Skip to playerSkip to main content
  • 8 minutes ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00یہ کہانی ہے ایک آدمی اور اس کی تین بیٹیوں کی ہے
00:02اس کی بیوی کچھ سال پہلے وفات پا چکی تھی
00:05اس کی تینوں بیٹیاں بہت خوبصورت تھی
00:07مگر سب سے چھوٹی بیٹی اپنی بہنوں میں سب سے زیادہ سمجھدار تھی
00:12اس کا نام زینب تھا
00:14کرم دین اپنی تینوں بیٹیوں سے بہت پیار کرتا تھا
00:17اس نے کبھی اپنی بیٹیوں کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی
00:21وہ اپنی بیٹیوں کی ہر خواہش پوری کرتا تھا
00:24اب کرم دین کی بیٹیاں بڑی ہو چکی تھی اور اپنے پتا کے لیے خود سے کھانا بنانے لگی تھی
00:29جب کرم دین کام کے سلسلے میں باہر جاتا
00:32تو اس کی بیٹیاں اس کے لیے کھانا تیار کر کے ساتھ دے دیتی
00:35اسی گاؤں میں ایک بیوہ عورت بھی رہتی تھی جس کی ایک بیٹی تھی
00:39اس بیوہ کی عادت تھی کہ وہ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ مانگنے کے لیے چلی جاتی تھی
00:44جب کرم دین کی بیٹیاں اپنے پتا کے لیے کھانا بناتی
00:48تو وہ عورت اکثر اسی سمیں ان کے گھر آگ مانگنے کے لیے آ جاتی
00:52لیکن کرم دین کی سب سے چھوٹی بیٹی زینب کو وہ بیوہ عورت بلکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی
00:58جب بھی وہ عورت ان کے گھر آتی زینب اپنی بہنوں سے کہتی
01:03یہ عورت ہمارے گھر کیوں آتی ہے یہ عورت بلکل بھی اچھی نہیں ہے
01:07بڑی دونوں بہنیں زینب کو سمجھاتی
01:10دیکھو یہ بیوہ عورت ہے اور گریب ہے
01:13اگر ہمارے گھر سے آگ لے جاتی ہے تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے
01:17زینب اپنی بہنوں کی باتیں سن کر چپ ہو جاتی
01:20لیکن وہ کہتی دیکھ لینا یہ عورت ایک نہ ایک دن ہم سب کے لیے مصیبت کھڑی کرے گی
01:26یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا
01:29وہ عورت روز ان کے گھر سے آگ لینے آتی اور موقع پا کر کرم دین کے کھانے میں راکھ ملا دیتی
01:34کرم دین نے جب اپنے کھانے میں خرابی محسوس کی
01:37تو اس نے سوچا کہ اس کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں کھانا بناتی ہیں
01:41اس لیے ان سے کوئی گلتی ہو جاتی ہوگی
01:43وہ اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتا تھا
01:47اور یہ بات سمجھ نہیں پا رہا تھا
01:49کہ اس کی بیٹیاں اس کا کھانا کیوں خراب کر رہی ہیں
01:51پھر ایک دن کرم دین نے سوچا
01:54آج میں اپنی بیٹیوں پر نظر رکھوں گا
01:57آخر میری بیٹیاں اچانک سے میرے کھانے میں کیا ملانے لگی ہیں
02:00جب کرم دین کی بیٹیاں کھانا بنانے لگیں
02:04تو وہاں چھپ کر انہیں دیکھنے لگا
02:06اس کی بڑی بیٹی صاف پانی سے چاول دھو رہی تھی
02:09چھوٹی بیٹی سالن بنا رہی تھی
02:11اور سب سے چھوٹی بیٹی زینب برتن صاف کر رہی تھی
02:15جن برتنوں میں کھانا ڈالا جانا تھا
02:17کچھ ہی دیر میں کھانا پکڑ تیار ہو گیا
02:20کھانے میں کوئی خرابی نہیں تھی
02:22کرم دین پریشان تھا
02:24لیکن پھر اچانک اس نے جو دیکھا
02:26اس سے اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی
02:29اس نے دیکھا کہ وہی بیوہ عورت
02:31ان کے گھر آگ لینے آئی ہے
02:33اور اس کی چھوٹی بیٹی زینب
02:35اس سے بحث کر رہی ہے
02:36وہی اس کی دوسری بہنیں
02:38زینب کو سمجھا رہی تھی
02:40کوئی بات نہیں زینب
02:42یہ بیوہ عورت ہے
02:43اسے آگ لینے دو
02:44بڑی بہن نے کہا
02:45لیکن اس بیوہ عورت نے آگ لینے کے بہانے
02:48نظریں بچا کر کرم دین کے کھانے میں راکھ ملا دی
02:51اور سارا کھانا خراب کر دیا
02:53یہ دیکھ کر کرم دین کو بہت گصہ آیا
02:56دوسرے دن کرم دین نے
02:58اس بیوہ عورت کو اپنے گھر بلایا
03:00اور گصے میں پوچھا
03:02تمہاری حمد کیسے ہوئی
03:04میرا کھانا خراب کرنے کی
03:05وہ عورت بڑی ناٹکی انداز میں
