Skip to playerSkip to main content
  • 3 hours ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک مجبور عورت اللہ کے نبی حضرت دعوت علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی کیا آپ کا رب انصاف کرنے والا ہے یا ظلم کرتا ہے؟
00:14حضرت دعوت علیہ السلام نے جواب دیا کہ اللہ سراسر عدل والا ہے اور وہ کسی پر نائنصافی نہیں کرتا۔
00:21پھر دریافت فرمایا کہ تم نے ایسا سوال کیوں کیا؟
00:25عورت نے کہا میں ایک بیوہ ہوں اور میری تین چھوٹی بیٹیاں ہیں میں اپنے ہاتھ سے شالیں اور کپرے بناتی ہوں اور انہیں بیچ کر گزارا کرتی ہوں
00:34کل میں نے بڑی محنت سے ایک شال تیار کی اسے کپرے میں لپیٹا اور بازار لے جا رہی تھی تاکہ اسے فروخت کر کے اپنی بچیوں کے لیے کھانے کا بندوبست کر سکوں
00:45مگر راستے میں اچانک ایک پرندہ آیا اور وہ شال میرے ہاتھوں سے چھین کر اُر گیا اس واقعے نے مجھے توڑ کر رکھ دیا
00:52اب میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ میں اپنی بیٹیوں کا پیٹ بھر سکوں
00:57ابھی وہ اپنی بات مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ حضرت دعوت علیہ السلام کے دروازے پر دستک ہوئی
01:03آپ نے اجازت دی تو دس تاجر اندر داخل ہوئے
01:06ہر تاجر نے سو سو دینار پیش کیے
01:09یوں کل رکم ہزار دینار بن گئی
01:12اور عرض کی کہ اے اللہ کے نبی اس مال کو کسی حقدار تک پہنچا دیجئے
01:17حضرت دعوت علیہ السلام نے ان سے پوچھا
01:20کہ تم سب نے مل کر یہ رکم لانے کی کیا وجہ ہے
01:23تاجروں نے بتایا کہ ہم ایک کشتی میں سفر کر رہے تھے
01:27کہ اچانک شدید توفان آ گیا
01:29لہریں بے قابو ہو گئیں
01:31اور کشتی کے پیندے میں شگاف پڑ گیا
01:33ہمیں یوں لگا جیسے اب سب ڈوب جائیں گے
01:36اور جان بچنے کی کوئی امید نہ رہے گی
01:39اسی ہولناک لمحے میں ہم نے دیکھا
01:42کہ ایک پرندہ ہماری سمت ارتا ہوا آیا
01:45اور اس نے ایک سرخ کپڑا ہماری طرف گرا دیا
01:48جب ہم نے اسے کھولا
01:50تو اس کے اندر ایک شال تھی
01:52ہم نے فوراً اسی شال کو استعمال کر کے
01:55کشتی کے سراخ کو بند کیا
01:57اللہ کے حکم سے کشتی سمحل گئی
02:00توفان تھم گیا
02:01اور ہم بحفاظت کنارے تک پہنچ گئے
02:04اس مسیبت کے وقت ہم سب نے یہ وعدہ کیا تھا
02:07کہ اگر ہماری جان بچ گئی
02:09تو ہم میں سے ہر شخص سو دینار اللہ کی راہ میں دے گا
02:13اسی وعدے کو پورا کرنے کے لیے
02:15آج یہ ایک ہزار دینار آپ کے سامنے پیش کیے ہیں
02:19اب آپ جسے مناسب سمجھیں دے دیں
02:22یہ سن کر حضرت دعوت علیہ السلام نے
02:25اس عورت کی طرف دیکھا اور فرمایا
02:28تمہارے رب نے تمہارے لیے سمندر کے راستے رزق بھیجا تھا
02:31مگر تم نے اسے نائنصافی کرنے والا سمجھ لیا
02:35پھر آپ نے وہ تمام دینار
02:37اس عورت کے حوالے کیے اور فرمایا
