00:01ہزاروں سال پہلے کی بات ہے
00:03یہ زمین بلکل ویران تھی
00:06نہ انسان نہ شہر نہ آبادیاں
00:10صرف ایک ہی مخلوق یہاں آباد تھی
00:13وہ تھے جنات
00:15جنات کے قبیلے زمین کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے تھے
00:20مگر ان کے درمیان ہمیشہ لڑائیاں جھگڑے فساد اور خون ریزی چاری رہتی تھی
00:26پوری زمین میدان جنگ بن چکی تھی
00:29یہ منظر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہوا
00:33تو اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا
00:36زمین کو اس فساد سے پاک کر دیا جائے
00:40فرشتوں کو حکم دیا گیا
00:41وہ بڑے بڑے لشکروں کی صورت میں زمین پر اترنے لگے
00:45اور جنات پر زبردست حملہ کر دیا
00:50جنات نے مقابلہ کرنے کی کوشش تو کی
00:52مگر اللہ کے حکم کے سامنے وہ بے بس ہو چکے تھے
00:56اس حملے میں بے شمار جنات حلق ہوئے
00:59اور جو بچ گئے وہ پہاڑوں جنگلوں اور دور دراز جزیروں میں چھپ گئے
01:05انہی جنات میں ایک نہایت ہی نیک اور عبادت گزار جن تھا
01:10جس کا نام تھا
01:12عزازی
01:14عزازیل باقی جنوں سے مختلف تھا
01:16وہ فساد سے بلکل الگ رہتا
01:19اور دن رات عبادت کرتے رہتا تھا
01:22جب فرشتے جنات کے خلاف لڑنے آئے
01:25تو عزازیل نے کھل کر فرشتوں کا ساتھ دیا
01:28فرشتے اس کی عبادت اور اخلاص سے بہت امپریس ہوئے
01:33جب جنگ ختم ہوئی
01:34تو وہ اسے اپنے ساتھ آسمانوں پر لے گئے
01:37اب عزازیل فرشتوں کی محفلوں میں رہنے لگا
01:40وقت کے ساتھ ساتھ اس کا علم اور عبادت میں مقام بڑھتا چلا گیا
01:45حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا درچہ بہت بلند ہو گیا
01:51مگر اسی دوران اس کے دل میں ایک خاموش خواہش نے جگہ بنانا شروع کی
01:56کاش زمین کی خلافت مجھے عطا ہو جائے
02:00وہ وقت گزرتا جا رہا تھا
02:02پھر ایک دن
02:03اللہ رب العزت کی طرف سے ایک اعلان ہوا
02:06ایک ایسا اعلان جو سب کچھ بدل دینے والا تھا
02:11اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
02:13میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں
02:17تمام مخلوقات میں حلچل مچ گئی
02:20سب کی ذہن میں یہی سوال تھا
02:22کہ زمین پر اللہ کا نائب کون ہوگا
02:27فرشتے زمین پر اس سے پہلے جنات کا فساد دیکھ چکے تھے
02:31تو انہوں نے حیران ہو کر
02:33اللہ رب العزت سے عرض کیا
02:35کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا
02:38جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا
02:41حالانکہ ہم ہر وقت تیری تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں
02:45اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
02:48میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
02:52دوسری طرف عزازیل یہ اعلان سنتے ہی بہت خوش ہوا
02:56وہ بہت کانفیڈنٹ تھا
02:58کہ اللہ کے ہاں اس کا جو مقام ہے
03:00اس لیے اب اس زمین کی خلافت تو اسے ہی ملنے والی ہے
03:04لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا
03:07جس نے سب کو حیران کر دیا