03:08کرم دین کے پاس آئی
03:09اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے
03:12کہنے لگی
03:12ارے میں تو یہاں دیکھ رہی تھی
03:15کہ تم سچ میں اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے ہو
03:17یا نہیں
03:18کھانا خراب ہونے پر تم انہیں ڈانٹتے ہو
03:20یا نہیں
03:21لیکن تم تو بڑے اچھے انسان نکلے
03:24اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرنے والے
03:26تم نے تو میری چوری فوراں پکڑ دی
03:28اب مجھے یقین ہو گیا ہے
03:30کہ تم اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے ہو
03:32آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا
03:34کرم دین اس کی باتوں
03:36اور اس کے ناٹک پر یقین کرنے لگا
03:38کیونکہ وہاں بیوہ عورت خوبصورت تھی
03:40کرم دین اس کے ویوہار سے پرباوت ہو کر
03:43کچھ بھی کہنے کی بجائے
03:45اسے اپنی پتنی بنانے کا فیصلہ کر بیٹھا
03:47کچھ ہی دنوں میں
03:49اس نے اپنی بیٹیوں کی اجازت کے بینا
03:51اس بیوہ عورت سے شادی کر لی
03:53اور اسے اپنے گھر لے آیا
03:55شادی کے کچھ ہی دنوں بعد
03:57وہ بیوہ عورت کرم دین کی تینوں بیٹیوں سے
04:00سخت نفرت کرنے لگی
04:01وہ چاہتی تھی کہ کسی بھی طرح
04:04کرم دین کی بیٹیاں
04:05اس گھر سے نکل جائیں
04:06اس نے انہیں گھر سے نکالنے کے لیے
04:09ترہ ترہ کے منصوبے بنانے شروع کر دیا
04:11وہ سوچتی تھی کہ اگر بیٹیاں
04:13گھر سے چلی جائیں گی
04:14تو وہ اور اس کی اپنی بیٹی آرام سے
04:17عیش کی زندگی جی سکیں گی
04:19ساتھ ہی کرم دین کا پورا دھیان
04:21صرف اسی اور اس کی بیٹی پر رہے گا
04:24وہ جانتی تھی کہ کرم دین
04:26اپنی بیٹیوں سے بہت محبت کرتا ہے
04:28اور انہیں ذرا بھی دکھی نہیں دیکھ سکتا
04:30اس کی اپنی بیٹی ہمیشہ
04:32قیمتی کپڑے پہن کر گھومتی رہتی تھی
04:34جس سے وہ موڈرن لگتی تھی
04:36لیکن سوتیلی ماں نے
04:37کرم دین کی تینوں بیٹیوں کو
04:39گھر کا سارا کام کرنے پر مجبور کر دیا
04:42وہاں انہیں ٹھیک سے پیٹ بھر
04:44کھانا بھی نہیں دیتی تھی
04:45اور دھیرے دھیرے ان کی دوسری ضرورتیں
04:48بھی کم کر دی
04:49تینوں بہنیں ہر سمیے دکھی رہنے لگی
04:51ایک دن دو بڑی بہنیں رو رہی تھی
04:54تو زینب اپنی بڑی بہنوں کے پاس آئی
04:56اور کہنے لگی
04:57پیاری بہنوں آؤ ہم تینوں کہیں باہر چلیں
05:00تاکہ ہمارا دماغ فریش ہو جائے
05:02پھر وہ تینوں بہنیں گھر سے نکل گئیں
05:05اور چلتے چلتے ایک جنگل میں جا پہنچیں
05:07وہاں ایک گھنے درخت کے نیچے بیٹھ کر
05:10وہ رو رو کر اپنی ماں کو یاد کرنے لگیں
05:12اتنے میں ان کے پاس سے ایک
05:14اللہ والے بزرگ کا گزر ہوا
05:16زینب زمین پر بیٹھی رو رہی تھی
05:18اور کہہ رہی تھی
05:19اے میرے اللہ
05:21ہم مظلوم لڑکیاں ہیں
05:23اور بہت دکھی ہیں
05:24آپ دیکھ رہے ہیں نا
05:26کہ ہماری سوتیلی ماں
05:28ہم پر کتنا ظلم کرتی ہے
05:29ہم کتنے دنوں سے بھوکے ہیں
05:31اللہ والے بزرگ پاس ہی کھڑے ہو کر
05:34ان کی باتیں سن رہے تھے
05:35پھر وہ زینب سے مخاطب ہو کر بولے
05:37بیٹیوں
05:38تم تینوں یہاں
05:40اس درخت کے نیچے روز آتی ہو
05:41تمہیں کیا دکھ ہے
05:42تم مجھے بتا سکتی ہو
05:44زینب نے روتے ہوئے
05:46اللہ والے بزرگ کو
05:47سارا واقعہ سنا دیا
05:48ان کی بات سن کر
05:50بزرگ کو بہت دکھ ہوا
05:51وہ بولے
05:52بیٹی
05:53یہاں سے تھوڑی دوری پر
05:54میری جھوپڑی ہے
05:55میں وہاں رہتا ہوں
05:57اور عبادت کرتا ہوں
05:58میری جھوپڑی کے باہر
05:59ایک انار کا درخت لگا ہے
06:01جس پر پکے ہوئے
06:02انار لگے ہوئے ہیں
06:03تم جاؤ
06:04اور اس درخت سے
06:05جتنے مرضی
06:06انار توڑ کر کھالو
06:07یہ سن کر
06:08تینوں لڑکیاں
06:09خوشی خوشی
06:10اس جھوپڑی کے پاس پہنچیں
06:11انہوں نے دیکھا
06:12کہ درخت پر
06:13بہت ہی خوبصورت