02:40اس مال سے اپنی بیٹیوں کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرو
02:44اللہ تمہارے حالات
02:45تمہاری ضرورت اور تمہارے رزق کو
02:48سب سے بہتر جانتا ہے
02:50اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں
02:53ایک دن ابلیس ان کے پاس آیا
02:56اور کہنے لگا
02:57کہ میں تمہیں ہزار میں سے
02:59صرف تین باتیں نصیحت کے طور پر بتانا چاہتا ہوں
03:02حضرت موسیٰ علیہ السلام
03:04ابلیس کو پہچان گئے اور فرمایا
03:06جتنا تم جانتے ہو
03:08اس سے کہیں زیادہ میں جانتا ہوں
03:10مجھے تیری نصیحت کی کوئی ضرورت نہیں
03:13حضرت جبرائیل
03:15حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی لے کر نازل ہوئے
03:18اور عرض کی
03:19اے موسیٰ
03:20پروردگارِ عالم فرماتا ہے
03:22اس کے ہزار نصائے غریب ہیں
03:24لیکن اس کی تین نصیحتیں کام آنے والی ہیں
03:27ان کو سنو
03:29حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ابلیس سے فرمایا
03:32ہزار کو چھوڑو
03:33تین نصیحتیں بیان کرو
03:35ابلیس نے کہا
03:37جب بھی کسی نیک کام کو انجام دینے کا ارادہ کرو
03:40تو فوراں اس کو انجام دو
03:42ورنہ تم کو پیش ایمان کر دوں گا
03:45اگر کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے ہو
03:48تو مجھ سے غافل نہ رہنا
03:50ورنہ تم کو برے کام کرنے پر عباروں گا
03:53جب بھی تم کو غصہ آئے
03:55تو اپنی جگہ کو تبدیل کر لو
03:57ورنہ تم کو لڑائی جگڑے کیلئے تیار کر دوں گا
04:00ابلیس نے کہا
04:01اب جب کہ میں نے تم کو تین نصیحتیں کی ہیں
04:04تو میرا تم پر حق بنتا ہے
04:06اس کے بدلے میں تم خدا سے میرے لئے بخشش طلب کرو
04:09حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ابلیس کی چاہت کو
04:13پروردگار عالم سے عرض کیا
04:15رب کریم نے فرمایا
04:16اے موسیٰ
04:18ابلیس کو جا کر کہو
04:19اس شرط پر تم کو معاف کروں گا
04:22کہ جب تم آدم کی قبر پر جا کر اس کو سجدہ کرو گے
04:25حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
04:28اللہ کا پیغام ابلیس تک پہنچایا
04:30ابلیس جو کہ غرور و تکبر میں غوتا زند تھا کہا
04:34اے موسیٰ
04:35جب آدم زندہ تھے
04:37اس وقت میں نے ان کو سجدہ نہیں کیا
04:40تو اب ان کے مرنے کے بعد
04:41کس طرح ان کو سجدہ کر سکتا ہوں
04:43غرض یہ
04:45کہ ابلیس نے اپنے غرور و تکبر کی بنا پر
04:48اپنی بخشش کا موقع ضائع کر لیا
04:50ایک دفعہ کا ذکر ہے
04:52کہ معمون کے نوکروں میں سے ایک نے اس کو بتایا
04:55کہ ہمارے ہمسایہ میں ایک دیندار مرد رہتا تھا
04:58اپنی عمر کے آخری حصے میں
05:00اس نے اپنے جوان بیٹے کو
05:02جسے دنیا کا زیادہ تجربہ نہ تھا
05:05وسیعت کی اور کہا
05:06اے بیٹا
05:08پروردگار عالم نے مجھے مال و نعمت عطا کی
05:11جنہیں میں نے بڑی محنت
05:13اور آزمائش کے بعد حاصل کیا
05:15اور اب یہ سب کچھ
