بنیادوں پر نئی تعمیر کروائی
16:09آپ رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی تعمیر چونے سے کروائی
16:13جو یمن سے منگوایا گیا تھا
16:15اور جب تعمیر مکمل ہو گئی
16:17تو آپ رضی اللہ عنہ نے
16:19اس کے اندر مشک بھروا دیا
16:21اور دیواروں پر باہر کی جانب سے بھی
16:24مشک کا لیپ کروایا
16:25پھر مصری کتان کا غلاف چڑھوایا گیا
16:28اس دن بہت سے غلام آزاد کیے گئے
16:31اور بکسرت اونٹ اور بکریاں زباہ کی گئیں
16:34حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ
16:38اور قریش کے بہت سے افراد
16:39ننگے پاؤں مسجدِ عائشہ پہنچے
16:42اور عمرے کا احرام باندھا
16:44شکر ادا کیا
16:45کہ اللہ تعالی نے انہیں ابراہیمی بنیادوں پر
16:48تعمیرِ کعبہ کی سعادت عطا فرمائی
16:51یوں پانچویں مرتبہ تعمیرِ کعبہ کا شرف
16:54حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا
16:58چھتی مرتبہ تعمیر
17:00عبدالملک بن مروان کے دور میں ہوئی
17:02جو بنو امیہ کا چشم و چراخ تھا
17:05اقتدار کی حوص نے اسے اس قدر بیچین کر دیا
17:08کہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو
17:12برداشت نہ کر سکا
17:14چنانچہ سن بہتر ہدری میں
17:16اس نے حجاج بن یوسف سقفی کو
17:18حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف روانہ کر دیا
17:23حجاج نے مکہ پہنچ کر محاصرہ کر لیا
17:26اور بیتاللہ شریف پر گولہ باری شروع کر دی
17:28جس سے خانہِ کعبہ کی دیواریں خستہ حال ہو گئیں
17:32اسی سال حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی
17:36حج اور زیارتِ بیتاللہ کے ارادے سے
17:39مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے
17:41حالات دیکھ کر انہوں نے حجاج کو پیغام بھیجا
17:44کہ اللہ کے بندوں کا خیال رکھا جائے
17:47جو دور دراز سے آئے ہیں
17:49اور انہیں توافِ بیتاللہ اور سیئے صفاہ و مروہ کا موقع دیا جائے
17:54حجاج اس بات سے متاثر ہوا اور گولہ باری بند کر دی
17:58حج کی ادائیگی کے بعد
18:00حجاج نے مکہ مکرمہ خالی کروا کے
18:02تعمیرِ کعبہ کا کام شروع کروایا
18:05اور خانہِ کعبہ کی بہت سی تبدیلیاں
18:07حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کے برخلاف کر دی گئیں
18:12بعد ازاں
18:14ولید بن عبدالملک کے دور میں
18:16یونِ مکہ مکرمہ کے گورنر
18:18خالد بن عبداللہ قصری کو
18:20تیس ہزار دینار بھیجے
18:22اس نے خانہِ کعبہ کے دروازے
18:24پرنالے اور اندرونی ستونوں پر
18:27سونے کے پترے چروا دیئے
18:29اور ولید بن عبدالملک
18:31وہ پہلے خلیفہ تھے
18:32جنہوں نے بیتاللہ میں سونے کا کام کروایا
18:35ساتویں اور آخری تعمیر کا شرف
18:38سلاتینِ آلِ عثمان میں سے
18:40سلطان مراد رابع بن سلطان احمد
18:43کو حاصل ہوا
18:43جب شدید سیلاب کے باعث
18:46خانہِ کعبہ کی شامی اور غربی دیواریں
18:48اور چھت کا کچھ حصہ گر گیا تھا
18:50تو سلطان مراد نے
18:52تعمیرِ کعبہ کا حکم دیا
18:54اور یہ تعمیر
18:55سن سولہ سو چالیس عیسوی میں مکمل ہوئی
18:58اسی طرز پر
19:00جس پر حجاج نے تعمیر کروائی تھی