06:14اور رسیلے انار لگے ہوئے ہیں
06:16تینوں نے
06:17ایک ایک انار توڑا
06:19اور بیٹھ کر
06:20مزے سے کھانے لگی
06:21جب ان کا پیٹ بھر گیا
06:22تو انہوں نے
06:23بزرگ کا شکریہ
06:24آدھا کیا
06:25اور گھر واپس آ گئی
06:26اس کے بعد
06:27جب ان کی سوتیلی ماں
06:29انہیں کھانا نہیں دیتی
06:30تو وہے روز جنگل جاتی
06:31اور ان اناروں کو
06:33کھا کر
06:33اپنا پیٹ بھر لیتی
06:34دھیرے دھیرے
06:35انہوں نے
06:36اپنی ماں کا دیا ہوا کھانا
06:37بلکل چھوڑ دیا
06:38اب ان کی سوتیلی ماں
06:40سوچنے لگی
06:40میں ان لڑکیوں کو
06:42کھانے کو کچھ نہیں دیتی
06:43میں ان سے اتنا کام کرواتی ہوں
06:45انہیں زلیل کرتی ہوں
06:47پھر بھی ان کے چہرے پر
06:48ایک عجیب سی چمک ہے
06:49ان میں سے کوئی بیمار بھی نہیں پڑتی
06:51بلکہ ان کی خوبصورتی
06:53بڑھتی جا رہی ہے
06:54اور میری بیٹی
06:55جسے میں اتنا اچھا کھانا دیتی ہوں
06:58وہ ان کے آگے
06:59بدصورت لگتی ہے
07:00دوسرے دن
07:01جب وہاں لڑکیاں
07:02جنگل کی طرف گئیں
07:03تو سوتیلی ماں نے
07:04اپنی بیٹی کو
07:05ان کا پیچھا کرنے کے لیے بھیج دیا
07:07جب تینوں لڑکیاں
07:08انار توڑ کر کھا رہی تھی
07:10تو زینب نے
07:11اپنی سوتیلی بہن کو دیکھ لیا
07:13اس نے باقی بہنوں سے کہا
07:15یہ لڑکی ہمارا پیچھا کر رہی ہے
07:17میں اسے یہاں سے بھگا دیتی ہوں
07:20پھر زینب نے
07:21اپنے ہاتھ میں پکڑا
07:22انار چھپا لیا اور بولی
07:23اگر یہ سب کچھ
07:25اپنی ماں کو بتا دے گی
07:26تو یہ ہمارے لیے
07:27پریشانی کا کارن بن سکتی ہے
07:29لیکن زینب کی دوسری بہنیں بولی
07:31زینب تم کیسی باتیں کر رہی ہو
07:34یہ بیچاری بے قصور ہے
07:36زینب کی بڑی بہنیں بولی
07:37ہماری سوتیلی ماں تنگ کرتی ہیں
07:40یہ تو ہمیں کچھ نہیں کہتی
07:42اس کے بعد تینوں بہنوں نے
07:43اپنی سوتیلی بہن کو پاس بٹھایا
07:45اور اسے ایک انار پکڑا دیا
07:47لیکن سوتیلی بہن نے انار نہیں کھایا
07:50اور جلدی سے اپنی ماں کے پاس جا کر کہنے لگی
07:52ماں
07:53وہ لڑکیاں بھوک ہی نہیں رہتی
07:55وہ تو جنگل میں ایک درخت سے انار توڑ کر کھا لیتی ہیں
07:59اسی درخت کے پاس ایک بزرگ بھی عبادت کر رہے تھے
08:02اور انہوں نے بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی
08:05یہ سن کر سوتیلی ماں کو بہت گصہ آیا
08:07وہ سوچنے لگی
08:09میں ان لڑکیوں کو انار کھانے سے کیسے روکوں
08:11پورا دن وہ گصے میں ہی رہی
08:14جب شام کو کرم دین کام سے گھر واپس آیا
08:17تو اس نے اپنی بیوی کو پریشان دیکھا
08:19وہ بولا تمہیں کیا پریشانی ہے
08:22کیوں اتنی اداس بیٹھی ہو
08:24وہ کہنے لگی
08:25میرے سر میں بہت تیز درد ہے
08:27اور یہ کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوگا
08:30کرم دین نے پوچھا
08:31تو پھر کیسے ٹھیک ہوگا
08:33وہ ترند بولی
08:34جنگل میں ایک انار کا درخت ہے
08:36جس پر لال لال انار لگے ہیں
08:38اگر تم اس درخت کو جڑ سے کٹوا دو
08:41اور اس کی جڑیں اُبال کر دوا بنا لو
08:43اور میرے ماتھے پر لگاؤ
08:45تو میرا سر درد ٹھیک ہو سکتا ہے
08:47کرم دین نے کہا
08:49بس اتنی سی بات
08:50پھر اس نے کچھ آدمیوں کو بلایا
08:52اور انہیں پیسے دے کر کہا
08:54جنگل میں ایک انار کا درخت ہے
08:57تم لوگ اسے جڑ سے اکھار پھینکو
08:59اور اس کی جڑیں مجھلا کر دو
09:01کچھ ہی گھنٹوں میں
09:03وہ آدمی اس درخت کو جڑ سے اکھار کر
09:05اس کی جڑیں کرم دین کے پاس لے آئے
09:07کرم دین نے جلدی سے آگ جلائی
09:09اور ان جڑوں سے دوا بنا کر
09:11اپنی بیوی کے ماتھے پر ملنے لگا
09:13تھوڑی ہی دیر میں اس کی بیوی کہنے لگی
09:16اب مجھے آرام ہے
09:17اگلے دن جب تینوں بہنیں جنگل گئیں
09:20تو انہوں نے دیکھا کہ انار کا درخت
09:22کسی نے جڑ سے اکھار دیا ہے
09:24یہ دیکھ کر وہ بہت پریشان ہو گئیں