05:16تجھے وراثت میں نہایت آسانی سے مل رہا ہے
05:19اس لیے ان کی قدر کرنا
05:21اور فضول خرچی سے بچنا
05:23نہ اہل دوستوں سے دور رہنا
05:25اگرچہ میں جانتا ہوں
05:27کہ ایسے لوگ تیرے اردگرد
05:29ضرور جمع ہوں گے
05:30اور تیرا مال برباد کر دیں گے
05:32مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا
05:35کہ کبھی بھی اس گھر کو مت بیچنا
05:37جب دولت ختم ہو جائے
05:39اور دوست دشمن بن جائے
05:41اور اگر کبھی حالات تجھے
05:43اس حد تک لے جائیں
05:44کہ تو خودکشی کا ارادہ کرے
05:46تو اس رسی کو استعمال کرنا
05:48جو میں نے چھت سے باندھ رکھی ہے
05:50باپ کے انتقال کے بعد
05:52بیٹے نے دولت بے درے خرچ کی
05:55نا اہل دوستوں پر مال لٹاتا رہا
05:57یہاں تک کہ سب کچھ ختم ہو گیا
06:00پھر وہی دوست
06:01اس کے دشمن بن گئے
06:03مگر اس نے باپ کی وسیعت کے مطابق
06:05گھر نہ بیچا
06:06مایوسی کی انتہا پر
06:08اس نے خودکشی کا ارادہ کیا
06:10اور اس رسی کی طرف بڑھا
06:12جو چھت سے بندھی ہوئی تھی
06:14اس نے گردن میں پھندہ ڈالا
06:16لیکن وزن پڑتے ہی
06:18رسی ٹوٹ گئی
06:20اور وہ نیچے آگری
06:21اسی لمحے
06:22وہاں سے دس ہزار دینار برامد ہوئے
06:25دینار دیکھتے ہی
06:27اس کے حالات بدل گئے
06:28اور وہ خوش ہو گیا
06:30تب اسے اپنے باپ کی وسیعت کا
06:32اصل مطلب سمجھا گیا
06:34کہ گھر بیچنے سے کیوں منع کیا گیا تھا
06:37اس واقعے کے بعد
06:38وہ غفلت کی نیند سے جاگ اٹھا
06:40اور اسراف و فضول خرچی چھوڑ کر
06:43میانہ روی اختیار کر لی
06:45اور یوں اس نے اپنی زندگی کو سمار لیا
06:48روایت میں آتا ہے
06:50کہ ایک مرتبہ دو نابینہ فقیر
06:52اس راستے میں بیٹھے تھے
06:54جہاں سے خلیفہ حارون الرشید کی زوجہ
06:57حضرت زبیدہ گزرا کرتی تھی
06:59دونوں فقیر
07:00زبیدہ کی سخاوت
07:02اور دریا دلی کے چرچے سن چکے تھے
07:05ان میں سے ایک نے دعا کی
07:07اے اللہ
07:08مجھے اپنے فضل و کرم سے رزق عطا فرما
07:11جبکہ دوسرے نے کہا
07:13اے اللہ
07:14مجھے ام جعفر
07:16یعنی زبیدہ کے وسیلے سے رزق عطا فرما
07:19حضرت زبیدہ کو ان دونوں کی دعاوں کا علم ہوا
07:22تو انہوں نے حکم دیا
07:24کہ پہلے فقیر کو روزانہ دو درہم دیے جائیں
07:27اور دوسرے فقیر کے لیے
07:29ایک مرگ بھیجا جائے
07:31جس کے پیٹ میں سونے کے دس دینار رکھے گئے ہیں
07:34جس فقیر کے پاس مرگ بھیجا جاتا تھا
07:38وہ اس کے پیٹ میں تلاش کیے بغیر ہی
07:40اس مرگ کو دو درہم میں اپنے ساتھی کو بیچ دیتا
07:43اور دس دن تک یہی سلسلہ چلتا رہا
07:47ایک دن حضرت زبیدہ نے اس فقیر کو اپنے پاس بلایا
07:50جو ان کے فضل و کرم کا طالب تھا
07:53جب فقیر حاضر ہوا
07:55تو حضرت زبیدہ نے فرمایا
07:56کیا ہمارے اتیے نے تمہیں بے نیاز کر دیا یا نہیں
08:00فقیر نے حیرت سے کہا
08:02کون صاحب کا اتیہ
08:04حضرت زبیدہ نے فرمایا