03:09اللہ تعالیٰ نے حضرت عزائل علیہ السلام کو حکم دیا
03:13کہ وہ زمین کے مختلف علاقوں سے مٹی جمع کریں
03:17حضرت عزائل علیہ السلام نے
03:20پہاڑوں میدانوں ریکستانوں اور زرخیز زمینوں
03:24ہر جگہ سے تھوڑی تھوڑی مٹی جمع کی
03:27یہ مٹی مختلف رنگوں کی تھی
03:30کسی جگہ کی مٹی نرم تھی
03:32اور کسی کی سخت
03:33اس مٹی سے اب اللہ تعالیٰ نے
03:36ایک نئی مخلوق تخلیق فرمانا شروع کی
03:39انسان
03:41جب پہلے انسان کی تخلیق مکمل ہوئی
03:44تو اس کا نام رکھا گیا
03:45آدم
03:47پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی
03:50اور یوں انسانیت کی ابتدہ ہو گئی
03:54اب تمام مخلوقات کی نظریں
03:56حضرت عزائل علیہ السلام پر تھی
03:59کہ ان میں کیا خاص بات ہے
04:01وہ کیسے
04:02سب سے ڈیفرنٹ ہیں
04:04اب اللہ رب العزت نے
04:06حضرت عزائل علیہ السلام کو
04:08خاص علم عطا کرنا شروع کیا
04:11ایسا علم
04:12جو اس سے پہلے کسی کو بھی نہیں دیا گیا تھا
04:15نہ فرشتوں کو
04:17نہ جنات کو
04:18اب اس علم سے متعلق
04:20امتحان لینے کی باری تھی
04:22اللہ تعالیٰ کی طرف سے
04:24فرشتوں اور حضرت عزائل علیہ السلام کا
04:26امتحان لیا گیا
04:28فرشتے کسی سوال کا جواب نہ دے سکے
04:31جبکہ
04:32حضرت عزائل علیہ السلام نے
04:34تمام سوالوں کے
04:36ٹھیک ٹھیک جواب دے دیئے
04:38اب فرشتوں پر بلکل واضح ہو گیا
04:40کہ انسان
04:41ان سے بہت سپیریر ہے
04:43انہوں نے
04:44اللہ رب العزت کے حضور ارز کیا
04:46یا اللہ
04:47ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں
04:50جتنا تُو نے ہمیں سکھایا
04:51بے شک
04:53تُو ہی علم والا
04:54حکمت والا ہے
04:56اور پھر وہ دھنا گیا
04:58جب زمین کی خلافت کا فیصلہ کیا جانا تھا
05:01مجلس میں
05:03تمام فرشتے
05:04اور عزازیل بھی موجود تھا
05:07عزازیل کی دل میں انسان کے خلاف
05:09حسد کی چنگاری بھڑک رہی تھی
05:11مگر
05:12اسے اپنی عبادت پر بہت ناز تھا
05:15اور وہ سوچ رہا تھا
05:17کہ آدم تو بیچارہ مٹی سے بنا ہے
05:19اور میں آگ سے بنا ہوں
05:21میں ہی یقیناً اللہ کے نزدیک افصل ہوں
05:24خلافت تو مجھے ہی ملے گی
05:27اور پھر
05:28اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنا دیا
05:31کہ زمین پر اس کا خلیفہ
05:34انسان ہوگا
05:36عزازیل پر یہ خبر
05:37بجلی بن کر گری
05:38وہ شوق میں چلا گیا
05:40اس کی آنکھیں
05:41غم اور غصے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی
05:44اب اللہ رب العزت نے
05:46تمام فرشتوں اور عزازیل کو حکم دیا
05:50آدم کو سجدہ کرو
05:52اللہ رب العزت کے اس حکم کے ساتھ ہی
05:55تمام فرشتے فوراً سجدے میں گر گئے
05:58سوائے عزازیل کے
06:01کسی کی مجال نہ تھی
06:03کہ اللہ کے حکم کا انکار کرے
06:05مگر وہ بدبخت
06:07گردن اکڑائے
06:08غصے اور تکبر کے ساتھ کھڑا ہوا تھا
06:12دربارِ خداوندی میں
06:13سنناٹا چھایا ہوا تھا
06:16اللہ تعالی نے پوچھا
06:19تجھے کس چیز نے روکا
06:20کہ تُو سجدہ نہ کرے
06:22جب میں نے تجھے حکم دیا
06:26ابلیس نے تکبر سے جواب دیا
06:28میں اس سے بہتر ہوں