09:26اور سوچنے لگیں
09:27اب ہم کیا کھائیں گے
09:29تب ہی وہ تینوں لڑکیاں وہیں بیٹھ کر رونے لگیں
09:32ان کے رونے کی آواز سن کر
09:34اللہ والے بزرگ
09:35اپنی جھوپڑی سے باہر آئے
09:37وہ سمجھ گئے کہ لڑکیاں کیوں رو رہی ہیں
09:40وہ بولے
09:41اس میں رونے کی کیا بات ہے
09:42اللہ تمہیں اس سے بھی بہتر کچھ دے گا
09:45پھر اللہ والے بزرگ نے اپنی انگلی سے
09:47زمین کی طرف اشارہ کیا
09:49اور وہاں پر ایک چھوٹی سی ندی بن گئی
09:52جس میں پانی کی جگہ دودھ بہ رہا تھا
09:54انہوں نے ان لڑکیوں کو
09:55ایک مٹی کا پیالہ دیا اور کہا
09:57جہاں سے جتنا مرضی ہو
09:59دودھ پیو
10:00لڑکیاں بہت خوش ہوئیں
10:02اور مٹی کے پیالے میں دودھ بھر کر پینے لگیں
10:05جب ان کا پیٹ بھر گیا
10:07تو وہ بزرگ کا شکریہ ادا کر کے
10:09گھر واپس آ گئیں
10:10اس کے بعد ان کا روز کا یہ معمول ہو گیا
10:13کہ وہ تالاب کے پاس جاتیں
10:14اور مٹی کے پیالے میں دودھ بھر کر پی لیتیں
10:17ان کی سوتیلی ماں ان کی صحت دیکھ کر حیران تھی
10:20اس نے اپنی بیٹی کو بلایا اور کہا
10:23میں نے تو جنگل سے انار کے درخت کا نام و نشان مٹا دیا تھا
10:27پھر بھی ان لڑکیوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا
10:30میں تو انہیں پیٹ بھر کھانا بھی نہیں دیتی
10:32آخر یہ ایسا کیا کھا رہی ہے
10:34جس سے ان کی صحت اتنی اچھی ہو رہی ہے
10:37اس نے اپنی بیٹی سے کہا
10:39ان کا پیچھا کرو اور پتہ لگاؤ کی یہ کیا کھاتی ہیں
10:42لڑکی پھر سے اپنی بہنوں کا پیچھا کرتے ہوئے جنگل میں گئی
10:46جب تینوں مٹی کے پیالے سے دودھ پی رہی تھی
10:49تو زینب نے پیچھے مڑ کر دیکھا
10:51اس نے اپنی سوتیلی بہن کو چپ چاپ کھڑا دیکھ کر باقی بہنوں سے کہا
10:55دیکھو یہ لڑکی پھر ہمارا پیچھا کر رہی ہے
10:58زینب نے اپنی بہنوں سے کہا
11:00تم لوگ جلدی اٹھو اور اسے یہاں سے بھیجو
11:03کیونکہ اگر اس نے ہمارے تالاب کو دیکھ لیا
11:06تو یہ گھر جا کر سب بتا دے گی
11:08اور پھر گھر میں ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا
11:10لیکن زینب کی بڑی بہنوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا
11:13تمہارا آخر مسئلہ کیا ہے
11:16مانا کہ ہماری سوتیلی ماں ہم پر ظلم کرتی ہے
11:20لیکن اس میں اس بیچاری کا کیا قصور
11:22زینب یہ سن کر چپ ہو گئی
11:25اس کے بعد تینوں نے اپنی سوتیلی بہن کو ندی کے پاس بٹھایا
11:28اور مٹی کے پیالے میں دودھ بھر کر اسے دیا
11:31اس لڑکی نے دودھ پیا
11:33اور جلدی سے اپنی ماں کے پاس پہنچ کر
11:35تالاب اور دودھ والی پوری بات بتا دی
11:38سوتیلی ماں کو یہ سن کر بہت گصہ آیا
11:41اس نے اپنے گام کے کچھ آدمیوں کو بلایا
11:43اور کہا
11:44تم جتنے پیسے چاہو
11:46میں تمہیں دوں گی
11:47لیکن تمہیں جنگل میں جانا ہوگا
11:50وہاں ایک بزرگ کی جھوپڑی اور تالاب ہے
11:53تم نے وہ جھوپڑی ختم کر دینی ہے
11:55اور تالاب میں مٹی ڈال دینی ہے
11:57بدلے میں تمہیں بہت پیسہ ملے گا
12:00کچھ ہی دیر میں وہ آدمی
12:01اس کی مرضی کے مطابق سب کچھ کر کے لوٹ آئے
12:04وہاں عورت اب بہت خوش تھی
12:07اگلے دن جب تینوں بہنیں جنگل میں گئیں
12:09تو انہوں نے دیکھا
12:10کہ وہاں نہ تو تالاب ہے
12:12اور نہ ہی بزرگ کی جھوپڑی
12:13یہ دیکھ کر انہیں پہاڑ جیسا دکھ ہوا
12:16وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگیں
12:18اور بھوک ہی پیاسی
12:19اپنے گھر لوٹ آئیں
12:20ان کی سوتیلی ماں یہ دیکھ کر
12:23بہت سکون محسوس کر رہی تھی
12:24ایک دن وہ پھر بیماری کا بہانہ بنا کر لیٹ گئی
12:27شام کو جب کرم دین گھر آیا
12:30تو اس نے اپنی بیوی کو پیار سے کہا
12:32چاہے میرا سب کچھ بک جائے
12:34لیکن میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا
12:36تمہارا علاج سب سے اچھے ڈاکٹر سے کرواؤں گا