19:02اور سلطان مراد کی یہی تعمیر
19:05آج تک قائم ہے
19:06محترم لازرین
19:07خلیفہ حارون الرشید رحمت اللہ علیہ نے
19:11اپنے دور میں
19:12حضرت امام مالک رحمت اللہ علیہ سے
19:14فتوہ دریافت کیا
19:15کہ کیا میں خانہِ کعبہ کو مکمل منحدم کر کے
19:18دوبارہ آپ حبداللہ بن زبیر
19:21رضی اللہ عنہ کی بنیادوں پر
19:23تعمیر کر سکتا ہوں
19:24تو امام مالک رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
19:26ہرگز نہیں
19:27ایسا کرنے کی اجازت نہیں
19:30اسے بادشاہوں کا کھلونا نہ بناو
19:32کہ جب چاہے مسمار کریں
19:34اور جب چاہے تعمیر کریں
19:35یہ قیامت تک اسی طرح محفوظ رہے گا
19:38البتہ قرب قیامت
19:40یاجوج و ماجوج کے خروج کے بعد
19:42ایک سخت دل حبشی
19:44اس کی دیواروں پر حملہ کرے گا
19:46اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:49نے فرمایا
19:49کہ ایک پتلی پنڈلیوں والا حبشی
19:52خانہِ کعبہ کو مسمار کرے گا
19:54اس کی مکمل تفصیل
19:55ایک الگ ویڈیو میں بیان کی جائے گی
19:58ناظرینِ محترم
19:59چند سال قبل
20:01خانہِ کعبہ کا سونے کا دروازہ بنوانا
20:03سعودی حکومت کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا
20:06اور یہ سونے کا دروازہ
20:08پاکستانی کاریگروں کی نگرانی میں تیار ہوا
20:11سلطان مراد کی تعمیر ہی آخری تعمیر ہے
20:14جو آج تک اہلِ ایمان کی آنکھوں
20:17اور دلوں کو منور کر رہی ہے
20:19محترم دوستو
20:20فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے
20:23کہ مومن کا دل
20:25عرشِ الٰہی ہے
20:26مومن کا دل
20:27دراصل خانہِ کعبہ ہے
20:29جس کا اصل مسکن
20:31اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
20:32جب دل ہر طرح کی نفسانی خواہشات سے پاک ہو جائے
20:36تو وہ کعبہ بن جاتا ہے
20:38حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
20:41حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا
20:43اے عمر
20:44یقین جانو
20:46خانہِ کعبہ
20:47انسان کا دل ہے
20:48پس اصل حج
20:50دل کے کعبہ کا ہونا چاہیے
20:52حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارز کیا
20:55یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
20:58دل کے کعبہ کا حج کیسی کیا جاتا ہے
21:00آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
21:03انسان کا وجود
21:05ایک چار دیواری کی مانند ہے
21:07اگر اس چار دیواری سے شک
21:09وہم
21:10اور غیر اللہ کے پردے ہٹا دیے جائیں
21:12تو دل کے سہن میں
21:13اللہ تعالی کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے
21:16یہی حج کعبہ کا اصل مقصد ہے
21:18اللہ تعالی سے دعا ہے
21:20کہ وہ ہمیں حج بیت اللہ کی سعادت عطا فرمائے
21:23اور ہمیں خانہِ کعبہ
21:25اور روزہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے
21:29ناظرین
21:30آپ چلیں
21:31ایک اور موجزے کی طرف چلتے ہیں
21:34جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے
21:36حضرت عیسیٰ علیہ السلام
21:38اللہ کے محبوب نبی
21:40اور کرام ترین بندے تھے
