00:00ذرا تصور کریں ایک ایسی زمین جہاں ہر چیز امن خوشحالی اور نعمتوں سے بھری ہوئی تھی
00:07جہاں ہر گوشہ زندگی کی خوشبو سے مہکتا تھا اور ہر لمحہ اللہ کی رحمت کی گواہی دیتا تھا
00:15ایک ایسی قوم جس کے لیے بھوک صرف ایک لفظ تھی
00:18جہاں سونا مٹی کی طرح بکھرا تھا اور پانی ہر طرف رحمت بن کر بہتا تھا
00:25جہاں تنگی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا اور سب لوگ امن اور سکون کے ساتھ رہتے تھے
00:31مگر ایک رات نہ دشمن کی فوجائی نہ آسمان سے آگ برسی
00:36بس اللہ کا ایک فرمان ہوا اور ایک ننہا سا چوہا دنیا کی سب سے مضبوط سلطنت کی تقدیر بدل گیا
00:43ماریب کا عظیم بند ٹوٹا رحمت قہر بن گئی اور جنت جیسا شہر ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیا
00:51اور وہ لوگ جو اپنی طاقت پر فخر کرتے تھے صرف اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی سلطنت کے گرتے ہوئے دیکھتے رہے
00:59یہ کوئی افثانہ نہیں یہ قرآن میں بیان کی گئی حقیقت ہے
01:04قوم سبا کی وہ داستان جو آج بھی دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے
01:09قوم سبا عرب کے جنوبی حصے موجودہ یمن میں آباد تھی
01:14لیکن یہ کوئی عام قوم نہیں تھی یہ دنیا کی سب سے خوشحال قوم تھی
01:19ان کی زمین زرخیز تھی ہوا خوشگوار تھی اور بارش ہر چیز کے لیے بلکل مناسب وقت پر ہوتی تھی
01:26لیکن ان کی اصل طاقت اور سب سے بڑا خزانہ ماریب کا عظیم بند تھا
01:32جو اتنا شاندار تھا کہ اس کے ذریعے دونوں طرف کے باغات کو پانی میسر آتا تھا
01:38پھل اتنے وافر تھے کہ کوئی بھی مسافر وہاں سے گزرتے ہوئے بھوک کا احساس نہیں کرتا تھا
01:44قرآن مجید اس منظر کو خود بیان کرتا ہے
01:48سبا کے رہائشیوں کے لیے ایک نشان موجود تھا
01:52دائیں اور بائیں طرف دو باغات اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
01:57اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں کا لطف اٹھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو
02:02یہ صرف دولت نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک مکمل نظام تھا
02:08ہر مہینے مچلیوں کا شکار بہترین ہوتا
02:11اس مہینے مچلیوں کا شکار بہت اچھا ہوا
02:13اور ہماری تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے
02:17شہر صاف اور منظم
02:21لوگ امن میں
02:23اوران نے اس شہر کو پاک اور بخشنے والا ترار دیا
02:26یہ تھی زمین پر جنت
02:29اور اسی قوم کی سب سے مشہور حکمران
02:32ملکہ بلقیس تھی
02:33تفسیر ابن کسیر کے مطابق
02:36بلقیس ایک بافہم
02:38دانہ اور طاقتور ملکہ تھی
02:40ان کا تخت شاندار
02:42اور سلطنت دور دور تک مشہور تھی
02:44یہاں تک کہ ان کا ذکر
02:46اللہ کے نبی
02:48حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچا
02:50حضرت سلیمان علیہ السلام
02:52وہ نبی تھے جنہیں
02:54اللہ تعالیٰ نے بے مثال طاقت دی
02:56جنات ان کے حکم کتابے تھے
02:59پرندے ان کی زبان سمجھتے تھے
03:01اور ہوا بھی ان کے لئے چلتی تھی
03:03انہوں نے ملکہ بلقیس کو خط بھیجا
03:06جس کے الفاظ پران میں بیان ہوئے
03:09یہ خط حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچا
03:12علیہ السلام کی طرف سے ہے
03:14اور اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے
03:17دعوت دی گئی
03:18کہ اللہ کے سامنے سجدہ کرو