08:06وہ مرگیاں جن کے پیٹ میں دس دن تک سونے کے سو دینار رکھ کر
08:11تمہیں بھیجے گئے تھے
08:12پھر حضرت زبیدہ نے فرمایا
08:15یہ فقیر میرے فضل پر بھروسہ کرتا تھا
08:18اس لیے اللہ نے اسے محروم رکھا
08:20اور وہ دوسرا فقیر
08:22اللہ کے فضل پر یقین رکھتا تھا
08:25اس لیے اللہ نے اسے
08:27اس کی ضرورت سے بڑھ کر عطا کیا
08:29اور بے نیاز کر دیا
08:31روایت میں آتا ہے
08:33کہ جب حاتم تائی اس دنیا سے رخصت ہوئے
08:36تو ان کی تدفین کے کچھ برس بعد
08:38اتنی شدید بارش ہوئی
08:40کہ قبر خراب ہونے لگی
08:42اور قریب تھا کہ اس کا نشان مٹ جائے
08:45ان کے بیٹے نے ارادہ کیا
08:47کہ والد کی میت کو نکال کر
08:49کسی محفوظ جگہ منتقل کر دے
08:51جب قبر کھولی گئی
08:53تو جسم کے تمام آزاب بکھر چکے تھے
08:55مگر دہنہ ہاتھ
08:57بلکل صحیح سلامت تھا
08:59یہ منظر دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے
09:01اسی دوران
09:03ایک بزرگ صاحب دل وہاں سے گزرے
09:05اور فرمایا
09:06تاجب نہ کرو
09:07ہاتھ انتائی اسی ہاتھ سے کسرت کے ساتھ
09:11سخاوت اور عطا کیا کرتے تھے
09:13اسی سبب اللہ نے اس ہاتھ کو محفوظ رکھا
09:16ایک اور واقعہ بیان کیا جاتا ہے
09:18کہ ایک مرتبہ
09:19منصور دوانر کی ممبر پر بیٹھ کر
09:22خطاب کر رہا تھا
09:23کہ ایک مکھی بار بار اس کی ناک پر آ بیٹھتی
09:26وہ ہاتھ سے ہٹاتا
09:27تو مکھی اڑ کر آنک پر بیٹھ جاتی
09:30یہ سلسلہ بار بار دھورایا گیا
09:32یہاں تک کہ منصور غزبناک ہو گیا
09:35اور اس نے مکھی کو مار ڈالا
09:37جب وہ ممبر سے اتر کر نیچے آیا
09:39تو اس نے عمر بن عبید سے پوچھا
09:41اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے
09:44عمر بن عبید نے جواب دیا
09:46تاکہ اس کے ذریعے ظالم
09:48اور سرکش کو زلیل کرے
09:50منصور نے پوچھا
09:51یہ بات تم کس بنیاد پر کہہ رہے ہو
09:53عمر بن عبید نے کہا
09:55پروردگارِ عالم
09:57سورہ حج
09:58آیت نمبر تہتر میں فرماتا ہے
10:01کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے
10:03تو وہ اسے اس سے واپس بھی نہیں لے سکتے
10:06اس لیے کہ طالب اور مطلوب
10:08دونوں ہی کمزور ہیں
10:10روایت ہے کہ ایک عبادت گزار خاتون تھی
10:13جن کا نام باہیہ تھا
10:15جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا
10:17تو انہوں نے اسمان کی طرف رخ کر کے عرض کیا
10:20اے میرے رب
10:21تو ہی میرا اصل خزانہ ہے
10:23میں نے تجھ پر ہی بھروسہ کیا ہے
10:26موت کے وقت
10:27مجھے زلیل و رسوانہ کرنا
10:29اور مجھے وحشت قبر سے نجات عطا فرمانا
10:32جب وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں
10:34تو ان کا ایک بیٹا تھا
10:36جو ہر شب جمعہ
10:37اور جمعہ کے دن ماں کی قبر پر آتا
10:39قرآن کی تلاوت کرتا
10:41دعا مانگتا
10:42اور اپنی ماں سمیت قبرستان والوں کے لیے