06:30تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا
06:32اور اسے مٹی سے
06:34اللہ رب العزت نے
06:36نہایت جلال سے فرمایا
06:39نکل جا یہاں سے
06:40تجھے یہ حق نہیں
06:42کہ یہاں تکبر کرے
06:45یقیناً
06:45تُو زلیلوں میں سے ہے
06:48اب وہ ازازیل
06:49ابلیس بن چکا تھا
06:51مردود اور شیطان
06:53مگر بھی جائے شرمندہ ہونے
06:56یا توبہ کرنے کے
06:57اس نے اللہ تعالی سے
06:59ایک حیران کندر خاص کی
07:02مجھے قیامت تک محلت دے دے
07:04جس دن انسانوں کو
07:06قبروں سے اٹھایا جائے گا
07:08اللہ رب العزت نے فرمایا
07:10جا
07:11تجھے محلت دی گئی
07:14لیکن ابلیس نے وہیں
07:15ایک اور اعلان کیا
07:16جو کہ
07:18ایک چیلنج تھا
07:19ایک سازش تھی
07:22کہنے لگا
07:23اب چونکہ تُو نے مجھے گمراہ کیا ہے
07:26اس لیے میں بھی قسم کھاتا ہوں
07:28کہ ان انسانوں کی گھات لگا کر
07:31تیرے سیدھے رسے پر بیٹھا رہوں گا
07:33پھر میں ان پر چاروں طرف سے حملے کروں گا
07:37ان کے سامنے سے بھی
07:39اور ان کے پیچھے سے بھی
07:40اور ان کے دائیں طرف سے بھی
07:42اور ان کے بھائیں طرف سے بھی
07:45اور تُو ان میں سے
07:45اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا
07:49اللہ رب العزت نے
07:51نہایت جلال سے فرمایا
07:53نکل جائے ہاں سے
07:55ظلیل اور مرتار ہو کر
07:57ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا
08:00وہ بھی تیرا ساتھی ہوگا
08:02اور میں تم سب سے
08:03جہنم کو بھر دوں گا
08:06یوں ابلیس انتہائی ظلیل ہو کر
08:09بارگاہ خداوندی سے نکل گیا
08:11وہ غصے اور انتقام کی آگ میں چل رہا تھا
08:14اسے سب سے زیادہ غصہ انسان پر تھا
08:18جس کی وجہ سے وہ
08:19اللہ رب العزت کی مجلس سے
08:21نکالا جا چکا تھا
08:22اب حضرت آدم علیہ السلام کا
08:25اصل امتحان شروع ہونے والا تھا
08:28انسان اور شیطان کا مقابلہ
08:30شروع ہونے والا تھا
08:32حضرت آدم علیہ السلام
08:34جنت میں رہنے لگے
08:35وہاں ہر طرح کی نعمتیں تھی
08:37لیکن پھر بھی
08:38وہ اکیلا محسوس کرتے تھے
08:41انہیں تنہائی کا احساس ہوتا تھا
08:44اللہ رب العزت نے ان کی تنہائی دور کرنے کے لیے
08:47ان کی زوجہ
08:48حضرت حووہ علیہ السلام کو پیدا فرمایا
08:51وہ ان کی ساتھی بنی
08:54اب حضرت آدم اور حضرت حووہ
08:56دونوں خوشی سے جنت میں رہنے لگے
08:59اللہ رب العزت نے فرمایا
09:01اے آدم
09:03تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو
09:06جہاں سے چاہو کھاؤ پیو
09:08خوشی سے رہو
09:09مگر ایک طرح کے قریب مت جانا
09:12ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے
09:15جنت میں ہر طرف نعمتیں تھیں
09:18آرام تھا
09:19سکون تھا
09:21صرف ایک طرخت تھا
09:22جس کے قریب جانے سے
09:24اللہ رب العزت نے منع فرمایا تھا
09:26مگر شیطان
09:28جو پہلے ہی جنت سے نکالا جا چکا تھا
09:31حضرت آدم علیہ السلام سے
09:33حضرت حووہ علیہ السلام میں جل رہا تھا
09:35وہ چاہتا تھا کہ آدم اور حووہ بھی
09:38اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں
09:40تاکہ وہ بھی اس کی طرح جنت سے نکالے جائیں