21:42ان پر کئی عظیم موجزات ظاہر ہوئے
21:44جو قرآن وہ حدیث میں بیان ہوئے ہیں
21:46ان کا سب سے بڑا موجزہ یہ تھا
21:49کہ اللہ کے حکم سے
21:50وہ مردوں کو زندہ کرتے
21:52اور بیماروں کو شفاہ دیتے تھے
21:54ایک واقعہ جو قرآن میں بھی ذکر ہوا
21:57وہ یہ ہے
21:58کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
22:00ایک مردہ کو اللہ کی اجازت سے زندہ کیا
22:03جب لوگوں نے یہ موجزہ دیکھا
22:05تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں
22:07اور وہ فوراً ایمان لانے لگے
22:10یہ موجزہ صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا
22:14بلکہ لوگوں کو اللہ کی عظمت
22:16اور ایمان کی طرف راغب کرنے کے لیے تھا
22:18اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
22:21اندھوں کو بینائی عطا کی
22:23کورہیوں کو صاف کیا
22:25اور زمین و آسمان کی قدرت کے مظاہر
22:28لوگوں کو دکھائے
22:29ان کا ہر موجزہ اللہ کی اجازت سے تھا
22:32تاکہ لوگ ان کی نبوت کی تصدیق کریں
22:35اور اللہ کی وعدانیت پر ایمان لائیں
22:37ایک اور اہم موجزہ
22:39حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ تھا
22:41کہ وہ چھوٹے بچے
22:43بیمار بزرگ
22:44اور کمزور لوگوں کی حفاظت
22:46اور شفا کے لیے دعا کرتے
22:48اور اللہ کے حکم سے
22:49ان کی بیماری دور ہو جاتی
22:51ان کے ہاتھ لگانے یا دعا کرنے سے
22:54بیمار شفا پا جاتے
22:56اور لوگ حیرت میں مبتلا ہو جاتے
22:58حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
23:00اللہ کی قدرت کو واضح کرنے کے لیے
23:03پرندے کو مٹی سے بنا کر
23:05زندہ کرنے کی بھی صلاحیت دی
23:07قرآن میں ذکر ہے
23:08کہ وہ اللہ کے حکم سے
23:10پرندہ کو مٹی سے بنا کر
23:11اس میں زندگی ڈالتے
23:13اور پھر اسے زندہ پرندہ کے طور پر چھوڑ دیتے
23:16یہ موجزہ
23:17لوگوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے تھا
23:20اور ظاہر کرتا ہے
23:21کہ اللہ کے بندے بھی
23:23اللہ کے حکم سے ہر چیز کر سکتے ہیں
23:25محترم دوستو
23:26خانہ کعبہ کی عظمت اور اس کی تاریخ
23:29ہمیں یہ سبق دیتی ہے
23:31کہ عبادت اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونا
23:34صرف ظاہری حرکات سے نہیں
23:36بلکہ دل کی صفائی
23:38خلوص اور اللہ کی رضا کی تلاش سے حاصل ہوتا ہے
23:42حضرت آدم علیہ السلام کی زمین پر آمد
23:45فرشتوں کے تواف کی کہانی
23:47اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
23:49و حضرت اسمائیل علیہ السلام کی محنت اور اطاعت
23:53ہمیں یہ سکھاتی ہے
23:55کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
23:57سبر، ہمت اور مستقل مزاجی
24:00بے حد ضروری ہے
24:01چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں
24:04جب حضرت آدم علیہ السلام نے
24:06پہلا بیت اللہ تعمیر کیا
24:08تو وہ نہ صرف ایک عبادتی مقام تھا
24:11بلکہ انسانی تاریخ میں
24:12اللہ کے قرب کا مظہر بھی بن گیا
24:15اور یہ ہمیں یاد دلاتا ہے
24:17کہ اللہ کی ہدایت اور قرب کی تلاش میں
24:20ہر قدم اہمیت رکھتا ہے
