Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Welcome to our World Informative Videos, a dedicated space for thoughtful exploration of Islamic knowledge, history, science, and educational content. This channel is created for viewers who seek authentic information, intellectual depth, and meaningful learning rooted in both faith and reason.

Our Islamic content focuses on presenting the teachings of Islam through the Quran and authentic Hadith, emphasizing values such as knowledge, wisdom, patience, justice, and compassion. We aim to explain Islamic concepts in a clear and accessible way, making them relevant for both Muslims and non-Muslims who wish to understand Islam beyond stereotypes. Topics include Islamic beliefs, daily life guidance, moral lessons, stories of the Prophets, and reflections on spirituality and faith in the modern world.

In addition to religious education, our channel strongly emphasizes history. We explore Islamic history alongside world history, highlighting major civilizations, scholars, discoveries, and events that shaped human progress. From the Golden Age of Islam to ancient and medieval civilizations, our historical videos aim to connect past knowledge with present understanding. These videos are designed to inspire curiosity and respect for diverse cultures and intellectual traditions.

We also present scientific and educational content, especially where science and history intersect. Our videos discuss scientific discoveries, natural phenomena, astronomy, medicine, mathematics, and contributions of Muslim scholars to modern science. We believe that learning science enhances critical thinking and helps viewers appreciate the complexity and harmony of the universe. Wherever possible, our content is presented using reliable sources, research-based explanations, and clear visuals to make complex ideas easy to understand.

This channel is ideal for students, researchers, educators, and lifelong learners who enjoy informative and meaningful content. Our goal is not only to inform, but also to encourage reflection, critical thinking, and respectful dialogue. We strive to maintain accuracy, balance, and responsibility in every video we publish.

By combining Islamic teachings, historical insight, and scientific knowledge, this channel serves as a platform for learning that bridges faith and intellect. Like and follow us on World Informative Videos to explore knowledge that enlightens the mind, strengthens understanding, and connects history, science, and spirituality in a meaningful way.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ملکہ بلکیس ایک ایسی ملکہ جو اپنی قوم سبا پر حکومت کرتی تھی