03:20بلقیس نے مشورہ کیا اور تحفے بھیجے
03:23سونا
03:24چاندی
03:25اور جواہرات
03:26مگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے سب واپس کر دیے
03:30اور فرمایا کہ جو اللہ نے مجھے دیا ہے
03:32وہ تمہاری دولت سے کہیں زیادہ قینتی اور بہتر ہے
03:36یہاں بلقیس سمجھ گئیں
03:38کہ یہ کوئی عام بادشاہ نہیں
03:40بلکہ اللہ کے نبی ہیں
03:41پھر وہ خود حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضور آئیں
03:45اور جب شیشے کے محل میں داخل ہوئیں
03:47تو پانی سمجھ کر اپنا لباس اٹھا لیا
03:50تب حقیقت ان کے سامنے کھلی
03:52اس وقت بلقیس نے کہا
03:54پروردگار
03:56تفسیر ابن کسیر کے مطابق
04:06بلقیس کے بعد قوم سبا نے بھی اسلام قبول کر لیا
04:09یہ تھا قوم سبا کا روحانی اور دنیاوی اروج
04:13مگر وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا
04:16بلقیس کا دور ختم ہوا
04:18نسلیں بدلی
04:19حکمران بدلے
04:21اور شکر کی جگہ غرور نے لے لی
04:24لوگ کہتے
04:25یہ باغ ہم نے بنایا
04:27یہ بند ہم نے خود کھڑا کیا
04:29یہ دولت ہماری عقل کا نتیجہ ہے
04:32اللہ کا ذکر کم ہوا
04:35اور اپنی طاقت کا نشاہ بڑھ گیا
04:37اللہ نے انہیں تنبیح کی
04:39نبی بھیجے
04:40مگر انہوں نے مزاک اڑایا
04:42نبیوں نے کہا
04:43یہ باغ تمہاری عقل کا کمال نہیں
04:46یہ رب کی رحمت ہے
04:47اگر تم نے شکر چھوڑ دیا
04:49تو یہ رحمت تم پر بوجھ بن جائے گی
04:52لیکن قوم سبا ہستی
04:54اور جواب دیتی
04:55تم ہمیں ڈرا رہے ہو
04:56دیکھو ہمارا ماری
04:58بند پہاڑوں کی طرح مضبوط ہے
05:00کیا تمہارا رب اسے بھی گرا سکتا ہے
05:02نبی پھر کہتے
05:04اللہ جب پکڑ کرتا ہے
05:07تو وجہ بڑی نہیں ہوتی
05:09صرف اس کا حکم کافی ہوتا ہے
05:12مگر قوم کے چہروں پر صرف حرور
05:15اور تکبر ہوتا
05:17اور اگر عذاب آنا ہوتا تو وہ کب کہا چکا ہوتا
05:20ہماری سلطنت محفوظ ہے
05:21ہمارا بند بے مثال ہے
05:23ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا
05:25یہی الفاظ تھے جو ان کی زبانوں پر رہتے
05:28سال گزرتے گئے
05:30اللہ کے نبی
05:31مسلسل سمجھاتے رہے
05:33اللہ کی رحمت کے قہر بننے سے پہلے سنبھل جاؤ
05:37مگر ان کے دل پتھر بن چکے تھے
05:39وہ کہتے
05:40یہ ہماری برابری کرنے آیا ہے
05:42اس کی حیثیت ہی کیا ہے
05:44نبی پکارتے رہے
05:45بند سے نہیں
05:47اللہ تعالی سے ڈرو
05:48مگر جواب ملتا
05:50ہمیں عذاب سے ڈرانا چھوڑ دو
05:52ہم اپنی طاقت اور دولت سے ہر خطرہ روک لیں گے
05:56اور یہی وہ لمحہ تھا
06:00جہاں سے ان کے زوال کا فیصلہ ہو چکا تھا
06:03قرآن یہاں ایسی حقیقت بیان کرتا ہے
06:06جو عقل کو جھنجھوڑ دیتی ہے
06:07اللہ تعالی فرماتا ہے
06:10جب انہوں نے موہ موڑا
06:13تو ہم نے ان پر بند توڑ دینے والا سیلاب بھیج دیا
06:17روایات کے مطابق
06:19ماریب کے عظیم بند کی بنیادوں میں
06:21چوہو نے آہستہ آہستہ سراخ کرنا شروع کر دیا
06:25لوگ دیکھتے رہے
06:26مگر غرور میں اندھے تھے
06:28یہ ہماری طاقت کی علامت ہے
06:30یہ معمولی جانور
06:32اس کا کچھ نہیں بھگا سکتے
06:34پھر وہ رات آگئی
06:37لوگ گہری نیند میں تھے
06:39شہر پر خاموشی تاری تھی
06:41اور ماریب کا بند آخری لمحے گن رہا تھا
06:45پہلے ایک دھماکے جیسی آواز آئی
06:47پھر دوسری
06:48اور اچانک بند ٹوٹ گئے
06:50جو پانی کبھی رحمت تھا
06:52وہ کہر بن چکا تھا
06:53چیخو پکار مچ گئی
06:55کوئی چلایا بند