10:45مغفرت کی درخواست کرتا
10:46ایک رات اس نے خواب میں اپنی والدہ کو دیکھا
10:49سلام کیا
10:50اور عرض کیا
10:51اے ماں آپ کیسی ہیں
10:54ماں نے جواب دیا
10:55اے بیٹا
10:56موت کا لمحہ سخت ضرور تھا
10:59لیکن الحمدللہ
11:00برزخ میں میری جگہ بہت اچھی ہے
11:03بیٹے نے پوچھا
11:04ماں
11:05کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے
11:07ماں نے کہا
11:08بیٹا ہمیشہ میرے لیے دعا
11:10زیارت
11:11اور قرآن کی تلاوت کرتے رہنا
11:13تمہارا شب جمعہ
11:15اور جمعہ کے دن قبرستان آنا مجھے خوشی دیتا ہے
11:18اور جب تم آتے ہو
11:19تو قبرستان کے مردے مجھ سے کہتے ہیں
11:22اے باہیا
11:23تمہارا بیٹا آیا ہے
11:24یہ سن کر میں اور میرے آس پاس کے مردے خوش ہو جاتے ہیں
11:28یہ جوان اسی طرح اپنی ماں
11:30اور تمام مرہومین کے لیے دعا
11:32اور قرآن میں مشغول رہا
11:34ایک اور رات اس نے خواب میں دیکھا
11:36کہ بہت سے لوگ اس کے پاس آئے ہیں
11:38اس نے پوچھا
11:39آپ کون ہیں
11:40انہوں نے کہا
11:41ہم قبرستان والے ہیں
11:43اور تمہارا شکریہ آدھا کرنے آئے ہیں
11:45تم ہمارے لیے دعا
11:47اور قرآن کی تلاوت کرتے ہو
11:49اس عمل کو کبھی ترک نہ کرنا
11:51خداوند کریم بحق محمد
11:53صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:56و آل محمد
11:57صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:59ہم سب کو اپنے مرہومین کو یاد رکھنے
12:02اور ان کے لیے آمال سالحہ بجالانے کی توفیق عطا فرمائیں
12:06روایت ہے
12:07کہ ایک شخص
12:08رسول اکرم محمد
12:10صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:12کی خدمت میں حاضر ہوا
12:13اور عرض کیا
12:15اے اللہ کے حبیب
12:16میں نے قسم کھائی ہے
12:18کہ جنت کے دروازے کی چوکھٹ
12:20اور ہورولین کی پیشانی کا بوسا لوں گا
12:22اب میں کیا کروں
12:24رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:27نے فرمایا
12:27اپنی ماں کے قدموں
12:29اور اپنے باپ کی پیشانی کا بوسا لو
12:31اگر تم ایسا کروگے
12:33تو اپنی قسم پوری کر لوگے
12:35اس شخص نے عرض کیا
12:37اگر ماں باپ اس دنیا سے جا چکے ہوں تو
12:39تو کیا کروں
12:41رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:44نے فرمایا
12:45ان کی قبروں پر جا کر بوسا دو
12:47روایت ہے
12:48کہ جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام
12:51اپنے فرزند
12:53حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات کے لیے
12:55شام سے مکہ تشریف لائے
12:57تو اس وقت
12:58حضرت اسماعیل علیہ السلام
13:00گھر پر موجود نہ تھے
13:03واپس شام لوٹ گئے
13:05جب حضرت اسماعیل علیہ السلام
13:08سفر سے واپس آئے
13:09تو ان کی زوجہ نے والد گرامی کے آنے کی خبر دی
13:12یہ سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام
13:14نے اپنے والد کے قدموں کے
13:16نشانات تلاش کیے
13:17اور جہاں جہاں قدموں کے آثار تھے
13:20وہاں وہاں بوسا دیا
13:21ایک اور واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے
13:24کہ ایک پرہیزگار شخص مصر گیا
13:26وہاں اس نے ایک لوہار کو دیکھا
13:28جو دہکتے ہوئے لوہے کو
13:30بھٹی سے نکالتا تھا
13:32مگر اس کی تپش اس پر اثر نہ کرتی تھی
13:34اس شخص نے دل میں کہا
13:36کہ یہ ضرور کوئی اللہ کا ولی ہے
13:38وہ آگے بڑھا
13:40سلام کیا اور کہا
13:41مجھے اس خدا کا واسطہ دو
13:43جس نے تمہارے ہاتھ پر یہ کرامت ظاہر کی ہے
13:46کہ میرے لئے دعا کرو
13:48یہ سن کر لوہار رونے لگا
13:50اور کہنے لگا
13:51تم میرے بارے میں جو گمان کر رہے ہو
13:53وہ درست نہیں
13:54میں نہ متقی ہوں نہ صالح
13:57اس شخص نے کہا
13:58یہ کیسے ممکن ہے
14:00ایسا کام تو صرف اللہ کے نیک بندوں سے ہی
14:03سادر ہوتا ہے
14:03لوہار نے جواب دیا
14:05بات درست ہے
14:06مگر اس کے پیچھے ایک اور سبب ہے
14:08اس نے اسرار کیا
14:10تو لوہار نے کہا
14:11ایک دن میں اپنی دکان میں کام کر رہا تھا
14:14کہ ایک نہایت خوبصورت عورت آئی
14:16اس نے اپنی غربت اور مجبوری بیان کی
14:19میرا دل مائل ہو گیا
14:20میں نے کہا
14:22کہ ایک شرط پر تمہاری مدد کر سکتا ہوں
14:24اگر تم میری خواہش پوری کرو
14:26اس نے افسوس کے ساتھ کہا
14:28اللہ سے ڈرو
14:29میں ایسی عورت نہیں ہوں
14:31میں نے کہا
14:32پھر اپنا راستہ لو
14:33مو چلی گئی
14:35کچھ دیر بعد وہ واپس آئی
14:37اور کہا
14:37اتنا جان لو
14:39کہ شدید تنگ دستی نے
14:40مجھے تمہاری بات ماننے پر
14:42مجبور کر دیا ہے
14:43میں نے دکان بند کی
14:45اور اسے گھر لے آیا
14:46جب دروازے کو تالہ لگانے لگا
14:48تو اس نے کہا
14:49تالہ کیوں لگا رہے ہو
14:51میں نے کہا
14:52مجھے اللہ کا خوف آ رہا ہے
14:54کہیں کسی کو خبر نہ ہو جائے
14:56اور میری رسوائی کا سبب بنے
14:58یہ بات سن کر
14:59وہ عورت لرزنے لگی
15:00اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
15:03اس نے کہا
15:04تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے
15:06میں نے پوچھا
15:07تم کیوں کام پرہی ہو
15:08اس نے جواب دیا
15:10تم لوگوں کے خوف سے تالہ لگا رہے ہو
15:13مگر میرا رب ہمیں دیکھ رہا ہے
15:15پھر میں کیوں نہ ڈروں
15:16اس نے گڑ گڑا کر کہا
15:18اے شخص
15:19اگر تم مجھے چھوڑ دو
15:20تو میں اللہ سے دعا کروں گی
15:22کہ وہ تمہیں دنیا اور آخرت کی آگ سے محفوظ رکھے
15:26اس کی فریاد اور آنسووں نے میرے دل کو بدل دیا
15:29میں فوراً اپنے ارادے سے رک گیا
15:32اس کی حاجت پوری کی
15:33اور اسے عزت کے ساتھ رخصت کر دیا
15:36وہ خوشی سے اپنے گھر چلی گئی
15:38اسی رات میں نے خواب میں ایک باوقار خاتون کو دیکھا
15:41جن کے سر پر یاکوت کا تاج تھا
15:44انہوں نے فرمایا