00:10لیکن اس کی اصل شخصیت ایک راز ہے
00:13کچھ کہتے ہیں وہ صرف ایک عظیم رانی تھی
00:15اور کچھ مفسرین لکھتے ہیں کہ وہ آدھی انسان تھی اور آدھی جن
00:21سوال یہ ہے اگر یہ سچ ہے تو آخر اس کی کہانی شروع کہاں سے ہوتی ہے
00:26کیسے ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی جو نہ صرف انسانوں کے لیے ایک ملکہ تھی
00:32بلکہ جنوں کی دنیا کا بھی ایک حصہ تھی
00:35اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں لوٹنا ہوگا پرانے یمن کے شہر سبا کی طرف
00:42جہاں دولت طاقت اور عبادت کا ایک نیا رنگ دکھائی دیتا ہے
00:46جہاں لوگ سورج کے سامنے سجدہ کرتے تھے
00:49اور جہاں طاقت اور عقل دونوں کا مرکز ملکہ بلقیس تھی
00:53اس ویڈیو میں آج ہم ایسی کہانی کو بیان کریں گے جس کو آپ نے سنا تو بہت بار ہوگا
00:59لیکن اس تفصیل کا آپ کو معلوم نہ ہوگا جو آج ہم اس ویڈیو میں بیان کریں گے
01:04تو شروع کرنے سے پہلے ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کریں
01:08تاکہ آگے آنے والی قرآنی سیریز کی کوئی ویڈیو مس نہ ہو جائے
01:13یمن کا قدیم شہر سبا
01:15یہ وہ سرزمین تھی جو اپنے باغات نہروں اور تجارت کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھی
01:21اس علاقے کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے زمین پر جنت اتر آئی ہو
01:26لیکن دولت اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ یہاں ایک گہری گمراہی بھی موجود تھی
01:32یہ لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے
01:34ہر صبح جب سورج دلوہ ہوتا
01:37تو ہزاروں لوگ زمین پر جھک جاتے اور سورج کو سجدہ کرتے
01:41قرآن کی سور النمل آیت چوبیس میں یہی ذکر ملتا ہے
01:46کہ بلکیس اور اس کی قوم سورج کے سامنے جھکتی تھی
01:49ملکہ بلکیس کی شخصیت جتنی شاندار تھی
01:53اس کی پیدائش اتنی ہی پرسرار تھی
01:56اس کے بارے میں مختلف اقوال اور روایات ملتے ہیں
02:08کہا جاتا ہے
02:09اس کے والد یمن کے علاقے میں ایک عظیم بادشاہ تھے
02:13ڈولٹ اور طاقت کے باوجود
02:15وہ اپنی حکومت کو مزید مضبوط دیکھنا چاہتے تھے
02:18لیکن تقدیر نے ان کے لیے ایک ایسا راستہ لکھا تھا
02:22جسے کوئی سمجھ نہ سکا
02:24روایات کے مطابق
02:26اس بادشاہ کا نکاح ایک ایسی عورت سے ہوا
02:29جو جنات کی نسل سے تعلق رکھتی تھی
02:32اسی عورت کے بطن سے بلکیس کی پیدائش ہوئی
02:35وقت گزرتا گیا
02:37اور بلکیس اپنے والد کی وفات کے بعد
02:39تخت پر بیٹھ گئی
02:41اب وہ صرف بادشاہ کی بیٹی نہیں رہی تھی
02:43بلکہ پورے سبا کی ملکہ بن چکی تھی
02:46ملکہ بلکیس نے اپنی اقل اور حکمت سے
02:49اس اندھی قوم پر مضبوط گرفت قائم کی
02:52یہ وہ وقت تھا جب اللہ تعالی نے
02:54حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت
02:57اور غیر معمولی بادشاہت عطا کی تھی
03:00ان کے لشکر میں صرف انسان نہیں تھے
03:03بلکہ پرندے جانور اور جنات بھی شامل تھے
03:06یہ وہ واحد بادشاہت تھی