09:43اسی لیے وہ چھپکے چھپکے آیا
09:46اور حضرت آدم اور ہوا کے دلوں میں
09:49وسوسے ڈالنے شروع کرتی ہے
09:51وہ ان سے کہنے لگا
09:53تمہیں جنت کے ہر ترخت سے کھانے کی اجازت ہے
09:56لیکن کیا تم نے کبھی سوچا ہے
09:58کہ اس ایک ترخت سے کیوں روکا گیا
10:01آخر کیا وجہ ہے
10:03پھر اس نے جھوٹ بول کر کہا
10:06تمہیں روکا اس لیے گیا ہے
10:08کہ اگر تم نے اس درخت کا پھل کھا لیا
10:10تو تمہیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی
10:13تم فرشتے بن جاؤ گے
10:15تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی
10:18یہ درخت تو شجر خلد ہے
10:20یعنی ہمیشہ کی زندگی دینے والا درخت
10:24ابلیس نے بڑی نرمی چالاکی اور چھوٹی قسموں کے ساتھ
10:28یہ ظاہر کیا کہ وہ ان کا خیرخواہ ہے
10:30وہ بار بار کہتا رہا
10:32میں تم دونوں کا بھلا چاہتا ہوں
10:35میری بات مانو
10:36اس درخت کا پھل کھا لو
10:38دیکھنا تمہیں کیا مقام حاصل ہوتا ہے
10:40حضرت آدم اور ہوا نے کبھی جھوٹ سنا ہی نہیں تھا
10:45اور نہ کبھی کسی کو اللہ کی جھوٹی قسم کھاتے دیکھا تھا
10:49تو بلاخر وہ دھوکہ کھا گئے
10:52اور اس درخت کا پھل کھا لیا
10:54بس یہی وہ لمحہ تھا
10:56جس نے سب کچھ بدل دیا
10:58اللہ تعالیٰ کا حکم ٹوٹ چکا تھا
11:01جیسے ہی انہوں نے پھل کھایا
11:03فوراں جنت کا نورانی لباس
11:06ان کے جسموں پر سے غائب ہو گیا
11:08اور وہ گھبرا کر
11:09جنت کے پتوں سے خود کو چھپانے لگے
11:12ان پر ایک دم شرمندگی چھا گئی
11:15اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پکارا
11:18کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منانا کیا تھا
11:21اور یہ نہ کہا تھا
11:23کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے
11:26دونوں نے جب اللہ کی پکار سنی
11:29تمہارے خوف کے کانپ اٹھے
11:31حضرت آدم اور حضرت حفوہ علیہ السلام
11:34بہت غمگین تھے
11:36کہ یہ ان سے کیا گناہ ہو گیا
11:38کیسے وہ شیطان کے دھوکے میں آ گئے
11:41انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی
11:43کہ اللہ رب العزت سے معافی کیسے مانگے
11:45مگر
11:46اللہ کی کریم ذات کو ان کی حالت پر رحم آ گیا
11:50اور اللہ تعالیٰ نے خود انہیں ایک خاص دعا سکھا دی
12:03اے ہمارے رب
12:04ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا
12:07اگر تو ہمیں نہ بخشے
12:09اور ہم پر رحم نہ کرے
12:10تو ہم یقینا خسارے والوں میں سے ہو جائیں گے
12:14حضرت آدم اور امہ حفوہ نے
12:16یہ دعا مانگنا شروع کی
12:18تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی
12:20اور یوں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھل گیا
12:25پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا
12:27اب تم سب انسان اور شیطان زمین پر اتر جاؤ
12:32تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے
12:34وہاں تمہیں ایک وقت مکرر تک دھیرنا ہے
12:38اور وہاں زندگی گزارنی ہے
12:40حضرت آدم اور حضرت حفوہ کو
12:43جنت سے اتار کر اس زمین پر بھیج دیا گیا