15:45اے شخص
15:46اللہ تمہیں بہترین بدلا دے
15:48میں نے پوچھا آپ کون ہیں
15:50انہوں نے جواب دیا
15:52میں اس لڑکی کی ماں ہوں جو تمہارے پاس آئی تھی
15:55تم نے اللہ کے خوف سے اسے چھوڑ دیا
15:57اس کے بدلے
15:59اللہ نے وعدہ فرمایا ہے
16:00کہ تمہیں دنیا اور آخرت کی آگ نہیں جلائے گا
16:04میں نے پوچھا
16:05وہ عورت کس خاندان سے تھی
16:07انہوں نے فرمایا
16:08رسولِ خدا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیعت میں سے تھی
16:13میں خواب سے بیدار ہوا
16:15اور دل سے اللہ کا شکر ادا کیا
16:18یہی وجہ ہے
16:19کہ آج آگ مجھ پر اثر نہیں کرتی
16:21روایت ہے
16:23کہ قدیم زمانے میں ایک شخص
16:25قبریں کھوڑ کر مردوں کے کفن چوڑی کیا کرتا تھا
16:28اس کے ایک ہمسائے کو اس کے اس گناہ کا علم تھا
16:31جب وہ ہمسائے بستر مرک پر پہنچا
16:33اور زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی
16:36تو اس نے کفن چور کو اپنے گھر بلایا
16:38ایک بند کمرے میں بٹھایا
16:40اور اس کے سامنے ایک صندوق رکھا
16:42پھر کہا
16:43بھائی اگر میری وجہ سے تمہیں کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو تو بتا دو
16:48کفن چور نے جواب دیا
16:49نہیں آپ تو نہایت نیک انسان ہیں
16:52آپ کسی کو کیا تکلیف دیں گے
16:54ہمسائے نے کہا
16:56مجھے ڈر ہے کہ میرے مرنے کے بعد
16:58تم میری قبر کھوڑ کر کفن چورا لوگے
17:00اسی خیال سے میں نے دو کفن خریدے ہیں
17:03ایک بہت قیمتی ہے
17:04اور دوسرا سادہ
17:06تم یہ قیمتی کفن لے لو
17:08مگر مجھے اللہ کے واسطے مرنے کے بعد
17:10بے کفن نہ چھوڑنا
17:11کفن چور نے پہلے انکار کیا اور کہا
17:14میں آپ کے ساتھ ایسا نہیں کروں گا
17:16کفن آپ ہی رکھیں
17:17مگر ہمسائے نہ مانا
17:19اور کہا
17:20ایسا نہیں ہو سکتا
17:21تمہیں میری یہ بات ماننی ہی ہوگی
17:23یہ بات میرے اور تمہارے درمیان ہی رہے گی
17:26کسی کو اس کا علم نہیں ہوگا
17:29آخر کار
17:29بہت زیادہ اسرار کے بعد
17:31اس کفن چور نے کفن لے لیا
17:33اور چلا گیا
17:34کچھ ہی عرصے بعد وہ ہمسائے
17:36اس دنیا سے رخصت ہو گیا
17:38اور اسے سپرد خاک کر دیا گیا
17:40رات کے وقت
17:41کفن چور کے دل میں خیال آیا
17:43کہ مردے کو کیا خبر
17:44وہ کونسی عقل رکھتا ہے
17:46کیوں نہ پروسی کا کفن بھی چورا لیا جائے
17:49ویسے بھی ضائع ہی ہو جائے گا
17:51وہ حضب معمول قبرستان گیا
17:53ہمسائے کی قبر کھو دی
17:55اور جیسے ہی میت کو برہنا کرنا چاہا
17:57تو اچانک قبر سے رونے جیسی آواز آنے لگی
18:00مجھے برہنا مت کرو
18:02مجھے برہنا مت کرو
18:04یہ الفاظ اس کے دل میں تیر کی طرح اتر گئے
18:07وہ خوف خدا سے کانپنے لگا
18:09اور فوراں قبر سے باہر نکل آیا
18:11اس پر ایسا شدید خوف تاری ہوا
18:14کہ وہ بیمار پڑ گیا
18:15اسے یقین ہو گیا
18:17کہ یہ خوف ہی اسے مار ڈالے گا