03:08جس میں کائنات کی مختلف مخلوقات
03:10ایک ہی پرچم تلے جمع تھی
03:12حضرت سلیمان علیہ السلام
03:15ایک دن اپنے لشکر کی ترتیب دیکھ رہے تھے
03:18پرندے جانور سپاہی سب اپنی صفوں میں موجود تھے
03:22لیکن اچانک ان کی نظر ایک کمی پر پڑی
03:24حدود پرندہ موجود نہیں تھا
03:26سلیمان علیہ السلام نے فرمایا
03:29مجھے نظر نہیں آرہا حدود کہاں ہے
03:31اگر وہ بغیر وجہ کی غیر حاضر ہوا
03:34تو میں اسے سخت سزا دوں گا
03:36مگر اگر اس کے پاس کوئی ٹھوس دلیل ہوئی
03:39تو میں اسے معاف کر دوں گا
03:41کچھ دیر بعد وہ ننہا سا پرندہ حاضر ہوا
03:43لیکن اس کے پر پڑ پڑانے میں گھبراہت نہیں تھی
03:46بلکہ ایک خاص اعتماد تھا
03:48حدود نے کہا
03:49میں وہاں گیا ہوں جہاں آپ نہیں پہنچے
03:51میں نے سبا میں ایک عورت کو پایا
03:54جو اپنی قوم پر حکمران ہے
03:56اللہ نے اسے سب کچھ دیا ہے
03:58لیکن وہ اور اس کی قوم سورج کے آگے
04:00جھک کر سجدہ کرتے ہیں
04:02یہ الفاظ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے حیران کن تھے
04:06ایک ایسی عورت
04:07ایک ایسی سلطنت
04:08جو دولت اور طاقت میں عظیم ہے
04:10لیکن عبادت اللہ کی بجائے سورج کو کرتی ہے
04:13یہ بات ان کے دل کو بھاری لگی
04:15سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ کیا
04:18کہ یہ معاملہ کالا نہیں جا سکتا
04:20وہ براہ راست جنگ یا طاقت نہیں چاہتے تھے
04:22ان کا مقصد تھا
04:24کہ پہلے دعوت دی جائے
04:25دلیل پیش کی جائے
04:27اور پھر فیصلہ دیکھا جائے
04:28چنانچہ انہوں نے ایک خط لکھا
04:30ایک مختصر لیکن نہایت واضح پیغام
04:33سورات نمال آیات تیستہ اکتیس یہ خط
04:36سلیمان کی طرف سے ہے
04:38اور یہ اللہ کے نام سے ہے
04:40جو بڑا مہربان
04:41نہایت رحم والا ہے
04:43مجھ پر سرکشی نہ کرو
04:45اور میرے پاس فرمان بردار ہو کر حاضر ہو جاؤ
04:48یہ خط نہ لمبا تھا
04:49نہ فلسفیانہ
04:50بلکہ ایک سیدھا پیغام تھا
04:52تمہارا رب سورج نہیں
04:54بلکہ اللہ ہے
04:55حضرت سلیمان علیہ السلام نے وہ خط
04:58ہدھد کے سپرد کیا
05:00یہ ننہا پرندہ اڑتا ہوا سبا کے محل تک جا پہنچا
05:03جب اس نے خط پڑھا
05:05تو لمحہ بھر کو خاموش ہو گئے
05:07پہلی بار اس کے سامنے ایک ایسی دعوت آئی تھی
05:10جو اس کے تمام عقیدے
05:12اس کی تمام بادشاہت
05:14اس کی پوری تاریخ کو چیلنگ کر رہی تھی
05:16یہ دعوت تھی
05:18اللہ کی بندگی کی طرف
05:19محل کے اندر ایک سنہرہ سا سکوت چھایا ہوا تھا
05:23ملکہ بلکس
05:24اپنے تخت پر بیٹھی تھی
05:26سامنے وزراء اور عمراء اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے
05:30سب جانتے تھے
05:31کہ آج کچھ غیر معمولی ہونے والا ہے
05:34بلکیس نے اپنے نرم
05:36مگر باوکار لہجے میں کہا
05:38میرے پاس ایک خط آیا ہے
05:40یہ سنتے ہی دربار کے لوگ چونک اٹھے
05:42خط اور وہ بھی ملکہ کے لیے
05:44یہ کوئی عام بات نہیں تھی
05:46بلکیس نے خط کھول کر
05:48بلند آواز میں پڑھنا شروع کیا
05:50یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے
05:51میرے خلاف سرکشی نہ کرنا