12:40لیکن اس کی بیوی کچھ اور ہی چالیں چل رہی تھی
12:42اس نے کہا
12:43آپ کو اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے
12:46میری زندگی بچانے کے لیے بس ایک چھوٹا سا کام کرو
12:49کرم دین بولا
12:50جلدی بتاؤ
12:51کیا کرنا ہے
12:52میں وہیں کروں گا
12:54اس کی بیوی بولی
12:54تم اپنی تینوں بیٹیوں کا خون نکال کر
12:57میرے ہاتھوں اور پیروں کی ہتھیلیوں پر مل دو
13:00تب ہی میں ٹھیک ہو سکتی ہوں
13:02یہ سن کر کرم دین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
13:05کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں سے بے حد محبت کرتا تھا
13:08وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکلا
13:10اور اپنی بیٹیوں کو ڈھونڈنے لگا
13:12لیکن بیٹیاں گھر میں نہیں تھی
13:14وہ پریشان ہو کر انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے قبرستان پہنچا
13:17وہاں اس نے دیکھا کہ اس کی تینوں بیٹیاں
13:20اپنی ماں کی قبر کے پاس بیٹھ کر رو رہی ہیں
13:23یہ دیکھ کر کرم دین کا دل کانپ گیا
13:25ایک طرف اس کی بیوی کی خواہش تھی
13:28اور دوسری طرف اس کی بیٹیوں کی زندگی
13:30کرم دین کو سمجھ نہیں آ رہا تھا
13:33کہ وہ کیا کرے
13:34اس نے سوچا کہ اس کی بیوی اس کی بیٹیوں سے کبھی خوش نہیں ہوگی
13:38اور اس کی بیٹیاں اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ خوش نہیں ہیں
13:41اس لئے اس نے فیصلہ کیا
13:43کہ بیٹیوں کو کہیں دور لے جائے گا
13:45اس نے اپنی بیٹیوں کو گلے لگایا
13:47اور کہا
13:48اے بیٹیوں تم کیوں پریشان ہوتی ہو
13:50میں تمہیں کہیں اور لے چلتا ہوں
13:52وہ اپنی بیٹیوں کو ایک گھنے جنگل میں لے گیا
13:56وہاں اس نے مٹی کا چولہ بنایا
13:58اور بیٹیوں کو کھانا بنا کر کھلایا
14:00جب بیٹیوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا
14:03تو وہ ایک درخت کے نیچے سو گئیں
14:05کرم دین نے اپنی بیٹیوں کو وہیں سوتے ہوئے چھوڑ دیا
14:08اور وہاں سے بھاگ گیا
14:10اس کے دل میں یہی خیال تھا
14:12کہ کم سے کم میری بیٹیاں زندہ تو رہیں گی
14:15اور اپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے بچی رہیں گی
14:18راستے میں اس نے ایک ہرن کا شکار کیا
14:20اور اس کا خون لے کر اپنی بیوی کو دے دیا
14:23اس کی بیوی نے وہ خون اپنے ہاتھوں اور پیروں پر لگایا
14:26اور خوش ہو کر کہا
14:28اب مجھے آرام ہے
14:29اسے یقین ہو گیا کہ کرم دین نے اپنی بیٹیوں کو مار دیا
14:33دوسری طرف جب تینوں بہنیں جاگیں
14:35تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا باپ انہیں چھوڑ کر جا چکا ہے
14:39وہ اپنے باپ کو پکارنے لگیں
14:41جنگل میں جنگلی جانوروں کی آوازیں سن کر
14:44وہے ڈر گئیں اور رونے لگیں
14:46اتفاق سے اسی جنگل میں تین دوست شکار کے لیے آئے تھے
14:50جب وہ شکار کر کے لوٹنے لگے
14:52تو ان میں سے ایک دوست جس کا نام ناصر تھا کہنے لگا
14:56مجھے لگتا ہے ناصر نے کہا
14:59یہاں کوئی مسئیبت میں ہے
15:01کیا تم لوگ کسی کے رونے کی آواز نہیں سن رہے
15:04مجھے تو کسی کے رونے کی آواز آ رہی ہے
15:06چلو جلدی سے دیکھتے ہیں
15:08شاید کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو
15:10پھر تینوں دوست آواز کی دشاں میں چل پڑے
15:13آگے جا کر انہوں نے دیکھا
15:15کہ تین خوبصورت لڑکیاں بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں
15:18ناصر آگے بڑھا اور ان سے پوچھا
15:20تم یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو
15:22اور اتنا کیوں رو رہی ہو
15:24زینب نے ناصر کو اپنی پوری کہانی سنا دی
15:27لڑکوں کو ان پر بڑا ترس آیا
15:29وہ آپس میں کہنے لگے
15:30کیوں نہ ہم ان لڑکیوں سے شادی کر لیں
15:33انہیں ایک چھت مل جائے گی
15:35اور ہماری زندگی بھی سکون سے گزرنے لگے گی