18:19اس نے اپنے بیٹے کو وسیعت کی
18:21اور کہا
18:21میں نے تمہارے لیے بڑی مشقتیں اٹھائیں
18:24اب میری ایک بات مان لینا
18:26میری وسیعت ہے
18:27کہ میرے مرنے کے بعد
18:29مجھے دفن نہ کرنا
18:30بلکہ میری لاش کو
18:31کسی سہرہ میں لے جا کر
18:33آگ میں جلا دینا
18:34آدھی راک دریا میں
18:36اور آدھی سہرہ میں بکھیر دینا
18:38میں بڑا گناہ کھگار ہوں
18:40اور مسلمانوں کے قبرستان میں
18:42دفن ہونے کے لائق نہیں
18:43جب کفن چور مر گیا
18:45اور اس کی وسیعت پر عمل کیا گیا
18:47تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے
18:49اسے زندہ کیے جانے کا حکم ہوا
18:57موسیقا
19:27موسیقا
19:57موسیقا
20:27موسیقا
20:57موسیقا
21:27موسیقا
21:57کچھ دیر بعد
22:11اثر کم ہوا
22:12مگر شہوت کی آگ پھر بھڑا کٹھی
22:15اس نے دوسری انگلی آگ میں ڈال دی
22:17جب بھی خواہش بڑھتی
22:19وہ ایک انگلی آگ میں ڈال دیتا
22:22یہاں تک کہ صبح ہونے تک
22:24اس کی دسوں انگلیاں جل گئیں
22:26اور عورت
22:27صبح ہوتے ہی وہاں سے تچلی گئی
22:29بے شک ہم سک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے
22:32کہ اگر ایک لمحے کی بھی غفلت ہو جائے
22:35تو شہوت اپنا زہر
22:37دل میں اتار دیتی ہے
22:38اور اگر دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو جائے
22:41تو اللہ خود بندے کی مدد فرماتا ہے
22:44اور یوں اللہ تعالیٰ تمہیں شیطان پر غلبہ عطا فرما دے گا
22:48یہ تمام واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں
22:52کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندوں کا خالق اور موئین ہے
22:56مسیبت، تنگدستی
22:58یا خطرے میں صبر اور ایمان کے ذریعے
23:01اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے
23:02دولت، رزق اور زندگی کے حالات
23:06اللہ کے حکم سے ہیں
23:07ہمیں صبر، شکر اور اعتدال اختیار کرنا چاہیے
23:11نیکی اور صدقہ کے عمل میں تاخیر نہ کریں
23:15کیونکہ عمل وقت پر کرنے سے برکت بڑھتی ہے
23:18غرور، تکبر اور شیطانی وسوسوں سے بچنا
23:22بندے کی نجات کا سبب ہے
23:24والدین کی نصیحت اور وسیعت کو سننا
23:27اور ان کا احترام کرنا
23:29زندگی میں سکون اور حفاظت لاتا ہے
23:32موت کو یاد رکھنا
23:34اور دنیاوی فریب سے دل نہ بہلانا
23:36ایمان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے
23:39خوف خدا، نیکی اور عبادت کے ذریعے
23:43شیطان پر غالب آیا جا سکتا ہے
23:45مشکلات اور آزمائشیں
23:47اللہ کی طرف سے امتحان
23:49اور بندے کی بہتری کے لیے ہوتی ہیں
23:51آمال سالحہ، دعا اور مرہومین
23:55کے لیے نیک عمل
23:56آخرت میں سکون اور عجر کی زمانت ہیں
23:59اللہ پر بھروسہ اور اس کی طرف رجوع
24:03ہمیشہ انسان کے لیے راہ نجات ہے
24:05موسیقی
24:09ماں
24:17روی
24:20موسیقی
Comments

Recommended