05:53بلکی میرے پاس اطاعت کرتے ہوئے آ جانا
05:56یہ الفاظ پورے حال میں گونج اٹھے
05:59ایک لمحے کے لیے
06:00سب خاموش ہو گئے
06:02یہ پھر سرگوشیاں شروع ہو گئی
06:04کچھ کے چہروں پر حیرت تھی
06:05کچھ کے چہروں پر خوف
06:07بلکیس نے وزیروں کی طرف نگاہ ڈالی اور کہا
06:10اے سرداروں
06:11مجھے اس معاملے پر تمہاری رائے چاہیے
06:14ایک وزیر آگے بڑھا
06:16اور غرور بھرے لہجے میں بولا
06:17ہم ایک بڑی سلطنت ہیں
06:19ہماری فوجیں طاقتور ہیں
06:21اگر سلیمان جنگ چاہتا ہے
06:24تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے
06:25دوسرے وزیر نے بھی تائد کی
06:27ہمارے پاس ہاتھیوں کے لشکر ہیں
06:30ہماری سرزمین ذریع طاقت سے بھری ہوئی ہے
06:33ہم پرندے
06:34یا کوئی خط ہمیں خفزدہ نہیں کر سکتا
06:37لیکن بلکیس خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی
06:39اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں
06:41بلکی گہری سوچ تھی
06:42اس نے کہا
06:44ہاں تمہارے پاس طاقت ہے
06:46لیکن یاد رکھو
06:47جب بادشاہ کسی بستی پر چڑھائی کرتے ہیں
06:50تو وہ اسے برباد کر دیتے ہیں
06:52وہ عزت والوں کو
06:54زلیل کر دیتے ہیں
06:55طاقت سے زیادہ دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے
06:59بلکیس جانتی تھی
07:00کہ سیدھا انکار یا سیدھی جنگ
07:02اس کی قوم کو بربادی کی طرف
07:04ڈھکیل دے گی
07:05وہ چاہتی تھی
07:06پہلے معاملے کی حقیقت کو جانچا جائے
07:09جند لمحے خاموشی کے بعد
07:11اس نے فیصلہ سنا دیا
07:12ہم فوراں سلیمان کو تحائف بھیجیں گے
07:15ایسے تحائف
07:16جو ہماری دولت
07:17ہماری شان اور ہماری عزت کا اظہار کریں
07:20اگر وہ یہ تحائف قبول کر لیتا ہے
07:23تو سمجھو اس کا مقصد
07:25صرف طاقت اور دولت ہے
07:27اور اگر وہ انکار کرتا ہے
07:29تو پھر یہ بات ثابت ہو جائے گی
07:31کہ وہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں
07:33دربار میں سر جھک گئے
07:35سب جان گئے
07:36کہ ملکہ کا فیصلہ نہایت حکمت بھرا ہے
07:39وہ ایک ہی وار میں
07:41دشمن کے اصل ارادے کو پرکھ لینا چاہتی تھی
07:43چنانچہ کافلے تیار ہونے لگے
07:46انٹھا تھی
07:47قیمتی سونے کے زیورات
07:48خوشبویں
07:49ہیر جواہرات
07:50نایاب تحائف
07:51یہ سب کچھ ایک کافلے میں لادا گیا
07:53سبا کی زمین سے روانہ ہو کر
07:55یہ کافلہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار کی طرف بڑھنے لگا
08:00لیکن بلکیس کے دل میں ایک اور سوال بھی چھپا ہوا تھا
08:03یہ سلیمان کون ہے
08:05یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محض طاقتور بادشاہ نہ ہوں
08:08بلکہ کوئی ایسی ہستی ہوں
08:11جو زمین و آسمان کے راز جانتی ہے
08:13یہی وہ تجسس تھا
08:15جس نے بلکیس کو اس سفر کی طرف دھکیل دیا
08:18جو اسے ہمیشہ کے لیے بدلنے والا تھا
08:21سبا سے روانہ ہونے والا کافلہ دنوں کا سفر تے کرتا ہوا
08:25بلاخر حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت کی سرہدوں میں داخل ہوا
08:31ہنٹوں پر لدے ہوئے سونے کی دھیر
08:33نایاب جواہرات