15:38پھر ان تینوں لڑکوں نے ان تینوں لڑکیوں سے شادی کر لی
15:41زینب کی شادی ناصر کے ساتھ ہو گئی
15:45سنیوگ سے ان تینوں دوستوں کے گھر پاس پاس تھے
15:48تینوں بہنیں خوشی خوشی اپنے اپنے گھروں میں رہنے لگیں
15:52ایک سال کے بعد زینب کے گھر میں بیٹے کی پیدائش ہوئی
15:56یہ دیکھ کر ناصر کے دوست اور زینب کی بہنیں بہت خوش ہوئیں
16:00دھیرے دھیرے زینب کا بیٹا دو سال کا ہو گیا
16:03ایک دن ناصر نے اپنے دوستوں سے کہا
16:06میرا آج پھر جنگل میں شکار کرنے کا من ہو رہا ہے
16:09چلو شکار پر چلتے ہیں
16:11لیکن اس کے دوستوں نے منع کر دیا اور کہا
16:14ہمیں تو کسی ضروری کام سے جانا ہے
16:16ہم تمہارے ساتھ جنگل نہیں جا سکتے
16:18ناصر نے زینب سے اجازت لی
16:21اور اکیلا ہی جنگل میں شکار کے لیے چلا گیا
16:23لیکن اس کے بعد کئی دن گزر گئے
16:26اور ناصر گھر واپس نہیں آیا
16:28زینب بہت پریشان ہو گئی
16:30اس کی بہنیں بھی اس کی چنتہ دیکھ کر چنتت ہو گئی
16:33زینب کے جیجہ
16:34ناصر کے دوست نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا
16:37تم فکر مت کرو
16:39ہم ناصر کو ڈھونڈ کر ضرور واپس لائیں گے
16:42لیکن کرنی خدا کی یہ ہوئی
16:44کہ ناصر کے دوست بھی
16:45اسے ڈھونڈنے جنگل گئے
16:47لیکن وہ بھی واپس نہیں لوٹے
16:49ان تینوں بہنوں پر ایک بار پھر سے گم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
16:53ایک دن زینب اپنے بیٹے کو سلا رہی تھی
16:55کی دروازے پر دستک ہوئی
16:57اس نے جلدی سے جا کر دروازہ کھولا
17:00تو کیا دیکھتی ہے
17:01کہ ایک بزرگ فقیر
17:03جس نے ہرے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے
17:05دروازے پر کھڑا ہے
17:06زینب اسے دیکھ کر بولی
17:08بابا میرا شوہر گھر پر نہیں ہے
17:11میں آپ کو گھر میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتی
17:13جب میرا شوہر آئے گا
17:15تب آپ آ جانا
17:16اس پر فقیر بولا
17:17بیٹی مجھے بہت بھوک لگی ہے
17:20کسی بھوکے کو کھانا کھلانے میں کیا حرض ہے
17:22زینب نے مجبوری میں
17:24اس فقیر کو گھر میں بلا لیا
17:25اور اس کے لیے کھانا بنانے لگی
17:27لیکن وہاں جادوگر فقیر
17:29بری نظروں سے زینب کو دیکھتا رہا
17:31پھر وہاں جادوگر اٹھ کر
17:33زینب کے قریب آیا اور بولا
17:35سنو لڑکی تم مجھے بہت اچھے لگتی ہو
17:38اپنے بیٹے کو چھوڑ دو
17:39اور مجھ سے شادی کر لو
17:40زینب ڈر کے مارے کانپنے لگی اور بولی
17:43بابا آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں
17:46میں شادی شدہ ہوں اور ایک بچے کی ماں ہوں
17:49آپ کی حمد کیسے ہوئی ایسا کہنے کی
17:51یہ سن کر جادوگر فقیر کو گصہ آ گیا
17:54اس نے اپنے جادو سے زینب کو کتیا بنا دیا
17:57اور اس کے گلے میں رسی ڈال کر کھینچتے ہوئے لے جانے لگا
18:00ادھر زینب کا بیٹا زور زور سے رو رہا تھا
18:03زینب کی بہنوں نے جب اس کے بیٹے کے رونے کی آواز سنی
18:06تو وہ بھاگتی ہوئی اس کے گھر آئیں
18:08انہوں نے جلدی سے زینب کے بیٹے کو گلے لگایا
18:11اور اپنی بہن کو گھر میں ڈھونڈنے لگی
18:13لیکن انہیں زینب کہیں نظر نہیں آئی
18:15ان کی سوتیلی ماں کے بعد اب زینب بھی گائب ہو چکی تھی
18:19وقت اسی طرح گزرتا رہا
18:21اب زینب کو گم ہوئے بھی چودہ سال کا لمبا وقت گزر چکا تھا
18:25اس دوران زینب کا بیٹا جوان ہو چکا تھا
18:28اسے اس کی دونوں کھالاؤں نے مل کر پالا تھا
18:30ایک دن زینب کی خالاؤں نے
18:33اسے اس کی ماں کے بارے میں ساری سچائی بتائی
18:35یہ سن کر وہ بہت پریشان ہو گیا اور بولا
18:38خالہ آج میں اپنے ماں باپ کو ضرور ڈھونڈنے جاؤں گا
18:42اس کی خالاؤں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
18:44بیٹا جو ہونا تھا وہ ہو چکا
18:47جنہیں جانا تھا وہ چلے گئے
18:50اب ہم تمہیں نہیں کھونا چاہتی