12:46یہی وہ جگہ تھی
12:47جہاں ان کا اور ان کی آنے والی نسلوں کا
12:50امتحان لیا جانا تھا
12:52جہاں انسان اور شیطان کی
12:55ایک مسلسل جنگ رہنی تھی
12:58اس زمین پر تو سب مختلف تھا
13:01ادھر آ کر انہیں پہلی بار بھوک کا احساس ہوا
13:04پہلی بار کھیتی باڑی کی
13:06روٹی پکائی اور تب جا کر پیٹ بھرا
13:10حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
13:13کہ زمین پر اترنے کے بعد
13:15حضرت جبریل علیہ السلام
13:17حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئے
13:20ان کے ساتھ گندم کے ساتھ دانے بھی تھے
13:23حضرت آدم نے پوچھا
13:25اے جبریل یہ کیا چیز ہے
13:28حضرت جبریل علیہ السلام نے جواب دیا
13:30یہ اسی درخت کا پھل ہے
13:32جس کے بارے میں آپ کو منع کیا گیا تھا
13:35لیکن آپ نے وہ کھا لیا تھا
13:37حضرت آدم نے فرمایا
13:39اب میں ان دانوں کا کیا کروں
13:41حضرت جبریل نے کہا
13:43انہیں زمین میں بھو دیجئے
13:45حضرت آدم نے ان دانوں کو زمین میں بھو دیا
13:48یہ دانیں بہت وزنی اور بڑے تھے
13:51دنیا کے عام دانوں سے کہیں زیادہ
13:54کچھ عرصے بعد وہ دانیں اگائے
13:57حضرت آدم نے فصل کاتی
13:59دانیں صاف کیے
14:00پھر انہیں پیسا آٹھا گوندہ اور روٹی بنائی
14:03یوں حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر محنت کر کے
14:07کھانا کھانے کا طریقہ سیکھا
14:10اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کا پہلا لباس بھی
14:13حضرت جبریل علیہ السلام کی مدد سے تیار ہوا
14:16وہ بھیڑ کی اون سے بنا تھا
14:19پہلے انہوں نے اون کاٹی
14:21پھر چرخے پر دھاگا بنایا
14:23پھر حضرت آدم علیہ السلام نے
14:26اپنے لئے ایک چبہ
14:27اور حضرت حوہ کے لئے کمیز اور اڑنی تیار کی
14:30اور یوں اس زمین پر انسانیت کا آغاز ہوا
14:35انسان اور شیطان کی کہانی شروع ہوئی
14:38ایک ایسی جنگ جو آج تک جاری ہے
14:41جہاں شیطان انسان کو دھوکہ دیتا ہے
14:44اسے بہکاتا ہے اور اللہ کے حکم سے روکتا ہے
14:47اور انسان اکثر اس کے دھوکے میں آبی جاتا ہے
14:50لیکن یاد رکھیں کامیاب وہی ہے
14:54جو گناہ کے فوراں بعد
14:55اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح
14:59ندامت کے ساتھ
15:00اللہ سے توبہ اور استغفار کرے
15:02کیونکہ بے شک
15:03اللہ رب العزت کی ذات
15:05نہایت مہربان اور بخشنے والی ہے
15:08اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہو
15:10تو اسے لائک کیجئے
15:11اپنے خیالات کومنٹس میں بتائیں
15:13اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ
15:15ضرور شیئر کیجئے
15:16تاکہ سب تک یہ پیغام پہنچ سکے
15:18ایسے ہی ایمان افروز واقعات کے لیے
15:21ہمارے چینل اسلامک پر ویو کو سبسکرائب کیجئے
15:24اور بیل آئیکن کو دبائیں
15:26تاکہ نئی ویڈیوز کی اطلاع آپ کو فوراں مل سکے
15:29اب اگلی ویڈیو دیکھنے کے لیے
15:31یہاں کلک کیجئے
15:32حضرت ابراہیم علیہ السلام
15:34اور شیطان کے پجاری نمرود کے درمیان ہونے والا
15:38عظیم مقابلہ
15:39مجھے دیجئے اجازت
15:41اللہ نگہبان
Comments