08:35خوشبویں ریشمی کپڑے اور ہاتھیوں پر سچتہائے
08:38یہ سب دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں
08:41لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار کوئی عام دربار نہ تھا
08:45یہ وہ مقام تھا جہاں انسان پرندے اور جن سب اکٹھے تھے
08:50زمین پر سپاہیوں کی صفے تھیں
08:52فضا میں پرندے پرواز کر رہے تھے
08:55اور جنات اپنی اپنی ذمہ داریوں میں لگے ہوئے تھے
08:58یہ منظر دیکھ کر کافلے کے نمائندے سہم گئے
09:00انہوں نے ایسی سلطنت پہلے کبھی نہ دیکھی تھی
09:03جب کافلہ دربار میں داخل ہوا
09:05تو حضرت سلیمان علیہ السلام وقار کے ساتھ
09:09اپنے تخت پر جلوہ افروز تھے
09:12لیکن ان کے چہرے پر کوئی لالچ یا حیرت نہ تھی
09:15کافلے کے سردار نے آگے بڑھ کر کہا
09:18اے سلیمان ہماری ملکہ بلکیس نے یہ قیمتی تحائف آپ کے لیے بھیجے ہیں
09:24یہ ہماری دوستی اور عزت کی نشانی ہیں
09:27حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک لمحے کے لیے تحائف کی طرف دیکھا
09:32پھر اپنے مضبوط لہجے میں فرمایا
09:34کیا تم مجھے مالو دولت سے رازی کرنا چاہتے ہو
09:38جو کچھ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے وہ تمہارے سب تحائف سے کہیں بہتر ہے
09:42واپس جاؤ اور اپنی ملکہ سے کہو کہ اگر وہ اطاعت کرتے ہوئے نہ آئی
09:47تو میں ایسا لشکر لے کر آؤں گا جس کا وہ مقابلہ نہیں کر پائے گی
09:52کافلے کے نمائندوں کے چہروں سے غرور وٹھ گیا
09:55انہوں نے دیکھا کہ سلیمان علیہ السلام کا مقصد دولت
09:59یا زمین پر قبضہ نہیں ہے
10:01یہ پیغام خالص تن اللہ کی بندگی کی طرف بلانے کا ہے
10:05تحائف وہیں چھوڑ کر کافلہ تیزی سے واپس لوٹا
10:08راستے میں ان کے دل کانپتے رہے
10:10کہ اب اپنی ملکہ کو کیا جواب دیں گے
10:13انہوں نے نہ صرف تحائف کے انکار کی خبر دینی تھی
10:16بلکہ یہ بھی بتانا تھا
10:18کہ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کتنی عظیم ہے
10:21اور ان کی باتوں میں کتنی غیر معمولی طاقت ہے
10:24دوسری طرف حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار میں ایک اور اعلان کیا
10:30انہوں نے اپنے وزیروں اور جنات سے کہا
10:33بلکیس کو میرے پاس لانے سے پہلے
10:35کیا کوئی اس کا تخت یہاں میرے سامنے لا سکتا ہے
10:39یہ سوال معمولی نہ تھا
10:40تخت بلکیس اس کی سلطنت کی پہچان تھا
10:43اس کی شان کا مرکز تھا
10:45اسے یمن سے فلسطین تک لانا کوئی آسان بات نہ تھی
10:49لیکن یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا حکم تھا
10:52ایک طاقتور جن آگے بڑھا اور بولا
10:55میں یہ تخت آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے
10:58کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں
10:59لیکن پھر ایک اور شخصیت جس کے پاس کتاب کا علم تھا
11:04اس نے کہا
11:04میں یہ تخت آپ کے پاس پلک جھپکنے سے بھی پہلے لے آسکتا ہوں
11:09اس نے یہ کہا
11:10اور اگلے لمحے ہی
11:12بلکیس کا تخت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود تھا