06:56تو ناقابل شکست تھا
06:58کوئی پکارا
06:59اللہ کے لیے بھاگو
07:01مگر بھاگنے کا کوئی راستہ باقی نہیں تھا
07:04اور قرآن کے الفاظ گواہ بن گئے
07:07پھر ہم نے ان پر بند توڑ دینے والا سیلاب بھیج
07:10نبی کی آواز گونچتی رہی
07:13یہ وہی ہے جس سے تم انکار کرتے رہے
07:16یا اللہ
07:16ہمیں بچا لے
07:17ہم سے غلطی ہو گئی
07:19ہماری مدد فرمائے
07:20اٹھتی ہوئی لہریں شہر پر ٹوٹی
07:23ہر گلی اور ہر گوشہ اپنی لپیٹ میں آ گیا
07:26گھر
07:27باغ
07:28اور بازار
07:29سب ایک ساتھ غرق ہو گئے
07:30لوگ چیخ رہے تھے
07:32صرف اپنی جان بچانے کی کوشش میں
07:35کچھ گر رہے تھے
07:36کچھ لہروں میں گھل رہے تھے
07:38اور ہر شور
07:39آخر کار تہر میں دبا دیا گیا
07:41آخر میں ایک بہت اونچی لہر آئی
07:44اور ان سب کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر گئی
07:47اور جو زمین کبھی جنت تھی
07:49وہ ویران ہو گئی
07:51باغ مٹی بن گئے
07:52گھر بہ گئے
07:54شہر کے شہر ختم ہو گئے
07:56نسلیں مٹ گئیں
07:57صرف واقعہ باقی رہا
07:59اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
08:01ان کے باغوں کے بدلے
08:03کانٹے دار جھاڑیاں لگا دی گئیں
08:04یہ سزا کیوں دے گئی
08:06قرآن خود جواب دیتا ہے
08:08یہ سزا اس لیے تھی
08:10کہ انہوں نے ناشکری کی
08:12قوم سبا دولت کی وجہ سے نہیں
08:14بلکہ غرور اور ناشکری کی وجہ سے تباہ ہوئی
08:18ان کا جرم یہ نہیں تھا کہ وہ امیر تھے
08:20بلکہ یہ تھا کہ وہ شکر بھول گئے
08:23ناظرین
08:24قوم سبا کی یہ داستان
08:26ہمیں ایک ایسا سبق دیتی ہے
08:28جو ہر دور کے انسان کے لیے
08:30آج بھی زندہ ہے
08:31وہ لوگ دنیا کی سب سے خوشحال قوم تھے
08:34باغات
08:35دولت
08:36طاقت
08:37سب کچھ ان کے پاس تھا
08:38لیکن سب کچھ
08:39اللہ کی دی ہوئی نعمت تھی
08:41وقت گزرتا گیا
08:43شکر کی جگہ غرور نے لے لی
08:45لوگوں نے کہا
08:46یہ سب کچھ ہماری محنت
08:48اور عقل کا نتیجہ ہے
08:50اللہ کا ذکر کم ہو گیا
08:52اور تکبر بڑھ گیا
08:53قرآن فرماتا ہے
08:55یہی ناشکری ان کے زوال کی وجہ بنی
08:58تصور کریں
08:59ایک چھوٹا سا چوہا
09:01اللہ کے حکم سے
09:02ماریب کا عظیم بند توڑ دیتا ہے
09:04اور پوری سلطنت زمین میں دب جاتی ہے
09:07باغات مٹی بن گئے
09:09شہر بہ گئے
09:11نسلیں مٹ گئیں
09:12صرف واقعہ رہ گیا
09:13یہاں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے
09:15کہ دولت یا طاقت انسان کو محفوظ نہیں رکھتی
09:18اصل تحفظ
09:20اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں ہے
09:23غرور تکبر اور ناشکری
09:26کبھی بھی تباہی سے بچا نہیں سکتے
09:28یہ واقعہ صرف قوم سبا کے لیے نہیں
09:30بلکہ ہم سب کے لیے ہیں
09:32اگر اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو
09:35اللہ کی رضا کے مطابق نہ سنبھالا جائے
09:37تو وہ نعمت عذاب بن جاتی ہے
09:40ہمیں چاہیے
09:41کہ ہم اپنی زندگی میں شکر کو جگہ دیں
09:44غرور سے بچیں
09:45اور ہر نعمت کے لیے
09:47اللہ کی حمد کریں
09:48کیونکہ یاد رکھیں
09:50جو اللہ کا حکم ہوتا ہے
09:52اس کے سامنے دنیا کی سب طاقتیں بھی بے بس ہیں
09:55یہی درس ہے
09:56کہ دولت
09:57طاقت
09:58یا شاندار کارنامے انسان کو نہیں بچاتے
10:00بلکہ آجزی
10:02اور شکر
10:03انسان کو اللہ کی حفاظت میں رکھتے ہیں
10:05اس سے پہم کام کریں
10:08کیونکہ
Comments