18:52ہمارے شوہر بھی جنگل گئے تھے
18:54اور وہ بھی کبھی واپس نہیں آئے
18:56اگر تم بھی چلے گئے
18:57تو ہم کس کے سہارے جیں گی
18:59لیکن لڑکے نے کہا
19:00خالہ آپ فکر مت کیجئے
19:03میں اپنے باپ اور باقی سب کو ڈھونڈ کر
19:06واپس ضرور لاؤں گا
19:07پھر وہ لڑکا جنگل کی طرف نکل پڑا
19:10کئی دنوں تک جنگل میں ادھر ادھر بھٹکتا رہا
19:12لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آیا
19:14کہ وہ اپنے ماں باپ کو کہاں ڈھونڈے
19:16اسی طرح تلاش کرتے کرتے
19:19وہ ایک ایسے علاقے میں پہنچا
19:21جو پوری طرح پتھروں کا علاقہ تھا
19:23وہاں اس نے پتھر کی عمارتیں دیکھی
19:25اور ایک خوبصورت چھوٹا سا پتھر کا گھر دیکھا
19:28وہ غور سے اس گھر کو دیکھ رہا تھا
19:30کہ تب ہی اس گھر سے ایک بزرگ باہر آئے
19:32اور بولے
19:33بیٹا تم یہاں نئے لگتے ہو
19:36تمہیں اس خطرناک علاقے میں آنے کی کیا ضرورت تھی
19:39لڑکے نے جواب دیا
19:41بابا جی
19:42میں اپنے ماں باپ اور تایہ جی کو ڈھونڈنے کے لیے
19:45یہاں آیا ہوں
19:46میری ماں کو ایک جادوگر نے کتیا بنا کر
19:49اپنے ساتھ لے گیا تھا
19:50اللہ والے بزرگ بولے
19:52بیٹا
19:53یہ علاقہ ایک بہت بڑے جادوگر کا ہے
19:56وہ بہت طاقتور ہے
19:58جو بھی اس سے پنگا لیتا ہے
20:00یا اسے بیجت کرتا ہے
20:01وہ اسے پتھر کا بنا دیتا ہے
20:04یہ جو تم اپنے ارد گرد پتھر دیکھ رہے ہو
20:06یہ بھی کبھی انسان تھے
20:08جادوگر نے انہیں پتھر بنا دیا
20:10کچھ سال پہلے یہاں ایک نوجوان آیا تھا
20:13اس کے بعد اس کے پیچھے دو اور نوجوان آئے
20:15جادوگر نے انہیں پیڑ اور پتھر میں بدل دیا
20:18اور اس نے ایک نیک پاکیزہ لڑکی کو بھی
20:21بارہ سال سے قید کر کے رکھا ہے
20:23وہ جادوگر اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے
20:26لیکن وہ لڑکی کسی بھی طرح مان نہیں رہی
20:28بزرگ کی باتیں سن کر لڑکا سوچنے لگا
20:31یقیناً یہ لڑکی میری ماں ہے
20:33اور یہ لوگ میرے ہی پریوار کے لوگ ہیں
20:36آخر کار میں نے اپنوں کو ڈھونڈ ہی لیا
20:38اس کے بعد لڑکے نے بزرگ کو اپنی ساری کہانی بتائی
20:42اور کہا
20:43بابا جی آپ میری مدد کریں
20:45ان لاچار لوگوں کو بچانے کا کوئی طریقہ بتائیں
20:48بزرگ جن کی جھوپڑی کو کبھی زینب کی سوتیلی ماں نے جلا دیا تھا
20:53مسکرائے اور بولے
20:55بیٹا
20:56اللہ ہمیشہ نیک دل والوں کی مدد کرتا ہے
20:59تمہیں حمد نہیں ہارنی چاہیے
21:01اللہ والے بزرگ مجبوراً اس خطرناک علاقے میں آ کر رہنے لگے
21:06انہوں نے لڑکے سے وعدہ کیا
21:08میں تمہارا ساتھ ضرور دوں گا
21:10بزرگ سوچنے لگے
21:11کیا پتا اس لڑکے کی ماں کو چھوڑوانے سے
21:14باقی قیدیوں کو بھی جادوگر کی قید سے آزادی مل جائے
21:18بزرگ نے باقی گام والوں کو بتایا
21:20یہ میرا پوتا ہے
21:22جو دوسرے گام سے مجھ سے ملنے آیا ہے
21:24جب جادوگر کو شک ہوا
21:26کہ گام میں کوئی نیا لڑکا آیا ہے
21:28تو وہ ترنت اللہ والے بزرگ کے پاس پہنچا
21:30اور پوچھنے لگا
21:31یہ کون ہے
21:33بزرگ نے جواب دیا
21:34یہ میرا پوتا ہے
21:36اس طرح جادوگر اور لڑکے کی ملاقات ہوئی
21:39لڑکا اپنی پہچان چھپا کر جادوگر سے ملنے لگا
21:42جادوگر نے لڑکے کو دیکھ کر کہا
21:44تم بہت سمجھدار لگتے ہو
21:46اور اپنے دادا کی طرح نیک اور معصوم ہو
21:49کل تم میرا ایک کام کروگے
21:51میں تمہیں ایک عمارت میں بھیجوں گا
21:53جہاں ایک لڑکی کو میرا پیغام دینا ہے
21:55میں اسے شادی کرنا چاہتا ہوں
21:57لڑکا سمجھ گیا
21:58کہ وہ اپنی ماں سے ملنے جا رہا ہے
22:01وہ بہت خوش ہوا
22:02اور سوچنے لگا
22:03کہ وہ اپنی ماں کے لیے پھول لے جائے گا
22:06اس نے یوجنا بنائی
22:07کہ وقت آنے پر وہ اپنی ماں کو پہچاننے کے لیے
22:09اپنی پہچان ظاہر کرے گا
22:11زینب کی شادی کے وقت
22:13ناصر نے اسے ایک انگوٹھی دی تھی