11:16یہ منظر وہاں موجود سب کے لیے ناقابل یقین تھا
11:19سلیمان علیہ السلام نے شکر ادا کیا اور کہا
11:22یہ سب میرے رب کا فضل ہے
11:24تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناش کری
11:27اب معاملہ واضح ہو چکا تھا
11:30حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ ارادہ کر لیا
11:34کہ جب بلکیس ان کے پاس آئے گی
11:36تو اسے ایک ایسا منظر دکھایا جائے
11:39جو اس کی آنکھوں سے پردے ہٹا دے
11:41اسے یہ یقین دلایا جائے
11:44کہ یہ معاملہ طاقت یا دنیا کا نہیں
11:46بلکہ اللہ کی ربوبیت کی دعوت کا ہے
11:49سبا کے دربار میں واپسی پر
11:51قافلے نے جو خبریں اسنائیں
11:53وہ بلکیس کے لیے چونکہ دینے والی تھی
11:56تحائف واپس کر دیے گئے
11:58اور یہ پیغام بھی بھیجا گیا
12:00کہ اگر اطاعت نہ کی گئی
12:02تو ایک ایسا لشکر آئے گا
12:04جو سبا کی سرزمین کو رونڈ ڈالے گا
12:06بلکہ اس خاموشی سے سب سنتی رہی
12:08اس کے چہرے پر غصہ نہیں
12:10بلکہ حیرت اور خوف کے آثار تھے
12:12اس نے سوچا
12:14اگر یہ سلیمان محض ایک بادشاہ ہوتا
12:17تو دولت قبول کر لیتا
12:19لیکن اس نے مال کو ٹھکرا دیا ہے
12:21اس کی سلطنت عام نہیں
12:23اس کے پاس کوئی ایسی طاقت ہے
12:26جو انسانی بس سے باہر ہے
12:28چنانچہ بلکیس نے فیصلہ کیا
12:30کہ وہ خود حضرت سلیمان
12:32علیہ السلم سے ملاقات کرے گی
12:34یہ سفر نہ صرف ایک رانی کا تھا
12:37بلکہ ایک قوم کے مستقبل
12:39کا فیصلہ بھی تھا
12:40دن گزرتے گئے
12:41کافلہ چلتا رہا
12:43اور آخرکار وہ لمحہ آیا
12:45جب بلکیس اپنے جاہو جلال کے ساتھ
12:48حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں داخل ہوئی
12:51لیکن جو کچھ اس نے دیکھا
12:53وہ اس کی توقعات سے بلکل مختلف تھا
12:56دربار میں شان و شوکت کے ساتھ
12:58سکون اور وقار کا ایک عجیب امتزاج تھا
13:01انسان پرندے اور جنات ایک ہی ترتیب میں کھڑے تھے
13:05یہ نظم و زبط بلکیس کے لیے
13:07ناقابل یقین تھا
13:09حضرت سلیمان علیہ السلام نے
13:11بلکیس کو دیکھتے ہی
13:12اس کے لیے ایک امتحان تیار کیا
13:15وہ اس کے سامنے اس کا تخت رکھوا چکے تھے
13:18وہی تخت جو پلک جھپکتے ہی
13:21یمن سے لائے گیا تھا
13:22سلیمان علیہ السلام نے
13:24مسکر آ کر پوچھا
13:25کیا یہ تمہارا تخت ہے
13:27بلکہ اس لمحہ بھر کو تھٹک گئی
13:29اس نے غور سے دیکھا
13:31یہ بلکل اس کے تخت جیسا تھا
13:33لیکن کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی تھی
13:35یہ سوال نہایت باریک تھا
13:37اگر وہ کہتی ہاں
13:38تو ممکن تھا کہ یہ امتحان میں پھنس جائے
13:41اگر کہتی نہیں تو حقیقت کے براکس ہوتا
13:44جند لمحے سوچنے کے بعد
13:46اس نے نہایت حکمت سے جواب دیا
13:48یہ تو بالکل میرے تخت جیسا ہے
13:50یہ الفاظ اس کی اقل اور احتیاط کا ثبوت تھے
13:54اس نے حقیقت کو جھٹلایا بھی نہیں
13:56اور جلد بازی میں فیصلہ بھی نہیں کیا
13:59یہ دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں موجود
14:03سب کو اندازہ ہوا
14:04کہ بلکہ اس محض ایک رانی نہیں
14:06بلکہ ایک غیر معمولی ذہانت رکھنے والی عورت ہے