24:21اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام
24:24اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
24:26کی تعمیر کی محنت اور اطاعت
24:29ہمیں یہ سکھاتی ہے
24:30کہ والدین کی ہدایت
24:32اللہ کی فرمان برداری اور سچی نیت
24:35ہر مشکل کام کو آسان بنا دیتی ہے
24:37کعبہ کے پردے
24:39سونے کا دروازہ
24:41اور مختلف ادوار میں
24:42اس کی مرمت و تزین
24:44یہ ظاہر کرتے ہیں
24:45کہ اللہ کی عبادت کے مقامات کی حفاظت
24:48اور احترام
24:49انسانوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے
24:51کہ وہ اپنے دلوں کو بھی
24:53اسی پاکیزگی سے سواریں
24:55اور اپنے آمال کو خالص رکھیں
24:57اسی طرح
24:59حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے موجزات
25:01ہمیں یاد دلاتے ہیں
25:02کہ اللہ کی قدرت
25:04ہر بیماری
25:05اندھیرے
25:06موت
25:06اور مشکلات پر غالب ہے
25:08اور سچے ایمان کے ساتھ
25:10دعا اور نیت کرنے والے انسان کو
25:13اللہ تعالیٰ
25:14ہر آزمائش میں کامیابی عطا فرماتے ہیں
25:17وہ مردے زندہ کرتے
25:19بیماروں کو شفا دیتے
25:21اندھوں کو بینائی عطا کرتے
25:23اور اپنی دعا سے زمین
25:24وہ آسمان کی قدرت کے مظاہر
25:26لوگوں کے سامنے لاتے تھے
25:28تاکہ لوگ
25:29اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائیں
25:31اور سچائی کے راستے پر چلیں
25:33یہ تمام کہانیاں اور موجزات
25:36ہمیں یہ سبق دیتے ہیں
25:38کہ انسان کو ہر حال میں
25:40اللہ کی رضا
25:41اور قرب کی طلب رکھنی چاہیے
25:43اپنے دل و دماغ کو
25:45ہر قسم کے شک خواہشات
25:47اور نفسانی خواہشات سے پاک رکھنا چاہیے
25:50کیونکہ دل کی پاکیزگی
25:52اور نیت کی خلوسیت ہی
25:54اصل عبادت ہے
25:56ناظرین محترم
25:57ہمیں یہ سمجھنا ہوگا
25:59کہ اللہ تعالیٰ کے حضور
26:00ہر شخص کا ایمان
26:02سبر
26:03اطاعت
26:03اور خلوس
26:04قابل قدر ہے
26:05اور تاریخ کے ان واقعات سے
26:08ہمیں یہ سبق ملتا ہے
26:09کہ انسان اپنے آمال کے ذریعے
26:11نہ صرف دنیا میں
26:12بلکہ آخرت میں بھی عظمت
26:14اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے
26:16بشرتی کہ
26:18وہ اللہ کی ہدایت پر چلیں
26:20اور دل سے اس کے قرب کی تلاش کریں
26:22اسی لیے
26:23آج بھی خانہ کعبہ کی حرمت
26:26اس کی عظمت
26:27اور انبیاء کرام علیہ السلام کے موجزات
26:30ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں
26:32تاکہ ہم
26:33اپنی زندگیوں کو
26:35اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں
26:37اور ہر کام میں
26:38سبر
26:38ہمت
26:39اور ایمان کے ساتھ
26:41آگے بڑھیں
26:41اور یہ جان لیں
26:43کہ حقیقی عبادت
26:44صرف ان آمال سے حاصل نہیں ہوتی
26:47جو ظاہری طور پر دکھائی دیں
26:49بلکہ دل کی صفائی
26:51خلوص
26:51اور اللہ کے ساتھ
26:53تعلق ہی
26:53اصل عبادت ہے
26:54اور یہی سبق
26:56ہمیں ہر دور میں
26:57یاد رکھنا چاہیے
26:58تاکہ ہمارا ایمان
27:00مضبوط ہو
27:01اور زندگی کے
27:02ہر امتحان میں
27:03ہم کامیاب رہیں
Comments