22:14جس پر اس کا نام لکھا ہوا تھا
22:16بعد میں زینب نے وہ انگوٹھی اپنے بیٹے کو پہنا دی تھی
22:19سالوں بعد وہ انگوٹھی بڑھا کر دوبارہ بنائی گئی
22:23اور لڑکے نے اب بھی وہی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی
22:25اللہ والے بزرگ نے لڑکے سے کہا
22:28اپنی انگوٹھی کو پھولوں کے گلدستے میں چھپا دو
22:31جب تمہاری ماں اسے دیکھے گی
22:34تو وہ ترنت تمہیں پہچان لے گی
22:36لیکن یہ کام آسان نہیں ہوگا
22:38جادوگر نے زینب کی نگرانی کے لیے
22:41ایک چوکی دار تینات کر رکھا ہے
22:42جو ہر وقت سختی سے نظر رکھتا ہے
22:45جادوگر اللہ والے بزرگ کی بہت عزت کرتا تھا
22:48اور ان کے پوتے کو نیک سمجھتا تھا
22:51اس نے لڑکے کو گلدستہ دے کر
22:53روزانہ زینب کے پاس بھیجنا شروع کر دیا
22:55لڑکے کی کم عمر
22:57محض چودہ سال کی وجہ سے
22:59جادوگر کو اس پر کوئی شک نہیں ہوا
23:02زینب کو ایک کمرے میں قید کر کے رکھا گیا تھا
23:05جہاں کسی مرد کو جانے کی اجازت نہیں تھی
23:08لڑکا روزانہ گلدستہ لے کر
23:10زینب کے پاس جاتا
23:11اور وہاں جادوگر کی ایک داسی
23:14ہمیشہ زینب کے ساتھ رہتی
23:15ایک دن قسمت نے لڑکے کا ساتھ دیا
23:18ایسا موقع ملا
23:20جب کمرے میں زینب کے سوا کوئی نہیں تھا
23:23لڑکے نے جلدی سے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری
23:25اور پھولوں کے گلدستے میں چھپا کر
23:28زینب کے قدموں میں رکھ دیا
23:29جیسے ہی گلدستہ زمین پر رکھا
23:32انگوٹھی کی آواز ہوئی
23:33زینب نے حیرانی سے گلدستہ اٹھایا
23:36اور پھولوں میں بندھی انگوٹھی کو پہچان لیا
23:39یہ وہی انگوٹھی تھی
23:41جو اس نے سالوں پہلے اپنے بیٹے کو پہنائی تھی
23:44زینب کی نظریں فوراں گلدستہ لانے والے لڑکے کی طرف اٹھیں
23:48دونوں کی نظریں ملتے ہی حقیقت صاف ہو گئی
23:51جادوگر نے زینب کو قید کر رکھا تھا
23:54لیکن اس کا بیٹا اپنی ماں کو آزاد کرانے کا منصوبہ بنانے لگا
23:58زینب نے جادوگر سے شادی کی رضا مندی جتائی
24:01اور اس کی طاقت کا راز معلوم کیا
24:03جادوگر نے بتایا کہ اس کی جان ایک توتے میں ہے
24:06جو ایک پنجرے میں بند ہے
24:08اور ایک گھنے جنگل کے درخت کے نیچے
24:11سخت پہرے میں رکھا گیا ہے
24:12زینب نے یہ راج اپنے بیٹے کو بتایا
24:15لیکن اسے خطرے سے بچانے کے لیے جانے سے منع کیا
24:18پھر بھی بیٹے نے اپنی ماں کو یقین دلایا
24:21کہ وہ کامیاب ہو کر لوٹے گا
24:23کئی دنوں کی مشکت کے بعد بھجنگل میں پہنچا
24:26ایک موقع دیکھ کر اس نے توتے کو پنجرے سے نکال لیا
24:29اور جادوگر کی عمارت تک واپس لے آیا
24:31جادوگر اسے دیکھ کر توتے کی واپسی کی بھیق مانگنے لگا
24:35لڑکے نے چالاکی سے جادوگر سے سبھی قیدیوں کو آزاد کروایا
24:39اس کے بعد اس نے توتے کے پنکھ کھینچے
24:42جس سے جادوگر کی طاقت ختم ہو گئی
24:44انت میں اس نے توتے کی گردن مروڑ دی
24:47جس سے جادوگر مر گیا
24:49لڑکے نے اپنی ماں زینب پتہ ناصر
24:52اور باقی سبھی قیدیوں کو آزاد کر آیا
24:54پھر وہ سب اللہ والے بزرگ کے پاس پہنچے
24:58سب نے بزرگ کا شکریہ آدا کیا
25:00اور اپنے گھر لوٹ آئے
25:02زینب کی بہنیں اپنے شوہر سے مل کر بہت خوش ہوئیں
25:05جو جادوگر کی قید میں سالوں تک رہے تھے
25:08ان کے پتہ جو اپنی بیٹیوں کو کھونے کے گم میں ڈوبے تھے
25:12انہیں صحیح سلامت دیکھ کر خوشی سے رونے لگے
25:14انہوں نے بیٹیوں سے معافی مانگی
25:16اور بتایا کہ ان کی بیوی کی سازشوں کی وجہ سے یہ سب ہوا
25:21بیٹیوں نے اپنے پتہ کو تسلی دی اور کہا
25:24ہم اپنی زندگیوں سے خوش ہیں
25:26ان کے پتہ نے بتایا کہ ان کی سوتیلی ماں
25:29جو ان پر ظلم کرتی تھی
25:31ایک گندی بیماری کا شکار ہو کر
25:33اس دنیا سے چلی گئی
25:35اس کے بعد سب نے خوشی اور سکون کے ساتھ
25:38اپنی زندگی گزارنی شروع کی
Comments

Recommended