14:10لیکن امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا
14:12حضرت سلیمان علیہ السلام
14:14اسے ایک اور مقام پر لے گئے
14:17یہ ایک شیشے کا محل تھا
14:19محل کی زمین
14:20اس قدر شفاف تھی
14:22کہ اس کے نیچے بہتا ہوا پانی اور تیرتی ہوئی مچھلیاں
14:25بلکہ صاف دکھائی دیتی تھی
14:27یہ منظر دیکھ کر بلکہ اس نے سمجھا
14:30کہ یہ واقعی پانی ہے
14:31اس نے اپنا لباس ذرا اوپر کیا
14:34تاکہ پانی میں نہ بھیگ جائے
14:35حضرت سلیمان علیہ السلام
14:38مسکرائے اور فرمایا
14:39یہ پانی نہیں
14:40یہ شیشے کا فرش ہے
14:42یہ منظر بلکہ اس کے لئے فیصلہ کن تھا
14:45اس نے سمجھ لیا
14:46کہ یہ بادشاہت عام نہیں
14:48یہ علم اور حکمت کی بنیاد پر قائم ہے
14:51یہ صرف انسانوں کی طاقت نہیں
14:53بلکہ اللہ کی قدرت کا مظہر ہے
14:55اور وہ لمحہ آ گیا
14:57جب بلکہ اس کے دل نے جھکنا شروع کر دیا
14:59اس نے اپنے لبوں سے وہ کلمات ادا کئے
15:02جنہوں نے اس کی زندگی بدل دی
15:04میں اللہ پر ایمان لاتی ہوں
15:05جو سلیمان کا رب بھی ہے اور میرا بھی
15:08یہ جملہ اس کے ماضی کے تمام غرور
15:10اور شک کو توڑ گیا
15:12سورج کی پوجہ کرنے والی
15:14ایک عظیم سلطنت کی رانی
15:15اب لا وحدہ لا شریک کی بندگی میں
15:18داخل ہو چکی تھی
15:19اب سوال یہ ہے
15:21کہ اس پورے قصے میں قرآن نے کیا بیان کیا ہے
15:24اور کون سی تفصیلات
15:26ہمیں تفاصیر اور تاریخی روایات سے ملتی ہیں
15:29قرآن کی سورہ النمل
15:31آیت بیس تا چورتالیس
15:33میں اس قصے کا تفصیلی ذکر ملتا ہے
15:36تفاصیر اور تاریخی روایات میں
15:38بعدوں تفاصیر میں ذکر ملتا ہے
15:40کہ ملکہ بلکیس آدھی انسان
15:43اور آدھی جن تھی
15:44کہا جاتا ہے کہ اس کی والدہ
15:46ایک جنات کی عورت تھی
15:48اور باپ انسان تھا
15:49یہ روایت زیادہ تر اسرائیلیات کے ذریعے پہنچی ہے
15:53اور مفسرین نے اسے بیان ضرور کیا
15:55لیکن قطعی حکم کے طور پر نہیں
15:57بلکیس کے محل
15:59اس کے تخت کی بناوٹ
16:01اور اس کی شخصیت کے متعلق
16:02مختلف تفصیلات بھی
16:04قطب تاریخ میں مذکور ہیں
16:06بعدوں روایات کے مطابق
16:08اس کے پاؤں اور پنڈلیاں جنات کی طرح
16:11بالوں سے بھری ہوئی تھی
16:12اور یہی وجہ تھی کہ حضرت سلیمان
16:15اللہ السلام نے شیشے کے محل میں
16:17اسے آزمایا
16:18یہ روایت بھی قرآن میں نہیں
16:20بلکہ تفاصیر اور قدیم حکایات میں ملتی ہے
16:23کچھ مفسرین کا کہنا ہے
16:25کہ اس نے ایمان لانے کے بعد
16:27حضرت سلیمان علیہ السلام سے
16:29نکاح بھی کیا لیکن یہ روایت
16:31بھی اختلافی ہے
16:32اصل حقیقت
16:34قرآن نے نہ تو بلکیس کے جن ہونے کی بات کہی
16:37نہ اس کے جسمانی اصاف کی
16:39وضاحت کی
16:40قرآن نے صرف اس کی قوم کے عقیدے
16:43اس کی اقل و دانش
16:45اور آخرکار اس کے ایمان لانے
16:47کو ذکر کیا ہے
16:48اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد
16:51محض کہانی سنانا نہیں
16:52بلکہ ہدایت دینا ہے
16:54کہ دنیا کی سب سے طاقتور رانی بھی
16:57آخرکار اللہ کے آگے جھگ گئی
Comments

Recommended